ہم اپنے رفتگاں کو یاد کرنا چاہتے ہیں

افتخار عارف نے کہا تھا:
ہم اپنے رفتگاں کو یاد کرنا چاہتے ہیں
دلوں کو درد سے آباد کرنا چاہتے ہیں
تو یہ شعر پڑھتے ہی ہمیں 2018میں بچھڑنے والے اپنے وہ دوست اور مہربان یاد آتے ہیں کہ جن کی لکھی ہوئی تحریروں نے ہمیں ذہنی طور پر آسودہ کیا اور اُن سے ملاقاتوں نے ہمارے بہت سے لمحوں کو امر کیا۔ ہر سال جب یکم جنوری کا آغاز ہوتا ہے تو ہمیں سالِ گزشتہ میں بچھڑنے والے خوب یاد آتے ہیں۔ کہ ہم نے تو کبھی اُن کے بچھڑنے کا تصور بھی نہیں کیا ہوتا اور جب اچانک اُن کے انتقال کی خبر آتی ہے تو دل درد سے بھر جاتے ہیں اور یادوں کے چراغ اُداس لمحوں کو اور طویل کر دیتے ہیں۔ 6 جنوری 2018 کو جب نامور شاعر رسا چغتائی کا انتقال ہوا تو ہمیں اُن کے یہ شعر یاد آ گئے۔
تیرے آنے کا انتظار رہا
عمر بھر موسمِ بہار رہا
تجھ سے ملنے کو بے قرار تھا دل
تجھ سے مل کر بھی بے قرار رہا
جنوری 2018کو جب منو بھائی نے ہم سب کو خدا حافظ کہا تو ہمیں اُن کے لکھے ہوئے ہزاروں کالم، ڈرامے اور شاعری یاد آ گئی کہ وہ ملتان اور اہلِ ملتان سے خوب محبت کرتے تھے۔ اسی دن لندن میں معروف شاعر اور نقاد ساقی فاروقی جب انتقال کرتے ہیں تو فیس بک پر اُن کی خود نوشت ”پاپ بیتی“ کا پھر سے شہرہ ہوا۔ شہرت سے یاد آیا کہ ملتان سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ عمران سیریز کے مصنف مظہر کلیم ایم۔اے بھی سالِ گزشتہ میں ہم سے جدا ہوئے۔ انہوں نے 26 مئی کو انتقال کیا اور اُن کے جاتے جاسوسی ناول نگاری کی دنیا اُداس ہو گئی۔ وہ ناول نگار ہونے کے علاوہ قانون دان اور ریڈیو پاکستان ملتان میں سرائیکی کا پروگرام ’جمہور دی اَواز‘ بھی کیا کرتے تھے۔
20 جون 2018 کو اُردو ادب کا ایک ایسا ناقابلِ تلافی نقصان ہوا جس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی۔ کہ نامور مزاح نگار، خاکہ نگار، سفرنامہ نگار اور ادیب جناب مشتاق احمد یوسفی 94 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ اُن کی کتابوں میں چراغ تلے، خاکم بدہن، زرگزشت، آبِ گم اور شامِ شعرِ یاراں شامل ہے۔ آخری کتاب کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اسے مشتاق احمد یوسفی نے ترتیب نہیں دیا بلکہ اسے اُن کے پبلشر نے کسی سے مرتب کروایا۔ مشتاق احمد یوسفی کی باقی کتابیں اُردو ادب کا وہ شاہکار ہیں جو رہتی دنیا تک پڑھنے والوں کو متاثر کرتی رہیں گی۔
14 جولائی 2018کو زندگی کا بہت سا حصہ ملتان میں گزارنے والے نامور شاعر رحمان فراز جب جھنگ میں انتقال کرتے ہیں تو ان کے دوستوں کو اُن کے سفرِ آخرت کی اطلاع تک نہیں ہوتی۔ اسی طرح جب سرائیکی کے نامور ادیب، شاعر، ماہرِ تعلیم، دانشور، پروفیسر شمیم عارف قریشی جب 11 اگست کو اچانک دل کے دورے سے انتقال کرتے ہیں تو اُن کے دوستوں کو اُن کی موت کا یقین نہیں آتا اور وہ ایک دوسرے کو اُن کے اکلوتے شعری مجموعے ”نیل کتھا“ میں زندہ دیکھتے ہیں۔ 4 ستمبر 2018کو پاکستان کے ادبی منظرنامے سے ایک ایسے شاعر کا انتقال ہوتا ہے جو اپنی خوبصورت شاعری کی بدولت پوری دنیا میں جانا جاتا ہے۔ جس کا مشہورِ زمانہ شعر پڑھ کر لوگوں کو علم ہو جاتا تھا کہ یہ شعر اقبال ارشد کا ہے:
تو اسے اپنی تمناؤں کا مرکز نہ بنا
چاند ہرجائی ہے ہر گھر میں اُتر جاتا ہے
اقبال ارشد نے بھرپور ادبی زندگی گزاری لیکن آخری چند برس انہوں نے طویل بیماری سے جنگ کی اور آخرکار وہ ہار گئے۔ اُن کی موت بلاشبہ ایک دبستان کی موت ہے۔ جھنگ سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر، دانشور اور ترقی پسند کاشتکار صفدر سلیم سیال 22 نومبر کو جب انتقال کرتے ہیں تو احباب تب بھی اُداس ہو جاتے ہیں۔ اسی دن جب ممتاز شاعرہ، ادیبہ، دانشور اور سیاستدان فہمیدہ ریاض کا انتقال ہوتا ہے تو اُن کی تمام زندگی کی جدوجہد یاد آ جاتی ہے جو انہوں نے مختلف سیاسی ادوار میں کی۔ زندگی کے آخری چند برس انہوں نے بھی طویل بیماری میں کاٹے اور آخرکار لاہور کی مٹی اُنہیں نصیب ہوئی۔
9 دسمبر کو معروف صداکار اور شہاب دہلوی کے بیٹے سیّد شہود رضوی بہاولپور جبکہ معروف نیوز کاسٹر، شاعر اور بچوں کے ادیب ابصار عبدالعلی 20 دسمبر کو لاہور میں اور 25 دسمبر کو مترجم، براڈکاسٹر، شاعر انور معین زبیری کا انتقال ملتان کے ادبی حلقوں کو سوگوار کر جاتا ہے۔ آج کے کالم میں ہم نے اُن دوستوں کا ذکر کیا جن کا تعلق قلم سے تھا اور کسی نہ کسی حوالے سے وہ اہلِ ملتان سے رابطہ رکھتے تھے۔ ہم اگرچہ ملک کے ممتاز صحافی الیاس شاکر، جواد نظیر اور روزنامہ ایکسپریس کے کالم نگار مقتدیٰ منصور کے علاوہ بلیوپاٹری کے عالمی شہرت یافتہ استاد محمد عالم، نامور نقاد، ادیب اور اُردو نستعلیق کمپیوٹر کے بانی ڈاکٹر عطش درانی اور
یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے، جیسی نعت کے شاعر خالد محمود نقشبندی بھی سالِ گزشتہ میں انتقال کرتے ہیں تو ہمیں اپنی کم مائیگی کا احساس اور شدید ہو جاتا ہے۔
سال کاآخری دکھ ہمیں نامورنقادماہر تعلیم اورافسانہ نگارڈاکٹرسلیم اخترنے دیا۔ڈاکٹرسلیم اختر30دسمبر کوطویل علالت کے بعدلاہورمیںانتقال کرگئے۔ ان کے انتقال سے ایک پورے عہدکاخاتمہ ہوگیا۔ڈاکٹرسلیم اختر نے ایک طویل عرصہ ملتان میں بھی استادکی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔ زبیدہ آپا ہوں یا عاصمہ جہانگیر کی ابدی جدائی یہ سب ہمیں تادیر رُلاتے رہیں گے کہ یہ سب لوگ اپنی ذات میں انجمن تھے۔ اسی لئے تو ہم نے کالم کے آغاز میں لکھا تھا:
ہم اپنے رفتگاں کو یاد کرنا چاہتے ہیں
دلوں کو درد سے آباد کرنا چاہتے ہیں
( بشکریہ : روزنامہ ایکسپریسس )

Comments:- User is solely responsible for his/her words