برف کی چادر میلی ہے

جب میں نے اسے پہلی بار دیکھا تو خوفزدہ ہونے کی بجائے شدید حیرت میں مبتلا ہوا تھا۔ میری عمر یہی کوئی آٹھ نو برس رہی ہو گی۔ یہ تو بعد لوگوں نے بتایا تھاکہ اسے پہلی بار دیکھنے پر خوفزدہ ہونا ایک فطری تقاضا تھا۔ اب معلوم نہیں اس عمر میں شعور فطری تقاضا سمجھنے سے غافل تھا یا میرا جبلی وجود فطرت سے بغاوت پر آمادہ تھا۔ بابو پاگل تھا۔ ایک مکمل پاگل جو ہمہ وقت ایک پتھر ہاتھ میں لئے ننگے پیر چلتا تھا۔ کوئی قریب جاتا تو بابو پتھر اٹھا کراسے مارنے کو دوڑتا اور ہم سارے بچے ڈر کر ایسے سرپٹ دوڑتے کہ ماں کی آغوش میں پہنچ کر ہی پلٹ دیکھتے کہ کہیں بابو ہمارے پیچھے گھر تو نہیں پہنچ گیا؟
اب جو یاد آتا ہے تو دل ہی دل میں مسکرا دیتا ہوں۔ ذہن میں گاہے یہ خیال بھی آتا ہے کہ گاؤں کے وہی بچے جو اب سارے جوان مرد ہیں، کبھی اتفاق سے ملیں تو میں ان سے یہ پوچھوں گاکہ بابو تو ایک ہی تھا۔ ہم سارے بچے اپنی اپنی ماؤں کے گود میں پہنچ کر جب خوف سے پلٹ کر دروازے کی جانب دیکھتے تو کیا ہم بابو کو کئی بابوؤں میں تقسیم کر لیتے تھے یا ہمارے اندر کوئی اپنا اپنا بابو رہتا تھا جو اسے دوڑا کر ایک محفوظ آغوش میں پہنچا دیتا تھا۔ کار زار حیات مگر اب ایسا دراز ہے کہ یہ ملاپ شاید ہی ممکن ہو سکے۔
میں نے بابو کو پہلی بارایک برفیلی صبح دیکھا تھا۔ دسمبر شروع ہو جاتا تومیں روز صبح سورج نکلنے سے بہت پہلے جاگتا۔ جاگتا کیا تھا، جگاتی تو ماں جی تھیں کہ نماز پڑھو مگر میں نماز کی پابندی سے زیادہ دروازہ کھول کر باہر جھانکنے کا فرض پوراکیا کرتا تھا۔ ہمارے ہاں ٹی وی نہیں تھا اور ریڈیو کا تقدس ایسا تھا کہ اس ناہنجاز کے گھونگھٹ اٹھانے کا حق صرف والد صاحب کو تھا۔ سو موسم کی پیش گوئی ہمارے ہاں ایک بدعت تھی اور ہم سمجھتے تھے کہ بادل کسی بھی وقت آ سکتے ہیں اور برس سکتے ہیں بھلے محکمہ موسمیات نے آئندہ چھ دن خشک رہنے کا اعلان کر رکھا ہو۔
مجھے روز صبح دروازے سے جھانک کر یہ دیکھنا ہوتا تھا کہ کہیں برف تو نہیں پڑی؟ جس دن برف پڑی ہوتی میں سرپٹ باہر بھاگ جاتا اور پھر گھنٹوں بعد جب ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیاں ٹھنڈ سے سن ہوتیں تب ہی گھر لوٹتا۔ یہ ایک ایسا ہی دن تھا۔ میں نے باہر جھانکا تو برف پڑی ہوئی تھی۔ میں نے جلدی جلدی کوٹ پہنا اور جوتے پہن کر دوڑ لگا دی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ باورچی خانے سے اماں کی آواز آئی تھی کہ ٹوپی تو پہن کر جاؤ مگر آج تو محبوب آیا تھا۔
اس سے ملنے کے لئے ٹوپی کا کیا تردد۔ یہ بالکل بلامبالغہ بات ہے کہ مجھے برف سے اس وقت سے محبت ہے جب میں نے اسے پہلی مرتبہ برستے دیکھا تھا اور وہ محبت آج تک اتنی ہی شدید ہے۔ اسلام آباد میں رہتے مدت ہو گئی مگر برف سے شدید محبت کے باوجود کبھی مری برف دیکھنے نہیں گیا۔ جانے کا اتفاق ضرور ہوا ہے مگر کبھی من سے نہیں گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے برف کو طویل میدانوں دیکھا ہے جب میلوں اس کی چادر پر انسانی قدموں کے نشان نہیں ہوتے تھے۔
کسی شہری علاقے میں برف پر قدموں کے نشان دیکھ کر مجھے برف میلی نظر آتی ہے۔ اب جس سے محبت ہو بھلے اسے میل کے ساتھ بھی باہیں کھول کر قبول کیا جا سکتا ہے پھر اس کے میل کو اپنے ہاتھوں سے اتارنا ایک کار خدائی لگتا ہے۔ ادھر مشکل یہ ہے کہ آپ کے پاس قدموں کا میل اتارنے کا کوئی چارہ نہیں۔ سو میں برف دیکھنے کا تردد ہی کیوں کروں؟
گھر سے نکلا تو میلوں تک برف کی چادر پھیلی ہوئی تھی۔ چلتے چلتے گاؤں سے دور ایک ایسے مقام پر گھات لگا کر بیٹھ گیا جو اس کچے رستے کے قریب تھا جو گاؤں سے شہر کو جاتا تھا۔ قدرے چھوٹے اور بہت طویل وقفوں کے بعد گاؤں کی طرف سے کوئی نہ کوئی پیدل یا سائیکل سوار میرے پاس سے شہر کو نکل جاتا۔ یہی وہ وقت تھا جب میں نے پہلی بار بابو کو دیکھا تھا۔ میں کسی سوچ میں رہا ہوں گا کہ میری نظر بابو پر پڑی جو اس رستے پر چلا آ رہا تھا۔
مجھے اس کی چال میں بہت اجنبیت نظر آئی مگر گاؤں کے کسی شخص سے خوفزدہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ بابو قریب آیا تو میں کچھ خوفزدہ ہوا۔ اس نے ہاتھ میں ایک پتھر اٹھا رکھا تھا۔ اس کے کپڑے میلی برف سے زیادہ میلے تھے۔ مگر اس خوف پر حیرت اس لئے غالب رہی کہ بابو کے پیر ننگے تھے۔ برف سے ہم آغوش ہوتے یہ میرا پہلا دن نہیں تھا۔ میں گھڑی نہ ہونے کے باوجود تعین کے ساتھ اندازہ لگا سکتا تھا کہ کتنے ساعت بعد ننگے پیر چلتے ہوئے انگلیاں اور پاؤں سن ہوتے ہیں۔
اسی سوچ کے کسی منزل پر تھا کہ بابو میرے پاس پہنچا۔ مجھے ایک مسکراہٹ بھری نظر سے دیکھا سے اور اپنی رفتار سے گزر گیا۔ خوف سے میں بھی مسکرایا ہوں گا مگر اس کی مسکراہٹ کی کسی توجیح کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے میں اسی سوچ میں غرق تھا کہ بابو کے پیر کب سن ہوتے ہیں۔ میں بابو سے واقف نہیں تھا اس لئے میں نے حساب لگا لیا کہ بڑے نالے تک پہنچتے پہنچتے بابو کے پیر سن ہو جائیں گے اور بابو بیٹھ جائے گا۔ سو میں بابو کو دیکھتا رہا۔ دیکھتا رہا۔ یہاں تک کہ اس کا ہیولا معدوم ہو گیا مگر اس کے پیر سن نہ ہوئے۔
گھر پہنچ کر مجھے علم ہوا کہ بابو پاگل ہے اگر اسے تنگ کیا جائے تو وہ پتھر مار دیتا ہے۔ یوں میں نے طے کر لیا کہ میں کبھی بابو کو تنگ نہیں کروں گا۔ وقت گزرتا رہا۔ برف روز تو گرتی نہیں تھی البتہ میرے معمولات میں برف کے ساتھ بابو کو بازار جاتے دیکھتے رہنا بھی ایک مشغلہ بن گیا۔ کچھ بچے بابو کو تنگ بھی کرتے تھے۔ گاہے ایسا بھی ہوتا تھا کہ میں بچوں کی ٹولی میں شامل ہوتا تھا مگر خود کبھی آواز نہیں کسی۔ کسی اور بچے کی شرارت نے البتہ کئی بار مجھے بھی بھاگنے پر مجبور کیا تھا۔
بابو کو بازار تک چلتے دیکھنے کا سلسلہ اس وقت تک چلا جب تک میں نے اپنی گاڑی نہیں لی تھی۔ اب ایسا تھا کہ گاہے میں اور بابو ایک وقت میں نکلتے۔ میں گاڑی روکتا۔ بابو پچھلا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ جاتا۔ میں اسے اس کے متعین ہوٹل کے سامنے اتار دیتا۔ بلا مبالغہ ایسے درجنوں واقعات میں بابو نے کبھی میرے کسی سوال کا جواب نہ دیا۔ وہ بول سکتا تھا۔ اسے سمجھ تھی کہ چرس پیسوں سے خریدی جاتی ہے۔ چائے اسے ہوٹل والے مفت پلاتے تھے۔
بہت بار ایسا بھی ہوا کہ وہ گاڑی سے اتر کر میری کھڑکی کی جانب آ کر کھڑا ہو جاتا۔ بغیر کچھ کہے، بغیر کسی تقاضے کے کھڑا رہتا۔ شروع میں تو مجھے سمجھ نہیں آیا کہ بابو ایسا کیوں کرتا ہے۔ میں نے بارہا پوچھا کہ بابو کچھ چاہیے؟ مگر اس کے چہرے پر کسی نئی دلہن کی طرح کئی شرمیلے رنگ آکر گزر جاتے جو صرف محسوس کیے جا سکتے تھے۔ بابو منہ سے کچھ نہ کہتا۔ پھر ایک دن اچانک مجھے احساس ہوا کہ بابو کو پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے جب وہ ایسا کرتا ہے۔
بابو جب بھی ایسا کرتا میں اسے کچھ پیسے دے دیتا تھا۔ کبھی کسی اخلاقی اصول کے کلیشے نے میرے ضمیر کے کچوکے نہیں لگائے کہ نشے کے لئے پیسے نہیں دینے چاہیں۔ ادھر بابو اتنا اصول پسند تھا کہ جس دن اس کے پاس دو سیگریٹ کے پیسے پورے ہوتے وہ کبھی گاڑی سے اتر کر رکتا نہیں تھا۔ سالوں کی رفاقت میں بس ایک ہی بار میں نے بابو کو بولتے اور روتے دیکھا تھا۔
یہ بچپن ہی کے دن تھے۔ ہمارے ہاں مذہبی اور ثقافتی اساطیر میں جانوروں کے بارے میں عجیب و غریب دیومالائی کہانیاں وجود رکھتی ہیں۔ انہیں میں ایک کہانی ایک میدا نی چھپکلی سے متعلق ہے۔ اس میدانی چھپکلی کے نر اور مادہ کی جسامت میں بہت واضح فرق ہوتا ہے۔ نر کی جسامت موٹی ہوتی ہے اور اس کا سر اٹھا ہوتا ہے۔ وہ جب رکتا ہے تو سر کو ایک خاص تائیدی انداز میں جنبش دیتا رہتاہے۔ مادہ کی جسامت پتلی ہوتی ہے اور اس کا سرکم اٹھا ہوتا ہے۔
میں نے کئی بار دقت نظر سے دیکھا ہے کہ مادہ بھی سر کو اسی انداز میں مگر بہت خفیف سی جنبش دیتی ہے۔ چونکہ اس کی گردن اتنی اٹھی نہیں ہوتی اس لئے اس جنبش کو واضح محسوس نہیں کیا جا سکتا۔ اس نر کے بارے میں روایت یہ مشہور ہے کہ جب پیغمبر اسلام ﷺ رات کی تاریکی میں مکہ سے نکل کر غار ثور میں پناہ گزین ہوئے اور قریش مکہ ان کو تلاش کرتے ہوئے اس غار تک پہنچے تو غار کے دہانے پر مکڑی نے ایک جالا بن لیا تھا تاکہ غار پرانا محسوس ہو۔
اسی پس منظر میں ہمارے ہاں مائیں اب بھی مکڑی کو گھر میں پانے کے بعد مارتی نہیں بلکہ باہر نکالنے کی کوشش کرتی ہیں۔ جبکہ اس نر چھپکلی نے غار کے دہانے پر کھڑے ہو کر اسی تائیدی انداز میں سر ہلایا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ قریش مکہ کو بتا سکے کہ پیغمبرﷺ یہیں موجود ہیں۔ اس دیومالائی پس منظر کے ساتھ ہمارے ہاں لوگ نر میدانی چھپکلی کو مارنا کار ثواب سمجھتے ہیں اور مارتے بھی اس انداز میں کہ اس کا سر خوب کچلنا ہے۔ مادہ چھپکلی کو سر کی جنبش محسوس نہ کرنے پر عام معافی ملی ہوئی ہوتی ہے۔
گرمیوں میں چند بچے اور بڑے لڑکے باقاعدہ ٹولیاں بنا کر چھپکلی کے خلاف جہاد کے لئے نکلتے تھے۔ وہ ایک ایسا جہادی دن تھا جب درجنوں بچے شکار میں مصروف تھے کہ بابو آتا ہوا دکھائی دیا۔ قدرے بڑے بچوں نے بابو کو تنگ کرنا شروع کیا۔ ساتھ بچے بھی مل گئے۔ بابو نے کئی بار ہاتھ میں پکڑا پتھر سر سے اوپر اٹھایا مگر مارا کسی کو نہیں۔ میں دور بیٹھا یہ نظارہ دیکھ رہا تھا۔ من ہی من کہیں یہ خدشہ بھی تھا کہ آج بابو کسی بڑے لڑکے کا سر پھاڑ دے گا۔
مگر بابو نے پتھر کسی کو نہیں مارا اور لڑکوں نے بابو کو گھیرے میں لے کر بہت دیر تک تنگکیے رکھا۔ تب ہی گاؤں کے ایک برزگ کی گاڑی وہاں رکی اور بچوں کو ڈانٹا۔ سب بچے گھروں کو بھاگ گئے۔ بابو بہت دیر گھٹنوں میں سر دبائے بیٹھا رہا۔ پھر بابو اٹھا اور زمین پر پتھر زور سے دے مارا۔ اس کے بعد فوراً بیٹھ گیا۔ میں نے محسوس کیا کہ بابو کی آواز بلند ہو گئی۔ وہ دھاڑیں مار مار کر رونا شروع ہوا۔ میں خوف، تذبذب اور حیرت کے ملے جلے جذبات کے زیر اثر بابو کے قریب گیا۔
بابو نے میری آہٹ محسوس کی تو نگاہیں اٹھا کر بہت ملتجیانہ نگاہوں سے میری طرف دیکھا اور زمین کی جانب اشارہ کر کے بتایا کہ میں نے چھپکلی مار دی۔ اس نے کہا، ”ہائے ہائے ایک زندہ حیوان کو مار دیا“۔ اور پھر اس ساتھ ہی اس کے رونے کی چیخ بلند ہوتی۔ بابو بہت دیر روتا رہا۔ بابو کو روتا دیکھ کر میں نے بھی غیر ارادی طور پر اس کے ساتھ رونا شروع کر دیا۔ یہ غالبا ہماری سالوں پر مشتمل خاموش دوستی کا آغاز تھا۔
چند سال پہلے جب مجھے صبح اسی برف کا انتظار تھا گو آسمان میں بادلوں کا کوئی ٹکڑا بھی نہیں تھا۔ میں گاؤں سے باہر اسی مقام پر بیٹھا تھاجب مسجد کے لاوڈ اسپیکر پر بابو کی موت کا اعلان سنا۔ مجھے اتنا ہی دکھ ہوا تھا جتنا بابو کو چھپکلی مارنے کا ہوا تھا۔ مسجد پہنچا تو معلوم ہوا کہ سڑک پر چلتی کسی گاڑی نے بابو کا جسم کچل دیا مگر نہ گاڑی رکی اور نہ کسی نے ڈرائیور کو دیکھا۔
کل رات میں نے بابو کو خواب میں دیکھا تھا۔ وہ ایک بڑی آگ کے گرد گھٹنوں میں سر دبائے بیٹھا تھا۔ میری آہٹ پا کر سر اٹھایا۔ اس کا چہرہ آگ کی روشنی میں بہت زرد معلوم ہوتا تھا مگر آگ اس کی انکھوں اتر نہیں پائی تھی۔ اس کی آنکھ کے سیاہ قرنیہ میں آگ کا عکس موجود نہیں تھا۔ بابو نے پہلی بار مجھے میرے نام سے پکار کر کہا، ’دیکھو میں نے آگ سے دوستی کر لی۔ میں آذر کی نسل سے تھا مگر ننگے پیر برف پر چلتا رہا تھا‘ ۔
پھر اس نے سر جھکا کر آگ کی جانب دیکھنا شروع کر دیا اور ایک خود کلامی کے سے انداز میں پوچھا، ”کیا تم لوگ اب بھی چھپکلی کا سر کچلتے ہو؟ “ میں نے کہا، اب تو انسانوں کے سر بھی کچلے جاتے ہیں بابو۔ اس نے مسکرا کر میری جانب دیکھا۔ وہ خاموش تھا مگر اس کے چہرے پر کہیں میں نے خود ہی پڑھ لیا تھا جیسے وہ کہہ رہا ہے ’یہ تو میں جانتا ہوں‘ ۔ میرے پاس پوچھنے کو کچھ نہیں تھا تو غیر ارادی طور پر پوچھا، بابو کیا تمہیں برف پر ننگے پیر چلنے میں تکلیف نہیں ہوتی تھی؟ اس کے چہرے پر وہی شرمیلے رنگ آکر گزر گئے۔ اس نے کہا، ”مجھے تکلیف تو ہوتی تھی مگر میں ننگے پیر اس لئے چلتا تھا کہ تمہاری برف میلی نہ ہو جائے“۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)

Comments:- User is solely responsible for his/her words