کون سی شریعت ۔ 3

اطاعتِ خداوندی کے بعد شریعت کے قوانین ، اطاعتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اسوہ ء حسنہ اور سیرتِ طیبہ سے ماخوذ ہیں ، جنہیں حدیث خوانی تک محدود کر دیا گیا ہے ۔ ہماری علمی کم مائگی کا یہ حال ہے کہ ہم بالعموم شریعت کا درست تلفظ نہیں کرتے اور شری عت کو شرّیت پکارتے ہیں جو شر کا راستہ ہے ۔

اِس راستے نے اُمّت کو عذاب اور مصائب میں مبتلا کر رکھا ہے اور ہمارے مذہبی دانشور اس بات سے آگاہ ہوتے ہوئے بھی اپنی آنکھیں بند کیے رہتے ہیں ۔ ایک روایتی مذہبی شاعر کا کہا ہؤا ایک شعر اس اُمت کے مروجہ طرزِ احساس کا آئینہ دار ہے ۔ فرماتے ہیں :
خوار ہیں بد کار ہیں ڈوبے ہوئے ذلّت میں ہیں
کچھ بھی ہیں لیکن ترے محبوب کی اُمّت تو ہیں

یہ وہ شعر ہے جو مدارس و مساجد میں منعقد ہونے والی حمد و نعت کی بیشتر محافل میں بصد خضوع و خشوع گایا جاتا ہے ۔ اور کبھی کسی نے دم بھر کے لیے رُک کر یہ سوچنے کی کوشش نہیں کی کہ اللہ کے محبوب ، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت خوار ، بد کار اور ذِلّت میں ڈوبی ہوئی کیونکر ہو سکتی ہے ۔ خواری ، بدکاری اور ذِلّت تو لا اُمتّیوں کا مقدر ہے۔ کیونکہ اُمتِ محمدیہ تو عزت مند ، پاکباز اور معزز جمعیّت کا نام ہے ۔ اور جن لوگوں نے شریعت کے بجائے شرّیت کا راستہ اختیار کر رکھا ہے ، وہ شریعت کے پیرو کیونکر ہو سکتے ہیں اور کس مونہہ سے شریعت کی بات کرتے ہیں ؟

محولہ بالا شعر کے مصرعہ ء اولیٰ کی ترتیب اور لفظی ترکیب دیکھیں تو صاف کھلتا ہے کہ اُمّت کے مذہبی دانشوروں اور اُن کی مکتبی دانش نے خواری ، بد کاری اور ذلت کو فکری طور قبول کر لیا ہے ۔ جبکہ اُمّت کہلانے کا اصل استحقاق اُس جماعت کے پاس ہے جو خیر کے راستے کی مسافر ہو۔ مگر یہاں تو شر کو خیر کے متبادل کے طور پر عملی طور پر تسلیم کرلیا گیا ہے ۔ جب عہدِ حاضر کے مسلمان دانشور کی فکرِ رسا کا معیار یہ ہو تو شریعت کا اصل تصور غارت اور مفقود ہو جاتا ہے ۔

نبی ء اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت نے رشوت خور اور رشوت دہندہ دونوں کو دوزخی اور اشیاء و خدمات میں ملاوٹ کرنے والے کو اُمّت سے خارج قرار دیا ہے۔ مگر عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بلند بانگ دعاوی کرنے والے مذہبی اداروں اور اُن کے دار الفتاویٰ کو کبھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ شریعت کے قوانین کا پاس کرتے ہوئے ملاوٹ کرنے والوں کو لا اُمّتی ہونے کا طوق پہنا کر اُن کا مواخذہ کریں ۔

لیکن اس کے بر عکس ہمارا معاشرہ جو رشوت ستانی کے جہنم میں سلگ رہا ہے شریعت کا پرچم بھی بلند کیے رہتا ہے اور صادق و امین ہونے کا ناٹک بھی رچائے رہتا ہے، ایک مضحکہ خیز صورتِ حال کا آئینہ دار ہے ۔ ایسی اخلاقیات کے حامل لوگوں پر کافر مسلمان اور مُشرک مومن کی پھبتی خوب جچتی اور سجتی ہے مگر رشوت شعار دوزخیوں اور اور ملاوٹ کار لا اُمتیوں نے کبھی آئینہ دیکھنے کی ہمت نہیں کی۔ جبکہ وہ جانتے ہیں کہ گناہ نیکی کا ہم پلہ نہیں ہوتا اور نہ ہی جرم قانون کا متبادل ۔۔۔ مگر یہاں اس شریعت شکنی نے شریّت کو راہ دی ہے جو دراصل گمرہی کی بد ترین صورت ہے۔

یہ صورتِ حال پیغمبرِ اسلام کے الوہی پیغام کی واضح تردید ہے ۔ لیکن ساری مذہبی جماعتیں جانتے ہوئے بھی نہیں جانتیں کہ شریعت کے نام پر جو دعویٰ پیش کیا جا رہا ہے وہ شریعت نہیں بلکہ ردِ شریعت ہے ۔
اس میں کس کو شبہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم انسانِ کامل ہیں ۔ آپ کی ذاتِ اقدس میں شرفِ انسانیت کی تکمیل ہوئی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس زمین پر الوہی دانش و حکمت کے آخری نمائندے ہیں ۔ آپ کی شان میں عزّت بخاری رقمطراز ہیں:
ادب گاہیست زیرِ اسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و با یزید ایں جا
ترجمہ: ادارہ ء رسالت آسمان کے نیچے ایک ایسی ادب گاہ ہے جو عرشِ سے بھی نازک تر ہے ۔ جب اس ادارے کے در پر با یزید بسطامی اور جنید بغدادی جیسے صاحبانِ معرفت حاضری دیتے ہیں تو وہ سانس لینا تک بھول جاتے ہیں ۔

مگر جس گروہِ نا کردہ کاراں نے رشوت اور ملاوٹ سے آلودہ زبان سے نعت گوئی اور درود خوانی کا بیڑہ اُٹھا رکھا ہو ، اُس کی شریعت کیا اور اُس کا دعوی ء شریعت کیا ؟

اب رہے طالبان تو اُن بے چاروں کو شرفِ رحمت اللعالمینی کی ہوا تک نہیں لگی ۔ وہ ذہنی ، فکری اور سماجی طور پر چنگیز خانی یورتوں میں مقیم ہیں اور غزنوی ، غوری ، خلجی ، بلبن ، لودھی اور مُغل تاریخی حوالوں کے خوابوں میں رہتے ہیں اور پاکستان کے آئین کو غیر اسلامی کہہ کر پاکستان کو اسلام سے خارج کرنے کا بالواسطہ اعلان کر رہے ہیں ۔

وہ کلاشکنوف کی زبان میں احادیث بیان کرتے ہیں اور اُنہوں نے ایک نیا فرقہ ، فرقہ ء دہشت گردیہ ایجاد کر لیا ہے جو دینَ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے غداری ہے ۔ کیونکہ اُن کی شریعت پاکستان کی دیگر مذہبی جماعتوں کی سیاست کی طرح صرف کرسی کی شریعت ہے اور وہ اس شریعت کی آڑ میں پاکستان کو ، جسے وہ کفرستان قرار دے رہے ہیں ، فتح کرنا چاہتے ہیں ۔ اُن کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ اُنہوں نے اسلام کے نام پر موت کا جو عمل دریافت کیا اور جس طرزِ زندگی کو متعارف کروایا ہے وہ نہ صرف زندگی کے منافی ہے بلکہ نئی نسل کو وحشی درندوں کی نفسیات پہنا کر پورے معاشرے کو بد امنی کی آگ میں جھونک رہا ہے ۔ آخر یہ کون سی شریعت ہے ؟
کس قدر ، تلخ تر حقیقت ہے
جو شریعت تھی ، اب شریّت ہے
کوچہ کوچہ ہے شورِ آہ و بکا
ساری اُمّت تہِ اذیّت ہے
فرقہ ء طالبان کا اسلام
ایک طوفانِ بربریّت ہے
آدمیّت کے نام پر مسعود
نافذ ، اب ضدِ آدمیّت ہے
۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words