جاپان میں آٹھ دن (1)

جاپان جانے سے پہلے یہ تو معلوم تھا کہ یہ ایک انوکھاملک ہے جہاں جانے کا تجربہ یادگار ثابت ہوگا۔ اور یہ بات بھی میرے علم میں تھی کہ وہاں ناصر ناکا گاوا جیسا علم دوست صحافی، سفر نامہ نگار اور مصنف رہتا ہے جس نے میرے ٹوکیو آنے کا سننے کے بعد مسلسل اس بات پر اصرار کیا تھا کہ مجھے کسی طور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ، وہ وہاں پر میری میزبانی، رہنمائی اور مدد کے لئے موجود ہوں گے۔ اس کے باوجود یہ بات میرے قیاس میں نہیں تھی کہ یہ سفر حیرتوں کا سفر ثابت ہو گا۔ اس میں سب سے بڑی حیرت توخود ناصر ناکا گاوا ثابت ہوئے۔
یورپ میں رہتے ہوئے اور یہاں معاملات زندگی طے کرتے ہوئے ، میں اس بات سے اچھی طرح آگاہ ہوں کہ کسی بھی صنعتی ملک کے بڑے شہر میں رہنے والے لوگوں کی مصروفیات کا کیا عالم ہوتا ہے۔ ایسی مصروف زندگی میں لوگ اپنے اہل خاندان کے لئے بھی وقت نہیں نکال پاتے ۔ اس لئے مجھے یہ امید تو تھی کہ ناصر بھائی سے ٹوکیو میں ملاقات تو ہوگی اور بعض مشترکہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوگا لیکن یہ بات میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ وہ اپنی ساری مصروفیات تج کر سارا وقت میری سہولت اور میزبانی کے لئے وقف کردیں گے۔ ٹوکیو جیسے شہر میں اس قسم کی خوش اخلاقی کو محض وضعداری اور مہمان نوازی کہہ کر آگے نہیں بڑھا جاسکتا بلکہ اس رویہ سے ناصر ناکا گاوا کی انسان دوستی اور پاکستان اور اس سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے خواہ وہ دنیا کے کسی بھی لک میں رہتے ہوں ، بے پناہ محبت و شیفیت کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔
ہمارے ٹوکیو پہنچنے سے پہلے ہی ناصر بھائی نے نہایت تفصیل سے یہ بتا دیا تھا کہ ائیر پورٹ پر اترنے کے بعد کن مراحل سے گزرنا ہوگا۔ اگرچہ میں نے واٹس ایپ پیغامات کے ذریعے ہونے والی مواصلت میں انہیں یہ باور کروانے کی کوشش کی تھی کہ میں دنیا کے متعدد ممالک کا سفر کرچکا ہوں اور کسی دوسرے ملک میں پہنچنے کے بعد وہاں کے امیگریشن و کسٹمز سے نبرد آزما ہونے کے بعد اے ٹی ایم سے زرمبادلہ لینے اور ذرائع آمد و رفت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور پھر منزل مقصود پر پہنچنے کے مراحل سے کئی بار تن تنہا گزر چکا ہوں ۔ جاپان تو یوں بھی ترقی یافتہ اور مہذب ملک ہے، اس لئے یہ امید تھی کہ وہاں بنیادی سہولتیں حاصل کرنا ہرگز دشوار نہیں ہو گا۔ تاہم ناصر ناکا گاوا کی حس میزبانی اس قدر شدید تھی کہ مجھے باقاعدہ منت سماجت کے ذریعے انہیں ائیر پورٹ آنے سے روکنا پڑا۔ میری گزارش تھی کہ ہم پندرہ سولہ گھنٹے کا طویل سفر کرکے ٹوکیو پہنچیں گے ۔ وہاں اس وقت دن کا وقت ہوگا اس لئے کسی اندیشہ ہائے دور دراز کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ انہیں بنفس نفیس اتنے بڑے شہر کی ٹریفک اور مسائل میں کھینچا تانی کرتے ہوئے ائیرپورٹ آنے کی زحمت نہیں کرنی چاہئے۔ کیوں کہ ہم طویل سفر کے بعد ہوٹل پہنچ کر آرام کرنا چاہیں گے۔ ہمارے آرام میں مخل نہ ہونے کی بات ناصر بھائی کو سمجھ آگئی اور انہوں نے یہ درخواست قبول کرلی کہ وہ ائیرپورٹ نہیں آئیں گے لیکن انہوں نے ائیر پورٹ پر لینڈ کرنے سے لے کر وہاں سے ہوٹل کے لئے ٹرانسپورٹ حاصل کرنے تک کی تفصیل مرحلہ وار ایک ’ پرچہ ترکیب استعمال‘ کی صورت لکھ کر مجھے روانہ کیں جسے میں نے ان کی محبت کا تحفہ سمجھ کر پرنٹ کرکے اپنے بیگ میں رکھ لیا۔
پندرہ نومبر کو ہمارا جہاز ٹوکیو کے ناریتا ائیرپورٹ پر اترا تو چمکدار دھوپ سے دن جگمگا رہا تھا۔یہ روشنی آنے والے خوشگوار دنوں کا پیغام ثابت ہوئی جسے ناصر ناکاگاوا اور ان کے توسط سے ملنے والے جاپان میں مقیم دوستوں نے بامقصد اور بامعنی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ائیرپورٹ پر اترنے کے بعد امیگریشن سے گزرتے ہوئے اور کسٹمز کاؤنٹر پر کھڑے عملہ سے بات چیت کے دوران ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ جاپانی ایک مہذب قوم ہیں جو گفتگو کا سلیقہ جانتے ہیں اور اپنے سرکاری فرائض نبھاتے ہوئے بھی نرم خوئی اور انسان دوستی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ معمول کے ان مراحل سے نکل کر ائیرپورٹ جانے کے لئے بس کا ٹکٹ خریدنے تک اسی مزاج اور رویہ کا مشاہدہ ہؤا۔ اس تجربہ کو جاپان میں قیام کے آٹھ دنوں نے مزید راسخ کردیا۔ ایک مہنگا صنعتی ملک ہونے کے باوجود ہر جگہ پر عام لوگوں کی سہولت کے لئے مددگارموجود ہوتے ہیں۔ ائیرپورٹ پر بس کا ٹکٹ لینے کے بعد مسافر یا سیاح کو سانحات و حادثات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ دیاجاتا بلکہ کاؤنٹر موجود شخص مناسب طریقے سے نقشے کی مدد سے آپ کو بس پلیٹ فارم تک جانے کا راستہ سمجھاتا ہے اور مقررہ وقت سے بھی آگاہ کرتا ہے تاکہ اگر بس جانے میں کچھ وقفہ ہو تو وہ آپ کسی کیفے یا ریستوران میں گزار لیں۔ مختلف ہوٹلوں کے لئے مختلف بسیں روانہ کی جاتی ہیں جو ائیرپورٹ کی عمارت سے باہر اپنی مخصوص جگہ سے روانہ ہوتی ہیں۔ ائیرپورٹ سے ہوٹل یا منزل مقصود تک جانے کے لئے بس کے علاوہ انڈر گراؤنڈ یا ٹیکسی کا آپشن بھی موجود ہے ۔ ٹیکسی مہنگی اور نئے مسافر کے لئے انڈر گراؤمڈ کا سفر شروع میں قدرے پیچیدہ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگرآپ کو کسی ہوٹل میں جانا ہے تو بس آپ کو ہوٹل کے دروازے تک پہنچاتی ہے اس لئے کسی بھی نئے سیاح کے لئے بس ہی بہترین آپشن محسوس ہوتا ہے جسے ہم نے بھی اختیار کیا۔
بس اسٹاپ پر مستعد عملہ مسافروں کی رہنمائی کے لئے تیار کھڑا ملا۔ ایک ہی اسٹاپ سے مختصر وقفے کے بعد بسیں مختلف منزلوں کی طرف روانہ ہوتی ہیں اس لئے یہ عملہ آپ کا ٹکٹ دیکھ کر آپ کا سامان ایک مقررہ جگہ پر رکھ دیتا ہے تاکہ آپ بس کے آنے تک سامان کی فکر سے آزاد ہوجائیں۔ جاپان میں گاڑی ہو یا بس مقررہ وقت پر پہنچتی ہے۔ بس تو ٹریفک کی غیرمتوقع صورت حال کی وجہ سے کبھی لیٹ بھی ہوسکتی ہے لیکن جاپان میں مقیم دوستوں نے بتایا کہ انڈر گراؤنڈ اور ٹرین کی آمد اور روانگی کا جو وقت ٹائم ٹیبل میں شائع ہے، وہ عین اس کے مطابق پیلٹ فارم پر پہنچے گی اور مقررہ وقفہ کے بعد روانہ ہوجائے گی۔ وقت کی اس باقاعدگی کے بارے میں اہل جاپان اس فخر سے بتاتے ہیں کہ ’آپ ٹرین کی آمد سے اپنی گھڑی درست کرسکتے ہیں‘۔ ائیر پورٹ سے بس کے لینے سے ہی ہمیں اس باقاعدگی اور جاپانیوں کے ہر کام کو بہترین انداز میں کرنے کی عادت کا احساس ہوگیا تھا۔ بس عین وقت پر پہنچی اور بس کمپنی کے معاونین نے خود ہی سامان بس میں لوڈ کیا اور مسافروں کو اس کی رسید دے دی گئی۔ راستہ میں بس میں لگی ہوئی اسکرین سے یہ معلومات بھی فراہم ہوگئیں کہ شہر میں ٹریفک کی وجہ سے بس نے اپنا روٹ بدل لیا ہے اس لئے وہ اب مقررہ راستہ کی بجائے متبادل راہ اختیار کررہی ہے تاکہ بر وقت منزل مقصود تک پہنچ سکے۔ اس ری روٹنگ کے باوجود ہماری بس مقررہ وقت پر ہی ہمارے ہوٹل پہنچی۔
ناصر ناکا گاوا سے ہم نے استفسار کیا تھا کہ ائیرپورٹ سے مقامی سم لے لی جائے لیکن ان کا مشورہ تھا کہ اس کی ضرورت نہیں ہے۔ جاپان میں ہر جگہ پر کوئی نہ کوئی نیٹ ورک عام لوگوں کی سہولت کے لئے دستیاب ہوتا ہے۔ اس طرح کوئی بھی شخص واٹس ایپ یا دوسرے ذریعے سے باقی ماندہ دنیا سے رابطہ قائم کرسکتا ہے۔ ناصر بھائی کی بات کی تصدیق یوں ہوئی کہ ایئرپورٹ کا نیٹ تو میسر تھا ہی لیکن جوں ہی ہم بس میں سوار ہوئے تو بس کمپنی کا وائی فائی سسٹم انٹر نیٹ کی سہولت فراہم کررہا تھا۔ اسی طرح ہوٹلوں، ریستوران یا دیگر پبلک مقامات پر انٹرنیٹ کنکشن مفت اور نہایت سہل بنا دیاگیا ہے، مواصلت کے اس جدید دور میں کوئی بھی مسافر بڑی فیس ادا کئے بغیر ہی ان سہولتوں سے استفادہ کرسکتا ہے۔ اسی طرح ایک مہنگا اور بڑا شہر ہونے کے باوجود ٹوکیو میں ہر جگہ پر پبلک ٹائیلٹ ہر جگہ پر نہ صرف یہ کہ موجود ہیں بلکہ ان میں صفائی کا اعلیٰ انتظام بھی کیا گیا ہے۔ کہیں پر کوئی پبلک باتھ روم گندا دکھائی نہیں دیا اور ہر جگہ پر ٹائیلٹ پیپر صابن اور پانی کی سہولت موجود تھی۔
ہمارے پہنچنے کے اگلے ہی دن ناصر ناکاگاوا نے ہمیں ٹوکیو دکھانے اور سارا دن ہمارے ساتھ گزارنے کا پروگرام بنایا ہؤا تھا۔ وہ تو صبح 9 بجے ہی ہمارے ہوٹل پہنچنے کے لئے تیار تھے لیکن ہم نے اپنی فطری سستی کی وجہ سے انہیں بارہ بجے تک آنے کی درخواست کی۔ اس روز دوپہر سے شام سات بجے تک ناصر صاحب کے تعاون اور رہنمائی میں ہم نے ٹوکیو کو جس طرح کھنگالا اور اہم ترین مقامات کی سیر کی وہ شاید کسی سیاح کے لئے اپنے طور پر کئی روز میں ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ تمام تر سہولتوں اور رہنمائی کے باوجود ٹوکیو کے انڈر گراؤنڈ سسٹم کو سمجھنے اور استعمال کرنے میں کچھ وقت صرف ہوتا ہے لیکن ناصر ناکا گاوا ہمیں ایک سے دوسری اور پھر تیسری ٹرین میں سوار کرواتے ٹوکیو کے اہم ترین مقامات پر گھماتے رہے۔ جہاں ذرا مشکل کا اندیشہ ہوتا وہاں ٹیکسی لے لی جاتی۔ یوں ہم نے کم وقت میں ٹوکیو شہر کے اہم ترین مقامات کی سیر کرلی ۔ ان میں آسا کوسا کی عبادت گاہیں بھی شامل تھیں، جو اب سیاحوں کی زیارت گاہیں بن چکی ہیں ۔ یہاں کی بڑی عبادت گاہ میں اس وقت بھی پروہت عبادت کروا رہا تھا اور عقیدت مند اس کے ساتھ مل کر سکون حاصل کرنے اور مرادیں پوری ہونے کی دعائیں کررہے تھے۔ جو لوگ اس عبادت میں شامل نہیں ہوئے ، ان کی سہولت کے لئے تعویزوں کی دکانیں موجود تھیں جہاں اپنی ضرورت اور خواہش کے مطابق قیمت ادا کرکے مراد پوری ہونے کا تعویز حاصل کیا جاسکتا ہے۔ جو لوگ اس کی بھی استطاعت نہ رکھتے ہوں ، وہ عبادت گاہ کے باہر ’مقدس دھوئیں ‘ کو ہاتھ پاؤں سے چھوا کر دلی تمنا پوری کرسکتے ہیں۔ ہم تو ان تینوں سہولتوں سے استفادہ کرنے سے قاصر رہے ۔یوں بھی ہمیں وہاں سے ٹوکیو اسٹیشن اور پھر اسکائی ٹری جانے کی جلدی تھی۔
ٹوکیو کا سنٹرل اسٹیشن یوں تو شہر اور ملک کے مختلف حصوں سے ملانے والی ٹرانسپورٹ کا مرکز ہے لیکن اس کی 102 سال پرانی عمارت قابل دید ہے۔ خاص طور سے اب اس عمارت کے نواح میں جدید بلند قامت عمارتیں تعمیر ہوچکی ہیں۔ اس طرح اسٹیشن سے باہر وسیع پارک میں جدید و قدیم کے ملاپ کا خوبصورت منظر دیدہ زیب اور دلفریب ہے۔اسٹیشن کے اندر کا منظر بیان کرنے کے لئے الفاظ تلاش کرنا ممکن نہیں ہے۔ ہزاروں لوگ درجنوں ٹرینوں تک پہنچنے کے لئے تقریباً بھاگتے ہوئے ایک کونے سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے کی جانب رواں رہتے ہیں۔ انسانوں کا ایک بے ہنگم ہجوم دوسروں سے بے خبر اپنی اپنی منزل کی تلاش میں سرگرم عمل ہے۔ لیکن اس بدنظمی میں بھی ایک سلیقہ اور نظام موجود ہے ۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ اسے کہاں جانا ہے اور جسے نہیں معلوم اس کی سہولت کے لئے جگہ جگہ معلوماتی بورڈ کے علاوہ کاؤنٹر بنے ہیں جہاں سے منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے آسان ترین طریقہ معلوم کیا جاسکتا ہے۔ ٹوکیو کے انڈر گراؤنڈ کا یہ کمال بھی دیکھا کہ وہاں اسٹیشنوں پر جگہ جگہ معلوماتی کاؤنٹر موجود ہیں جو مسافروں کو مناسب معلومات فراہم کرتے ہیں۔ حالانکہ ٹوکیو کا انڈر گراؤنڈ سسٹم متعدد مختلف کمپنیاں کمرشل بنیاد پر چلاتی ہیں لیکن مسافروں کو منزل کا راستہ کھوجنے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی۔
ہماری اگلی منزل اسکائی ٹری ٹاور تھا۔ یہ ٹوکیو کے سومیدا کے علاقے میں واقعہ ہے۔یہ جگہ ٹوکیو سنٹرل اسٹیشن سے سات کلو میٹر کی دوری پر ہے۔ یہ ٹاور 2012میں مکمل کیا گیا اوراس وقت دنیا کی دوسری بلند ترین عمارت شمار ہوتی ہے۔ دنیا کی سب سے بلند عمارت اب بھی دوبئی کا برج الخلیفہ ہے جس کی اونچائی 828 میٹر ہے جبکہ ٹوکیو کے سکائی ٹاور کی بلندی 634 میٹر ہے۔ عمارت کی بلندی کی وجہ سے یہ جگہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہتی ہے۔ لیکن اس عمارت کو بنیادی طور پر جاپانی ریڈیو و ٹیلی ویژن نشریات کے لئے مواصلاتی سنٹر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سےپہلے ٹوکیو ٹاور اس مقصد کے لئے استعمال ہوتا تھا لیکن اس کی بلندی صرف 333 میٹر ہے۔ اس علاقے میں دیگر اسکائی اسکریپر تعمیر ہونے کی وجہ سے اب وہاں سے اعلیٰ پیمانے پر مواصلاتی نظام کو جاری رکھناممکن نہیں تھا۔ اسکائی ٹری ٹاور کی مقبولیت کی وجہ سے اس عمارت میں ایک عظیم الشان شاپنگ پلازا بنایا گیا ہے جہاں ہر طرح کی جاپانی مصنوعات اور کھانے پینے کی گوناگوں دکانیں اور ریستوران ہیں۔ ناصر ناکا گاوا نے اس اصرار کے باوجود کہ ہم لوگ لنچ نہیں کرتے اس عمارت کے ایک ریستوران میں خالص جاپانی طرز کے مختلف النوع ٹمپورا اور جاپانی پکوڑوں کا لنچ کروایا۔
اسکائی ٹاور پر ٹکٹ خرید کر چڑھا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے ٹاور کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلی منزل چار سو میٹر پر ہے جبکہ دوسری ٹاو ر کی مکمل بلندی پر ہے۔ دونوں اونچائیوں تک جانے کے لئے علیحدہ علیحدہ لفٹ ہیں۔ اس طرح اسکائی ٹاور کی بلندی تک جانے کے لئے پہلے ٹکٹ خریدنے کی قطار میں انتظار ہوتا ہے۔ پھر پہلی منزل یعنی چار سو میٹر تک جانے کے لئے لفٹ کی لائن میں لگنا پڑتا ہے اور انتہائی بلندی تک جانے کے لئے دوسری لفٹ کی قطار سیاحوں کی منتظر ہوتی ہے۔ یہی طریقہ واپسی کے لئے اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اس مشقت میں عام دنوں میں بھی دو سے تین گھنٹے کا وقت صرف ہوجاتا ہے۔ تاہم اسکائی ٹاور کی بلند ترین سطح پر پہنچ کر ٹوکیو دیکھنا اور زمین سے اس قدر بلند ی کی کیفیت کا اپنا ہی لطف ہے جو انتظار کی زحمت پر حاوی رہتا ہے۔
اسکائی ٹاور سے ناصر ناکا گاوا نے ہمیں ٹرین سے وسطی ٹوکیو کی سیر کروائی اور اس کے بعد شہر کے وسط میں دریا تک لے گئے جو سیاحوں اور مقامی لوگوں میں مقبول ہے۔ یہاں ساحل کے کنارے سے چاروں طرف شہر کا نظارہ بہت خوبصورت ہے۔ شام اتر رہی تھی اس لئے روشنیوں سے جگمگاتا شہر مزید خوبصورت لگ رہا تھا۔ ناصر بھائی کی خواہش تھی کہ کسی آبی ریستوران میں جاپانی کھانا کھایا جائے لیکن جاپان میں پیپلز پارٹی کے لیڈر اور مساوات آن لائن کے مدیر شاہد مجید نے پہلے سے رات کے کھانے پر مدعو کیا ہؤا تھا۔ اس لئے ہم لوگ نے کھانے کی دعوت پر جانے سے پہلے ساحل پر بنے ایک مال میں اسٹار بکس پر کافی کا لطف لیا اور شام سات بجے شاہد مجید کی دعوت پر مقررہ پاکستانی ریستوران پہنچے۔ شاہد مجید ملنسار اور سیاسی طور سے متحرک انسان ہیں۔ انہوں نے نہایت خلوص سے اس دعوت کا اہتمام کیا تھا اور متنوع پاکستانی ڈشز سے تواضع کی۔ (جاری ہے)

Comments:- User is solely responsible for his/her words