پاکستان اور امریکہ باہمی اختلافات دیانت داری سے تسلیم کریں: امریکی سینیٹر

واشنگٹن: امریکی سینیٹ کے سینیئر رکن باب کیزے نے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری کی ضرورت پر رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’دونوں ممالک کو اختلافات پر ایمانداری کا مظاہرہ کرنا چاہئے‘۔
اس حوالے سے سینیٹ کمیٹی برائے خارجہ امور سینیٹر جین شاہین کا کہنا تھا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ امریکہ اور پاکستان بہت اچھے دوست تھے تاہم گزشتہ چند سالوں کے دوران تعلقات میں سرد مہری آئی ہے۔ سینیٹر نے تعلقات کو بہتر بنانے کی ضرورت کا اعتراف کیا اور پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی سے امریکی سیاست میں شامل ہوکر اپنا کردار ادا کرنے پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہم اپنے تعلقات کو صحیح سمت میں لے جانے کا راستہ تلاش کریں تاکہ ہم ماضی کی طرح دوبارہ مضبوط اتحادی بن سکیں‘۔ انہوں نے یہ بیان پاک امریکہ سیاسی ایکشن کمیٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔
پاک امریکہ سیاسی ایکشن کمیٹی کی تقریب میں ڈیموکریٹک پارٹی کے دونوں سینیئر اراکین سمیت 20 قانون سازوں نے شرکت کی تھی۔
امریکی انتظامیہ پاکستان کے رویے میں نرمی اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن کو اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ افغان پالیسی تبدیل کرنے کی ان کی کوشش کام نہیں کر رہی۔ جس کی وجہ سے وہ افغانستان میں 17 سالہ جنگ کے خاتمے کے لئے اسلام آباد کے تعاون چاہتی ہے۔
امریکی سینیٹرز نے اعتراف کیا کہ ’دنیا میں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں دہشت گردی یا دہشت گردوں کے حملوں سے اتنا نقصان ہوا ہو جتنا پاکستان کو ہوا ہے‘۔ واشنگٹن کی اسلام آباد سے ناراضگی کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’کبھی کبھی سب ٹھیک ہوتا ہے اور جب کبھی ہم معلومات کا صحیح طرح تبادلہ نہیں کرپاتے تو تعلقات میں خرابی پیدا ہوجاتی ہے‘۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words