امریکہ سال رواں کے دوران افغانستان میں امن معاہدہ کرنا چاہتا ہے

واشنگٹن: امریکی نمائندہٴ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ دوحہ میں امریکہ طالبان امن مذاکرات حساس اور پیچیدہ تھے۔ تاہم پاکستان نے سہولت کار کا مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سال کے دوران افغانستان میں امن معاہدہ ہوجائے گا۔
اُنہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کی بحالی سے نہ صرف پورے علاقے اور وسطی ایشیا، بلکہ پاکستان کو بہت فائدہ ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ ’امریکہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے، جس کے ساتھ ماضی میں قریبی اور بہتر دو طرفہ تعلقات رہے ہیں‘۔
خلیل زاد نے یہ بات جمعہ کو یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں ’افغانستان میں امن کے امکانات‘ کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے کہی۔ اُنہوں نے کہا کہ ’امن اور مفاہمت کے حوالے سے اب تک جو کام پاکستان نے کیا ہے، ہم اُس کو سراہتے ہیں‘۔
خلیل زاد نے کہا کہ افغان طالبان کے لیڈر ملا غنی برادر امن کا حامی ہونے کی شہرت رکھتے ہیں اور توقع ہے کہ وہ امن سمجھوتہ طےکرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں خلیل زاد نے کہا کہ امریکہ ماسکو میں روس کی سرپرستی میں افغان سیاسی رہنماؤں اور طالبان کے درمیان دو روزہ بات چیت کا خیر مقدم کرتا ہے۔ لیکن اس بارے میں فی الحال کوئی حتمی رائے نہیں دی جاسکتی۔
اُنہوں نے واضح کیا کہ بالآخر، طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے ہوں گے۔ 20جولائی کو افغانستان میں صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں، بہتر ہوگا کہ بین الافغان اور افغان قیادت والی بات چیت کسی سمجھوتے تک پہنچ جائے، جس کے ملکی مستقبل پر تابناک اثرات مرتب ہوں گے۔
اپنے ابتدائی کلمات میں، خلیل زاد نے کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا محور امریکی فوج کا انخلا نہیں بلکہ امن سمجھوتہ طے کرنا تھا، جو سب کے بہترین مفاد میں ہوگا۔
خلیل زاد نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ افغان جنگ اسی سال ختم ہو‘۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words