نثر


  وقت اشاعت: 26 مئی 2017

زبان وسیلۂ اظہار تو ہے ہی کہ مدعا بیان کرے ہے تو کبھی حالِ دل نوکِ زباں پر لانے سے گریز پا ہو کر وہ سب ظاہر کر دے ہے جو ’کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے‘ در حقیقت مدعا بیان کرنے کے بعد کہا جائے ہے۔ ورنہ غالب جیسے زبان داں کو مدعا پوچھنے کی حاجت ! وہ تو ’اس ‘ کی زبانِ حال سے وہ کہلوانا چاہتے ہیں جو کہ خود سننے کے مشتاق ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 مئی 2017

23 اپریل کا دن’ کتاب کا عالمی دن‘(World Book Day)کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اقوامِ عالم اپنے بچوں میں کتب بینی کا شوق اور کتاب سے لطف اندوز ہونے کی حِس پیدا کرنے کے آرزو مند ہیں اور اس دن کو منانے کا یہی بنیادی مقصد ہے۔ پاکستان میں یہ دن نہیں منایا جاتا کیونکہ ہم اپنے بچوں میں کتاب جیسی لغو چیز سے اُنسییت پیدا کرنا نہیں چاہتے۔ ہمیں اپنے بچوں اور اگلی نسلوں سے کتب بینی سے زیادہ اہم اور دائمی منافع بخش کام لینے ہیں کہ یہ دنیا فانی ہے۔ 23 اپریل کا دن عالمی لٹریچر کا علامتی دن ہے کہ اسی تاریخ کو دنیا کے نامور لکھاری اور شاعر دنیا سے منتقل ہوئے، یعنی انتقال پا گئے جیسے ولیم شیکسپئیر، ما گوئیل ڈی سروانٹس، ولیم ورڈز ورتھ اور بہت سے نابغۂ ر وزگار دانشور، اہلِ قلم وغیرہ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 مارچ 2017

تہذیب کا مفہوم:۔
تہذیب کے لغوی معنی ہیں ’’چھانٹنا‘‘، ’’سنوارنا‘‘، ’’خالص کرنا‘‘۔ تہذیب کا لفظ اصطلاحی معنی میں اپنے اندر نہایت وسیع مفہوم رکھتا ہے، جو زندگی کے تمام اطوار، رہن سہن، معاشرت اور سامان پر حاوی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 مارچ 2017

بین الاقوامی شہرت اور عزت کے حامل شاعر ظفر عباس ظفرؔ یکم جون 1965 میں پاکستان کے صوبے سندھ کے شہر خیرپور میرس میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق خیرپور کے ایک مہذب گھرانے سے ہے۔ اِن کے آباو اجداد جونپور انڈیا سے ہجرت کرکے خیرپور کی مذہبی دھرتی پر تشریف لائے۔ ابتدائی تعلیم خیرپور سے ہی حاصل کی اور پھر کراچی یونیورسٹی سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 18 2016

گزرے وقتوں میں جب بھی دسمبر آیا
لوگوں کو اداس کر گیا، پریشان کر گیا

دسمبر کے آتے ہی لوگ غمگین ہو جاتے
گزرے وقتوں کو یاد کرتے آنسو بہاتے
 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 03 2016

یار یہ بڑھیا بڑی گھوسٹ ہے اس کا کچھ کرنا پڑے گا
پلاٹ بہت قیمتی ہے۔ یہ  ہمارے ہاتھ لگ گیا تو وارے نیارے ہو جائیں گے

ایسا کرتے ہیں اس کو دھکے دے کر نکال دیتے ہیں، ملک بولا
نہیں یار سارے بستی والے اس کا ساتھ دیں گے
زبردستی قبضہ بھی مشکل ہے۔ لالچ میں بھی نہیں آتی
سوچو سب سوچو!

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 23 2016

جمعہ والے دن مسجد میں نمازی معمول سے کچھ زیادہ تھے

گاؤں میں کسی نے بھی شادی بیاہ یا کسی بھی تقریب میں ڈھول بجایا ، ناچ گانا کیا
یا خلاف شرع کام کیا توپورا مجمع کان کھول کر سن لے!

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 2016

میں نے اپنے حلقہ میں ریکارڈ ترقیاتی کام کرائے ہیں۔ پچھلے انتخابات میں ہمارا اختلاف نظریاتی تھا۔ اب عوام کے مفاد کے لئے اتحاد ضروری ہے۔
ملک صاحب نے اپنے اور سابقہ مخالف ورکروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 17 2016

اُردو شاعری کی جہتوں میں اضافہ کرتی ہوئی جدید اردو شاعروں کی بہت بڑی تعداد نے اس ملینئیم سن 2 ہزار عیسوی کے بعد سے متعدد مجموعے قارئین اردو ادب اور سخن فہموں کے ذوق طبع نیز ہم جیسے بقلم خود ناقدین کی آزمایش نقد و نظر کے لیے پیش کیے ہیں۔ ان کا کچھ احوال تو رسائل میں تبصرہ و تعارف کے وسیلے سے ہم تک پہنچتا رہا ہے اور کچھ ایسے جدید نوآموز قیام پاکستان کے بعد نصف صدی کے شعرا کو چھوڑکر اس دائرہ لکھنویت و وہلویت میں شامل ہونے والے پاکستانی شاعروں کے مجموعے براہ راست مطالعے کے لیے بھی موصول ہوتے رہتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 16 2016

’’خواب گاہ میں ریت‘‘ دھیمے اور باوقار لہجے کے شاعرانہ جذبات کو لفظی سلیقہ شعاری سے برتنے والے شاعر کا اظہاریہ اچھی، نئی اور پُرتاثیر شاعری کے دل دادگان و آرزومندوں کے لیے امکانات کی ہمہ جہتی کو سامنے لا رہا ہے۔  اُس کی شاعری کا تعارف کروانے والے پروفیسرڈاکٹرخورشید رضوی جیسے نابغۂ روزگار نے عصری رجحان اور معاشرے میں ادب کی بے توقیری ، فن کاروں خصوصاً تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد کو نظرانداز کیے جانے کے المئیے کو بین السطوربیان کردیا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 2016

غریب رتھ نئی دہلی اسٹیشن سے کچھ ہی دیر میں چلنے والی تھی تقریبا بیس منٹ کے بعد ،لیکن ساحل ابھی کناٹ پلیس سے ہی گزر کر رہا تھا۔ اسے بار بار اس بات کا اندیشہ ستا رہا تھا کہ کہیں اسکی ٹرین چھوٹ نہ جائے اور وہ اسٹیشن پر پہنچنے کے بعد بھی ٹرین پر سوار نہ ہو سکے۔ اس کے لئے یہ کوئی پہلا اتفاق نہیں تھا ۔ وہ اکثر بھاگم بھاگ ٹرین پکڑتا تھا۔ آج اسے آفس میں کافی دیر ہوگئی تھی اور اسی وجہ سے وہ کافی پریشان ہو رہا تھا۔ لیکن نوکری بھی عجب ہی چیز ہوتی ہے۔ آفس چلے جاؤ تو فائلوں کا انبار پڑا ہوتا ہے۔نہ جانے کہاں سے اتنی فائلیں منہ کھولے سامنے آکھڑی ہو تی ہیں جیسے وہ برسوں سے منہ کھولے پڑی ہو ں ۔ اس دن بھی اس کے ساتھ ایسا ہی ہوا ۔آخر کار اسی کشمکش میں وہ پلیٹ فارم پر جا پہنچا ۔پلیٹ فارم نمبر 14پر ٹرین کھڑی تھی۔ ٹرین چلنے کا سگنل ہوچکا تھا۔ اب اسے اپنی کوچ میں پہنچنے کی جلدی تھی لیکن اسے اب اس بات کا بھی یقین تھا کہ ٹرین نہیں چھوٹے گی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 2016

حیدرآباد کو شہر اردو بھی کہا جاتا ہے۔ اور یہ شہر ساری دنیا میں اردو کے اہم مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہاں اردو کے بین الاقوامی سطح کے مقبول اخبار، رسائل،  اردو ٹیلی ویژن چینل، اردو کی مرکزی جامعہ اور اردو کے کئی ادارے،  ادبی انجمنیں وغیرہ قائم ہیں جو فروغ اردو کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اردو کی ادبی انجمنیں اردو مشاعروں اور ادبی اجلاسوں کے انعقاد کے علاوہ اردو کے لئے  بے لوث خدمات انجام دینے والے ادیبوں اور شعراء کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں مختلف ادبی ایوارڈز دیتے ہوئے ان کے کام کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 17 اگست 2016

فوج میں بھرتی کی پہلی نشانی یہ ہو تی ہے کہ جوان کی اچھی طرح ’’ حجامت ‘‘ بنادی جاتی ہے۔ یہ بات اتنی مستحکم ہے کہ آج بھی اگر کوئی نوجوان کسی چینی مرغی کی طرح اپنی گردن چھلواکر محلے میں گھومتا پھرتا نظر آجائے تو بزرگ اس سے پرسش کرتے وقت یہی کہتے ہیں ، میاں کیا رنگروٹوں والی شکل بنا رکھی ہے؟
اگر آپ کو میری باتوں پر یقین نہ ہو تو آپ فوج میں بھرتی ہو کر میری باتوں کی سچائی یا بے اعتباری کا از خود مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 21 جون 2015

میں  نے سو روپے کا کام کیا تھا ۔مجھے سو روپے ملنے چاہیے اس لیے میں  نے سیٹھ سے بات کی۔
سیٹھ نے کہا: سولہ تاریخ کو آنا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 18 جون 2015

کچھ دنوں  سے مومن بہت بے قرار تھا۔ اس کا وجود کچا پھوڑا سا بن گیا تھا۔ کام کرتے وقت، باتیں  کرتے ہوئے، حتٰی کہ سوچتے ہوئے بھی اسے ایک عجیب قسم کا درد محسوس ہوتا تھا۔ ایسا درد جس کو اگر وہ بیان کرنا چاہتا تو نہ کر سکتا۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...