اقوام متحدہ کا سعودی حکام پر خشوگی قتل کی تحقیقات میں رخنہ ڈالنے کا الزام

نیویارک: سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کی تحقیقات کرنے والی اقوامِ متحدہ کی ٹیم نے کہا ہے کہ شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ سعودی حکام نے خشوگی کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا تھا۔
عالمی ادارے کی نمائندہ خصوصی ایگنس کلامارڈ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے ترکی کے دورے کے دوران جو شواہد جمع کیے ان سے لگتا ہے کہ خشوگی کو ظالمانہ طریقے سے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا جس میں سعودی حکام ملوث تھے۔ عالمی ادارے کی تفتیش کار نے کہا ہے کہ سعودی حکام نے ترکی کی جانب سے خشوگی کے قتل کی تحقیقات کی کوششوں میں بھی رخنہ ڈالنے کی کوشش کی اور قتل کے بعد 13 روز تک ترک حکام کو واقعے کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
خشوگی کو گزشتہ سال دو اکتوبر کو ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں قتل کردیا گیا تھا۔ جمال خشوگی سعودی حکومت کے کڑے ناقد تھے جو سعودی حکام کی انتقامی کارروائی سے بچنے کے لیے اپنے قتل سے چند ماہ قبل امریکہ منتقل ہوگئے تھے۔
سعودی حکام نے پہلے تو خشوگی کے قتل پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی تھی لیکن قتل سے متعلق شواہد سامنے آنے کے بعد بالآخر تسلیم کرلیا تھا کہ خشوگی قونصل خانے میں تفتیش کے دوران بعض سعودی اہلکاروں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ لیکن قتل کی تصدیق کے باوجود تاحال خشوگی کی باقیات کا علم نہیں ہوسکا ہے۔
ترک صدر کہہ چکے ہیں کہ خشوگی کے قتل کا حکم سعودی عرب کی حکومت کے کسی اعلیٰ ترین سطح کے ذمہ دار نے دیا تھا لیکن سعودی حکومت اس الزام کی تردید کرتی آئی ہے۔ اس قتل میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے کردار پر بھی انگلیاں اٹھتی رہی ہیں جن کے خشوگی سخت ناقد تھے اور انہیں اپنی تحریروں میں کڑی تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔
سعودی حکام اس قتل کی کھلی تحقیقات اور ملزمان تک رسائی دینے کے ترکی کے مطالبات کو مسترد کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ خود اس قتل کے ذمہ داران کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے۔ قتل کے الزام میں ایک سعودی عدالت میں 11 افراد کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہے جن میں سے پانچ کو استغاثہ نے سزائے موت دینے کی درخواست کی ہے۔
تاہم اقوامِ متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ انہیں ملزمان کے خلاف جاری مقدمے کی شفافیت پر سخت تحفظات ہیں۔ تفتیشی ٹیم نے سعودی حکومت سے درخواست کی ہے کہ انہیں خشوگی کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں مملکت کا دورہ کرنے کی اجازت دی جائے۔
اس دوران امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی انٹیلی جنس ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ استنبول میں قائم قونصل خانے میں قتل سے ایک برس قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جمال خاشقجی کے خلاف ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی تھی۔
فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی قانون سازوں نے اس نئے انکشاف کے بعد جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق سعودی عرب کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اخبار کے مطابق امریکی انٹیلی جنس سمجھتی ہے کہ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی ولی عہد جمال خاشقجی کے قتل کے لیے تیار تھے، ہوسکتا ہے کہ ان کا مطلب صحافی کو قتل کرنا نہ ہو۔
دی ٹائمز کے مطابق یہ بات امریکہ کی قومی سیکیورٹی ایجنسی اور دیگر ایجنسیوں کی جانب سے معمول کی کارروائی کے دوران اتحادیوں سمیت عالمی رہنماؤں کی بات چیت سننے اور جمع کرنے کے تحت ریکارڈ کی گئی تھی۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words