کالم و مباحث (مسعود مُنّور)

  وقت اشاعت: 14 2017

خاتونِ خانہ پاکستانی ٹی وی پر  شور مچاتے مہذب لوگوں کی گفتگو سُن رہی تھی کہ اچانک  زور سے چیخی اور بولی ، " ایہہ اوتر جانڑیں ایسٹیبلشمنٹ کونڑ اے؟"
میں نے کتاب سے نظریں ہٹائے بغیر کہہ دیا ، " ایسٹیبلشمینٹ تو آپ خود ہیں  اور مجھ سے اپنے بارے میں پوچھ رہی ہیں ۔ یہ کچن ، یہ کھانے کی میز اور یہ گھریلو بیٹھک جسے ناروے میں سٹوا کہتے ہیں ، آپ کے دم قدم سے آباد ہے ، یہاں آپ کا حکم چلتا ہے ۔ آپ اس گھر کی آئینی حکمران ہیں اور آپ کی سہیلیاں اور وہ رشتہ دار خواتین ، جن سے آپ کی گاڑھی چھنتی ہے اور جن کے مشورے سے لباس ، وضع قطع اور تزئین و آرائش کے فیصلے ہوتے ہیں ، وہ سب ملا کر  ایسٹیبلشمنٹ ہیں۔
 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 2017

نام و نمود کو بطور سماجی رویہ اختیار کرنا اور  اس لسانی اقرار کو نعرہ ، نظریہ اور فلسفہ بنا دینا بہت خطر ناک عمل ہے ۔  لیکن شومئی قسمت سے  ہم فی زمانہ بڑے اُونچے کلمات کے بینرز تلے ایک نمائشی جلوس میں چل رہے ہیں  ۔ اس کیفیت پر صوفیا ء کرام نے بھی مراقبہ کیا اور اپنے نتائج مُرتب کیے ، سلطان باہو نے فرمایا:
اُچّے کلمے سویو پڑھدے ، نیت جیہناں دی کھوٹی ہو

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 2017

پچھلے دو تین دن میں ٹی وی سکرینوں پر  کچھ ایسی اندوہ ناک ، کرب ناک  اور بھیانک تصویریں دیکھنے کو ملیں  کہ مجھ سا کمزور دل ، عمر رسیدہ بچہ کانپ کر رہ گیا ۔ کتنی ہی دیر تک میرے بدن کے رونگٹے کھڑے رہے  ۔ اب میں عمر کے اس حصّے میں ہوں  کہ مجھے یہ تک یاد نہیں رہتا کہ کب کیا کہا تھا  اور میں پہلے سے کہی ہوئی باتیں  بار بار دوہرانے لگتا ہوں  ۔ یہی وہ کیفیت ہے جو بچوں کو بوڑھا کردیتی ہے  اور عمر رسیدہ بوڑھے  مجبور اور لاچار  بچّے بن کر رہ جاتے ہیں ۔ اور تب اچانک سورہ  مُزمل کی ایک آیت مجھے دہشت زدہ کیے دیتی ہے :
"فکیف تتقون ان کفرتم یوماً یجعل الولدان شیا "
اور تم کیسے صاحبِ تقویٰ ہو  ، جو اُس دن کا انکار کرو جو بچوں کو بُوڑھا کر دے گا  ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 2017

قانون حُکم ہے ۔ حُکم حکمت زاد ہے ۔ چنانچہ حضرت فضل شاہ قادری فاضلی نُور والے فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص حُکم میں رہتا ہے ، حفاظت میں رہتا ہے ، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ جو شخص قانون کی پابندی کرتا ہے ، وہ خُدا کے قانون کی پناہ میں محفوظ اور مامون رہتا ہے ۔ قانون کی پابندی تمام عبادات کا سرچشمہ ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 14 2017

دلوں کے حکمران میاں نواز شریف نے پچھلے دنوں اعلان کیا کہ وہ اب ایک نظریاتی آدمی بن چکے ہیں ۔ یار لوگوں نے سابق نا اہل وزیر اعظم کے اس بیان کو بغیر سمجھے سُنا ، مگر در خُو رِ اعتنا ہی نہیں سمجھا اور نہ ہی یہ جاننے کی کوشش کی کہ میاں نواز شریف کس نظریہ کی بات کر رہے ہیں ۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ میاں صاحب کے اس نظریاتی انکشاف کے بعد اُن کا ایک باقاعدہ نظریاتی انٹرویو کیا جاتا اور اس نظریے کو نہایت احتیاط سے حیطہ تحریر میں لا یا جاتا تاکہ علمِ سیاسیات کی کتابوں میں اس نئے جمہوری نظریے کو شامل کرکے شریف اکادمی ٗ سیاسیات کی اس علمی نظریاتی ایجاد کو عالمی سطح پر متعارف کروایا جاتا۔ مگر یہ میڈیا کے بقراطوں ، یونیورسٹیوں کے سقراطوں اور صحافت کے افلاطونوں کی نا اہلی ہے کہ انہوں نے اس نظریاتی انکشاف کو ٹریش بیگ میں ڈال دیا ۔ یہ بہت بڑی سیاسی بے ادبی ہے کہ علم کے ہیروں کو غیر ذمہ داری کے کوئلوں سے سیاہ کرکے بالائے طاق رکھ دیا جائے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 2017

( آزادی ایک پہاڑ ہے جسے پیٹھ پر اُٹھا کر چلنا پڑتا ہے ۔ آزادی کی متعدد قسمیں ہیں ۔ ان میں سے سب سے اہم ضمیر اور اظہار کی ٓزادی ہے ۔ اظہار کی آزادی پر نون لیگی حکومت قدغن لگانا چاہتی ہے اور ایک صحافی ارشد شریف کا ٹیسٹ کیس حال ہی میں سامنے آیا ہے، جو ایک ٹی وی چینل کے پروگرام پاور پلے کے میزبان ہیں ۔ ارشد شریف کے بعد کس کس کی باری ہے ، خُدا ہی جانے ۔ یہ صورتِ حال تشویش ناک اور قابلِ مذمت ہے )

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 2017

" بین الاقوامی قرضوں پر چلنے والے مقروض معاشرے حقیقی آزادی سے محروم ہوتے ہیں  ، کیونکہ  اس طرح کے معاشروں میں قانون کی حیثیت، لاقانونیت کے ہاتھی کے نمائشی دانتوں سے زیادہ نہیں ہوتی ۔ "
درویش خانقاہی
فرد ہو یا اجتماع ، تین طرح کی قوتوں سے لیس ہوتا ہے اور تینوں قوتیں اپنی اپنی جگہ خود مُختار ہوتی ہیں ، تینوں کا ساختیہ الگ الگ ہوتا ہے اور اُن کو چلانے والے قوانین بھی الگ الگ ہوتے ہیں لیکن یہ اپنی تشکیل میں ایک ہی سرچشمے سے منسلک ہوتے ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 24 ستمبر 2017

" سیاسی مُخالفین کو تہس نہس کرنے کے بجائے اُن کے لیے بہتر نظم و ضبط اور صحت مند اختلاف کے مواقع پیدا کرنے چاہئیں " ۔ درویش خانقاہی
ہم برِ صغیر کے مسلمان بُلھے شاہ کے فلسفے کے پیرو ہیں اور نہیں جانتے کہ ہم کون ہیں اور کیا ہیں : مسجدوں کے مومنین ہیں یا کفر کی روایت پر قائم ہیں ۔ حُسین علیہ السسلام کے گھرانے کے حامی ہیں یا یزید کی جمہوریت کے ہم نوا ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 17 ستمبر 2017

پاکستان سے ہزاروں میل دور بیٹھے سابق پاکستانی ، پاکستانیت کے روز مرہ معاملات میں براہِ راست  شریک نہیں  ہوتے مگر وہ محض تماشائی بھی نہیں ہیں ۔ پاکستان اور پاکستانیت اُن کا ماضی ، بچپن ، لڑکپن ، تعلیم گاہوں میں دوستی کے سلسلے اور اُن کی محبتیں ہیں ۔ دیارِ غٖیر میں پاکستان سے آنے والی خبریں سُن کر  قلب و ذہن پر ایسا تاثر مُرتب ہوتا ہے کہ پاکستان اُن کا وہ سابقہ سکول ہے جہاں کا موجودہ نصابِ تعلیم محض رسمی ہے ،  جس کی برکات سے میڈیا کے جُگتیں اور ترقی کے جھوٹے وعدے بخیر و خوبی تخلیق کیے جا سکتے ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 ستمبر 2017

بہت سی باتیں ہیں جن پر لکھنا چاہتا ہوں ۔ سرِ فہرست برما کے روہنگیا مسلمانوں کا رنج و الم ہے لیکن سارا پاکستان ، ترکی اور ایران اُن کی مدد کو نکلا ہوا ہے ۔ سو میرے ہمدردی کے دو لفظوں کی اوقات کیا ہوگی۔ بہت سے لوگ ایک ٹی وی اینکر کے اس بیان پر سیخ پا ہیں کہ  اُس نے یہ کیوں کہا کہ پاکستان کے پاسپورٹ پر تو کوئی تھوکتا بھی نہیں ۔ پتہ نہیں وہ اینکر یہ کیوں چاہتا تھا کہ پاسپورٹ کو تھوکدان ہونا چاہیے ۔ مجھے محسوس یوں ہوتا ہے کہ لوگوں کی عقل سلامت نہیں رہی اور وہ اول فول بولنے لگے ہیں اور اول فول بیان پر اول فول قسم کا  ردِ عمل بھی مونہہ کا ذائقہ خراب ہی تو کرتا ہے ۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...