کالم و مباحث (مسعود مُنّور)

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

" سیاسی مُخالفین کو تہس نہس کرنے کے بجائے اُن کے لیے بہتر نظم و ضبط اور صحت مند اختلاف کے مواقع پیدا کرنے چاہئیں " ۔ درویش خانقاہی
ہم برِ صغیر کے مسلمان بُلھے شاہ کے فلسفے کے پیرو ہیں اور نہیں جانتے کہ ہم کون ہیں اور کیا ہیں : مسجدوں کے مومنین ہیں یا کفر کی روایت پر قائم ہیں ۔ حُسین علیہ السسلام کے گھرانے کے حامی ہیں یا یزید کی جمہوریت کے ہم نوا ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 17 ستمبر 2017

پاکستان سے ہزاروں میل دور بیٹھے سابق پاکستانی ، پاکستانیت کے روز مرہ معاملات میں براہِ راست  شریک نہیں  ہوتے مگر وہ محض تماشائی بھی نہیں ہیں ۔ پاکستان اور پاکستانیت اُن کا ماضی ، بچپن ، لڑکپن ، تعلیم گاہوں میں دوستی کے سلسلے اور اُن کی محبتیں ہیں ۔ دیارِ غٖیر میں پاکستان سے آنے والی خبریں سُن کر  قلب و ذہن پر ایسا تاثر مُرتب ہوتا ہے کہ پاکستان اُن کا وہ سابقہ سکول ہے جہاں کا موجودہ نصابِ تعلیم محض رسمی ہے ،  جس کی برکات سے میڈیا کے جُگتیں اور ترقی کے جھوٹے وعدے بخیر و خوبی تخلیق کیے جا سکتے ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 ستمبر 2017

بہت سی باتیں ہیں جن پر لکھنا چاہتا ہوں ۔ سرِ فہرست برما کے روہنگیا مسلمانوں کا رنج و الم ہے لیکن سارا پاکستان ، ترکی اور ایران اُن کی مدد کو نکلا ہوا ہے ۔ سو میرے ہمدردی کے دو لفظوں کی اوقات کیا ہوگی۔ بہت سے لوگ ایک ٹی وی اینکر کے اس بیان پر سیخ پا ہیں کہ  اُس نے یہ کیوں کہا کہ پاکستان کے پاسپورٹ پر تو کوئی تھوکتا بھی نہیں ۔ پتہ نہیں وہ اینکر یہ کیوں چاہتا تھا کہ پاسپورٹ کو تھوکدان ہونا چاہیے ۔ مجھے محسوس یوں ہوتا ہے کہ لوگوں کی عقل سلامت نہیں رہی اور وہ اول فول بولنے لگے ہیں اور اول فول بیان پر اول فول قسم کا  ردِ عمل بھی مونہہ کا ذائقہ خراب ہی تو کرتا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 31 اگست 2017

میرے مونہہ میں تجزیے کی زبان نہیں بلکہ کُل کے جوہر کی تفہیم ہے ۔ میں تجزیہ کرنے اور دنیا کے بارے میں اپنی ناقص رائے ظاہر کرنے پر فائز نہیں  ہوا بلکہ میں ارد گرد کی دنیا ، ماحول اور معاشرت کو آراء  سے بالاتر جانتا ہوں  ۔ میں دیکھتا ہوں کہ جہالت تھری پیس سوٹ اور ٹائی میں ملبوس ، سر پر وِگ کا تاج پہنے رہتی ہے اور  اُس نے اپنی بقا کے لیے باقاعدہ قانون سازی کر رکھی ہے تاکہ اُن قوانین کے تحت لوگوں کو نفسیاتی اذیّت میں مُبتلا رکھا جا سکے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 26 اگست 2017

اُردو کے اہلِ زبان اور نا اہلِ زُبان مل کر یہ محاورہ باندھتے ہیں کہ جتنے مونہہ اُتنی باتیں اور اگر اِس بات کو اینکروں ، ٹاکروں ، وکیلوں اور سیاسی دانشوروں کے ہونٹوں کی رفتار سے ضرب دی جائے تو حاصل ضرب کُل ملا کر کھربوں باتیں بنتی ہیں۔ لیکن محتاط انداز میں کہا جائے تو یہ اُتنی باتیں ہیں جتنا پاکستان پر امریکہ اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا قرضہ ہے اور اب پاکستان کی آبادی جو لگ بھگ بائیس کروڑ  کے عددِ اعظم تک پہنچ گئی ہے اس قرض کا طوقِ غلامی گلے میں ڈالے سڑکوں پر ایک دوسرے کے موبائل چھینتی اور بلاس فیمی کی آڑ میں ایک دوسرے کی جان کے درپے ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 اگست 2017

عزیزم بلاول زرداری نے اپنے ساتھ بھٹو کا لاحقہ بھی لگا رکھا ہے جو لوگوں کو یہ یاد دلانے کے لئے ہے کہ یہ نوخیز سیاستدان  بے نظیر بھٹو کا بیٹا اور جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید کا نواسہ ہے  ۔ جی ہمیں سب یاد ہے اور یہ بھی یاد ہے کہ وہ حاکم علی زرداری کے پوتے ہیں ۔ بھلا بھٹو مرحوم اور اُن کی بیٹی کو کون بھول سکتا ہے اور مجھ جیسے فقیر کو جس نے اُن کے دو ماموؤں میر مُرتضیٰ اور شاہ نواز بھٹو کے ساتھ کابل میں کئی مہینے گزارے ہیں ، ایک ایک بات یاد ہے کہ کون کیا ہے ، کیا تھا  اور وہ عوام کے حق میں کیسا تھا ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 اگست 2017

پاکستان میں اسلام کے بہتر فرقے ہیں،  مُلکِ خداداد  کے بہتر ٹی وی چینل ہیں ، بے شمار سرکاری اور غیر سرکاری ریڈیو ہیں جن کی نشریات چوبیس گھنٹے جاری رہتی ہیں ۔ انگنت اخبارات ہیں ، بھانت بھانت کے جرائد ہیں  اور  مستزاد یہ کہ سوشل میڈیا  کے ہوم میڈ صحافیوں کا حدِ لوح و قلم تک جال  پھیلا ہوا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 اگست 2017

پاکستان کا مطلب کیا
لا الہ الاللہ
جی ہاں  ، بلند بانگ دعوے اور نعرے ایجاد کرنا ، خواب دیکھنا اور تاریخ کی کتابوں میں اپنے دینی و نظریاتی  آباؤاجداد کے قصے دوہرانا اور اُن کی عظمت کی قسم کھا کر سر دھننا ، ہمارا پُرانا رویہ ہے ۔ نعروں کی جگالی کرتے کرتے ستر برس ہونے کو آئے مگر اس قوم کی حالت عموداً نہیں بدلی ۔ ہم نے لا الہ کے رستے پر اعلیٰ روحانی اور اخلاقی  اقدار کا سفر طے نہیں کیا ، کیونکہ یہ ہم سے ہو ہی نہیں پایا۔ تاہم برساتی مینڈکوں کی طرح شور بہت مچایا  گیا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 جولائی 2017

28 جولائی 2017
آج کا دن پاکستان کی تاریخ کا ایک اور سیاہ دن ہے ۔ آ ج پھر ایک نام نہاد منتخب حکومت کو ، جس کے پاس بھاری مینڈیٹ کا دعویٰ تھا ، اقتدار سے معزول کر دیا گیا ۔ اِس بار نہ تو فوج نے مارشل لا ٗ کا بگل بجایا اور نہ ہی کوئی بیرونی سازش ہوئی بلکہ اس کے بر عکس مقدر نے ستم ڈھایا ، آسمان گرا اور پانامہ کے پنگے کا دستاویزی پلندہ دھم سے کود کر وزیر اعظم ہاؤں میں آ گرا  اور عمران خان نے اُسے کیچ کرلیا ۔ وہ دن اور آج کا دن ، پاکستان کی پوری سیاست پانامہ پانامہ ہوگئی ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 23 جولائی 2017

پانامہ ، پانامہ ، پانامہ  ۔ سُنتے سُنتے کان پک گئے اور کانوں سے سائیں سائیں  کی جگہ پائیں پائیں کی آواز آنے لگی ہے اب تو ۔ یار اب  معاف کردو۔ کب تک اس چیونٹی کو ہاتھی بنانے میں اپنی زندگی کو خوشامد کے تیل میں تلتے رہو گے ۔ جتنی تعریفیں درباریوں نے اپنے ممدوح آقا  کی کر لیں اُن کو جمع کریں تو فردوسی کے شاہ نامے کی پچاس جلدیں تیار ہو جائیں گی ۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...