کالم و مباحث (مسعود مُنّور)

  وقت اشاعت: آج 13:08:09

دھرنا عوامی دباؤ کی علامت ہے اور پچھلے چند سالوں سے یہ روایت پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے منظم مظاہروں میں بڑی سرعت اور تواتر سے دوہرائی جا رہی ہے ۔ اِن دھرنوں میں ڈاکٹر طاہر القادری  کا دھرنا ، تحریکِ انصاف کے عمران خان کا دھرنا اور تحریکِ لبیک یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم) دھرنا قابلِ ذکر ہیں جنہیں سیاسی دھرنوں کے طور پر تاریخ میں بطور حوالہ پیش کیا جاتا رہے گا۔ لیکن اس وقت میں جس دھرنے کی بات کر رہا ہوں وہ محسود قبیلے کے پشتونوں کا دھرنا ہے جو ریاستی دہشت گردی کے خلاف دیا جا رہا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 فروری 2018

خربوزہ ،  خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے حالانکہ خربوزوں کی آنکھیں نہیں ہوتیں اور سیاستدان سیاستدان کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے اور بالکل خربوزہ لگتا ہے جس میں زور خر پر ہوتا ہے ۔ چونکہ سیاستدان کی آنکھیں ہوتی ہیں اس لیے وہ دیکھ بھال کر رنگ پکڑتا ہے اور کرپشن اور منی لانڈرنگ کی جادوگری کو ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی جائز سمجھتا ہے ۔ آج ایم کیو ایم کے خربوزے کامران ٹیسوری کو ایک پریس کانفرنس میں یہ کہتے سنا کہ سیاست اور کرپشن لازم و ملزوم ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 فروری 2018

کبھی کبھی لگتا ہے کہ پاکستان کسی گھر کا ایسا آنگن ہے جس میں جھاڑ چوہے کا کانٹا دفن ہے جس کے سبب اس گھر میں ہر وقت جوتیوں میں دال بٹتی ہے ، پگڑیاں اُچھلتی ہیں ، جُگتیں تیروں کی طرح چھٹتی ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف دشنام طرازی ہوتی ہے ۔ مذہبی اور سیاسی کارکنوں کی ایک فوجِ طفر موج ہے جو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہے ۔ حکومت اپنے سیاسی مخالفین کو کوستی ہے اور حزبِ اختلاف حکومتِ وقت کے لتّے لیتی ہے ، پولیس مقابلہ ایک عام سی بات ہے ۔ دھرنے ، کنٹینر ، بد کلامی ، ٹی وی ٹاک شوز میں مونہہ زبانی ہاتھا پائی ہمارا روز مرہ ہے اور یہ اکیسویں صدی کے برقیاتی دور کا مسلمان ملک ہے جسے نظریاتی طور پر حاصل کیا گیا تھا مگر وہ نظریہ اپنی بھانت بھانت  کی تعبیروں میں قتل ہو کر رہ گیا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 27 جنوری 2018

ہم پنجابی طبعاً ، مزاجاً اور روایتاً بڑے زندہ دل تماشائی ہیں ۔ میں نے اپنے بچپن سے کُتوں کی آپس کی لڑائی ، ریچھ کُتّوں کے معرکے ، سانپ نیولے کی جنگ ، بٹیروں ، مرغوں اور مینڈھوں سے لے کر گاؤں  کے "شریکوں" تک کی لڑائیاں دیکھی ہیں ۔ اس قسم کی لڑائیاں دیکھنے اور اُن میں نفسیاتی فریق بننے کا ہم سب کو تجربہ ہے ۔ میں نے پنجاب کے علاوہ دوسرے صوبوں پر اُنگلی اُٹھانے کی جسارت نہیں کی کہ کہیں میرے سندھی ، بلوچ اور پٹھان دوست مجھ پر متعصب پنجابی ہونے کا ٹھپہ نہ لگا دیں ۔ آپ ہم سب اپنی اس عادت سے واقف ہیں کہ ایک دوسرے کو مطعون کرنے اور ملعون قرار دینے میں ہم ذرا سا بھی توقف نہیں کرتے کیونکہ پچھلی کئی صدیوں سے ہماری جو سائیکی بنی ہے ، وہ ہمارے لاشعور کا حِصّہ ہے اور ہم من حیث الاجتماع " وما یشعرون" کی کیفیت میں رہتے ہیں اور شعورسے ہر گز کام نہیں لیتے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 جنوری 2018

پاکستان میں کون سا طرزِ حکومت  رائج ہے؟
حکمرانوں کے محاورے میں یہ جمہوریت ہے جو بیس کروڑ لوگوں کے ووٹوں سے وجود میں لائی گئی ہے ۔ لیکن  عوام اپنی زبانِ حال سے اسے نظریے کی تردید کرتے ہیں  اور اسے نون لیگ کی پارٹی ڈکٹیٹر شپ کہتے ہیں جو یہ اپنی نوعیت میں   بالفعل ہے۔ کیونکہ اس پارٹی کا واحد مقصد حکمران خاندان  کے اقتدار کی رسی کو دراز رکھنا ہے ۔ یہ طرزِ حکومت ایک بڑا  کمرشل کمپلیکس ہے جس میں پورا انتظامی ، سیاسی اور مذہبی ڈھانچہ پارٹی کا تنخواہ دار ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 14 جنوری 2018

مابعدِ زینب ۔۔۔ اُس سات سالہ بچی کے جسم کے ساتھ جنسی دہشت گردی اور اُس کے وحشیانہ قتل  کے بعد سیکس ایجوکیشن کی بات چل نکلی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ سیکس ایجوکیشن کے ذریعے اسلام کی مشرقی قدروں کو پامال کرنے کی سازش کی جا رہی ہے اور اس ضمن میں طرح طرح کی موشگافیاں برساتی مینڈکوں ، ڈینگی مچھروں اور موسمِ گرما کی مکھیوں کی طرح  ذہنی فضا کو آلودہ کر رہی ہیں ۔ تو صاحبو ! یہ سیکس ایجوکیشن ہے کیا اور کیا یہ کوئی مجرمانہ اور غیر انسانی فعل ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 جنوری 2018

کسی فلسفی کا قول ہے :
"عالی ظرف لوگ آئیڈیاز اور تخیلات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں ، اوسط فکری استعداد کے حامل لوگ واقعات کو زیرِ بحث لاتے ہیں اور خطِ عقل و ہوش سے نیچے زندگی بسر کرنے والے لوگ افراد اور شخصیات پر جملے کستے اور ریمارکس دیتے ہیں اور مدح و ذم کے دائروں میں گردش کرتے رہتے ہیں " ۔
لیکن اس طرح کے علمی بیانیے ہماری روز مرہ زندگی کے حقائق نہیں ہیں  بلکہ ہم رٹّو طوطوں کی طرح آسمانی آیات کی نقلیں اُتارے رہتے ہیں اور اسے اپنی دینی ذمہ داری سمجھتے ہیں ۔  محولہ بالا قول پر غور و خوض کرتے مجھے پچاس کی دہائی کا پاکستان یاد آگیا جس میں پاکستان ویسٹرن ریل چلتی تھی اور ریل کے ڈبے انگریز کی بنائی ہوئی  درجہ بندی کے مطابق فسٹ کلاس ، انٹر کلاس اور تھرڈ کلاس  یعنی تیسرے درجے میں تقسیم تھے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 31 2017

یہ 2017 کی آخری شام ہے اور  میں پیچھے مُڑ کر دیکھنے کی تاب نہیں رکھتا کہ کہیں کسی خود کُش دھماکے کا نشانہ نہ بن جاؤں ۔ یہ ایک بہت ہی درد ناک سال تھا جو اپنے اختتام کو پہنچا ۔ کیا یہ سچ ہے کہ نیا سال آرہا ہے ؟ نہیں ، نیا سال تو نئے لوگوں سے بنتا ہے ۔ اور نئے لوگوں کے طلوع کا ابھی دور دور  تک کوئی اشارہ نہیں مل رہا ۔ ہاں البتہ ایک نا اہل قیادت ہے جسے خُدا حافظ کہنے کے امکانات موجود ہیں لیکن:
جانے والوں کو کسی ڈھنگ سے رُخصت کرتے
آنے والوں کو بھی آرام دیا جا سکتا

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 23 2017

چند برس اُدھر ، نوم چومسکی کی کتاب " توسیع پسندی اور بقا" شائع ہوئی جس کے پہلے باب کا ترجیحات اور امکانات کے عنوان سے آغاز ہوا ۔ کتاب کے شروع میں ایک نامور محققِ حیاتیات ارنسٹ میئر کے حوالے سے بڑی دل چسپ باتیں کہی گئی ہیں جو بشر کی مافوق الفطرت سطح کی  دانش و حکمت کے حوالے سے تھیں ۔ یہ ارنسٹ کا خیال ہے یا  اُس کی علمی تحقیق کا حاصل جس کے مطابق وہ یہ نتیجہ اخذ کر سکا ہے کہ انسانوں میں اعلیٰ سطح کی دانش و فراست کے امکانات بہت معدوم ، مبہم اور غیر واضح ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 16 2017

سب سے پہلے رنگ ، اُس کے بعد ڈھنگ ۔ میں چیزوں کو نہ جانے کیوں اِسی ترتیب سے دیکھتا ہوں  یا کم از کم میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہر شے جیسی ہے ، مجھے ویسی ہی دکھائی دے ۔ لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ :
" جہانِ نو ہو رہا ہے پیدا ، یہ عالمِ پیر مر رہا ہے "
تبدیلی کی نشانی انگریزی ٹوپی ہے ۔ انگریزی ٹوپی المعروف ہیٹ ، جسے انگریزی میں ہیٹ بمعنی نفرت بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ دیسی عوام کے درمیان حکمرانی کے احساسِ برتری کو جوان رکھتی ہے اور یہ ٹوپی پہن کر حبیب جالب کے باغیانہ اشعار اُسی کے لہجے میں پڑھتے ہوئے ، آپ یہ سیاسی بیان جاری کر سکتے ہیں کہ :

" ہم لاشوں پر سیاست نہیں کرنے دیں گے " ۔

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...