کالم و مباحث (سید مجاہد علی)

  وقت اشاعت: 02 جون 2017

یوں تو اسے خواب نگری کہنا چاہئے تھا کیونکہ اس بستی کے سارے باشندے خوابوں میں زندگی بسر کرتے تھے۔ مگر نہ جانے یہ حاسدوں کے پروپیگنڈے کا اثر تھا یا کسی احمقانہ طرز عمل کا نتیجہ کہ سب اس جگہ کو شیخی نگر کہنے لگے تھے اور وہاں کے باشندوں کے بارے میں شیخ چلی کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 مئی 2017

آج جو حب میں ہوا وہ پاکستان کے کسی بھی شہر میں کسی وقت وقوع پذیر ہو سکتا ہے۔ علاقے کے مولویوں کے بہکارے میں آئے ہوئے مشتعل ہجوم نے ایک تھانے پر دھاوا بول دیا کیونکہ پولیس ان کا یہ مطالبہ ماننے سے قاصر تھی کہ توہین مذہب کے الزام میں گرفتار ایک 35 سالہ ہندو تاجر کو ان کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ خود اسے اس کے کئے کی سزا دے سکیں۔ یعنی اسے ہلاک کرکے اپنے غصے اور انتقام کی آگ بجھا سکیں۔ پولیس کی طرف سے بات چیت کے ذریعے ہجوم کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی گئی۔ خبروں کے مطابق سپرنٹنڈنٹ پولیس ضیا مندوخیل نے لوگوں کو بتایا کہ ملزم کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے، وہ حوالات میں نہیں ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 اپریل 2017

زور سے تالیاں بجیں تو میں چونکا

کسی نے کہا کہ یہ تالیاں تو تمہارا مذاق اڑاتی ہیں۔ وہ سارے تم پر ہنستے ہیں اور تمہاری سادہ لوحی ، ایمان پرستی اور عقیدے کا ٹھٹھہ اڑاتے ہیں۔ میں نے حیرت سے یہ باتیں سنیں اور سوچا کہ آخر وہ کیوں ایسا کریں گے۔

مزید پڑھیں

loading...

  وقت اشاعت: 09 اپریل 2017

پاکستان میں وزیراعظم کی طرف سے اقلیتی عقیدہ کے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کے وعدہ کی اس سے زیادہ توہین اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایک ہفتہ کے دوران دو احمدی شہریوں کو نشانہ باندھ کر قتل کردیا گیا۔ حملہ کی ذمہ داری قبول کرنے والوں کا کہنا ہے کہ  یہ لوگ  احمدی عقائد کو پھیلاتے تھے، اس لئے انہیں مار دیا گیا ہے۔ یہ قتل  ملک میں اقلیتی عقائد رکھنے والوں کے خوف و ہراس میں اضافہ کریں گے اور یہ بات واضح ہو جائے گی کہ حکومت اپنے دعوؤں اور وعدوں اور فوج انتہا پسندوں کے خلاف شروع کئے گئے متعدد آپریشنز کے باوجود ان عناصر کا قلع قمع کرنے میں ناکام ہے جو ملک میں اقلیتی مذاہب کا جینا دوبھر کرنے کا قصد کئے ہوئے ہیں۔ دنیا کا کوئی مہذب ملک اس صورتحال کو قبول نہیں کر سکتا۔ اکثر معاشروں میں اقلیتوں کے بارے میں تعصبات کا اظہار ہوتا ہے اور ان کے عقائد یا رویوں کے بارے میں مباحث بھی سامنے آتے ہیں لیکن کوئی ملک کسی گروہ یا فرد کو قانون ہاتھ میں لینے اور اقلیتوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور ان کے خلاف تشدد استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 26 مارچ 2017

ایک بار پھر پوری قوم یوم قرار داد پاکستان منانے کی تیاری کررہی ہے۔ یہ دن اس روز کی یاد میں منایا جاتا ہے جب آج سے 77 برس قبل لاہور میں مسلم لیگ کی قیادت میں ایک قرار داد منظور کی گئی جو بالآخر قیام پاکستان پر منتج ہوئی۔ اس سوال پر تاریخ دان مباحث کرتے رہیں گے کہ کیا ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے علیحدہ ملک کے قیام کے لئے 23مارچ 1940 کو منظور کردہ قرار داد کے بعد جد و جہد کا آغاز ہؤا یا اس مطالبے کی بنیاد یہ قرار داد منظور ہونے سے بہت پہلے رکھ دی گئی تھی۔ اسی طرح یہ سوال بھی زیر بحث رہے گا کہ کیا پاکستان ایک اسلامی ریاست بنانے کے لئے معرض وجود میں آیا تھا اور اس صورت میں بانیان پاکستان کے ذہن میں نئی ریاست کا کیا خاکہ موجود تھا۔ یا ان کا مقصد ایک ایسی علیحدہ ریاست کا قیام تھا جہاں مسلمان ، ہندو اکثریت کے خوف سے آزاد ہوکر اپنی دینی اور ثقافتی سرگرمیوں پر عمل کرسکتے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 مارچ 2017

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے دہشت گردی کے خلاف بیانیہ تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ لاہور میں جامعہ نعیمیہ میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا ہے کہ اب دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے فتوے کافی نہیں ہوں گے بلکہ ان بنیادی تصورات کے برعکس اسلام کا حقیقی پیغام سامنے لانے کی ضرورت ہے، جو اس گمراہ کن پیغام کو غلط قرار دے کہ اسلام اور عقیدے کے نام پر قتل و غارتگری  درست طریقہ کا ر ہے۔ اسی نظریہ نے مسلمانوں میں افتراق پیدا کیا ہے اور اسی کی وجہ سے بعض گروہ اسلام کے علمبرادار بن کر پہلے مسلمانوں کے خلاف تکفیریت کے فتوے جاری کرتے رہے ہیں اور پھر انہیں قتل کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ اس طریقہ کو بدلنے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم کی ان باتوں سے سو فیصد اتفاق کرتے ہوئے یہ سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں یہ کام کیسے اور کون سرانجام دے گا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 03 مارچ 2017

بے نظیر بھٹو کی صاحبزادیوں بختاور اور آصفہ نے اپنے والد آصف علی زرداری کے فیصلہ کے خلاف مؤقف اختیار کرکے ایک طرف پارٹی کے روشن خیال کارکنوں کی ہمت بندھائی ہے تو دوسری طرف یہ واضح کیا ہے کہ نوجوان نسل پیپلز پارٹی میں ترقی پسند روایات اور خواتین کے احترام کے بارے میں اقدار کاتحفظ کرے گی۔ یہ دونوں پہلو ملک کی سیاست اور پیپلز پارٹی کے مستقبل کے لئے امید افزا کہے جا سکتے ہیں۔ دونوں بہنوں نے سندھ کے ایک سیاست دان عرفان اللہ مروت کی سابق صدر سے ملاقات اور پیپلز پارٹی میں شمولیت پر اعتراض کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے پارٹی میں جگہ نہیں ہو سکتی جو خواتین کا احترام کرنے سے قاصر ہیں۔ بختاور نے اپنے ٹوئٹ پیغام میں یہ بھی جتایا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت ایک خاتون کرتی رہی ہیں ۔ یہ پارٹی ہمیشہ خواتین کے حقوق اور احترام کے لئے کام کرے گی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 19 فروری 2017

مقبوضہ کشمیر میں 8 افراد کی ہلاکت سے ایک بار واضح ہوگئی ہے کہ بھارت نے کشمیری عوام کی مرضی و منشا کے بغیر اس علاقے پر قبضہ جمایا ہوا ہے۔ وہ بے پناہ فوجی قوت کے ذریعے وادی کے عوام کی آواز کو دبانے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے لیکن اس میں مسلسل ناکام ہے۔ گو کہ بھارت میں بھی مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے معقول آوازیں بلند ہوتی ہیں اور ملک کی بھلائی اور اپنے فیصلے خود کرنے کے بنیادی انسانی حق کے علمبردار اس حوالے سے اپنے حکمرانوں کو نوشتہ دیوار پڑھنے اور ملک کے وسیع تر مفاد اور بھلائی میں فیصلے کرنے کا مشورہ دیتے رہتے ہیں۔ لیکن مقبول عوامی نعروں اور جذبات کی بنیاد پر برسر اقتدار آنے والی پارٹی جو اس وقت بھارت میں بھی حکمران ہے، انتہا پسندانہ نعروں کو ہی مسئلہ کا حل قرار دے رہی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 فروری 2017

ایران نے فوری طور پر اپنے ملک میں امریکیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ تہران میں ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران کے شہریوں کی امریکہ میں داخلے کے غیر قانونی ، بلا جواز اور عالمی قوانین سے متصادم فیصلہ کو تبدیل نہیں کیا جاتا۔ ایران کا یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس صدارتی حکم کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایران سمیت سات مسلمان ملکوں کے باشندوں کو ویزوں کا اجرا روک دیا گیا ہے۔ یہ پابندی فی الوقت 90 روز کےلئے ہوگی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 24 جنوری 2017

ایک ایسے ملک میں جہاں اکثریتی حمایت یافتہ بیانیہ سے اختلاف کرنے یا سوال اٹھانے والے کو ہلاک کر دینا جائز سمجھا جاتا ہو، آزادی رائے کے حوالے سے بحث کا تصور بھی محال ہے۔ یہی صورتحال اس وقت پاکستان میں دیکھی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں بعض آزاد آوازوں کو دبانے کےلئے جب بدترین ریاستی استبداد کا مظاہرہ ہوا تو اس ظلم کو مسترد کرنے والوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ یہ لوگ بھی خود پر غیر ملکی ایجنٹ یا مذہب دشمن ہونے کی تہمت لگوانے کا خطرہ مول لے کر ایک سادہ اور آسان بات سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ سادہ بات اس بنیادی اصول سے مشتق ہے کہ اگر کوئی غلط کار ہے۔ کسی نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ قومی مفاد پر سودے بازی کی ہے تو اسے مملکت کے قوانین کے مطابق مجاز عدالت سے سزا دلوانے کا اہتمام کیا جائے۔

مزید پڑھیں

Conflicts in Conflict

The conflict of Jammu and Kashmir (J&K) is one of the long standing issues of the world. The unfortunate but this unique multi-ethnic, multilingual and multi-religious po

Read more

loading...