کالم و مباحث (سید مجاہد علی)

  وقت اشاعت: 21 2017

اس درخت پر ایک ہی پھل تھا اور وہ سارے ضرورت مند۔
سارے اس درخت کے نیچے جمع تھے اور پھل کو حاصل کرنا چاہتے تھے۔
یہ پھل اب پک کر تیار ہو چکا ہے۔ بس ٹپک پڑے تو ہماری بھوک اور ضرورت پوری ہو۔
لیکن پھل پوری طرح جوبن پر آنے کا نام نہ لیتا تھا۔ اس دوران بہت سے منچلوں نے چاہا کہ اس بے مقصد انتظار کا قصہ تمام کیا جائے اور پھل کو گرا کر اس سے استفادہ کر لیا جائے۔
پھل کو بھی شاید امیدواروں کی اس بے صبری کا انتظار تھا۔ اسی لئے وہ بدستور ان کے صبر کا امتحان لینے پر مصر تھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 اگست 2017

بارہ سال کی لڑکی کی آبرو ریزی کا بدلہ لینے کے لئے اہل خاندان نے متاثرہ بچی کے اٹھارہ سالہ بھائی کو ملزم کی سترہ سالہ چچیری بہن کے ساتھ ریپ کرنے کا حق دے دیا۔ معاملہ آپس میں طے کرلیا گیا۔ ملتان کے نواحی علاقے مظفر آباد میں پیش آنے والے اس المناک سانحہ کا انکشاف اس وقت ہؤا جب جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی ایک لڑکی کے اہل خانہ نے باہمی ’معاہدہ ‘ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کروادی۔ اس طرح دوسرے خاندان نے بھی اپنی بچی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا مقدمہ درج کروایا۔ یہ واقعہ ایک ایسے ملک اور سماج میں پیش آیا ہے جہاں اخلاقیات کو ترجیح دی جاتی ہے، غیرت کے نام پر جان دی اور لی جاتی ہے، معاشرہ میں مذہب کے بارے میں سنگین مباحث کئے جاتے ہیں اور عقیدہ کو بنیاد بنا کر ہر دم کفر کے فتوے صادر کرنے کا اہتمام ہوتا ہے۔ معاشرہ کی دو کمسن بچیوں کے ساتھ بدترین جنسی ظلم کے بعد معاشرہ کے سب نمائیندوں سے صرف یہی پوچھا جا سکتا کہ یہ کون سی روایت ، کون سا عقیدہ اور کس قسم کی غیرت ہے۔ یہ تو گمراہی ، جہالت اور استحصال کی بدترین سطح ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 19 جولائی 2017

تماشہ لگا ہے۔ تھیٹر سجا ہے۔ آئیے تماشہ دیکھتے ہیں۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ یہ ڈرامہ دیکھ دیکھ کر تنگ آ چکے ہیں۔ اس سے بھی فرق نہیں پڑتا کہ آپ جانتے ہیں کہ پرانے دلائل اور نئے کرداروں کے ساتھ سجائے گئے اس نئے شو میں آپ کی دلچسپی کا سامان نہیں ہے۔ نہ ہی اس سے اس خواب کی تکمیل ممکن ہے جسے دیکھتے پاکستان کی تیسری چوتھی نسل بوڑھی ہو رہی ہے اور جس خواب کو تماشہ بناتے حکمرانوں کے تہہ در تہہ کئی طبقات اپنی نسلوں کی بہبود کی ضمانت حاصل کر چکے ہیں۔ یا تو اپنے بچوں اور ان کے بچوں کو حکمرانی کےلئے تیار کر چکے یا بیرون ملک املاک حاصل کر چکے یا اپنے اہل خاندان کےلئے محلات اور جاگیریں تعمیر کر چکے یا ملک کے خزانے کا بوجھ ہلکا کرنے کےلئے قومی وسائل کو ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کر چکے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 جولائی 2017

لال بجھکڑ نے کھیر بنانے کا ارادہ کیا۔ سوچا سب اپنی اپنی دیگ چڑھاتے ہیں، دوسروں کا منہ چڑاتے ہیں، باتیں بناتے ہیں اور یوں غرور سے گردن اکڑا کر دیکھتے ہیں کہ جیسے دیگ نہ اتری ہو کسی تخت پر ان کی سواری اتری ہو۔
’’تو مجھ میں کیا کمی ہے‘‘ لال بجھکڑ نے سوچا، جسے سب اس کی بے سروپا باتوں اور حرکتوں کی وجہ سے اس نام سے پکارتے تھے۔ ’’میں بھی یہ سارے کام کر سکتا ہوں۔ کچھ ایسا پکا سکتا ہوں کہ جو بھی دیکھے منہ سے رال ٹپکنے لگے لیکن میں اسے ایک چمچ بھی کھانے کو نہ دوں‘‘۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 28 جون 2017

پاکستان میں عید سے ایک روز پہلے بہاولپور کے نزدیک ایک آئل ٹینکر میں آگ لگنے سے آخری خبریں آنے تک ڈیڑھ سو سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اس سانحہ نے عید کی خوشیوں کو گہنا دیا ہے۔ اہل پاکستان اس سے پہلے کوئٹہ اور پاڑا چنار میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات سے ہی دل گرفتہ تھے کہ احمد پور شرقیہ میں رونما ہونے والے اس سانحہ نے ہر دل کو زخمی اور ہر آنکھ کو اشک بار کردیا۔ ایک نامعلوم سرائیکی شاعر نے پاکستان کے عام آدمی کی بے بسی کو ان چند اشعار میں قلم بند کیا ہے جو قارئین کے لئے پیش خدمت ہیں:

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 جون 2017

یوں تو اسے خواب نگری کہنا چاہئے تھا کیونکہ اس بستی کے سارے باشندے خوابوں میں زندگی بسر کرتے تھے۔ مگر نہ جانے یہ حاسدوں کے پروپیگنڈے کا اثر تھا یا کسی احمقانہ طرز عمل کا نتیجہ کہ سب اس جگہ کو شیخی نگر کہنے لگے تھے اور وہاں کے باشندوں کے بارے میں شیخ چلی کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 مئی 2017

آج جو حب میں ہوا وہ پاکستان کے کسی بھی شہر میں کسی وقت وقوع پذیر ہو سکتا ہے۔ علاقے کے مولویوں کے بہکارے میں آئے ہوئے مشتعل ہجوم نے ایک تھانے پر دھاوا بول دیا کیونکہ پولیس ان کا یہ مطالبہ ماننے سے قاصر تھی کہ توہین مذہب کے الزام میں گرفتار ایک 35 سالہ ہندو تاجر کو ان کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ خود اسے اس کے کئے کی سزا دے سکیں۔ یعنی اسے ہلاک کرکے اپنے غصے اور انتقام کی آگ بجھا سکیں۔ پولیس کی طرف سے بات چیت کے ذریعے ہجوم کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی گئی۔ خبروں کے مطابق سپرنٹنڈنٹ پولیس ضیا مندوخیل نے لوگوں کو بتایا کہ ملزم کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے، وہ حوالات میں نہیں ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 اپریل 2017

زور سے تالیاں بجیں تو میں چونکا

کسی نے کہا کہ یہ تالیاں تو تمہارا مذاق اڑاتی ہیں۔ وہ سارے تم پر ہنستے ہیں اور تمہاری سادہ لوحی ، ایمان پرستی اور عقیدے کا ٹھٹھہ اڑاتے ہیں۔ میں نے حیرت سے یہ باتیں سنیں اور سوچا کہ آخر وہ کیوں ایسا کریں گے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 اپریل 2017

پاکستان میں وزیراعظم کی طرف سے اقلیتی عقیدہ کے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کے وعدہ کی اس سے زیادہ توہین اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایک ہفتہ کے دوران دو احمدی شہریوں کو نشانہ باندھ کر قتل کردیا گیا۔ حملہ کی ذمہ داری قبول کرنے والوں کا کہنا ہے کہ  یہ لوگ  احمدی عقائد کو پھیلاتے تھے، اس لئے انہیں مار دیا گیا ہے۔ یہ قتل  ملک میں اقلیتی عقائد رکھنے والوں کے خوف و ہراس میں اضافہ کریں گے اور یہ بات واضح ہو جائے گی کہ حکومت اپنے دعوؤں اور وعدوں اور فوج انتہا پسندوں کے خلاف شروع کئے گئے متعدد آپریشنز کے باوجود ان عناصر کا قلع قمع کرنے میں ناکام ہے جو ملک میں اقلیتی مذاہب کا جینا دوبھر کرنے کا قصد کئے ہوئے ہیں۔ دنیا کا کوئی مہذب ملک اس صورتحال کو قبول نہیں کر سکتا۔ اکثر معاشروں میں اقلیتوں کے بارے میں تعصبات کا اظہار ہوتا ہے اور ان کے عقائد یا رویوں کے بارے میں مباحث بھی سامنے آتے ہیں لیکن کوئی ملک کسی گروہ یا فرد کو قانون ہاتھ میں لینے اور اقلیتوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور ان کے خلاف تشدد استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 26 مارچ 2017

ایک بار پھر پوری قوم یوم قرار داد پاکستان منانے کی تیاری کررہی ہے۔ یہ دن اس روز کی یاد میں منایا جاتا ہے جب آج سے 77 برس قبل لاہور میں مسلم لیگ کی قیادت میں ایک قرار داد منظور کی گئی جو بالآخر قیام پاکستان پر منتج ہوئی۔ اس سوال پر تاریخ دان مباحث کرتے رہیں گے کہ کیا ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے علیحدہ ملک کے قیام کے لئے 23مارچ 1940 کو منظور کردہ قرار داد کے بعد جد و جہد کا آغاز ہؤا یا اس مطالبے کی بنیاد یہ قرار داد منظور ہونے سے بہت پہلے رکھ دی گئی تھی۔ اسی طرح یہ سوال بھی زیر بحث رہے گا کہ کیا پاکستان ایک اسلامی ریاست بنانے کے لئے معرض وجود میں آیا تھا اور اس صورت میں بانیان پاکستان کے ذہن میں نئی ریاست کا کیا خاکہ موجود تھا۔ یا ان کا مقصد ایک ایسی علیحدہ ریاست کا قیام تھا جہاں مسلمان ، ہندو اکثریت کے خوف سے آزاد ہوکر اپنی دینی اور ثقافتی سرگرمیوں پر عمل کرسکتے۔

مزید پڑھیں

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...