معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

مباحث (98)

  وقت اشاعت: 07 اپریل 2018

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ایک بار پھر دو ٹوک اور فیصلہ کن انداز میں کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کا نظام ہی چلے گا آئین اور دستورکی ہر قیمت پر پاسداری کی جائے گی آئین کے ایک ایک حرف کا تحفظ کیا جائے گا۔ آئین میں الیکشن کے التوا کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ عدالتی مارشل لاء یا فوجی مارشل لاء کی ہر گز توثیق نہیں کی جائے گی ، کچھ لوگ منصوبہ بندی کے تحت افواہیں اور بد گمانی پھیلا رہے ہیں۔ اب وہ وقت نہیں رہا کہ اپنے ماتھے پر غلاظت اور گندگی مل لیں۔ آئین کے مطابق الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے‘‘۔ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کے علاوہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی کم و بیش ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور قوم کو دو ٹوک انداز میں آئین اور جمہوریت کے تسلسل کی یقین دہانی کرواتے رہتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 اپریل 2018

ذوالفقار علی بھٹو کو دنیا سے گئے 39سال ہو گئے اور ان کی برسی کے بعد چالیسواں سال شروع ہو جائے گا۔ ذوالفقار علی بھٹو بھی مزاحمتی سیاست کی علامت تھے۔ یہ جدو جہد کا وہ استعارہ ہے جو کہ نظام کی سماجی اور معاشی نا انصافیوں کے خلاف بغاوت کا اعلان ہے۔ اس نظریاتی جدو جہد سے تعلق رکھنے والوں نے ہمیشہ ریاستی جبرو تشدد کا جرات کے ساتھ مقابلہ کیا اور کبھی اپنے نظریات سے انحراف نہیں کیا ہے اور نہ ہی کبھی ذاتی مفادات کی خاطر سمجھوتے کیے ہیں۔ اس کی مثال جنرل ضیاء الحق کا جبر و تشدد کا عہد ہے جس میں ہزاروں کارکنوں کو قید و بند کی صوبتوں کے ساتھ کوڑوں کی سزا برداشت کرنا پڑی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 مارچ 2018

23مارچ 1940کی اہمیت منٹو پارک لاہور میں منعقدہ مسلم لیگ کے اجتماع اور وہاں پر منظور شدہ متفقہ قرار داد لاہور سے ہے جس میں نئی ریاست کے خدو حال بیان کیے گئے تھے۔ جس کو بعد میں قرار داد پاکستان کا نام دینے کے علاوہ 23مارچ کو یوم پاکستان کا نام  دے دیا گیا۔  لیکن 23مارچ1931کی اہمیت اس حریت پسند انقلابی بھگت سنگھ کے حوالے سے بھی ہے جس کو برطانوی حکمرانوں نے ان کے ساتھیوں سکھ دیو تھاپر اور شیو رام گورو کے ساتھ پھانسی پر چڑھایا تھا۔  اور ان کی ارتھیوں کو دریائے راوی کے کنارے شمشان گھاٹ میں چپکے سے جلا دیا گیا۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 27 مارچ 2018

ہر معاشرے کا سماجی ڈھانچہ معیشت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس معاشی ہتھیار پر ہی ریاستی اور سیاسی نظام بنائے اور چلائے جاتے ہیں۔ جب معیشت ہی جواب دینے لگے تو سیاست اور ریاست  کے نیچے سے زمین سرکنے لگتی ہے۔ ایسے بحرانوں میں حکمران طبقات کے مختلف دھڑوں میں تصادم جنم لیتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں اور اداروں کے درمیان محاذ آرائی شروع ہو جاتی ہے۔ وہ عوام کی فلاح و بہبود کے بارے میں سوچنے کی بجائے الزامات کی سیاست شروع کر دیتے ہیں۔ اس وقت نواز لیگ اینٹی اسٹبلشمنٹ ہونے کا ڈھونگ کر رہی ہے۔ جبکہ تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور مذہبی جماعتیں بڑی سرکار کے پیرو کار اور تابع ہونے کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 مارچ 2018

ہمیں اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ مختلف ممالک میں سروے کرنے والی مالیاتی ایجنسوں کے ذریعے یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ملکی معیشت ترقی کر رہی ہے۔ مگر ہمارے حکمرانوں کے بقول چند قوتیں پاکستان کو معاشی طور پر پھلنے پھولنے میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ انہیں یہ امید ہے اگر چند سالوں میں پاکستان کی معیشت کا شمار دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں ہوگا۔ دوسری طرف اخبارات میں حکومت کی طرف سے عوام کے ادا کردہ  ٹیکسوں کی رقوم سے خوش کن اور خوبصورت اشتہارات شائع کیے جاتے ہیں جن میں کہیں پر سڑکوں، پلوں، فلائی اورز کا افتتاح،  بجلی کے کار خانوں کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہوتا ہے جبکہ سکولوں اور ہسپتالوں کی صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 18 مارچ 2018

شام میں7 سال سے جاری خانہ جنگی نے پورے ملک کو تباہ و بربا د کر کے رکھ دیا ہے۔ شام بیرونی طاقتوں اور علاقائی پراکسیوں کا میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے بقول مشرقی غوطہ زمین پر جہنم کا منظر پیش کر رہا ہے۔ اس شہر میں  93ہزا ر لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ میڈیا پر بمباری سے ہلاک ہونے والے اور زخمیوں اورلاشوں کو دیکھا جا سکتا ہے مغربی میڈیا اس ساری صورتحال کا ذمہ دار شامی حکومت اور روس کو ٹھہرا رہا ہے۔ روس نے براہ راست مداخلت کی تردید کی ہے۔ شامی حکومت کا کہنا ہے اس کا مقصد عوام کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ مشرقی غوطہ کو دہشت گردوں سے آزاد کرانا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 مارچ 2018

معاشی ، سیاسی اور سماجی ارتقاء میں ذرائع پیدا وار کا مرکزی کردار ہے ۔ مشینی ذرائع پیدا وار سے صنعتی عہد پیدا ہوا۔ معیشت کے تین اہم اجزاء ، پیدا وار، پیدوار کی تقسیم اور معیار زندگی ہیں۔ ان تمام عناصر کے فروغ کیلئے علم پر مبنی معیشت کا قیام نہایت ضروری ہے۔ دنیا میں آج وہی معاشرے ترقی یافتہ ہیں جن کی پیداوار جدید ٹیکنالوجی اور حجم زیادہ ہے۔ جدید عہد کی سب سے اہم قدر پیداوار ہے۔ سوال یہ ہے کہ پید وار میں کیسے اضافہ کیا جا سکتا ہے جن سے لوگوں کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 مارچ 2018

پاکستان میں ایسے تجزیہ کاروں، کالم نگاروں اور دانشوروں کی کمی نہیں ہے جو نواز شریف کی حالیہ محاذ آرائی کو جمہوریت کیلئے جدو جہد اور اینٹی سیٹبلشمنٹ بیانیہ قرار دیتے ہیں۔ گزشتہ روز بہاولپور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے اپنے آپ کو باغی قرار دیا۔  یاد رہے کچھ ماہ قبل وہ خود کو نظریاتی اور انقلابی قرار دے چکے ہیں۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا وہ کس کے خلاف بغاوت کرنے جا رہے ہیں اور اس کے مقاصد  کیا ہیں۔  وہ اور ان کے بھائی 35سال تک اس نظام میں شریک اقتدار  رہے ہیں اور ابھی تک ان کی حکومتیں صوبہ پنجاب، وفاق اور آزاد کشمیر میں موجود ہیں ۔ ان کو نظام میں ہونے والی نا انصافیوں کا اس وقت خیال آیا ہے جبکہ عدالت عالیہ کے فیصلے کی وجہ سے وزارت اعظمیٰ سے باہر کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 مارچ 2018

کامریڈ ساقی نے تمام عمر مظلوموں لاچاروں اور پسے ہوئے طبقات کیلئے سیاسی و سماجی حقوق کیلئے جدو جہد کی۔ اس کی زندگی بھرپور، سنسی خیز ، با مقصد اور قابل فخر تھی۔ جام ساقی کے ساتھ راقم الحروف کو 70کی دہائی میں کراچی اور حیدر آباد میں ملاقات کرنے کا موقع ملا تو مجھے کمیونسٹ پارٹی کے نظریات اور جدو جہد کے بارے میں فکری آگاہی حاصل ہوئی۔ اور میرے بائیں بازو کے نظریات میں مزید پختگی آئی ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 مارچ 2018

گزشتہ روز اخبارات میں چھپنے والی خبر کے مطابق پاکستانی ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ تقریبا ختم ہو چکا ہے اور دریاؤں میں پانی کا بہاؤ رک چکا ہے۔ جس کی وجوہات میں موسموں کی تبدیلی ، بارشوں کا وقت پر نہ ہونااور بھارت کی طرف سے دریاؤں کے پانی کا ذخیرہ اور بجلی کی تیاری کیلئے ہائیڈرل پارہاؤسز کی تعمیر ہو سکتا ہے ۔ جبکہ پاکستان کے قیام کے بعد ہم صرف منگلا اور تربیلا ڈیم ہی تعمیر کر سکے ہیں جو کہ اپنی طبعی مدت پوری کرنے کے بعد ریت اور مٹی بھر جانے سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...