مباحث (98)

  وقت اشاعت: 11 اگست 2017

وقت خوش نما ہوا کا جھونکا ہے ، وقت ظالم بھی ، وقت زخم بھی ہے اور مرہم بھی۔ وقت بادشاہ بھی بناتا ہے اورفقیر بھی ۔ وقت منصف بھی بنائے اور مجرم بھی ۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف پنجاب ہاؤس اسلام آباد سے لاہور کیلئے روانہ ہوئے تو مجھے نواز شریف کے  وہ الفاظ یاد آرہے تھے کہ  میں ان بھکاریوں کے کہنے پر استعفیٰ نہیں دوں گا۔ میرے سامنے میاں نواز شریف کی پنجاب ہاؤس سے روانگی کی تصویر ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور نوازشریف بغل گیر ہورہے ہیں۔  نواز شریف کے دائیں جانب وزیر خزانہ  اسحاق ڈار بھی موجود ہیں۔ مجھے اس تصویر میں نواز شریف بے حد بے بس اور مفلس دکھائی دئیے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 21 جولائی 2017

پاناما کیس کے دلائل ختم ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا جو کسی بھی وقت بجلی بن کر عوام یا حکمران خاندان پر گر سکتا ہے۔  شواہد تو یہ بتاتے ہیں کہ ملک میں نئی تاریخ بننے والی ہے۔ سپریم کورٹ کے دو قابل احترام جج تو پہلے ہی وزیر اعظم کے صادق اور امین ہونے پر بڑ ا سوالیہ نشان لگاچکے ہیں۔ باقی کسر واجد ضیاء کی قیاد ت میں کام کرنے والی جے آئی ٹی کی ٹیم نے نکال دی ، جنہوں نے ایسی ایسی نئے شواہد پاناما کیس میں شامل کئے۔ اس طرح عوام کو آگاہی ہوئی کہ ان کے ساتھ کیا کچھ ہوتا رہا ہے۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 16 جون 2017

پاناما تحقیقات نے ایک بات تو پوری طرح قوم پر عیاں کردی ہے کہ شریف برادران چاہے ، مکہ میں کھڑے ہو کر یا غار حرا اور غار ثور کی بلندی پر پہنچ کر یہ کہیں کہ ہم ایماندار، ہمارا دامن اور ہاتھ صاف ہیں ۔ ہم نے حق حکمرانی ادا کردیا پھر بھی ہمیں بے گناہ کہا جارہا ہے، تو بھی حالات بتاتے ہیں کہ  کہ ان باتوں کو بھی مذاق سے زیادہ کچھ نہیں سمجھا جائے گا۔  پاناما تحقیقات کے حوالے سے جمعرات کو جب وزیر اعظم میاں نواز شریف کی جوڈیشل اکیڈمی میں جے آئی ٹی کے سامنے پیشی ہوئی تو ان کے خاندان کے افراد اور درباری یہ قصیدے پڑھتے نہیں تھکتے تھے کہ وزیر اعظم نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر نئی تاریخ رقم کی ہے۔ ان احمقوں کو کون سمجھائے کہ چاپلوسی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ اس سے قبل بھی ملک کے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو ، یو سف رضا گیلانی ، راجہ پرویز اشرف بھی پیش ہوتے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 19 مئی 2017

یہ ظلم ہے ، زیادتی ہے میرے ملک سے میرے عوام سے ۔۔۔۔۔ اسے بند کرو ، اس کا سدباب کرو، ہم کیا اتنے گئے گزرے ہیں جو چاہے ہمیں اپنے ایئر رپورٹ پر روک لے، ہماری جامہ تلاشی کے بہانے ہماری عزتیں اچھالے، ہمیں دہشت گرد قوم کا طعنہ دے ، ہماری قوم کو دھوکہ باز، بے ایمان کہے۔ یہ ظلم ہے ، زیادتی ہے میرے ملک سے، میرے عوام سے ۔۔۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 22 اپریل 2017

دونوں طرف کا ہجوم اپنی اپنی ٹولیوں کے ساتھ خوشیاں منا تا ہوا ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالتا مٹھائیاں تقسیم کر رہا ہے ۔  درمیان میں ایک خوبرو نوجوان کبھی ایک ہجوم کی طرف دیکھتا اور کبھی حیرت سے دوسرے کو ۔  جب شور تھم چکا ، نعرے بازی بند ہوئی تو نوجوان نے دائیں جانب کے ہجوم سے پوچھا کہ کس بات پر جشن منایا جارہاہے۔ ہجوم نے کہا ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے ہمارے قائد کو نااہل ہونے سے بچا لیا۔ البتہ دو ججز کہتے ہیں کہ ہمارا قائد صادق اور امین نہیں ہے، جس کی ہم نے کوئی پروا نہیں۔ کیا کسی کے کہنے سے کوئی ایسا تو نہیں ہو جاتا۔ ویسے بھی یہ باتیں عزت والے کو پریشان کرتی ہیں ، ہمارے قائد کو نہیں۔ ہمیں تو خوشی ہے کہ قومی خزانہ لوٹ کر بھی ہمارے قائد کی کرسی نہیں چھینی گئی بس! اس بات کا جشن منا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 27 جنوری 2017

پانامہ ایشو پر ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے باہر حکومتی حواریوں کی جانب سے جس طرح کی زبان زد عام استعمال ہورہی ہے، اس سے صاف ظاہر ہے حکومت اور اس کے حامی بری طرح بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ انہیں یہ سمجھ ہی نہیں آرہا کہ کون سے لفظ کب بولنے ہیں۔  اپوزیشن کا کام ہی حکومت پر تنقید کرنا ہوتاہے۔ لیکن اگر حکومت کے نمائیندے بھی الفاظ کے چناؤ میں احتیاط کئے بغیر اپوزیشن پر کیچڑ اچھالنا شروع کردیں گے، تو وہ یہ نہ سمجھیں کہ اس کی چھینٹیں ان کے دامن پر نہیں پڑیں گی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 جنوری 2017

وہ پڑھا لکھا تھا ، محنتی تھا ، لیکن حالات کا ڈسا ہوا تھا ۔ وہ بچپن میں سہانے خواب دیکھا کرتا جس میں خود کو کسی سلطنت کا حکمران تصور کرتا۔ بچپن کی خیالی دنیا کے بارے میں وہ اکثر مجھے اپنی ملاقات کے دوران بتاتا۔ وہ کہتا کہ میں بچپن میں دیکھا کرتا تھا کہ میرے پاس بہت سا مال ومتاع ہے۔ میری شہرت کے چرچے نہ صرف پاکستان میں بلکہ بیرون ملک میں بھی ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 جنوری 2017

میں بیماری سے نڈھال بستر پر لیٹا تھا کہ وہ میرے کمرے میں داخل ہوا۔ اس کی سانس پھولی ہوئی تھی ، چہرے پر پریشانی کے تیور واضح تھے، ماتھا پسینے سے شرابور، گھبراہٹ سے اس کے منہ سے آواز بھی ٹھیک سے نہیں نکل رہی ہے ۔ وہ بات بات پر لڑکھڑ ا رہا ہے ، اس نے اچانک ماتھا پیٹنا شروع کردیا۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 25 2016

بچپن میں اکثر بزرگ ایک قوم کے قصے اور کہانیاں سنایا کرتے تھے۔  کہ اس قوم کے گرد نمک کی دیوار تعمیر کی گئی تھی، وہ  سارا دن اسے چاٹتے رہتے۔  حتیٰ کہ رات ہوجاتی ہے۔ اگلی صبح وہی نمک کی دیوار دوبارہ اصلی حالت میں موجود ہوتی ہے جسے سب لوگ  دوبارہ چاٹنا شروع کردیتے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 23 2016

آپ دل میں مجھے لاکھ برا بھلا کہیں لیکن میرے سخت مخالف ہونے کے باوجود آپ یہ  بات تسلیم کریں گے کہ ملک میں70سالوں میں مفاد پرست، لالچی ، اقربا پروری  دھونس و دھاندلی کرنے والوں کی حکومت رہی ہے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ 

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...