مباحث (98)

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

پاکستان کے قیام کے فوراً بعد ہی سے ایک متفقہ شناخت کو سوچے سمجھے طریقے سے پر اسراریت کا جامہ پہناکر مشکلات کو دعوت دی گئی۔ تمام کثیر القومیتی اور کثیر الثقافتی کمیونٹیوں، نیز رنگا رنگ ریاستی اکائیوں کے مابین یکجہتی پیدا کرنے کا کام سر انجام دینے کی کوششش کی گئی ہے جن سب سے مل کر پاکستان بنا ہے۔ اس دو قومی نظریے کے ذریعے جس نے تقسیم ہند سے قبل علیحدہ خطہ حاصل کرنے میں بنیاد ی کردار ادا کیا تھا، ریاستی آقاؤں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش بھی کی۔ ہمارے بانی راہنماؤں نے مستقبل کے اثرات و نتایج زیر غور لائے بغیر ہی گو ناں گوں مسائل کا جواب اس سادہ ترین حل میں تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 7 دن پہلے 

امریکی صد ر ٹرمپ نے اپنے اتحادی اور حامی عرب ممالک کی تنقید اور مخالفت کے باوجود یورو شلم کو اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کرنے اور وہاں پر مستقل امریکی سفارتخانہ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس نے اپنی انتخابی مہم کے دوران سفارتحانہ تل ابیب سے یورو شلم منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ کے بقول امریکی کانگریس نے 22سال پہلے 1995میں مکمل اتفاق رائے سے فیصلہ کیا تھا کہ تل ابیب سے دار الحکومت  منتقل کیا جائے گا۔ ہر امریکی صدر چھ ماہ بعد اس عمل کو موخر کرنے کیلئے آرڈر پر دستخط کرتا رہا ہے۔  ٹرمپ سے پہلے صدور اس منصوبہ کو  عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہے مگر ٹرمپ نے وعدہ پورا کر دیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 2017

پاکستان کی معیشت کے حوالے سے عالمی بینک کی طرف سے ششماہی رپورٹ پیش کی گئی ہے جس میں سماج کے معاشی کلیدی شعبوں کے حوالے تبصرہ کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق مختلف اداروں کی طرف سے حکومت کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ہے ، جس میں کچھ باتیں تضادات پر مبنی ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ کے ابھار کو سراہا ہے۔ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مسلسل ترقی کے نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے جبکہ اس کے برعکس ملک میں صنعت کاری کا عمل نہیں ہو رہا ہے اور نہ ہی نئی کمپنیاں قائم ہو رہی ہیں۔ مختلف ممالک کی ریٹنگ کرنے والے ادارے عالمی مالیاتی اداروں کی ہدایت کے مطابق عمل کرتے ہیں جس میں زیادہ تر فیصلے اُن ممالک کی سیاسی اقتصادی اور معاشی مفادات کے حوالے سے ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 28 2017

گزشتہ تین ہفتوں سے جاری اسلام آباد میں مذہبی جماعت کی طرف سے دھرنا وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے استعفیٰ کے بعد انجام کو پہنچا۔  حکومت اور مذہبی جماعت کے درمیان سمجھوتہ ہوا ہے جس کی معاونت ملک کے سب سے بڑے منظم ادارے نے کی۔ اس معاہدے کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کا تبصرہ  قابل غور ہے۔ ان تین ہفتوں کے دوران  میڈیا اور ارباب اختیار کی توجہ دھرنے کی طرف رہی۔ اس کو منتشر کرنے کی کوشش میں 7 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جس کے نتیجہ میں پورے ملک میں دھرنے شرو ع ہو گئے۔ مسلم لیگ (ن) کے راہنماؤں کی رہائش گاہوں پر حملے ہوئے۔ ان تمام مظاہروں کو صحت بخش کارروائی نہیں کہا جا سکتا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 27 2017

جمہوریت ہو مارشل لاء یا پھر کوئی اور طرز حکومت پاکستان میں کچھ وزارتیں ملکی اور غیر ملکی اداروں کے کنٹرول میں ہوتی ہیں۔ ایک ایسی بھی وزارت ہے جو کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے تابع ہوتی ہے۔ اس کا وزیر خواہ مقامی ہو یا درآمد شدہ  اس کا کام قرضوں اور امداد کے حصول کیلئے حکم بجا لانا ہوتا ہے۔ ہماری تاریخ میں یہ سچ ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے ہماری ریاست کو قرضوں کی ادائیگی کے ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے وزیر اعظم بھی بھیجے تھے، جن میں ایک غیر منتخب وزیر اعظم معین قریشی تھا۔ ایک شوکت عزیز تھا۔ جب کہ مالیاتی مشیر ہمیشہ کسی نہ کسی مالیاتی ادارے کے ملازم رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 23 2017

اس سال پانچ دسمبر کو پیپلز پارٹی کی قیادت نے پارٹی کے قیام کی گولڈن جوبلی منانے کا فیصلہ کیا ہے جس کی مرکزی تقریب اسلام آباد ٹریڈ گراؤنڈ میں ہوگی۔ ضلعی تنظیمیں 30نومبر کو مقامی سطح پر یوم تاسیس کے موقع پر سیمینار منعقد کریں گی۔ اگر پاکستان کی ستر برس کی سیاسی تنظیموں کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اس میں انسانی حقوق اور جمہوری نظام کے قیام کیلئے جدو جہد کرتی صرف پیپلزپارٹی ہی دکھائی دیتی ہے۔ جس کے کارکنوں نے ایوب سے ضیاء تک آمریت کے خاتمے اور انسانی معاشی حقوق پر مبنی نظام کیلئے جدو جہد میں جیلوں میں قید و بند کی صعبوبتیں برداشت کیں، کوڑے کھائے، پھانسیوں پر جھولے، خود سوزی کی جبکہ پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو کو وزارت اعلیٰ سے معزول کرکے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ شاہنواز اور مرتضیٰ بھٹو کو قتل کر دیا گیا۔ ملک کی دو مرتبہ منتخب ہونے والی خاتون وزیر اعظم کو دن دہاڑے جلسہ عام میں خطاب کے بعد لیاقت باغ راولپنڈی میں گولیوں کا نشانہ بنا دیا گیا۔ اس کے قتل کے ذمہ دار  وزیر اعظم خان لیاقت علی شہید کی طرح ابھی تک سر بستہ راز میں ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 21 2017

فاٹا اصلاحات اعلان کے بعد قبائلی علاقہ جات کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ جات جلد ہونے والے ہیں۔ اس حوالہ سے لائحہ عمل طے کرنے کیلئے طویل مشاورتی عمل اختیار کیا گیا تاکہ مستقبل میں پیدا ہونے والے ممکنہ چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے ۔ قبائلی علاقہ جات ویسے تو وفاق پاکستان کا حصہ ہیں مگر وہاں کے شہریوں کو پاکستان کے دیگر علاقوں میں بسنے والے لوگوں کے برابر شہری حقوق حاصل نہیں ہیں۔ انہیں ایف سی آر کے قانون کے تحت ڈیل کیا جاتا ہے۔ ہر ایجنسی میں حکومتی نمائندگی پولیٹیکل ایجنٹ کرتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 18 2017

میڈیا پر شائع ہونے والی معلومات کے مطابق گزشتہ تین سالوں میں280ارب روپے سے زائد کے قرضے معاف کیے گئے۔ 30سالوں میں سینکڑوں نجی کمپنیوں نے قرضے معاف کر وائے جنکی تعداد400کے لگ بھگ ہے۔ ان میں سے سب سے زیادہ قرضے 2015میں مسلم لیگ نون کی حکومت کے دوران معاف کئے گئے۔ 2013میں چھ ارب روپے، 2014میں 5 ارب روپے اور2015میں پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ مالیت کے280ارب روپے کے قرضے معاف کئے گئے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 17 2017

کسی اہم مسئلے کا حل تلاش کرنے کی بجائے اسے دبا دینا آسان ہوتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ آسان اس پر کمیشن بٹھا دو۔ یقین نہ آئے تو گزشتہ 70برسوں میں قائم ہونے والے تحقیقاتی اور اصلاحی کمشینوں کا حال دیکھ لیں۔ بیشتر کی رپورٹیں قومی مفادات کے نام پر بھی سرد خانے میں محفوظ ہیں۔ 1972میں حمود الرحمن کمیشن نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے ذمہ داروں کا تعین کیا تھا۔ بھارتی جریدے انڈیا ٹو ڈے نے 2000میں کمیشن کی رپورٹ شائع کر دی مگر حکومت پاکستان نے اس لیک رپورٹ کو آج تک نہیں مانا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 2017

روس میں سوشلسٹ انقلاب آئے ہوئے سو سال گزر چکے ہیں۔ اس صدی کے دوران سویت یونین دنیا کی سپر پاور بنا پھر اس کا پورا نظام اسلحہ سازی کی دوڑ اور پولٹ بیورو کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے اپنے بوجھ تلے منتشر ہو گیا جس میں اہم فیکٹر سویت یونین کی افغانستان میں آمد اور اس کے خلاف عالمی سرمایہ دار ممالک نے عرب اتحادیوں کے ساتھ سرمایہ پول کرکے جہادیوں کی مدد سے اس کو افغانستان سے نکلنے پر مجبور کیا۔ دوسرے کمیونسٹ پارٹی پر اجارہ داریوں نے سویت یونین کو نظریاتی اہداف سے دور کر دیا۔ روس کی معیشت اب سکڑ کر شائد اٹلی کے برابر ہو گئی ہے۔

مزید پڑھیں

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...