مباحث (94)

  وقت اشاعت: 30 ستمبر 2017

21 اگست کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کے بارے اپنی حکومت کی افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوِئے پاکستان کو شدید تنقید کا سامنا بنایا۔ اوراپنے مخصوص انداز میں اربوں روپے دینے کا طعنہ دیا۔ اس کے جواب میں پاکستان کے حکمرانوں اور شہری مڈل کلاس طبقے کی غیرت جاگی۔ فوری طور پر حکومت تو کچھ نہ بول پائی مگر متوسط طبقے کے سیاسی نمائندے عمران خان سی این این پر نمودار ہوئے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 25 ستمبر 2017

"آزادیِ اظہار سے مراد ہمیشہ ان کے اظہار کی آزادی ہے جو مختلف سوچ رکھتے ہیں۔ روزا لکسمبرگ"
24 اگست کو راولا کوٹ کی انتظامیہ نے روزنامہ مجادلہ کے دفتر کو یہ کہہ کر بند کر دیا کہ اخبار کے پاس اجازت نامہ (ڈیکلریشن) نہیں ہے۔ اخبار کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ڈیکلریشن کے لئے درخواست دے رکھی تھی اور قانون کے مطابق اس دوران وہ اخبار شائع کر سکتے تھے۔ اخبار کی بندش پر انتظامیہ، سیاسی کارکنوں اور آزاد کشمیر کے دانشوارانہ حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ ایک انتقامی کارروائی ہے جبکہ قانونی چارہ جوئی محض بہانہ ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 اگست 2017

" کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئ فوقیت نہیں، نہ ہی کسی کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر"، یہ تھے وہ الفاظ جو اسلام کی 23 سالہ تبلیغ، ترویج اور تربیت کا نچوڑ تھے۔ آفاقی مساوات کا یہ کلیہ اپنے پس منظر میں نہ صرف عرب و عجم کے درمیان صدیوں سے موجود تفاوت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ انسانوں کے درمیان ہمیشہ سے موجود نسلی اختلافات کو بھی عیاں کرتے ہوئے ان کو ختم کرنے کی سعی کرتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 18 اگست 2017

غربت ، کہ جس کو دنیا بھر میں تمام برائیوں کی ماں قرار دیا جاتا ہے۔ اسے ہمارے معاشرے کی اکثریت کسی نہ کسی بنیاد پر آزمائش سمجھتی ہے۔ اس کے برعکس مغربی یورپ، چین اور مشرق بعید  میں  غربت کو ایک چیلنج سمجھا۔ اسے مذہبی لبادہ اوڑھانے کی بجائے  وہاں ریاستیں غربت کو دیس نکالا دینے میں بڑی حد تک کامیاب ہو گئی ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 31 جولائی 2016

نوے کی دہائی میں بطور طالب علم جب میں پنجاب یونیورسٹی لاہور پہنچا تو دو کتابوں کا چرچا تھا۔ ہم جیسے بگڑے تگڑے راجہ انور کی ‘جھوٹے روپ کے درشن’ کا پرچار کرتے۔ یہ خوبصورت کتاب راجہ انور کے ان محبت ناموں پر مبنی ہے جو انہوں نے اپنے ایامِ طالب علمی میں اپنی محبوبہ کو لکھے تھے۔ لیکن ان خطوط نے پنجاب یونیورسٹی ہی نہیں انیس سو ستر کی دہائی میں طلبا کی سوچ اور سماجی رویوں کی بھی تجسیم کر دیا ہے۔ ستر کی دہائی والی پنجاب یونیورسٹی کا رومانوی نیو کیمپس، جس کا نقشہ راجہ انور نے کھینجا تھا، اْس گھٹن زدہ جامعہ پنجاب سے بہت مختلف تھا جس میں ہم جی رہے تھے۔ ‘جھوٹے روپ کے درشن’ پڑھتے تو احمد فراز کی نظم ‘ہم اپنے خواب کیوں بیچیں’ اور بھی اچھی لگتی۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ ‘جھوٹے روپ کے درشن’ کے مصنف اپنے ہی خوبصورت محبت ناموں سے منکر ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیں

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...