معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

مباحث (76)

  وقت اشاعت: 28 مارچ 2018

ارلی ٹو بیڈ اینڈ ارلی ٹو رائز۔۔۔ جیسے بے کار محارے اور جن میں دولت، صحت اور عقلمندی کی نوید بھی دی گئی ہو، کسی یورپین ہی کا بنایا ہوا ہو سکتا ہے۔ برطانوی ہوں یا دیگر  یورپین، بھلے ان کے مابین  آپس میں اختلافات ہوں۔  انہیں خود میں بہت کچھ مختلف لگتا ہو ہمیں تو  نہ صرف سب کے سب ایک جیسے دکھاتی دیتے ہیں بلکہ ایک جیسی ہی سوچ والے لگتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 24 مارچ 2018

دنیا میں ایک دن کی تفصیلی خبریں سن کر اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ دنیا کس سمت میں سفر کر رہی ہے۔ میں آج 20 مارچ 2018 کے ایک دن کی خبریں جو آپ میں سے بہت سے لوگوں نے سنیں ہوں گی مگر بہت ساروں نے شاید نہ سنی ہوں، اور بہت کم لوگوں نے اس پر غور کر نے کی زحمت کی ہو گی ۔۔۔ آپ کو سنانا چاہتا ہوں۔ فیک نیوز کے اس دور میں انسان خبریں تو سنتا ہے  مگر غور سے نہیں سنتا ہے اور اس سے لا تعلق ہی رہتا ہے۔ ایسی خبروں سے بالخصوص لا تعلق رہتا ہے جو بہت دور کہیں وقوع ہو رہی ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 27 فروری 2018

عربی زبان میں لا کے معنی ہوتے ہیں نہیں اور اسی لفظ کو انگریزی زبان میں بولیں تو یہ قانون کہلاتا ہے۔ انگریز جب اپنا قانون لے کر چلا گیا تو ہم نے عربی کی لا کو اپنا قانون بنالیا۔ اب ہمارے معاشرے میں انگریزی نہیں عربی لا چل رہا ہے ۔ پھر قانون کی عدم موجودگی کا شکوہ کیوں۔  لا ثانی، لایعنی، لا فانی، لا مکانی، اتنے لا کی موجودگی کے باوجود ہم کو گلہ روا نہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 فروری 2018

عاصمہ جیلانی جو بعد میں عاصمہ جہانگیر کہلائیں، کی زندگی جدوجہد اور ظلم و جبرکے مقابلہ میں بسر ہوئی۔  قانون دان کے طور پر اپنے پیشے اور اپنے اصولوں پر کبھی بھی سودے بازی نہ کر نے والی عاصمہ جہانگیر کی سوچ دراصل ہمارے جیسے کوتاہ ذہن کے لوگوں سے بہت آگے تھی۔ ایک قانون داں جس نے ہمیشہ قانون کی پاسداری کو اپنا شعار بنائے رکھا اور ایسے میں بغیر کسی مصلحت اور کسی لیت و لعل کے بے لاگ دو ٹوک سچ کو سامنے لانے کی کو شش کی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 11 فروری 2018

پاکستان میں عدالت کے ایک فیصلے کے خلاف مظاہرے میں دیگر تنظیموں کے علاوہ کئی ایک سیاسی تنظیم بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے۔ اس سیاسی پارٹی پر اکثر قیام پاکستان کی مخالفت کے الزامات کافی ٹھوس دلائل کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں۔ اس کا ملک کی عدالت  کے فیصلے کے خلاف نہ صرف آواز اٹھانا بلکہ عوام کو بھی اس بات پر اکسانا کہ وہ عدالتی فیصلے پر سر عام شک و شبہ ظاہر کریں، نہ جانے  اس سیاسی پار ٹی کے کون سے عزائم کی پیش بینی کرتا نظر آتا ہے۔  کیا وہ جس طرح قیام پاکستان  کی مخالفت کرتی رہی تھی، آج پاکستان میں مروجہ قوانین کو ماننے کی منکر ہے۔ اور ایسے مشکل وقت میں ملکی استحکام اور قانون کی بالادستی کا ساتھ دینے کی بجائے ملک کی شکست وریخت کا حصہ بننا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 جنوری 2018

ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے وہ کر دکھایا جو ٹرمپ باربار کہہ رہے تھے۔ کچھ ایسا سوچا جارہا تھا کہ ٹرمپ کا کیا ہے وہ تو ٹویٹ کرتے ہی رہتے ہیں۔ اور ان کے فوجی مشیر ان کی سب باتوں  اورخاص کر فوجی اسٹریٹیجک  فیصلے یوں، اچانک اور لاابالی پن سے انہیں کرنے نہیں دیں گے۔ اس سے امریکہ کا مفاد وابستہ ہے اور اسے بہت سوچنا ہوگا۔  وغیرہ وغیرہ مگر۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 2017

پاکستان کی حکومت اور حکومت سے مراد ایسے تمام ادارے ہیں جو بالواسطہ یا بلا واسطہ حکومتی فیصلوں اور خاص طور سے حکومت پاکستان کی پالیسی پر اثرات مرتب کرتے ہیں، پر تنقید کا یہ مطلب لیا جانا بالکل غلط ہوگا کہ تنقید نگار خدانخواستہ مملکت خدا داد کو دشمنی کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یا کسی بھی اور وجہ سے کسی سے تنقید کا حق چھیننا بھی دراصل پامالی حقوق کا ایک قابل مذمت طریقہ ہے۔ پاکستان کا موجودہ انسانی حقوق کا ریکارڈ نہایت خراب ہے۔ پاکستان میں لا قانونیت کا عالم یہ ہے دہشتگردوں کو تو چھوڑیں، قانون کے نفاذ کے ذمہ دار افراد خود بھی قانون کی پاسداری  ضروری نہیں سمجھتے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 2017

22 نومبر سے 26 نومبر تک کے چار روزہ ترکی کی سیر کرنے اور  اور وہاں اردو کے فروغ کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا جو دلچسپ اور اطمینان کا باعث رہا۔ برلن سے میں ترکش ائر ویز کے ذریعہ استنبول پہنچا اور اوسلو سے میرے دوست اور افسانہ نگار نگار فیصل نواز چوہدری بھی وہاں آگئے۔ استنبول سے کیسری ہوائی جہاز میں کیسی پہنچے۔  ہم ایک گھنٹہ دس منٹ میں کیسری شہر میں اترے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 19 2017

اس ملک میں کسی وزیر آعظم کو تختہ دار پر لٹکانا ہو یا اسے معزول کرکے گھر بھیجنا ہو تو ایسا کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔ لیکن کسی ایسے فرد کو جس کے خلاف ان گنت مقدمات ہوں، جسے قیدوبند کی سزا بھی ہو چکی ہو، کو اس کے مجرمانہ فعل سے باز رکھنا کسی کے بس کی بات نہیں- یہ بات آن دا ریکارڈ ہے کہ لال مسجد کے مولانا اور جنرل مشرف کی آپس میں ٹھنی اور نتیجے کے طور پر جنرل صاحب، خواہ ظاہری وجوہات کچھ بھی ہوں جلا وطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ مولانا صاحب اب بھی اپنے عالمانہ خطاب کے ذریعے طلباوطالبات کے تزکیہ نفس پر معمور ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 2017

میں اسی لیے مسجد جانے سے گریزاں ہوں کہ وہاں سارے قیدی سزا کاٹنے آتے ہیں۔۔۔۔ ضمیر کے قیدی اور اسلحہ چلانے والے۔۔۔۔ دونوں ہی۔ یوں بھی جب سے دھماکوں کا دور شروع ہوا ہے عدم تشدد پر یقین رکھنے والے مسجدوں سے دور ہوگئے ہیں۔ جب ماں باپ، بھائی و بہن اور دوست احباب سے دوری کوئی معنی نہ رکھے ، وطن سے دوری المیہ بن جائے تو مسجدوں سے بھی دوری آجاتی ہے۔

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...