مباحث (76)

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

پاکستان کی حکومت اور حکومت سے مراد ایسے تمام ادارے ہیں جو بالواسطہ یا بلا واسطہ حکومتی فیصلوں اور خاص طور سے حکومت پاکستان کی پالیسی پر اثرات مرتب کرتے ہیں، پر تنقید کا یہ مطلب لیا جانا بالکل غلط ہوگا کہ تنقید نگار خدانخواستہ مملکت خدا داد کو دشمنی کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یا کسی بھی اور وجہ سے کسی سے تنقید کا حق چھیننا بھی دراصل پامالی حقوق کا ایک قابل مذمت طریقہ ہے۔ پاکستان کا موجودہ انسانی حقوق کا ریکارڈ نہایت خراب ہے۔ پاکستان میں لا قانونیت کا عالم یہ ہے دہشتگردوں کو تو چھوڑیں، قانون کے نفاذ کے ذمہ دار افراد خود بھی قانون کی پاسداری  ضروری نہیں سمجھتے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 2017

22 نومبر سے 26 نومبر تک کے چار روزہ ترکی کی سیر کرنے اور  اور وہاں اردو کے فروغ کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا جو دلچسپ اور اطمینان کا باعث رہا۔ برلن سے میں ترکش ائر ویز کے ذریعہ استنبول پہنچا اور اوسلو سے میرے دوست اور افسانہ نگار نگار فیصل نواز چوہدری بھی وہاں آگئے۔ استنبول سے کیسری ہوائی جہاز میں کیسی پہنچے۔  ہم ایک گھنٹہ دس منٹ میں کیسری شہر میں اترے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 19 2017

اس ملک میں کسی وزیر آعظم کو تختہ دار پر لٹکانا ہو یا اسے معزول کرکے گھر بھیجنا ہو تو ایسا کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔ لیکن کسی ایسے فرد کو جس کے خلاف ان گنت مقدمات ہوں، جسے قیدوبند کی سزا بھی ہو چکی ہو، کو اس کے مجرمانہ فعل سے باز رکھنا کسی کے بس کی بات نہیں- یہ بات آن دا ریکارڈ ہے کہ لال مسجد کے مولانا اور جنرل مشرف کی آپس میں ٹھنی اور نتیجے کے طور پر جنرل صاحب، خواہ ظاہری وجوہات کچھ بھی ہوں جلا وطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ مولانا صاحب اب بھی اپنے عالمانہ خطاب کے ذریعے طلباوطالبات کے تزکیہ نفس پر معمور ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 2017

میں اسی لیے مسجد جانے سے گریزاں ہوں کہ وہاں سارے قیدی سزا کاٹنے آتے ہیں۔۔۔۔ ضمیر کے قیدی اور اسلحہ چلانے والے۔۔۔۔ دونوں ہی۔ یوں بھی جب سے دھماکوں کا دور شروع ہوا ہے عدم تشدد پر یقین رکھنے والے مسجدوں سے دور ہوگئے ہیں۔ جب ماں باپ، بھائی و بہن اور دوست احباب سے دوری کوئی معنی نہ رکھے ، وطن سے دوری المیہ بن جائے تو مسجدوں سے بھی دوری آجاتی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 2017

پاکستانی فوج کی جانب سے آج بیان آیا ہے اور ترجمان کے مطابق ’وردی پہننے والا کسی بھی مذہب کا ہو، وہ پاکستانی سپاہی ہوتا ہے‘۔ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ کوئی بھی جب فوج میں آتا ہے اور وردی پہنتا ہے تو وہ صرف پاکستان کا سپاہی ہوتا ہے، اس سے قطع نظر کے اس کا تعلق کس مذہب اور کس صوبے سے ہے۔ فوج کی جانب سے کم ہی ایسا کوئی بیان آیا ہوگا جس سے فوج کی جمہوریت پسندی اور عوام دوستی کی علامات ظاہر ہوتی ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ خدانخواستہ فوج کی وطن پرستی پر کسی شبہ کی گنجائش ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 25 ستمبر 2017

دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے۔ دنیا کے سیاسی اکھاڑے میں  سرعت سے دوست دشمن تبدیل ہوکر نئے گٹھ جوڑ تیار ہو رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ہرارے میں غیر جانب دار ملکوں کی کانفرنس میں ہندوستان دنیا کے کمزور ملکوں کی زبان ہوا کرتا تھا۔ مگرآج وہی ہندوستان امریکہ کی گود میں کھیل رہا ہے۔ اور پاکستان جو امریکہ کا سچا پکا حواری تھا۔ کسی نئے اتحاد کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ دنیا کو ہو کیا گیا ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں یہ سوال کرنا زیادہ درست ہے کہ دنیا کے باسیوں کو خوف کیا ہے۔ کیوں نہرو اور اندرا کی کانگریس کو ووٹ دینے والے ایک اقلیتی چھوٹی سی سیاسی پارٹی کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔ کہ سکیولر ہندوستان آج مذہبی انتہا پسندی کو سیاسی راستہ اور ترقی کا زینہ سمجھ کر آگے بڑھ رہا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 19 ستمبر 2017

تب ہماری زبان توتلی تھی اور درست طریقے سے مولوی بول ہی نہ سکتا تھا۔ اور اس کے بجائے مولی صاحب ہی بولتا تھا۔ اس وقت ہمیں یہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ مولی میم پر پیش کے ساتھ اور مولی میم پر زبر کے ساتھ میں کیا فرق ہے۔ البتہ کھانے کے اور پڑھانے کے اور  کے مابین فرق کا  ضرور علم تھا۔  بچپن میں جب مولی صاحب سے پڑھتا تھا تو امی نے کئی بار ڈانٹا۔  بیٹا مولی صاحب نہیں مولوی صاحب درست ہے۔ البتہ تب مولوی صاحب درست  بھی ہوا کرتے تھے۔ اب نہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 ستمبر 2017

تب قربانی کا مطلب سنت ابراہیمی کا ادا کرنا ہوتا تھا اور اسے اس کے شایان شان ادا کیا جاتا تھا، اسے حکم الہی کا بجا لانا جان کر۔ شکر گذاری کے ساتھ۔ یہ نہیں تھا کہ محلے میں سب سے صحت مند اور قیمتی جانور روز قربانی تک ہمارے گیٹ کے سامنے بندھا ہو۔ اور قربانی کے روز اور کئی دن تک خون  اور چھیچھڑے محلے کے سب سے بڑے جانور کے ذبح ہونے کی کہانی تو سنارہے ہوں۔  اور گوشت ہنٹر بیف کی تیاری کے مرکز کو بھجوا دیا گیا ہو۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 اگست 2017

پاکستان کی 70 ویں سالگرہ پر عالم یہ ہے کہ منتخب وزیر اعظم کی معزولی پر قوم کے جذبات ملے جلے ہیں۔  جن کی پہنچ فیس بک تک ہے ان کی آواز سنو تو لگتا ہے کہ یہ ایک مستحسن اقدام ہے مگر ایسے میں سڑک پر نکلے ان چاردنوں سے ہم رکاب ہجوم کو نظر انداز کرنا بھی درست نہیں۔ کیا ایک شخص پر فرد جرم عائد کر دینے سے احتساب کا عمل مکمل ہوگیا۔ کیا ستر سالہ تاریخی گناہوں کا کفارہ فرد واحد کی معزولی سے ادا ہو جائے گا۔ نہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 اگست 2017

کراچی کی چوڑی چکلی سڑکیں۔ شہری موٹر وے کی موجودگی میں ٹریفک کے اژدہام کو دیکھ کر آسانی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے اس عفریت کے جنم لینے میں کہیں نہ کہیں جینیاتی خرابی ۔۔۔۔ اس طرح سے وقوع پذیر ہوچکی ہے کہ اس کا سدھرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔۔۔۔۔۔ 

مزید پڑھیں

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...