مباحث (71)

  وقت اشاعت: 5 دن پہلے 

با خبر تو پہلے سے جانتے تھے لیکن ہم ایسے بے خبروں کو بھی حکومت کی پر اسرار پھرتیوں اور پے در پے اقدامات سے کچھ کچھ انداز ہ ہو رہا تھا کہ پس پردہ کچھ ہلچل سی ہے۔ اب بات کھلی تو تفصیلات بھی سامنے آگئیں کہ پاکستان کو عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ پر نظر رکھنے کے لئے قائم ادارے FATF کی طرف سے دوبارہ واچ لسٹ میں شام کئے جانے کے امکان کا سامنا ہے۔ سو حکومت نے چند ہفتے قبل قومی سلامتی کونسل کے ایک اعلیٰ سطحی میں کئی اقدامات کی منظوری دی جن کی روشنی میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے تنطیموں پر پاکستان نے بھی بالآخر پابندی لگا دی۔ نہ صرف یہ بلکہ ان تنظیموں کے دفاتر، اداروں اور دیگر سہو لیات کا کنٹرول بھی صوبائی حکومت نے سنبھال لیا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 فروری 2018

غالب کے ہم طرفدار بھی ہیں اور قدر دان بھی۔ گزرتے وقت کے ساتھ غالب کی بڑھتی ہوئی پسندیدگی اس امر کی غماض ہے کہ غالب کی شعر گوئی اور خیال آرائی میں کوئی تو ایسی بات ہے کہ وقت کی گرد نے بھی اسے لوگوں کے حافظے سے دھندلایا نہیں۔ اکثر اشعار ایسے حسبِ حال کہ یوں لگتا ہے کہ آج ہی کہے گئے ہیں لیکن کبھی کبھی لگتا ہے کہ کچھ اشعار زمانے سے یگانگت سے دور ہو گئے ہیں۔ مثلاٌ ہمارا ایک پسندیدہ شعر کچھ یوں ہے:
ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا
نہ کہیں جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 فروری 2018

زندگی کے معمولات میں سے اپنی اپنی پسند ڈھونڈنا اور اس سے حظ اٹھانے کا ملکہ بھی ایک طرح کی خوش نصیبی ہے۔ یوں تو محبوب کا ہرجائی ہو جانا کسی بھی چاہنے والے کے لئے قیامت سے کم نہیں لیکن پروین شاکر نے اس میں بھی ایک خوبی ڈھونڈ نکالی:
وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا
بس یہی بات اچھی ہے میرے ہرجائی کی

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 26 جنوری 2018

ڈرامے کی حد تک بات ہوتی تو مضائقہ نہ تھا لیکن یہ بات تو ہر دوسرے گھر کی کہانی بن کر ذہن سے چپک گئی ہے۔ اسّی اور نوے کی دِہائی میں بھی پی ٹی وی اپنے ڈرامے کی روایت میں عروج کی طرف گامزن رہا۔ ایک سے ایک عمدہ اور حقیقت پسند ڈرامے۔ لکھاری بھی ایک سے ایک اعلیٰ، لکھنے والوں کی ایک کہکشاں تھی، فاطمہ ثریا بجیا، حمید کاشمیری، حسینہ معین، قدسیہ بانو، اشفاق احمد اور ایسے ہی کئی نامور نام۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 19 جنوری 2018

گرمیِ بازارِ سیاست ہی کچھ اس قدر ہے کہ سیاست دانوں کی باتیں ہی ہر جگہ زیرِ بحث ہیں۔ عوامی تحریک کے سربراہ نے 17 جنوری کو ایک فیصلہ کن راؤنڈ کا اعلان کیا تو بات سے باتیں نکلتی گئیں۔ ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے والے اور ایک دوسرے کو دیکھنے کے روادار نہ ہونے والے دیکھتے ہی دیکھتے ایک نکتے پر جمع ہو گئے۔ لاہور کے جلسے کی ہوا کچھ ایسی باندھی گئی یا بندھ گئی کہ جیسے اس جلسے کے ساتھ ہی حکومت لرز جائے گی لیکن جلسے کے شرکاء کی تعداد اور اسٹیج پر ٓصف علی زرداری اور عمران خان کے علیحدہ علیحدہ آنے نے اس ہوا کا زور کچھ کمزور کر دیا۔ اب آنے والے دن بتائیں گے کہ یہ تحریک کیا رخ اختیار کرے گی اور سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 جنوری 2018

ہر سا ل کی طرح اس بار بھی سال کے آخری دن یار لوگوں نے پیغامات کی بھر مار کر دی۔ ابھی اس بھرمار سے فراغت نہ ملی تھی کہ آدھی رات سے ہی یار لوگوں نے نئے سال کے پیغامات کا سلسلہ شروع کر دیا۔ جانے کس برہمن نے کسی ایک سال کے اچھا ہونے کی نوید کیا دے دی اور کسی شاعر نے اسے شعر میں کیا باندھ دیا، اب یار لوگ ہر سال اس شعر کی تکرار کرتے ہیں:
دیکھئے پاتے ہیں عشّاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 2017

شاعری کی حد تک تو سنا تھا کہ دو ہی مرحلے مشکل ہوتے ہیں یعنی بقول مضطر خیر آبادی، اِک تِرے آنے سے پہلے اِک تِرے جانے کے بعد ، لیکن اس ہفتے ہم نے یہ مشاہدہ خود بھی کیا۔ پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے اس کی والدہ اور بیوی کو ملاقات کی اجازت دی۔ یہ ملاقات اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک غیر معمولی واقعہ تھی لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان نازک تعلقات کے پس منظر میں یہ ملاقات مزید اہمیت اختیار کر گئی۔ اس ملاقات سے قبل میڈیا پر ایک ہیجان پر برپا رہا۔ دونوں خواتین کی پاکستان آمد سے لے کر روانگی تک ایک ایک پل کی خبر اور رپورٹنگ میں مقابلے کی فضا رہی۔ ملاقات کے بعد ایک اور ہیجان شروع ہو گیا لیکن یہ ہیجان بھارتی میڈیا میں برپا ہوا جس کی کچھ کچھ گونج پاکستانی میڈیا میں بھی سنائی دی ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 22 2017

اللہ جانے یہ خود اذّیتی کا شوق ہے یا بد خبری کی تلاش کا چسکا لیکن دیکھا یہی ہے کہ منفی خبر روشنی کی رفتار سے پھیلتی ہے جبکہ اچھی خبر تقریباٌ پیدل سفر کرتی ہے ۔ ویسے تو میڈیا پر ایک سے بڑھ کر ایک سنسنی خیز سیاسی خبر کا قبضہ ہے لیکن ایسے میں معیشت کی اس خبر کی بھی سنی جاتی ہے جس سے کسی سیاسی جغادری کی مزید گوشمالی ہو سکے ۔ ایسی خبروں پر توجہ اکثر اصل خبر سے محبت کی وجہ سے نہیں بلکہ ممدوح سے بغض کی بنا  پر ہو جاتی ہے ورنہ ایک سے ایک رسیلی سیاسی خبروں کے جھرمٹ میں معیشت سے متعلق کسی خبر کا ہیڈ لائنز اور سرِ شام سجنے والے ٹاک شوز میں کیا کام۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 2017

ہونی کی دو ناگزیر خصوصیات ہیں، ایک یہ کہ جلد یا بدیر ہونی ہو کر رہتی ہے ، دوسرے یہ کہ ہونی عموماٌ اس وقت وارد ہوتی ہے جب اس کے ہونے کی تکلیف دوہری ہو تی ہے۔ پاکستان کی کرنسی روپیہ آج کل اسی ہونی کے گرداب میں ہے۔ گزشتہ ہفتے یک دم انٹر بینک مارکیٹ میں آغاز پر ہی اس کی قدر میں دھڑام سے کمی ہوئی، اس کے بعد گھبراہٹ کا ایک سلسلہ ایسا شروع ہوا جو کئی دن چلا۔ ایک تو یہ افتاد اچانک آئی، اس پر مستزاد بنکوں نے درآمد کنندگان کو کچھ اس قدر مزید گھبراہٹ میں مبتلا کیا کہ جیسے ڈالر نایاب ہونے کو ہے، جس بھاؤ ملے لے لو۔ چار دن کی ہڑبونگ کے بعد انٹر بنک مارکیٹ میں کچھ ٹھہراؤ آیا تو درآمد کنندگان کی جان میں جان آئی، اس کے ساتھ ہی تبصروں اور تجزیوں کا سلسلہ چل نکلا۔ ایسے ایسے تبصرے سننے اور پڑھنے کو ملے کہ اپنا لکھا پڑھا بھول گئے۔ اکثر نے ایک خالصتاٌ ٹیکنیکل مسئلے کو جس آسانی سے سیاسی تعصب میں ڈوبی تنقید کی سان پر چڑھایا وہ دیدنی تھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 2017

گزشتہ ہفتے بھی حسبِ معمول خبروں کا ریلا اپنے زوروں پر رہا۔ پشاور میں ایک بار پھر دہشت گردی کی واردات میں نو قیمتی جانیں گئیں اور 37 زخمی ہوئے۔ سیاسی درجہ ء حرارت اس قدر کھول رہا ہے کہ اِدھر اس واقعے میں خونِ ناحق کے دھبے دھلے اُدھر کارزارِ سیاست میں وہی ہنگامے پھر سے شروع ہو گئے ۔ پنجاب کے وزیرِ قانون کے استعفیٰ پر اصرار اپنے اگلے مرحلے کی طرف گامزن ہے۔ عدالت کے حکم پر ماڈل ٹاؤن کمیشن کی رپورٹ پبلک کر دی گئی ہے ۔ اب اس میں ہر فریق اپنے مطلب کا مطلب نکالنے پر مصر ہے۔

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...