مباحث (71)

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

ابھی کل ہی کی بات ہے لیکن زمانے میں تبدیلی کچھ ایسی برق رفتار رہی ہے کہ لگتا ہے زمانے بیت گئے۔ ہمارے ہاں کی فلم انڈسٹری جیتی جاگتی تھی، اردو پنجابی کی ڈھیروں فلمیں بنا کرتی تھیں۔ شہروں میں سنیما ہاؤسز کی اچھی خاصی تعداد ہوتی تھی۔ فلم بینی بڑے اور چھوٹے شہروں میں بیشتر لوگوں کی تفریح کا لازمی جزو تھی ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 2017

سیاست کی گاڑی کو ایک کے بعد ایک سپیڈ بریکر کا سامنا ہے۔ اب تازہ ترین سپید بریکر الیکشن کے لئے نئی حد بندیوں کاہے۔ مردم شماری کے ابتدائی نتائج آئے تو مختلف سیاسی حلقوں نے اپنی اپنی سیاسی مصلحت کے مطابق ان نتائج پر رد عمل دیا ۔ سب سے شدید رد عمل ایم کیو ایم کے فاروق ستار کا تھا کہ بقول ان کے کراچی شہر کی ڈیڑھ کروڑ کی آبادی دانستہ نہیں دکھائی گئی۔ ان کے مسلسل احتجاج کا تازہ ترین اظہار گزشتہ ہفتے ایک بھرپور جلسہ بھی تھا جس میں انہوں نے اس عمل پر مردم خوری کی پھبتی بھی کس دی۔ دیکھتے ہیں کہ اب پی ایس پی اور ایم کیو ایم کے اس نوزائیدہ ملاپ کے بعد کراچی کی مردم شماری پر متفقہ موقف کیا سامنے آتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 03 2017

آج کل ناظرین اور قارئین بڑی مشکل میں ہیں۔ خبروں کی اس قدر بہتات ہے کہ ایک کو مکمل سننے میں دو خبریں نکل جاتی ہیں۔ ایک خبر کا سرا ہاتھ آتا نہیں کہ دوسری خبر کے دھاگے بکھرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ملک میں خبریں کیا کم تھیں کہ اب لندن، ٹورانٹو اور دوبئی سے بھی خبروں کی مسلسل فیڈ آ رہی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 27 2017

نوے کی دِہائی کے اوائل میں پہلی بار چین جانے کا موقع ملا۔ اس سے قبل ہم مشرق بعید کے بیشتر ممالک کا بار بار سفر کر چکے تھے، کوریا، جاپان، ہانگ کانگ، تائیوان، سنگا پور۔ چین کے اس پہلے سفر میں دوران پرواز چین اور اس کے دارالحکومت بیجنگ کے بارے میں سوچا تو بار بار یہی گمان دل میں آیا کہ ائیرپورٹ کے اند ر اور باہر مسلح انقلابی گارڈز گھوم رہے ہوں گے، سڑکوں پر سائیکلوں کی بھیڑ ہو گی، ماؤ کیپ کے بغیر شاید ہی کوئی دیکھنے کو ملے، ائیرپورٹ بھی بھی واجبی سا اور سادہ سا ہوگا !

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 2017

کلفٹن کراچی کی ایک پر رونق شاپنگ مال کے فوڈ کورٹ میں ہم نے کاؤنٹر سے کھانے کی ٹرے پکڑی اور ایک خاموش کونے میں جا بیٹھے۔ گرم گرم سوپ کی چسکیاں لیتے ہوئے ہم نے کچھ دیر قبل خریدی کتاب کی ورق گردانی شروع کر دی۔ اسی دوران ساتھ والی میز پر تین نوجوان آکر بیٹھ گئے۔ تینوں گہرے دوست اور کاروباری رفیق لگ رہے تھے۔ بیٹھتے ہی انہوں نے اونچی اونچی آواز میں باتیں شروع کر دیں۔ تینوں کھانے اور آپس کی باتوں میں اتنے محو تھے کہ انہیں شاید اندازہ بھی نہ تھا کہ وہ خاصی اونچی آواز میں گفتگو کر رہے تھے۔ ان کی ایک ایک بات ہمیں سنائی دے رہی تھی۔ پہلے پہل تو قدرے بے زاری ہوئی لیکن ان کی باتوں کا موضوع ہی کچھ ایسا تھا کہ ہم نے کتاب کی ورق گردانی چھوڑ کر ان کی طرف کان لگا دیئے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 2017

دیکھا ، میری دائیں آنکھ کئی روز سے پھڑک رہی تھی، میں سمجھ گیا تھا کہ کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے۔ ہمارے ایک دیرینہ دوست ہر اہم واقع کے ظہور پر اپنی پیش بینی کی خدا داد صلاحیت جتلاتے ہوئے فخریہ اعلان کرتے۔ البتہ اتنی احتیاط ضرور کرتے کہ وہ سارا دارومدار ایک آنکھ پر نہ کرتے ، کبھی داہنی آنکھ کی پھڑک پر پیش بینی کا وزن ڈالتے اور کبھی بائیں پر۔ ہمیں وہ دیرینہ دوست یوں یاد آئے کہ اس بار ہمیں بھی کچھ کچھ اندازہ ہو گیا تھا کہ کچھ کچھ نہ ہوگا ضرور لیکن مروّتاٌ بھی دائیں یا بائیں آنکھ نے پھڑکنا گوارا نہ کیا۔ ورنہ ہم بھی دعویٰ کرتے کہ ہماری دائیں آنکھ تو کئی روز سے پھڑک پھڑک کر ہمیں خبردار کر رہی تھی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 2017

سنا ہے لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے نئے ماسٹر پلان کی وضاحت کے لئے کل ایک اوپن اجلاس ہو رہا ہے ۔ آپ اس میں شرکت کریں۔ اس میں انڈسٹریل زوننگ بھی زیر بحث آئے گی۔۔ ہمارے لئے جاننا ضروری ہے کہ اگلے پندرہ سالوں کے دوران ایل ڈی اے کی کیا پالیسیاں ہوں گی۔ ہمارے ایک سینئیر ساتھی نے فون پر ہمیں اطلاع دی۔ اگلے روز ساڑھے گیارہ بجے وقت مقررہ پر نیو مسلم ٹاون میں ایل ڈی اے کے آڈیٹوریم میں پہنچ گئے ۔ حیرت ہوئی کہ جمعہ کا دن ہونے کے باوجود ساڑھے گیارہ بجے کا وقت کیوں رکھا گیا کہ ڈیڑھ بجے تو جمعہ نماز کا وقت ہو جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 ستمبر 2017

چند سال قبل امریکہ کے شہر نیو یارک کا واقعہ ہے۔ مین ہیٹن کے نزدیک ایک گلی میں سے گزرتے ہوئے ہم نے پنجابی کے ٹھیٹھ الفاظ سنے۔ لہجہ اس قدر مقامی کہ جیسے جالندھر یا امرتسر کے بازار میں ہوں۔ ہم نے پلٹ کر دیکھا تو دیسی کھانوں کا ایک چھوٹا سا ریستوران تھا ۔ ایک عمر رسیدہ سردار اپنے کسی ساتھی سے اونچی آواز میں ہمکلام تھا۔ امریکہ کے شہر نیویارک میں پنجابی کا اس قدر ٹھیٹھ لہجہ سن کر ہمارے پاؤں رک گئے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 22 ستمبر 2017

صدر ٹرمپ کے ناقدین کی بھی کمی نہیں اور ان کے چاہنے والوں کی بھی کمی نہیں جنہوں نے ان کی صدارت کے آٹھ ماہ بعد بھی ان کی توصیف نہیں چھوڑی۔ موصوف کی ایک خوبی ان کے چاہنے والے یہ بتاتے ہیں کہ وہ لگی لپٹی رکھے بغیر کہہ دیتے ہیں اور دوسری خوبی یہ کہ ایک کاروباری ہونے کے ناطے اپنا نفع نقصان خوب سمجھتے ہیں۔ سو یہ دو خوبیاں امریکی صدر میں ہوتے ہوئے امریکہ کو ایک بار Great Again سے کون روک سکتا ہے۔ ان کی خواہش کے عین مطابق صدر ٹرمپ صدارت سنبھالنے کے بعد مسلسل دو کام دھڑلے سے کام کر رہے ہیں۔ تقریباٌ ہر ایک کو اور ہر معاملے پر لگی لپٹے رکھے بغیر کہہ دیتے ہیں۔ لگی لپٹی رکھے بغیر انہوں نے تازہ ترین گفتگو اقوام متحدہ میں کی اور وہ بھی یوں کہ سب ایک دوسرے سے سوالیہ نگاہوں سے پوچھ رہے ہیں کہ ۔۔۔ تم ہی کہو یہ اندازِ گفتگو کیا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 19 ستمبر 2017

“ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ کہ بدلے میں اگلے ملک سے کیا رعایت مانگیں۔ ہمارے پاس ٹیکسٹائلز ، چاول اور لیدر کے سوا اور کوئی قابل ذکر آئٹم ایکسپورٹ کے لئے ہے ہی نہیں۔ اس کے بعد گھوم پھر کے کینو ، آم اور دیگر فروٹ سبزیوں پر بات آ جاتی ہے۔ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے لئے دوسرے ملکوں سے مذاکرات کرتے ہوئے ہمارے پاس برآمدی اشیاء کی آپشنز نہ ہونے کے برابر ہیں۔“ یہ کامرس منسٹری کے ایک سینئر افسر تھے جو آسٹریلیا کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے لئے ابتدائی مذاکرات کرکے لوٹے تھے۔ یہ ڈھاکہ میں آج سے چھ سات سال قبل کی ایک کانفرنس کا ذکر ہے جس میں پاکستان ، بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش ممالک کے کامرس وزارتوں اور نجی شعبے کے نمائندے شریک تھے۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...