مباحث (71)

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

صدر ٹرمپ کے ناقدین کی بھی کمی نہیں اور ان کے چاہنے والوں کی بھی کمی نہیں جنہوں نے ان کی صدارت کے آٹھ ماہ بعد بھی ان کی توصیف نہیں چھوڑی۔ موصوف کی ایک خوبی ان کے چاہنے والے یہ بتاتے ہیں کہ وہ لگی لپٹی رکھے بغیر کہہ دیتے ہیں اور دوسری خوبی یہ کہ ایک کاروباری ہونے کے ناطے اپنا نفع نقصان خوب سمجھتے ہیں۔ سو یہ دو خوبیاں امریکی صدر میں ہوتے ہوئے امریکہ کو ایک بار Great Again سے کون روک سکتا ہے۔ ان کی خواہش کے عین مطابق صدر ٹرمپ صدارت سنبھالنے کے بعد مسلسل دو کام دھڑلے سے کام کر رہے ہیں۔ تقریباٌ ہر ایک کو اور ہر معاملے پر لگی لپٹے رکھے بغیر کہہ دیتے ہیں۔ لگی لپٹی رکھے بغیر انہوں نے تازہ ترین گفتگو اقوام متحدہ میں کی اور وہ بھی یوں کہ سب ایک دوسرے سے سوالیہ نگاہوں سے پوچھ رہے ہیں کہ ۔۔۔ تم ہی کہو یہ اندازِ گفتگو کیا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 7 دن پہلے 

“ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ کہ بدلے میں اگلے ملک سے کیا رعایت مانگیں۔ ہمارے پاس ٹیکسٹائلز ، چاول اور لیدر کے سوا اور کوئی قابل ذکر آئٹم ایکسپورٹ کے لئے ہے ہی نہیں۔ اس کے بعد گھوم پھر کے کینو ، آم اور دیگر فروٹ سبزیوں پر بات آ جاتی ہے۔ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے لئے دوسرے ملکوں سے مذاکرات کرتے ہوئے ہمارے پاس برآمدی اشیاء کی آپشنز نہ ہونے کے برابر ہیں۔“ یہ کامرس منسٹری کے ایک سینئر افسر تھے جو آسٹریلیا کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے لئے ابتدائی مذاکرات کرکے لوٹے تھے۔ یہ ڈھاکہ میں آج سے چھ سات سال قبل کی ایک کانفرنس کا ذکر ہے جس میں پاکستان ، بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش ممالک کے کامرس وزارتوں اور نجی شعبے کے نمائندے شریک تھے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 ستمبر 2017

ثبات اِک تغیّر کو ہے زمانے میں، محاورے کی حد تک اسے اسکول میں یاد تو کر لیا لیکن اس محاورے کی روح سمجھنے میں زمانے لگے۔ تبدیلی انسان کے خمیر میں ہے، انسان خوب سے خوب تر کی جستجو میں لگا رہتا ہے۔ کچھ اس جستجو کے اس قدر متمنی ہوتے ہیں کہ اس کے لئے ہلکان ہو جاتے ہیں لیکن کچھ ہم ایسے تن آسان ہوتے ہیں جو دوسروں کی جستجو سے ہی اپنا کام چلا لیتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 ستمبر 2017

عالمی میڈیا شمالی کوریا کے ہا ئیڈروجن بم اور میزائل تجربے ، ٹیکساس امریکہ میں تباہ کن سمندری طوفان اور مشرقِ وسطیٰ میں جذب ہونے کا باوجود ایک ابھرتے ہوئے انسانی المیے سے صرفِ نطر نہ کر سکا۔ روہنگیا کے مسلمانوں کی حالیہ دنوں میں میانمار فوج اور مقامی مذہبی پْر تشدد گروہوں کے ہاتھوں ظلم و ستم کی داستانیں ہی کچھ ایسی دلخراش ہیں کہ عالمی میڈیا اسے کوریج دیئے بغیر نہ رہ سکا۔ ایک جانب میانمار کی فوج کی باقاعدہ کارروائیاں جس میں گاؤں کے گاؤں جلا دئے گئے، صرف دو ہفتے میں چار سو افراد ہلاک کر دیئے گئے لیکن اس پر ستم بالائے ستم یہ کہ ان حالات میں فرار ہو کر آنے والوں کے لئے تمام پڑوسی ملکوں کی زمین تنگ، جائیں تو کہاں۔ فریاد کریں تو کس سے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 01 ستمبر 2017

ہمارے سیاسی اور غیر سیاسی معاملات میں اعداد و شمار کی حرمت کیا ہے۔ اس کا اندازہ ہر ہما شما کو خوب ہے۔ دس ہزار کا جلسہ ایک لاکھ کا بھی ہو سکتا ہے اور لاکھ کا جلسہ دس ہزار کا بھی۔ اس کا انحصار کہنے اور ماننے والے پر ہے۔ ہمدرد جماعت ہو تو ایک لاکھ، مخالف جماعت ہو تو دس ہزار بھی زیادہ ہیں۔ کچھ یہی حال شہروں کی آبادی اور دیہی شہری آبادی کے تناسب کے اندازوں کا بھی ہے۔ ہمارے ہاں مرکز میں ایک ادارہ ہے جو ملکی شماریات جمع کرتا ہے۔ افراطِ زر، امپورٹ ایکسپورٹ سمیت روزمرہ کے بہت سے شعبوں کے اعداد و شمار یہی شعبہ اکٹھے کرتا ہے جس کی بنیاد پر ملکی معیشت کی بہت سے اشاریے ترتیب پاتے ہیں اور پالیسی فیصلے ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 25 اگست 2017

کئی ماہ کے غور و غوض اور ڈیڈ لائن کی توسیع کے بعد بالآخر ڈو نالڈ ٹرمپ نے اپنی افغان پالیسی کا اعلان کر دیا۔ اس پالیسی سے قبل انہوں نے افغان جنگ پر مامور جنرلز کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ ان عسکری کمانڈرز کا کام مزید مشکل یوں ہو گیا کہ انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے اسے بے کار کی جنگ قرار دیا اور وعدہ کیا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد اس کا حصہ نہیں بنیں گے۔ وہ صدر بنے تو اپنے اس انتخابی وعدے سے بالآخر انہیں دستبردار ہونا پڑا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ صدارتی میز کے اس جانب بیٹھ کر دنیا یکسر مختلف نظر آتی ہے ، اس لئے وہی کرنا پڑا جو ان کے مشیروں اور عسکری صلاح کاروں نے سمجھایا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 22 اگست 2017

ٹی وی دیکھتے ہوئے بریکنگ نیوز پر نظر پڑی، سپین کے شہر بارسلونا کی مشہور سیاحتی رامبلا اسٹریٹ پر ایک گاڑی سیاحوں کے ہجوم پر چڑھ دوڑی۔ گزشتہ کچھ عرصے سے یورپ میں ایسے واقعات تواتر سے ہوئے اور خوفناک ثابت ہوئے، اسی لئے سنبھل کر دیکھنے بیٹھ گئے کہ یہ حادثہ تھا یا ایک سوچی سمجھی دہشت گردی ۔ تفصیلات سامنے آنا شروع ہوئیں تو اندازہ ہو گیا کہ یہ حادثہ نہ تھا بلکہ ایک دہشت گرد ی کا واقعہ تھا۔ اس واقعے میں تیرہ لوگ جان سے گئے اور 130 زخمی ہوئے۔ کچھ دیر بعد اسپین کے ایک دوسرے شہر میں پانچ اشخاص نے اسی انداز میں مجمع پر گاڑی چڑھانے کی کوشش کی۔ اس وقت تک سیکیورٹی الرٹ ہو چکی تھی ، فوری جوابی کاروائی میں پانچوں مارے گئے لیکن اس دوران ایک ہلاک اور چند زخمی ہو گئے۔ اس واقعہ کی گونج ابھی باقی تھی کہ فن لینڈ میں ایک شخص نے چاقو سے دو کو ہلاک اور آٹھ افراد کو زخمی کر دیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 11 اگست 2017

پاکستانی سیاست کے پاؤں میں مسلسل چکر ہے اور دل میں مستقل بے قراری۔ سفر میں ٹھہراؤ کی منزل آتی ہے نہ بے قراری کو قرار۔ کئی ماہ کی عدالتی کارروائی کے بعد جو فیصلہ آیا ، اس کے بعد ایک ٹھہراؤ اور قرار کی توقع تھی لیکن سیاسی حرکیات کا ایک نیا دائرہ شروع ہو گیا ہے ۔ نئے وزیراعظم اور کابینہ نے حلف اٹھایا تو کچھ احباب کو لگا کہ اب شاید کچھ روز سیاست سستانے کو ذرا دم لے لیکن میاں نواز شریف نے گھر واپسی کے لئے موٹر وے کی بجائے جی ٹی روڈ کے راستے کا انتخاب کیا تو یہ گمان بھی ہوا ہو گیا۔  جی ٹی روڈ کا عام سا سفر سیاسی قوت اور عوامی رابطے کی شکل اختیار کرگیا ۔ مخالفین برہم ہیں کہ یہ عدالتی فیصلے سے سرتابی ہے جبکہ حکومت اور مسلم لیگ ن کا اصرار ہے کہ گھر جانے کا کہا تھا، گھر ہی تو جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 اگست 2017

یہ  17  فروری 2001  کے جاتے ہوئے جاڑے کی   ایک  شام تھی۔  لاہور کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں ایک تقریب تھی۔   بظاہر تو  یہ تقریب ہر سال پاکستان  فیڈریشن آف چیمبرز کے زیرِ اہتمام ایکسپورٹ ٹرافی ایوارڈ کے نام سے عموماٌ کراچی میں منعقد ہوتی تھی لیکن اس بار لاہور میں ہو رہی تھی۔  لاہور میں انعقاد کی وجہ سے  کاروباری  اشرافیہ کی اس میں دلچسپی ایک  قدرتی امر تھا لیکن اس میں  ہر قیمت  پر شرکت کی اصل  وجہ اس کے مہمانِ خصوصی تھے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 اگست 2017

ہونی ہو چکی۔ نواز شریف سابق ہو چکے۔ خاقان عباسی نئے وزیر اعظم بن چکے۔ اندازوں اور امکانات کو بالآخر قرار آ گیا۔ موجودہ وزیراعظم عبوری وقت کے لئے چنے گئے۔ سیاست اور بدلتے موسموں میں چند ہفتے ہی بہت ہوتے ہیں۔ آنے والے دنوں کے تیور بتائیں گے کہ یہ عبوری فیصلہ عبوری ہی رہے گا ، یا  یہ مستقل قرار پائے گا۔ نیب کے ڈائریکٹرز نے عدالت کے حکم کے مطابق ریفرنسز کی تیاری شروع کردی ہے۔ ان ریفرنسز کی زد میں سابق وزیرخزانہ بھی آئیں گے جو حکومت کی معاشی ٹیم کے سرخیل ہیں۔ حدیبیہ پیپر ملز کا کیس دوبارہ اوپن ہونے کا امکان اگر حقیقت بنا تو تحقیقات کا دائرہ مزید پھیل سکتا ہے ۔ نیب کیسز پر فیصلوں کے بطن سے نئے سیاسی عدم استحکام کا اندیشہ بھی خارج از امکان نہیں۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...