مباحث (44)

  وقت اشاعت: 06 2017

لندن سے استنبول جاتے وقت ہم نے ارادہ کیا تھا کہ نہ ہم دن کی پرواہ کریں گے اور نہ ہی وقت کی قدرکریں گے۔ کیونکہ لندن کی مصروف ترین زندگی نے مجھے وقت اور دن کا ایسا پابند بنا دیا ہے کہ میں گھڑی اور تاریخ کا غلام بن کر رہ گیا ہوں۔ ویسے یہ بات بری بھی نہیں ہے کیونکہ اس کی وجہ سے میری زندگی میں نظم و ضبط پیدا ہوگیا ہے اور میں اپنی کامیابی کا سہرا وقت کی پابندی کو ہی دیتا ہوں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 2017

ہوٹل میں داخل ہوتے ہی ریسیپشن ڈیسک پر ایک اسمارٹ ترکی آدمی نے ہمارا استقبال کیا اور  ہمارے سفر کا حال دریافت کیا۔ ہم نے اسے انگریزی زبان میں کہا کہ ’ترکش ائیر لائینز کافی اچھی ہے اور ہمیں سفر کے دوران کسی بھی بات کی کوئی تکلیف نہیں ہوئی‘۔ اس کے بعد ہوٹل کے ایک اسٹاف ممبر نے میرا سامان اٹھا کر لفٹ کے ذریعہ میرے کمرے میں پہنچا دیا۔ کمرہ کافی بڑا تھا اور کمرے میں میز اور کرسی بھی موجود تھی۔ جس سے مجھے کمرے میں بیٹھ کر لکھنے پڑھنے میں آسانی ہوئی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 2017

لندن کی مصروف ترین زندگی سے تنگ آکر ہر انسان دنیا کی سیر یا ایسی جگہ جانا چاہتا ہے ۔ جہاں اسے کچھ پل کے لئے آرام اور سکون ملے۔ زیادہ تر انگریزوں میں دنیا کی کھوج اور سیر کرنے کی خواہش خوب پائی جاتی ہے۔  انگریزوں کے اسی شوق نے انہیں دنیا کہ بے شمار ملکوں کا حاکم بھی بنا دیا۔ انگریزوں کو دنیا کی سیر کرنے کے شوق کی ایک  وجہ یہ بھی ہے کہ برطانیہ میں پونڈ کا مضبوط ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے زیادہ تر لوگ امیر ہیں ۔ جس سے انہیں دنیا کے مختلف ممالک میں  گھومنے پھرنے کے لئے  کسی مالی دشواری کا سمان نہیں کرنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 2017

اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جب کوئی کسی کو پسند نہیں کرتا ہے یا اس کی ترقی سے اسے پریشانی ہوتی ہے تو ایسے لوگ خواہ مخواہ دوسرے انسان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتے ہیں۔ کبھی کبھی تو معاملہ اتنا سنگین ہوجاتا ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان سے اس قدر حسد کرتا ہے کہ وہ اس کی جان لینے کے لئے تمام حدود پار کر جاتا ہے۔ ایسے لوگ اپنی طاقت اور دولت کی گھمنڈ میں چور ایسی حرکت کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ تاہم ایسے لوگوں کا انجام بھی برا ہوتا ہے کیونکہ جب ان کی طاقت کمزور ہونے لگتی ہے تو وہ اپنے حرکتوں پر پچھتاوا کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 14 2017

1857 کی بغاوت کو اگر میں ہندوستان کی پہلی جنگِ آزادی کہوں تو اس سے آپ سبھی اتفاق کریں گے۔ دراصل انگریزوں نے اُن ہندوستانیوں کو غدّار کہہ کر مارڈالا جنہوں نے انگریزوں کا حُکم  ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ لہذٰا انگریز بڑی ہوشیاری سے ہندوستانیوں کی آزادی کی مانگ کو غدّاری کا نام دے کر اپنی مہم میں کامیاب ہوگئے اور ہندوستان پر قابض ہو گئے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 2017

آکسفورڈ اور کیمبرج دو ایسی یونیورسیٹیاں ہیں جن کا نام ذہن میں آتے ہی انسان یہی سوچتا ہے کہ یہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے طلباء ایک اعلیٰ اور ذہین لیاقت کے مالک ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے بھی نہیں ہے کیونکہ برسوں سے ان قدیم یونیورسیٹیوں سے تعلیم حاصل کرنے والے ہونہار طالب علموں نے اپنے اپنے شعبے میں نام روشن کرکے اس بات کو ثابت کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان یونیورسیٹیوں نے اب تک اپنے تعلیمی معیار کو برقرار رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے اب بھی ان یونیورسیٹیوں میں داخلہ لینا آسان نہیں ہو تا۔ اس کے علاوہ دونوں یونیورسیٹیوں کی عمارتیں اور اس کے فیکلٹی کو دیکھنے کے لئے ہر سال ہزاروں لوگ دنیا بھر سے آتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 01 2017

آزادی انسان کا بنیادی حق ہے۔ انسانی حقوق کی بنیاد بھی اسی بات پر ہے کہ ہر انسان کو اسے اپنے طور پر جینے کا حق اور آزادی ملنی چاہئے۔ انصاف ، وقار اور احترام کے ساتھ ہر کسی کے ساتھ مساوات کرنا ہی انسانی حقوق ہے۔ تبھی ایک انسان کو اپنی آزادی کا احساس ہوتا ہے۔ لیکن کئی بار ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ ان تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر انسان کو اس کی آزادی سے محروم کردیا جاتا ہے۔ اُس وقت احساس ہوتا ہے کہ انسان یا تو بے بس ہے یا ان فرسودہ اصولوں سے انجان ہے۔ جو شاید اپنی آزادی کا حق جانتے ہوئے بھی خونخوار اور بے رحم سیاستدانوں کے ہاتھوں یا توبے رحمی سے مارے جاتے ہیں یا ان پر غدّاری کا الزام لگا کر انہیں بنا قصور قید کر دیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 23 2017

پچھلے کچھ دنوں سے پوری دنیا میں ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کی ناکام اقتصادی پالیسی اور ان کی پارٹی کی جارحانہ رویّے کے بارے میں مختلف صحافیوں نے اپنے اپنے طور پر مضامین اور کالم لکھے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں نے نریندر مودی کی پالیسی کو ایک زوال پزیر پالیسی بتاتے ہوئے اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا کہ شاید آنے والے عام چناؤ میں نریندر مودی اور ان کی پارٹی بی جے پی کو منہ کی کھانی پڑے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 18 2017

17اکتوبر کو دنیا کے بیشتر ممالک میں’ سر سید ڈے‘ دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو سر سید احمد خان کی پیدائش 17اکتوبر 1817  کو ہوئی تھی اور دوسراسر سید احمد خان نے دنیا کی معروف یونیورسٹی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعمیر کراوئی تھی۔ دنیا بھر میں بسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق طا لب علم اپنے اپنے شہر میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی الومنی یا اولڈ بوائز یا تنظیم اور انجمن کے نام سے ادارے قائم کر رکھے ہیں۔ جس کے بینر تلے وہ ہر سال سر سید کی پیدائش کے موقع پر ’سر سید ڈے‘ منا کر ان کو خراج  عقیدت پیش کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 2017

جب کسی انسان کی جان جاتی ہے یا اس کو مارا جاتا ہے تو دنیا کے ہر انسان کو اس بات پر شدید دُکھ پہنچتا ہے۔ دراصل موت ایک ایسی تلخ سچّائی ہے جسے ہم سب کو ایک دن چکھنا ہے۔ لیکن جب موت ایسی صورت میں ہو جب ایک انسان دوسرے انسان کو بنا کسی مقصد اور وجہ کے مار ڈالے تو اس وقت دنیا کا ہر امن پسند آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ آخر کیوں اس انسان کی جان لے لی گئی۔ شاید اس سوال کا جواب نہ تو ہمارے پاس ہوتا ہے اور نہ ہی مارنے والے کے پاس کیونکہ نہ مرنے والا اس وقت یہ جان پاتا ہے کہ کیوں اس کی جان لے لی گئی اور نہ ہی مارنے والا اپنی مقصد کی وضاحت کر پاتا ہے۔

مزید پڑھیں

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...