معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

مباحث (42)

  وقت اشاعت: 31 مارچ 2018

انیسویں صدی کے جرمن فلسفی شوپنہار کی ایک عجیب عادت تھی۔ وہ عام طور پر انگریزی طعام خانوں میں کھانا کھاتا تھا۔ اس دوران وہ جیب سے سونے کا ایک سکہ نکال کر میز پر رکھ لیتا تھا۔ کھانا کھانے کے بعد یہ سکہ اٹھا کر واپس اپنی جیب میں رکھ لیتا۔ ایک روز کسی دوست نے پوچھ لیا کہ ہر روز یہ سکہ میز پر رکھنے اور پھر اسے واپس اٹھانے کی وجہ کیا ہے؟

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 24 مارچ 2018

کورے کاغذ پر اردو حروف لکھتے ربع صدی گزر چکی۔ خواہی اس کو خامہ فرسائی کہو، خواہی اسے اشک افشانی گردانو۔ ہنر کوئی بھی ہو، نومشقی کی منزل سے گزرنے کے بعد اعتماد بڑھتا ہے۔ اور کچھ خوش قسمت ایسے بھی نکل آتے ہیں جنہیں اسلوب کی پختگی نصیب ہوتی ہے۔ درویش بے نشاں کے لئے لکھنے کا تجربہ یہ رہا کہ نوآموزی کے دن بہت پہلے گزر چکے لیکن جب جب قلم اٹھایا ایک ناشدنی خیال ہمیشہ ستاتا رہا کہ لکھنے کا جو موقع نصیب ہوا ہے، شاید آئندہ کل تک مور کے انڈے برابر یہ جگہ بھی جاتی رہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 22 مارچ 2018

صدیق سالک نے ”میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا“ میں مدوجزر کی شہر آشوب تعریف کرتے ہوئے لکھا۔ ”مد عوامی لیگ کا اور جزر پاکستان کا “۔ اب عوامی لیگ رہی نہ مشرقی پاکستان ، مگر مدوجزر ہمارے ساتھ ہے۔ قومی اہمیت کے ایام پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ مذہبی تہواروں کی چھٹیاں پھیلتی جا رہی ہیں۔ 14اگست کو یوم آزادی منانے کی روایت بھی اس لیے بچ گئی کہ ضیاالحق نے مخصوص سیاسی ضرورت کے لیے اس موقع پر جشن کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 مارچ 2018

برادر محترم کے قلم سے ایک اور معجزہ سرزد ہوا ہے۔ ساڑھے تین صدیوں کی تاریخ کو ایک سوال میں سمو دیا ہے۔ پوچھتے ہیں کہ آخر برصغیر میں داراشکوہ مسلسل کیوں ہار رہا ہے۔ تاریخ کا یہ بنیادی سوال اٹھانے کے لیے مارچ 2018 سے بہتر کوئی موقع نہیں ہو سکتا تھا۔ داراشکوہ کا استعارہ سمجھنے کے لیے کچھ تفصیل دینا مناسب ہو گا۔ 1657 میں مغل شہنشاہ شاہ جہان علیل ہو گیا۔ بادشاہت کی روایت کے عین مطابق تخت نشینی کے لیے لڑائی شروع ہو گئی، اصل مقابلہ اورنگزیب عالمگیر اور داراشکوہ میں تھا۔ داراشکوہ کے رویے انسان دوست تھے۔ علم و فضل میں دخل رکھتا تھا۔ خلق خدا سے محبت کرنے والوں کا ارادت مند تھا۔ مذہبی عقائد میں روادار تھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 17 مارچ 2018

اقوام متحدہ کا ایک ذیلی ادارہ ہر برس مختلف ممالک میں لوگوں کی خوشیوں کی درجہ بندی کرتا ہے، اسے ورلڈ ہیپی نس رپورٹ کہتے ہیں۔ 2012 میں جب یہ رپورٹ آئی تو پاکستان کے لوگ غالباً بہت ناخوش تھے۔ یا تو لوڈ شیڈنگ زیادہ ہو رہی تھی یا وہ حسین حقانی کی ملک دشمنی پر نالاں تھے۔ اس رپورٹ پر درویش بے نشاں نے ایک کالم لکھا تھا، ’ہم اداس کیوں ہیں؟‘

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 مارچ 2018

سینیٹ میں چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین کا انتخاب آن پہنچا۔ سیاسی صف بندیاں واضح ہو رہی ہیں۔ آج کچھ بات پاکستان پیپلز پارٹی کی ہو جائے۔ کھوج لگائی جائے کہ پیا رنگ میلا کیوں ہوا؟ وہ چولا جو شہیدوں کی نسبت سے بسنتی کہلاتا تھا، وہ جھنڈا جسے لشکر کا علم سمجھا جاتا تھا، کوچہ و بازار میں دھجی دھجی کیوں ہو رہا ہے؟ یہ ایک گھمبیر سوال ہے لیکن آپ کی اجازت سے آج اپنی پہلی محبت کا بھی کچھ ذکر کروں گا۔ ہمارے ملک میں صحافیوں پر مہریں لگانے کا رواج ہے۔ جیسے اچھے وقتوں میں محکمہ صحت کے اہلکار قصاب خانے میں لٹکتی راسوں پہ نیلی مہر لگایا کرتے تھے۔ صحافت کے بازار میں اب کسی صحافی پر لفافہ خور کی مہر لگائی جاتی ہے تو کسی کو حوالدار کا خطاب دیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 مارچ 2018

ابن انشا مرحوم چھوٹے جملے میں بنوٹ کھیلتے تھے۔ ایک دفعہ لکھا، سیالکوٹ میں کھیلوں کا سامان اور شاعر اچھے بنتے ہیں۔ حضرت کا اشارہ اقبال اور فیض کی طرف تھا۔ ابن انشا کی طرز میں نثر لکھنا جسارت نہیں، مہم جوئی ہے۔ مہم جوئی ہمارا قومی شعار ہے۔ دلدل میں اترنا ہو، کھائی میں چھلانگ لگانا ہو، منجدھار میں غوطہ زنی کرنا ہو، ملک کا آئین توڑنا ہو، خود ملک توڑنا ہو، ہم باطل سے ڈرنے والے نہیں۔ آنکھیں بند کر کے نعرہ مستانہ بلند کرتے ہیں اور پھر چراغوں میں روشنی نہیں رہتی۔ ابن انشا کے اتباع میں صرف یہ کہنا تھا کہ پاکستان میں دفاعی تجزیہ کار اور کالم نگار اچھے بنتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 مارچ 2018

لاہور میں ادب کا میلہ لگا۔ اہل لاہور کو دو روز تک شائستہ موضوعات پر اہل نظر کی گفتگو سے استفادے کا موقع ملا۔ ایک سنجیدہ تمدنی سرگرمی کے طور پر ادب کی بحالی میں یہ ادبی میلے ایک اہم روایت کی صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ کچھ حلقوں میں اس نوع کا گلہ سننے میں آ رہا ہے کہ ان ادبی میلوں میں انگریزی زبان میں لکھنے والوں ادیبوں اور ان کی تخلیقات کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے ۔ خاکسار کی رائے میں یہ تاثر اس وجہ سے ہے کہ ہم پاکستان کے بدلتے ہوئے علمی اور تخلیقی منظر سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 27 فروری 2018

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سترہ فروری کو جرمنی تشریف لے گئے جہاں انہوں نے میونخ سیکورٹی کانفرنس میں ایک نہایت اہم تقریر کی۔ انہوں نے پاکستان میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کی تاریخ پر بات کرتے ہوئے 1979کے برس کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ سال تھا جب ہم نے پاکستان کو کمیونزم کے خلاف لڑائی میں جھونکا، جہاد کے مقدس تصور کا استحصال کیا اور ہمارے ملک میں فرقہ واریت کی جڑی بوٹیاں نمودار ہوئیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 24 فروری 2018

برادر عزیز حامد میر نے ماہ رواں کے پہلے ہفتے میں ایک دلچسپ کالم لکھا۔ 1947کی کشمیر لڑائی پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایک مزے کا نکتہ نکالا کہ اگر قبائلی لشکر کے راہنما خورشید انور عین لڑائی کے دوران پشاور کی ایک خاتون سے عقد نہ فرماتے اور اس رشتے کے بشری تقاضے پورے کرنے کے لیے مہینہ بھر غائب نہ رہتے تو پاکستان نے پورا کشمیر حاصل کر لیا ہوتا۔ حامد میر کی تحقیق میں شک کرنا کفر ہے۔ تاریخ کی تفہیم کے اس ڈھنگ پر البتہ انگشت نمائی کی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...