مباحث (42)

  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

مسلم لیگ نے متحدہ ہندوستان میں یہ نظریہ پیش کیا کہ ہندوستان میں ایک نہیں بلکہ دو قومیں بستی ہیں۔ اس سوال کو فی الوقت ایک طرف رکھ دینا چاہئے کہ ہندوستان میں صرف ہندو اور مسلم دو قومیں کیوں تھیں؟ ہندوستاں میں بسنے والے مسیحی، پارسی اور سکھ قوم کا درجہ کیوں نہیں رکھتے تھے؟ ہمارا مقدمہ یہ ہے کہ مسلم لیگ نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ہندوستان میں دو قومیں بستی ہیں۔ چنانچہ آزاد ہندوستان میں دو ریاستیں بننی چاہئییں۔ طویل آئینی بحران کے نتیجے میں مسلم لیگ کا یہ موقف تسلیم کر لیا گیا۔ پاکستان اور ہندوستان وجود میں آگئے۔ یہ دونوں قومیں گزشتہ 70 برس سے موجود ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 فروری 2018

عاصمہ جہانگیر کے دل میں سب انسانوں کے لئے بہت درد تھا۔ یہ دل مظلوم عورتوں کے مصائب پر تڑپ اٹھتا تھا۔ تیرہ برس کی اندھی صفیہ بی بی کے مقدمے میں حدود قوانین کی چیرہ دستیوں کو بے نقاب کرنے والا مقدمہ عاصمہ جہانگیر نے لڑا تھا۔ لاہور کے ایک مقتدر مذہبی گھرانے کی بچی اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتی تھی، عاصمہ جہانگیر نے یہ مقدمہ بھی لڑا۔ بالآخر عدالت نے تسلیم کیا کہ بالغ لڑکی اپنی مرضی سے شادی کا حق رکھتی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 فروری 2018

سپریم کورٹ میں ان دنوں انتخابی اصطلاحات ایکٹ میں ترمیم پر آئینی درخواستیں زیر سماعت ہے۔ بدھ کے روز ان درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے محترم چیف جسٹس ثاقب نثار نے چند اہم ریمارکس دیے۔ سماعت کے دوران دیے جانے والے ریمارکس فیصلہ نہیں ہوتے اور نہ انہیں قانون کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ ایسے ریمارکس سے زیر سماعت مقدمے کی کارروائی کا رخ جاننے میں مدد ملتی ہے اور بڑی حد تک یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ منصف صاحبان کا ذہن کس نہج پر کام کر رہا ہے۔ یہ عالی دماغ کن سوالات کی گتھی سلجھانا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 فروری 2018

عطاالحق قاسمی صاحب کو گلی کوچوں میں ظلم کے بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر شکوہ تھا۔ انہوں نے عدل کو صاحب اولاد ہونے کی دعا دی تھی۔ قاسمی صاحب کی آدھی دعا قبول ہو گئی ہے۔ عدل کے شجر پر برگ و بار نکل آئے ہیں۔ عدل اخبارات کی شہ سرخیوں میں ہے۔ عدل ٹیلی ویژن کی اسکرین پر جگمگا رہا ہے۔ عدل تقریر کر رہا ہے۔ عدل تبصرہ کر رہا ہے۔ عدل شعر سنا رہا ہے۔ عدل مقبول عام فکشن کے حوالے دے رہا ہے۔ عدل ہسپتالوں کے معاملات دیکھ رہا ہے۔ عدل پانی کی آلودگی پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ عدل بلیک لا ڈکشنری کھولے بیٹھا ہے۔ عدل جمہوریت کے خلاف کسی منصوبے کا حصہ نہیں۔ عدل پارلیمنٹ کو سپریم قرار دیتا ہے۔ عدل کو گود بھرائی مبارک۔ عدل دودھوں نہائے، پوتوں پھلے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 جنوری 2018

زاہد ڈار کی ایک پرانی نظم کا ٹکڑا ہے…. جب بارش برسی، لوگ بہت ہی روئے / ہم مندر میں جا سوئے۔ منو بھائی کو یاد کرتے ہوئے مجھے یہ مصرع یاد آیا۔ جنگل کی اداسی لکھنے والا جنگل سے چلا گیا ہے اور جنگل مزید اداس ہو گیا ہے۔ صحافت کی پیشہ ورانہ حدود میں رہتے ہوئے ایک شہری کی آواز بلند کرنا، پڑھنے والوں کو جینے کا ڈھنگ سکھانا، ناانصافی کی بلا کم و کاست نشاندہی کرنا ۔۔۔ یہ تھے ہمارے منو بھائی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 17 جنوری 2018

پچھلے دنوں کچھ عجیب سی کیفیت ہوئی۔ احمد مشتاق کے بھولے بھٹکے شعر، آدھے پورے مصرعے، حتی کہ پوری پوری غزلیں حافظے میں امڈتی رہیں۔ احمد مشتاق کا شعر یاد آنا ایسے ہی ہے جیسے دور دیس جا کر آباد ہونے والا مضافاتی قصبے میں اپنا آبائی مکان دیکھنے جائے، وہاں کھڑکیاں کواڑ کھلے ملیں، آشنا چہرے نظر نہ آئیں، اور جو زندہ ہوں، ان کی پہچان مشکل ہو۔ نسیم تیر سی سینے کے پار گزرے ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 جنوری 2018

قصور میں ایک سات سالہ بچی کے ساتھ خوف ناک سانحے کے بعد پورے ملک میں طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ ردعمل کی نفسیات اپنے زوروں پر ہے۔ چوہدری شجاعت حسین فرماتے ہیں کہ مجرم کو ضیاالحق کے زمانے کی طرح سرعام پھانسی دی جائے۔ عائشہ گلالئی صاحبہ عمران خان کے ’بے حیائی کلچر‘ کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہیں۔ بلاول بھٹو قصور واقعہ کو پنجاب حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہیں۔  گویا سندھ حکومت نے ہندو بچیوں کا زبردستی مذہب تبدیل کرنے کی مہم پر قابو پانے میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 جنوری 2018

کوئی پانچ برس پہلے عطا الحق قاسمی صاحب نے بہار چند روزہ سے فائدہ اٹھا کر پاک ٹی ہاؤس کی بحالی اور تعمیر نو کا منصوبہ مکمل کروا لیا تھا۔ کئی برس تک سائیکلوں اور ٹائروں کی دکانوں کے بیچ میں پاک ٹی ہاؤس کا بند اور شکستہ کواڑ دیکھ کے وہی کیفیت پیدا ہوتی تھی جو لاہور میں انار کلی کے مقبرے اور ہیرا منڈی سے گزرتے ہوئے پیدا ہوتی ہے…. نے چراغے، نے گلے۔ حالیہ برسوں میں ایک آدھ مرتبہ پاک ٹی ہاؤس جانا ہوا۔ وہی نقشہ ہے، ولے اس قدر آباد نہیں…. سچ تو یہ ہے کہ یہاں کا نقشہ بھی بدل گیا اور یہاں کی آبادی نے تو خیر شہر خموشاں آباد کر دیئے۔ میر تقی میر یاد آ گئے…. کیا رہا ہے مشاعرے میں اب / لوگ کچھ جمع آن ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 جنوری 2018

بالاخر وہ خبر آن پہنچی جس کا خطرہ ایک مدت سے منڈلا رہا تھا۔ امریکہ نے پاکستان کی فوجی امداد روک لی ہے۔ اس پابندی کا مالی حجم تو ابھی حتمی طور پہ معلوم نہیں ہو سکتا لیکن سچ یہ ہے کہ اصل خسارہ مالی نہیں۔ حقیقی اندیشہ یہ ہے کہ اس دھچکے سے لڑھک کر ہم کہیں تاریخی بہاؤ کی غلط سمت پر نہ جا پہنچیں۔ چند ہفتے قبل اسلام آباد کے فیض آباد چوک میں دھرنا دیا گیا تو بہت سی آوازیں سنائی دیں کہ حکومت کیا دو ہزار مظاہرین پہ قابو پانے کی صلاحیت بھی کھو بیٹھی ہے۔ حقیقت یہ تھی کہ فیض آباد دھرنے میں شامل دو ہزار افراد کی پشت پر ایک طوفانی دھمکی موجود تھی۔ اصل چیلنج اس آسیب سے پنجہ آزمائی کا تھا جو خادم رضوی اور اس کے ساتھیوں کی صورت میں اسلام آباد پہنچا تھا۔ بالکل اسی طرح معاملہ پچیس کروڑ ڈالر کا نہیں۔ مالی بندش سے تو محض گردو غبار کی ایک دیوار اٹھائی جا رہی ہے جس کی آڑ میں ایک منہ زور لشکر ہماری طرف بڑھ رہا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 جنوری 2018

2018 کا پہلا دن ہے۔ نئے سال کی مبارک باد کے لین دین سے اب تک شاید آپ بھی اکتا چکے ہوں۔ مجھے نئے سال کی مبارک باد دینے سے معذور سمجھا جائے۔ مجھے تو یہ برس غالب خستہ حال کے دروازے پہ لگی پاڑ جیسا وحشت ناک معلوم ہوتا ہے۔ ہوا کے دباؤ میں کمی بیشی، مقامی موسمی حالات اور عالمی صورت حال کے باعث پرواز ناہموار ہونے کے خدشات بہت زیادہ ہیں۔

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...