مباحث (37)

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

آوازیں ختم ہورہی ہیں۔ وہ توانا آوازیں کہ جوجینے کا حوصلہ دیتی تھیں وہ آوازیں جوسناٹا ختم کرتی تھیں ۔ ایسی ہی ایک آواز عاصمہ جہانگیرکی تھی ۔ ایک ایسی آواز جومظلوموں کے حقوق کے لئے بلند ہوتی تھی ۔ایک ایسی آواز کہ جو جھوٹے الزامات میں گرفتارہونے والے لاوارثوں کو یقین دلاتی تھی کہ ان کابھی کوئی وارث ہے۔ ایک ایسی آوازکہ جوآمروں کو خوفزدہ کردیتی تھی ۔ ایک ایسی آواز جوواقعی آوازتھی، وہ ایک نڈر اور بہادر خاتون تھیں ۔ ایک ایسی خاتون کہ جسے ”مردآہن“ کہا جاتا تھا ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 22 جنوری 2018

چیف جسٹس آف پاکستان محترم جسٹس ثاقب نثار نے ہفتہ کے روز ایک تقریر کے دوران یہ کہہ دیا تھا کہ تقریر کی طوالت عورت کی سکرٹ کی طرح ہونی چاہیے جونہ تواتنی لمبی ہو کہ لوگ اس میں دلچسپی کھودیں اورنہ ہی اتنی مختصرہوکہ موضوع کا احاطہ نہ کرسکے۔ خدا معلوم چیف جسٹس آف پاکستان کے اس بیان پرسوشل میڈیاپرشورشرابہ کیوں ہوگیا اورانہیں تنقید کانشانہ کیوں بنایاجارہاہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 11 جنوری 2018

قصور میں ننھی زینب کے ساتھ رونماہونے والا المناک سانحہ اورپھراسے بے دردی کے ساتھ قتل کرکے لاش کا کوڑے کے ڈھیر پرپھینک دیاجانا ایک ایسااندوہناک واقعہ ہے کہ جس کے بارے میں بات کرنے کے لئے بہت حوصلہ چاہیے اور بہت ہمت چاہیے۔ لیکن اس معاشرے میں پے درپے رونما ہونے والے ایسے شرمناک واقعات نے ہمیں بہت ساحوصلہ بھی دیدیا ہے اورہم میں ظلم سہنے کی ہمت بھی بہت پیداہوچکی ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 جنوری 2018

ایک ایسے معاشرے میں جہاں ہم صدیوں کی روایات کے امین ہوں اور جہاں بنیاد پرستی پر فخرکیا جاتا ہو اور جہاں ہمارے ماہ و سال ایک ہی ڈھب سے گزر رہے ہوں ۔ جہاں نئے اور پرانے کی تمیز مٹ چکی ہو اپنے اور بیگانے کا فرق ختم ہوچکا ہو۔ دیوانے اور فرزانے کو ایک ہی صف میں کھڑا کیا جاتا ہو اور جہاں یہ بحث ہر سال شدو مد سے جاری رہے کہ سال عیسوی کے آغاز پر مبارکباد دینا جائز ہے یا ہجری سال کے ماتمی مہینے میں سال نو کا جشن منانا عین ثواب ہے۔ اس ماحول میں ہم دوہزار اٹھارہ کے آغاز پر آپ کو مبارکباد دینے کی جرات تو نہیں کرسکتے ہاں البتہ دوہزار سترہ کا ماتم بہت خشوع وخضوع کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 2017

کوئی ایک ماہ سے دھرنے کا کھیل جاری تھا ۔ ہم اس دوران خاموش رہے ۔ اور اس لئے خاموش رہے کہ یہ عقائد کا معاملہ تھا ۔ پھر ایک ناکام آپریشن ہوا ہم خاموشی سے سب کچھ دیکھتے رہے ۔ آپریشن کی ناکامی کے بعد ایک کامیاب اور ” بے مثال “ معاہدہ ہوا ، قانون شکنی کے مرتکب افراد کو تھانوں سے نکال کر انہیں لفافے دیئے گئے ۔ اس عمل کی وڈیو بھی بنائی گئی ۔ ہمیں ” لفافہ دھرنا “ کی اصطلاح تو سوجھی مگر ہم پھر بھی چپ رہے کہ جب لفافے والی صحافت بھی اب مضبوط بنیادوں پر استوار ہو چکی اور اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں کرتا تو لفافہ دھرنے کا ویڈیو کے ذریعے باضابطہ اعلان کرنا بھی کوئی بری بات نہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 28 2017

جیری ڈگلس ایک سیماب صفت انسان تھا،ایک بے چین روح تھی ،ایک بے قرارشخص جو اچانک کبھی نمودارہوتا،ہم سے ملتا ہمارے ساتھ باتیں کرتا اور پھرجلد واپس آنے کا کہہ کر اچانک طویل عرصے کیلئے لاپتہ ہوجاتا۔ وہ ایک خوشبو تھی جس کی مہک ہماری روح کو سرشارکرتی تھی ۔وہ ایک راگ تھا جس کے زیروبم میں ہمارا جیون دھڑکتاتھا اور وہ ایک دھڑکن تھی جوہمیں زندگی کااحساس دلاتی تھی۔ ایک گلوکار جس کی آواز کانوں میں رس گھولتی تھی اور جوہمیں جیون کے گیت سناتا تھا ۔ موت ہم سے ہمیشہ زندگی چھینتی ہے لیکن موت کا سب سے کاری وار وہ ہو تا ہے جب وہ ہم سے زندگی کاگیت بھی چھین لے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 16 2017

پاکستان کی 70 سالہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ ہم نے یہاں ہر پل محاصرے کی کیفیت میں گزارا۔ کبھی سوِل و ملٹری بیورو کریسی نے ہمیں محاصرے میں لیا، تو کبھی خود سیاستدان بھی محاصرہ کرنے والوں کے ساتھ شامل ہو گئے۔ کہیں جاگیر دار اور صنعت کار عوام کا محاصرہ کرتے دکھائی دیئے تو کبھی ایسا مرحلہ آیا کہ انصاف کے نام پر عدلیہ نے ہمارا محاصرہ کر لیا۔ آج کل ہم پھر محاصرے میں ہیں اور دہشت گردوں کو عسکریت پسندوں اور شدت پسندوں کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 11 2017

آج 18 برس بعد بھی معاملات کم وبیش اسی نہج پر آ چکے ہیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان کشیدگی گزشتہ کئی روز سے ابھر کرسامنے آ چکی ہے۔ تنازع کی بنیادی وجوہات کم وبیش وہی دکھائی دے رہی ہیں جو 1999 میں تھیں۔ اُس وقت کارگل کا تنازعہ رفتہ رفتہ منتخب حکومت کے خاتمے پر منتج ہوا تھا۔ اب بھارت کے ساتھ کشیدگی کے ساتھ ساتھ دیگر معاملات ہی اختلاف کی بنیاد ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 2017

کتنے دکھ کی بات ہے کہ کل صبح سابق وزیراعظم نوازشریف احتساب عدالت میں پیش ہوئے تو وہاں موجود رینجرز اہلکاروں نے نوازشریف کے ساتھ آنے والے متعدد وزراء کو کمرہ عدالت میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اوراس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ جن وزراء کو عدالت میں داخلے سے روکا گیا ان میں خود وفاقی وزیرداخلہ بھی شامل تھے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 30 ستمبر 2017

یزید کی زود و پشیمانی:
بعض روایات میں آتا ہے کہ شروع میں یزید امام حسین کے قتل پر راضی تھا ، اور جب ان کا سر مبارک لایا گیا اُس نے خوشی کا اظہار بھی کیا  لیکن اس کے بعد جب یزید کی بدنامی سارے عالم اسلام میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور تمام دُنیا کے مسلمان اسے اپنا مبغوض تریں شخص سمجھنے لگے تو وہ اپنے کیے پر بہت نادم ہوا، اور کہنے لگا کہ: ’’اے کاش! میں تکلیفیں اُٹھا لیتا اور امام حسین کو اپنے ساتھ اپنے گھر میں رکھتا اور ان کو اختیار دے دیتا کہ وہ جو چاہیں کریں، اگرچہ میرے اس اقتدار کو نقصان ہی کیوں نہ پہنچتا، اس لئے کہ رسول اللہ کا، ان کا اور ان کی قرابت کا یہی حق تھا۔ اللہ تعالیٰ ابن مرجانہ پر لعنت کرے! اُس نے ان کو مجبور کرکے قتل کردیا، حالاں کہ اُنہوں نے یہ کہا تھا کہ: ’’مجھے یزید کے پاس جانے دو، یا کسی سرحدی مقام پر پہنچادو!۔‘‘ مگر اِس نالائق نے قبول نہ کیا اور ان کو قتل کرکے ساری دُنیا کے مسلمانوں میں مجھے مبغوض کردیا، اِن کے دلوں میں میری عداوت کا بیج بودیا کہ ہر نیک و بد مجھ سے بغض رکھنے لگا، اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ابن مرجانہ پر!۔‘‘

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...