مباحث (37)

  وقت اشاعت: 28 2017

جیری ڈگلس ایک سیماب صفت انسان تھا،ایک بے چین روح تھی ،ایک بے قرارشخص جو اچانک کبھی نمودارہوتا،ہم سے ملتا ہمارے ساتھ باتیں کرتا اور پھرجلد واپس آنے کا کہہ کر اچانک طویل عرصے کیلئے لاپتہ ہوجاتا۔ وہ ایک خوشبو تھی جس کی مہک ہماری روح کو سرشارکرتی تھی ۔وہ ایک راگ تھا جس کے زیروبم میں ہمارا جیون دھڑکتاتھا اور وہ ایک دھڑکن تھی جوہمیں زندگی کااحساس دلاتی تھی۔ ایک گلوکار جس کی آواز کانوں میں رس گھولتی تھی اور جوہمیں جیون کے گیت سناتا تھا ۔ موت ہم سے ہمیشہ زندگی چھینتی ہے لیکن موت کا سب سے کاری وار وہ ہو تا ہے جب وہ ہم سے زندگی کاگیت بھی چھین لے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 16 2017

پاکستان کی 70 سالہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ ہم نے یہاں ہر پل محاصرے کی کیفیت میں گزارا۔ کبھی سوِل و ملٹری بیورو کریسی نے ہمیں محاصرے میں لیا، تو کبھی خود سیاستدان بھی محاصرہ کرنے والوں کے ساتھ شامل ہو گئے۔ کہیں جاگیر دار اور صنعت کار عوام کا محاصرہ کرتے دکھائی دیئے تو کبھی ایسا مرحلہ آیا کہ انصاف کے نام پر عدلیہ نے ہمارا محاصرہ کر لیا۔ آج کل ہم پھر محاصرے میں ہیں اور دہشت گردوں کو عسکریت پسندوں اور شدت پسندوں کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 11 2017

آج 18 برس بعد بھی معاملات کم وبیش اسی نہج پر آ چکے ہیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان کشیدگی گزشتہ کئی روز سے ابھر کرسامنے آ چکی ہے۔ تنازع کی بنیادی وجوہات کم وبیش وہی دکھائی دے رہی ہیں جو 1999 میں تھیں۔ اُس وقت کارگل کا تنازعہ رفتہ رفتہ منتخب حکومت کے خاتمے پر منتج ہوا تھا۔ اب بھارت کے ساتھ کشیدگی کے ساتھ ساتھ دیگر معاملات ہی اختلاف کی بنیاد ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 2017

کتنے دکھ کی بات ہے کہ کل صبح سابق وزیراعظم نوازشریف احتساب عدالت میں پیش ہوئے تو وہاں موجود رینجرز اہلکاروں نے نوازشریف کے ساتھ آنے والے متعدد وزراء کو کمرہ عدالت میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اوراس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ جن وزراء کو عدالت میں داخلے سے روکا گیا ان میں خود وفاقی وزیرداخلہ بھی شامل تھے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 30 ستمبر 2017

یزید کی زود و پشیمانی:
بعض روایات میں آتا ہے کہ شروع میں یزید امام حسین کے قتل پر راضی تھا ، اور جب ان کا سر مبارک لایا گیا اُس نے خوشی کا اظہار بھی کیا  لیکن اس کے بعد جب یزید کی بدنامی سارے عالم اسلام میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور تمام دُنیا کے مسلمان اسے اپنا مبغوض تریں شخص سمجھنے لگے تو وہ اپنے کیے پر بہت نادم ہوا، اور کہنے لگا کہ: ’’اے کاش! میں تکلیفیں اُٹھا لیتا اور امام حسین کو اپنے ساتھ اپنے گھر میں رکھتا اور ان کو اختیار دے دیتا کہ وہ جو چاہیں کریں، اگرچہ میرے اس اقتدار کو نقصان ہی کیوں نہ پہنچتا، اس لئے کہ رسول اللہ کا، ان کا اور ان کی قرابت کا یہی حق تھا۔ اللہ تعالیٰ ابن مرجانہ پر لعنت کرے! اُس نے ان کو مجبور کرکے قتل کردیا، حالاں کہ اُنہوں نے یہ کہا تھا کہ: ’’مجھے یزید کے پاس جانے دو، یا کسی سرحدی مقام پر پہنچادو!۔‘‘ مگر اِس نالائق نے قبول نہ کیا اور ان کو قتل کرکے ساری دُنیا کے مسلمانوں میں مجھے مبغوض کردیا، اِن کے دلوں میں میری عداوت کا بیج بودیا کہ ہر نیک و بد مجھ سے بغض رکھنے لگا، اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ابن مرجانہ پر!۔‘‘

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 ستمبر 2017

دشمن کی فوج سے تن تنہا مقابلہ:
اب امام حسین تقریباً تن تنہا اور بے یار و مددگار رہ گئے تھے، لیکن ان کی طرف بڑھنے کی کسی کو ہمت نہیں ہورہی تھی ، کافی دیر تک یہی کیفت رہی کہ جو شخص بھی آپ کی طرف بڑھتا اسی طرح واپس لوٹ جاتا اور کوئی بھی آپ کے قتل کا گناہ اپنے سر لینا نہیں چاہتا تھا ، یہاں تک کہ قبیلہ کندہ کا ایک شقی القلب شخص مالک بن نسیر آگے بڑھا اور اس نے امام حسین کے سر مبارک پر حملہ کردیا ، جس سے آپ شدید زخمی ہوگئے ۔ اس وقت آپ نے اپنے چھوٹے صاحب زادے عبد اللہ بن حسین کو اپنے پاس بلایا اور ابھی اپنی گود میں بٹھایا ہی تھاکہ بنو اسد کے ایک بد نصیب شخص نے ان پر ایک تیر چلایا جس سے وہ بھی شہید ہوگئے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 28 ستمبر 2017

تین شرطیں:
ملاقات میں امام حسین نے عمر بن سعد کے سامنے تین شرطیں رکھیں : ’’ایک یہ کہ میں جہاں سے آیا ہوں وہیں واپس چلا جاؤں۔ دوسری یہ کہ میں یزید کے پاس چلا جاؤں اور خود اس سے اپنا معاملہ طے کرلوں ۔ تیسری یہ کہ مجھے مسلمانوں کی کسی سرحد پر پہنچادو ، وہ لوگ جس حال میں ہوں گے میں بھی اسی حال میں رہ لوں گا۔‘‘ عمر بن سعد نے امام حسین صکی یہ تینوں باتیں سن کر ابن زیاد کی طرف دوبارہ ایک خط لکھا کہ: ’’ اللہ تعالیٰ نے جنگ کی آگ بجھادی اور مسلمانوں کا کلمہ متفق کردیا ۔ مجھ سے امام حسین صنے ان (مذکورہ) تین باتوں کا اختیار مانگا ہے جن سے آپ کا مقصد پورا ہوجاتا ہے اور امت کی اسی میں صلاح و فلاح ہے۔‘‘

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 27 ستمبر 2017

ضروری تمہید:
تاریخ عالم کا ورق ورق انسان کے لئے عبرتوں کا مرقع ہے ۔ بالخصوص تاریخ کے بعض واقعات تو انسان کے ہر شعبہ زندگی کے لئے ایسے عبرت ناک ہیں کہ جن سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا ۔ انہیں واقعات میں سے ایک واقعہ ٗ میدانِ کربلا میں حضرت امام حسینص کی مظلومانہ شہادت کابھی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو وجود بخشا ہے اس وقت سے لے کر آج تک اور شاید قیامت تک کوئی ایسا واقعہ رُونما نہ ہوکہ جس پر خود تاریخ کو بھی رونا آگیا ہو ، لیکن امام حسینص کی شہادت کا واقعہ ایسا درد ناک اور اندوہ ناک واقعہ ہے کہ جس پر انسانوں کی سنگ دل تاریخ بھی ہچکیاں لے لے کر روتی رہی ہے۔ اس میں ایک طرف ظلم و ستم ، بے وفائی و بے اعتنائی اور محسن کشی و نسل کشی کے ایسے دردناک والم ناک واقعات ہیں کہ جن کا تصور کرنا بھی ناممکن ہے ۔ دوسری طرف اہل بیت اطہار ، رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے چشم و چراغ اور ان کے ستر، بہتر متعلقین کی ایک چھوٹی سی جماعت کا باطل کے مقابلہ کے لئے ثابت قدمی اور جان نثاری جیسے ایسے محیر العقول واقعات ہیں کہ جن کی نظیر تمام عالم انسانیت کی تاریخ میں ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 18 ستمبر 2017

این اے 120 لاہور کے ضمنی الیکشن سے ایک روز قبل جب ایک محفل میں ہم سے سوال کیا گیا کہ کل کیا نتیجہ آئے گا تو ہم نے کسی تردد کے بغیر کہہ دیا کہ مسلم لیگ (ن) جیت جائے گی ۔ سب نے حیرت سے ہمیں دیکھا ۔ سب کی نظروں میں بہت سے سوال تھے ۔ ایک دوست کا کہنا تھا کہ جن قوتوں نے نواز شریف کو اقتدار سے الگ کیا اور جنہوں نے الیکشن سے ایک روز پہلے ان کی نظر ثانی کی درخواست بھی عجلت میں مسترد کرا دی تھی ، کیا وہ کل کے الیکشن میں (ن) لیگ کو کامیاب ہونے دیں گے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 18 اگست 2017

صحافی کی زندگی بھی عجیب ہوتی ہے۔ اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ جس ماحول میں یا جس ذ ہنی کیفیت میں دفتر جارہا ہے واپسی پربھی کیا وہ اسی ذہنی کیفیت میں ہوگا ۔ بسا اوقات تو دفتر جانے اور گھرواپس آنے کے درمیانی وقفے میں دنیا ہی تبدیل ہوچکی ہوتی ہے۔ کبھی یوں ہوتا ہے کہ وہ بہت اداس تھکا ہارا بوجھل قدموں کے ساتھ دفتر میں داخل ہوتا ہے۔ معمول کے مطابق اپنا کام شروع کرتا ہے پھراسی دوران کوئی ایسی خبر اس تک پہنچتی ہے کہ وہ اپنی تھکاوٹ ، اپنا بوجھل پن سب کچھ بھول کر اس خبر میں گم ہوجاتا ہے اور خبرمیں ایسا گم ہوتاہے کہ پھراسے اپنے گردوپیش کی بھی خبرنہیں رہتی۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...