مباحث (31)

  وقت اشاعت: 30 جنوری 2018

آج سے چالیس برس پہلے میری چڑھتی جوانی میں جو لاہور تھا، وہ آج کہاں۔ نہ اُس وقت میٹرو بس تھی اور نہ ہی اورنج لائن جیسی جدید زیرتعمیر ٹرانسپورٹ کا نظام، نہ ہی اتنی کاریں اور نہ ہی اس قدر موٹرسائیکل، نہ ہی اتنے سارے سینکڑوں کی تعداد میں ریستوران اور نہ ہی غیرملکی برانڈزکا ایک بھی ریستوران ، نہ اس قدر فلائی اوور اور انڈر پاس۔ بس دو فلائی اوور تھے، ایک میاں میر اور دوسرا بھٹو دور میں بننے والا شیرپاؤ پُل۔ نہ ہی اس قدر جدید آبادیاں۔ اب تو جس طرف جائیں، جدید سے جدید بستیاں آباد ہوچکی ہیں اور تیزرفتاری سے یہ عمل بڑھتا جا رہا ہے۔ نہ ہی اس قدر لاہور میں ایئرکنڈیشنر تھے اور نہ ہی فریج، مائیکرو ویوز اور بھانت بھانت کی الیکٹرانکس مصنوعات۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 27 جنوری 2018

زینب کے قتل نے اس ریاست کے ساتھ ساتھ سماج کی اصلیت کو جس طرح بے نقاب کیا ہے، اس نے یقیناً لوگوں کو اس حقیقت کے مزید قریب کردیا ہوگا کہ اگر ایک طرف یہ ریاست عالمی اور اندرونی سیاسی معاملات میں خودمختار فیصلے کرنے کی حتمی طاقت نہیں رکھتی تو اسی کے ساتھ اس ریاست کے پاس قاتلوں اور مجرموں کو اپنی گرفت میں لینے کی طاقت بھی ماند پڑتی جا رہی ہے۔ زینب کا قاتل اس سے پہلے اسی طرح آٹھ بچیوں کے ساتھ بربریت اور ان کا قتل کرچکا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 23 جنوری 2018

منوبھائی سے میرا پہلا تعارف اُس وقت ہوا جب ہمارے گھر پہلا ٹیلی ویژن آیا۔ اُن کا مقبولِ عام ڈرامہ ’’جزیرہ‘‘ کو دیکھنے کے لیے ہم سب گھر والے بڑے اہتمام سے شام کو ٹیلی وژن کے آگے بیٹھ جاتے تھے۔ اس کے بعد اُن کا ایک اور ٹیلی ویژن ڈرامہ ’’جھوک سیال‘‘ جو سید شبیر حسین شاہ کے ناول کی ڈرامائی تشکیل تھی۔ اس ڈرامے کا ایک کردار وہ ملنگ تھا جو نعرہ مستانہ بلند کرنے کے بعد دھمال ڈالتے ہوئے کہتا، ’’پیر سائیں آندا اے تے مٹھے چول کھاندا اے‘‘ (پیر سائیں آتا ہے اور میٹھے چاول کھاتا ہے)۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 21 جنوری 2018

فرض کرو، کسی مرد نے تیسرا یا چوتھا نکاح کرلیا ہو!
فرض کرو اپنی پیرنی سے نکاح کیا ہو!
فرض کرو پیرنی جیسی نیک، پارسا اور انتہائی پرہیزگار عورت نے کسی اور سے نکاح کرنے کے لیے اپنے پہلے شوہر سے خلع لے لی ہو!

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 جنوری 2018

ہمارے ہاں اردو میں لکھی جانے والی سیاست اور سیاسی تاریخ پر زیادہ تر کتابیں تحقیق کم اور خطابت کے پُرجوش الفاظ پر زیادہ مبنی ہوتی ہیں۔ حوالہ جات سے محروم ایسی کتابیں کسی طرح بھی آج کی جدید دنیا میں کتاب کے زمرے میں نہیں آتیں۔ کاغذ پر پرنٹنگ اور جلدسازی کو کتاب تصور کرلینا اپنے آپ کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 جنوری 2018

کم سن زینب کے لرزہ خیز قتل نے پورے ملک میں غم وغصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس طرح کے واقعات ہمارے ملک میں بڑھتے جارہے ہیں۔ ہرکسی کے پاس دوسرے کو قتل کرنے کا جواز موجود ہے۔ ہر کوئی دوسرے کو قتل کرنے کا اجازت نامہ اپنے ہاتھوں میں لیے ہوتا ہے۔ آپ ایسی ویڈیوز سوشل میڈیا پر باآسانی دیکھ سکتے ہیں جس میں کوئی کسی دوسرے شخص کو قتل کرنے کا اعلان کررہا ہے۔ وہ شخص حکومت میں اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہے یا کچے گھروں میں رہنے والے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 جنوری 2018

لاہور سے کوئٹہ تھکا دینے والا سفر ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ٹرین چلتے چلتے تھک جائے گی اور ایک مقام پر تو یقین ہوجاتا ہے کہ بس تھک ہی گئی۔ تب گاڑی کے پیچھے بھی ایک انجن لگا دیا جاتا ہے۔ طویل صبر کے بعد پہلی بار کوئٹہ پہنچا تو ایک خوب صورت شہر میں اپنے آپ کو پاکر تھکاوٹ کی بجائے راحت محسوس کی۔ رات کوئٹہ قیام کے بعد دوسرے دن کوئٹہ سے بس کے ذریعے ایران پاکستان سرحد کی طرف سفر کا آغاز ہوا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 جنوری 2018

جہاں گردی کے راستوں کی منصوبہ بندی کا انحصار میری دلچسپیوں پر ہوتا ہے۔ کبھی کبھی سیدھے سفر کرتے گئے اور طے شدہ شہروں، قصبات اور علاقوں کو دیکھتے اور عبور کرتے چلا جاتا ہوں اور کبھی کبھی یہ عمل سیدھا جاکر واپس اور پھر دوسری طرف روانہ ہوجانے پر مشتمل ہوتا ہے۔ کیتھرین کی سرخ رینالٹ کار کے سٹیئرنگ پر ذمہ داری اس کی تھی اور روٹس طے کرنا میری ذمہ داری تھی۔ جیرونا، فرانس سے سپین داخل ہوتے ہی میرے نشان زدہ مقامات میں پہلا مقام تھا۔ آگے جانے سے پہلے ہمیں ایک بار پر پھر فرانس سپین سرحد پر واپس آنا تھا۔ جیرونا میں پہلا دن گزارنے کے بعد۔ شہر سے باہر موجود سستی ترین کیمپنگ میں قیام اور پہلی رات سپین میں گزارتے ہوئے ایک عجیب احساس تھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 جنوری 2018

میڈم نورجہان کو میں نے صرف ایک بار دیکھا تھا۔ میرے بچپن کا اختتامی زمانہ تھا۔ ہم حج کے لیے جدہ ائرپورٹ پر اترے تھے۔ اچانک وہ میرے سامنے آگئیں۔ سفید احرام ماتھے کو آدھے تک ڈھکے ہوئے تھا۔ سفید سوتی شلوار قمیص۔ ململ کا سفید دوپٹہ، نماز میں اوڑھنے کے انداز میں لپٹا ہوا۔ شفاف اور مکمل دھلا دھلایا چہرہ۔
یہ ان کے انتہائی عروج کا زمانہ تھا مگر وہ اطراف کے لوگوں سے قطعی بےنیاز تھیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 جنوری 2018

جنرل ضیاالحق کا مارشل لاء پاکستان پیپلزپارٹی اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے لیے خصوصی طور پر سخت گیر دورِحکومت تھا۔ تمام سیاسی جماعتیں کالعدم کی گئیں، مگر کسی بھی شخص کا اگر تعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے ثابت ہوجاتا، بس اس کی خیر نہیں۔ معروف سیاسی قہوہ خانوں بشمول پاک ٹی ہاؤس، چائنیز لنچ ہوم، تب سیاسی بحثوں کے لیے خطرناک جگہیں تھیں۔ خفیہ والے ایسے مقامات کی ہروقت نگرانی کرتے تھے۔ ایسے میں مختلف سیاسی کارکنوں کے متعدد خفیہ ڈیرے تھے جہاں وہ اکٹھے ہوتے۔

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...