مباحث (31)

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

چار روز قبل منو بھائی کا فون آیا کہ تین بجے بلاول بھٹو زرداری نے میرے ہاں آنا ہے، تم اس سے پہلے میرے ہاں پہنچو۔ جب میں وہاں پہنچا تو پروٹوکول، سیکیورٹی اور میڈیا کے لوگوں کا محلے پر قبضہ پایا۔ ہرطرف پولیس ہی پولیس، اور میڈیا کی گاڑیاں، کیمرے اور بندوقیں تھیں۔ یہ ایک نیا پاکستان ہے۔ دہشت گردی کے زیر سایہ اور الیکٹرانک میڈیا کا زمانہ۔ اب سیاسی رہنما کہیں آئیں جائیں تو یہ ممکن نہیں کہ وہاں سیکیورٹی کے بندوق بردار اور الیکٹرانک میڈیا کے کیمرا بردار موجود نہ ہوں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 7 دن پہلے 

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے میانوالی میں یونیورسٹی طلبا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے، ’’اگر تحریک انصاف نہ بنتی تو عوام پرانے سیاست دانوں کے غلام بنے رہتے۔‘‘ اپنی اس تقریر میں انہوں نے متعدد ایسے سوالات اٹھائے ہیں جن پر تفصیل سے بحث کی ضرورت ہے۔ جن میں سرفہرست سوال درج بالا ہے۔ انہوں نے اس تقریر میں یہ بھی کہا ہے کہ ہمارے نوجوان دوسروں اور مغرب کے ثقافتی غلام بن چکے ہیں۔ اقبالؒ اور قائداعظمؒ محمد علی جناح کے افکار سے روگردانی کے سبب ہم بحیثیت قوم کامیابی کی کسی منزل کو نہیں چھو سکے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 11 2017

سیاسی نظام ہمیشہ سماج کی بنیاد پر کھڑے کیے جاتے ہیں۔ سماج کی معاشی، ثقافتی، اقتصادی اقدار کے مطابق، ہمارے ہاں برسوں سے جمہوریت کی بحث اور جمہوریت قائم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ جب ہم جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو یقیناٌ ہمارے ذہن میں مغربی جمہوریتیں آتی ہیں۔ ہم ایک ایسے سماج میں رہتے ہیں جو جاگیردار، قبائلی، پسماندہ، نہایت نیم صنعتی اور غیرسیکولر بنیادوں پر کھڑا ہے۔ ہم اس کی بنیادوں پر سکینڈے نیوین، برطانوی، وسطی یورپی یا امریکی جمہوریت جیسی عمارت کھڑی کرنے کے خواب دیکھتے ہیں، اسی لیے باربار قائم جمہوریت کسی نہ کسی انداز سے اپنی موت آپ مر جاتی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 2017

معروف انقلابی رہنما چی گویرا کا کہنا ہے کہ ’’ جس شہر میں دو انقلابی رہنما رہتے ہوں، آپ جب اس شہر میں داخل ہوں تو دیواریں بتاتی ہیں (یعنی دیواروں پر لگے پوسٹرز اور لکھے نعرے و مطالبے) کہ اس شہر میں دو انقلابی رہتے ہیں۔‘‘ میرا سیاسی جہاں گردی کا تجربہ ہے کہ جب میں کسی شہر میں پہلی مرتبہ داخل ہوتا ہوں تو جلد ہی رائے بن جاتی ہے کہ اس شہر کا حکمران یا حکمرانی کامیاب ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 2017

میاں نوازشریف لندن سے واپس وطن لوٹ چکے ہیں۔ انہوں نے واپسی پر عدالتوں میں لگے مقدمات کا سامنا اور عوامی رابطوں کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ ہمارے بڑے بھائی  عطاالرحمن بھی کچھ روز پہلے ہی لندن سے واپس وطن لوٹ چکے ہیں۔ لندن میں انہوں نے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے ساتھ خصوصی ملاقاتیں بھی کیں جس کا ذکر انہوں نے 2نومبر کے اپنے کالم ’’دو تفصیلی ملاقاتیں، نوازشریف کے ساتھ‘‘ میں بڑے مختصر مگر جامع الفاظ میں کیا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 31 2017

سچ لکھنے کے لیے سچ سننے والا معاشرہ چاہیے۔ اگر ایسا نہیں تو میں واضح کرنا چاہوں گا کہ اگر مشرق کی بجائے مغرب میں رہ رہا ہوتا تو میرے قلم کی طاقت میری سوچ کے علم کے مطابق ہوتی۔ افسوس ہمارے ہاں روز بروز ہر چیز ’’مقدس‘‘ بنتی جا رہی ہے۔ میں عملی طور پر ایک ایکٹوسٹ رہا ہوں اور اُن دنوں جب ایکٹوسٹ کالعدم قرار دے دئیے گئے، یعنی تمام سیاسی جماعتیں ممنوع، میں اُن چند ہزار ایکٹوسٹس میں سے ایک ادنیٰ سا ایکٹوسٹ تھا جو اظہارِ خیال کی آزادی کے لیے سڑکوں پر آیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 2017

میری بیٹی کو مجھ سے اکثر ایک شکایت بہت ہی شدید طریقے سے رہی ہے۔
وہ یہ کہ اکثر میرے فیس بک پر موجود لوگ اسے فرینڈ ریکئسٹ بھیجتے ہیں۔ گو کہ چند خواتین یا لڑکیاں بھی اس میں شامل ہوتی ہیں مگر ظاہر ہے کہ اسے مرد یا لڑکے زیادہ کھٹکتے ہیں یا یوں کہا جائے کہ برے لگتے ہیں۔ کیونکہ خود دبئی میں رہتی ہے اس لیے آئے دن فرینڈ ریکوئیسٹ کا اسکرین شاٹ اور ایک بپھرا ہوا میسج آتا ہے کہ یہ دیکھیے۔ یہ آپ کے دوست اور فین!
جواب میں میں اسے ایک مسکراہٹ بھیج دیتی ہوں۔
پھر سوال آتا ہے کہ آپ اسے کتنا جانتی ہیں؟
میں کہتی ہوں کہ کوئی خاص نہیں۔
پوچھتی ہے کہ میں رجیکٹ کر دوں؟
میں کہتی ہوں کہ کر دو۔ اس کا آپشن تم رکھتی تو ہو!

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 28 2017

عمران خان نے پاکستان پر ایک بڑا احسان یہ کیا ہے کہ انہوں نے لوگوں کو اس شک سے باہر نکال دیا ہے کہ وہ تبدیلی کے رہبر ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ  لفظ تبدیلی، عوامی سیاست کے میدان میں ادھورا یا مبہم سا ہے۔ تبدیلی۔ مگر کیسی تبدیلی؟ سیاسی نظام و ریاستی نظام کی تبدیلی؟ اُن کی سیاست ابھی تک یہ واضح کرنے سے مکمل طور پر قاصر رہی ہے۔ انہوں نے لفظ تبدیلی کو استعارہ کے طور پر استعمال کرکے عام لوگوں کو ایک مبہم صورتِ حال میں رکھا۔ اور اپنے انہی دعووں کے ساتھ انہوں نے احتجاج کو واحد ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 24 2017

پاکستان میں بائیں بازو کی سیاست کی تاریخ برصغیر میں غدر پارٹی کے زمانے سے جا ملتی ہے۔ 1947 کی آزادی کی تحریک کو جہاں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے تسلیم کیا، وہیں سابق سوویت یونین نے پاکستان کے قیام کی حمایت کی۔ 1947 کے بعد پاکستان میں بائیں بازو کی سیاست اتارچڑھاؤ کے ساتھ اپنا وجود برقرار رکھتی نظر آتی ہے۔ سرد جنگ کے آغاز نے پاکستان میں بائیں بازو کی سیاست کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنا شروع کردیا۔ 1966-67 کی عوامی تحریک جس کی قیادت ذوالفقار علی بھٹو نے کی، درحقیقت برصغیر میں بائیں بازو کی سیاسی تاریخ سے جا ملتی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 21 2017

ایک سفید فام شخص صریحاً اپنے ساتھی انسانوں کو ہلاک کرنے کے مقصد کے تحت ایک جدید گن سے ایک پُرہجوم جگہ میں فائر کھول دیتا ہے۔ یہ معمولات اتنے ہی ورائے حقیقت بن چکے ہیں جتنا کہ فرسودہ اور گھسے پٹے۔ امریکہ کے لبرلز اس پر مہلک اور ہلاکت خیز اسلحے پر کنٹرول کے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ کنزرویٹو اُن کی سرزنش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اس افسوس ناک واقعے کو Politicize کررہے ہیں۔ اور ماتم، افسوس اور دعاؤں کا سلسلہ شروع کردیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر لاس ویگاس میں فائرنگ کرنے والا یہ شخص، مسلمان، سیاہ فام یا وسطی امریکہ سے آیا تارکِ وطن ہوتا تو ساری سیاسی گرماگرمی نختلف  ہوتی اور معاملہ اس کے بالکل برعکس ہوتا۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...