مباحث (31)

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

پاکستان کا سیاسی منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ اگر ہم پچھلے چار ماہ میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں (Developments) کو سامنے رکھیں تو حالات بالکل مختلف ہیں۔ اور اگر ہم اس ساری صورتِ حال کو 2008 کے بعد کے حالات سامنے رکھ کر دیکھیں تو حالات بہت ہی مختلف ہیں۔ 2008 کے بعد جنرل (ر) پرویز مشرف کی صدارت میں آصف علی زرداری کی پاکستان پیپلزپارٹی نے حکومت سنبھالی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی نے بے نظیر بھٹو اور نوازشریف کے مابین چارٹر آف ڈیموکریسی کے تحت ایک دوسرے کی حکومتیں ختم نہ کرنے اور سیاسی پولرائزیشن نہ کرنے کے عہد پر عمل کرتے ہوئے ایک دوسرے سے سیاسی تعاون کا پرچم بلند کئے رکھا۔ تمام منتخب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے سیاسی تعاون کرتی نظر آرہی تھیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 7 دن پہلے 

این اے 120کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی غیرمتوقع نہیں لیکن اس انتخاب نے کئی سیاسی سوالوں کو بڑی شدت سے ایک بار پھر اٹھایا ہے۔ یہ حلقہ انتخاب سالوں سے میاں نوازشریف کا حلقہ ہے۔ پاکستان تحریک انصاف 2013 میں اس حلقے میں بھی دوسرے انتخابی حلقوں کی طرح ایک طاقتور انتخابی جماعت بن کر سامنے آئی۔ اس حلقے سمیت سارا لاہور کسی وقت پاکستان پیپلزپارٹی کا گڑھ کہلاتا تھا۔ 1970 کے انتخابات میں امیر جماعت اسلامی میاں طفیل محمد کو بابائے سوشلزم نے انتخابی شکست سے دوچار تو کیا لیکن لاہور ہی سے ذوالفقار علی بھٹو نے ایک سیٹ پر خود الیکشن لڑکر اپنی سیاست کا مرکز لاہور کو ثابت کیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 16 ستمبر 2017

لاہور کے ضمنی انتخاب میں سیاست کے جو رنگ دِکھ رہے ہیں، اس سے ہم اپنی سیاست، جمہوریت، سماج، سیاسی نظام، سیاسی ثقافت اور اپنے مستقبل کا آسانی سے اندازہ لگا سکتے ہیں۔ موروثیت، دولت، دھونس، شخصیت پرستی، الزام تراشی، الزامات، سکینڈلز، دعوے، ہڑبونگ، ذات برادری، فرقہ پرستی، ووٹوں کی خرید و فروخت کے مظاہرے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ اگر ہم اس عمل سے جمہوریت کا خواب دیکھتے ہیں تو پھر اللہ ہی مالک ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 ستمبر 2017

پاکستان پیپلزپارٹی قائم ہوئی تو دو سال بعد ہی پاکستان میں انتخابات ہوگئے۔ پی پی پی نے مغربی پاکستان سے اکثریت حاصل کرلی اور اس میں کامیابی کا بنیادی مرکز پنجاب تھا۔ پارٹی کے بانی قائد ذوالفقار علی بھٹو شہید اور دیگر پارٹی لیڈرز انتخابات میں بیس سیٹوں کے قریب امید لگائے بیٹھے تھے۔ لیکن عوام کا فیصلہ پی پی پی کی توقعات سے بہت آگے نکل چکا تھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 ستمبر 2017

گزشتہ ہفتے امریکی صدر نے سی آئی اے کو شام کے خلاف جنگ روکنے کا سرکاری حکم جاری کیا۔ گویا ثابت ہوا کہ شام میں یہ بشارالاسد یا نیولبرل ازم یا سول وار نہیں بلکہ شام میں اس جنگ کا سبب واقعتاً سی آئی اے تھی۔ یقیناً سی آئی اے شام میں اپنی غیرسرکاری درپردہ سرگرمیاں توجاری رکھے گی لیکن اس لمحے اسے سی آئی اے کی ’’باضابطہ شکست‘‘ ضرور کہا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 ستمبر 2017

اگر ہم پاکستان کے ستر سال پر جذباتی ہوئے بغیر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ہم نے آزادی کے بعد کیا کھویا کیا پایا۔  تک تو ہم نے آزادی کا سفر مکمل کیا، بحیثیت قوم ہمارا سفر تو 14اگست 1947 کے بعد شروع ہوا۔ انگریز سے آزادی اور متحدہ ہندوستان میں نہ رہنے کا فیصلہ اس لیے کیا تھا کہ آزاد ہونے والی ریاست ہر قسم کے استحصال سے پاک، خوش حال قوم اور ایک ترقی یافتہ وجمہوری ریاست کی تکمیل کی جاسکے۔ یقیناً جب بات حقائق پر کی جائے تو اسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ اس خودمختار ریاست و قوم کے ستر سالوں کے سفر میں لاتعداد نشیب وفراز ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 01 ستمبر 2017

میں نے آنکھ کھول کر دنیا کو دیکھا تو ہر سال کا حج زندگی کا لازم حصّہ پایا۔ بابا اور اماں کی زندگی مکہ اور مدینہ کے گرد منڈلاتی تھی دو پروانوں کی طرح۔ تیسری میں آ گئی جسے ان کی انگلی پکڑ کر اس مرکزِ حیات کے گرد منڈلانا ہوتا تھا۔ بابا سرکاری ملازم تھے۔ ہر سال حج کے لیے ان کی چھٹی کا معاملہ پھنس جاتا۔ اعتراض آتا کہ ابھی پچھلے سال تو گئے ہو! اُدھر چھٹی کی درخواست چیف سیکریٹری کی ٹیبل پر پڑی پھڑپھڑا رہی ہوتی اور اِدھر وہ بے چین ہوئے پھرتے اور اماں کو سفر کی تیاری کا کہہ رہے ہوتے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 اگست 2017

کچھ سال پہلے ایک بھارتی گیت بہت مقبول ہوا، ’’چولی کے پیچھے کیا ہے‘‘۔ میں اُن چند ہزار لوگوں میں ایک ادنیٰ سا ایکٹوسٹ رہا ہوں جنہوں نے اپنی زندگی کا بہترین وقت جمہوریت کی بحالی کے لیے قربان کردیا۔ آج یہ الفاظ لکھنا میرے لیے بہت آسان ہے لیکن میں اپنے خدا کو حاضروناظر جان کر یہ کہہ رہا ہوں کہ گیارہ سال مسلسل دن رات ہم ان لوگوں میں شامل رہے ہیں جو پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کا خواب لے کر گلی گلی، گاؤں گاؤں، قریہ قریہ، قصبہ قصبہ اور شہر شہر سرگرداں رہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 26 اگست 2017

میں پچھلے ایک ماہ سے یورپ کے مختلف ممالک کی سیاحت کررہا ہوں۔ استنبول سے ہوائی جہاز کے ذریعے ہالینڈ پہنچا اور پھر وہاں سے سڑک کے راستے فرانس۔ فرانس کے بعد ہوائی سفر کرکے بحیرۂ روم کی ایک چھوٹی سی ریاست مالٹا پہنچا جو یورپین یونین میں تیزرفتار ترقی کرتی ہوئی ایک معیشت ہے۔ مالٹا سے بحری سفر کے بعد اٹلی کے ایک خودمختار صوبے سسلی، جہاں سے مافیا کی اصطلاح پوری دنیا میں متعارف ہوئی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 22 اگست 2017

امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے پر جہاں کئی گمنام گروہ مرکزِ نگاہ بنے، وہیں ملک بھر کی کئی سوشلسٹ تنظیموں کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے۔ جس کا باعث جزوی طور پر ورمونٹ سے امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کی گزشتہ برس کی صدارتی امیدوار کی انتخابی مہم اور ٹرمپ کے پالیسی ایجنڈا کے خلاف مہم چلانے کا عزم ہے۔ ٹرمپ کے الیکشن جیتنے سے اب تک پارٹی آف سوشلزم اینڈ لبریشن کے اجلاسوں کے شرکا میں تین گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ اور ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ کی اراکین کی تعداد دوگنا سے زیادہ ہوکر 19ہزار کی لگ بھگ ہوچکی ہے۔ یہ اضافہ 2015 کی برنی سینڈرز کی انتخابی مہم کے بعد دیکھنے میں آیا جو اپنا تعارف ’’ڈیموکریٹک سوشلسٹ‘‘ کے طور پر کرواتے ہیں۔ اس سے پہلے ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ میں اضافہ 1980 میں دیکھنے میں آیا تھا۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...