مباحث (30)

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

تاریخ کا مطالعہ کئی شعبہ جاتِ زندگی میں بہت ضروری  ہے ۔ گو کہ ہم تک تاریخ درست حالت میں نہیں پہنچی تاہم اس کی افادیت میں کمی نہیں آئی۔  تاریخ کا سبق ہمیں جاوید ہاشمی کی نواز شریف سے ملاقات کے بعد یاد آیا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 2017

مسلم لیگ 1906میں برصغیر کے مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی جماعت کی حیثیت سے قائم ہوئی۔  یہ نظریہ فکر تھی، سوچ تھی ، ایک خواب تھا، ایک معرکہ تھا جو مسلمانوں کو مذہب سمیت ہر طرح کی آزادی فراہم کرنے کا ذریعہ تھا۔ مسلمانان ِ ہند اس پر متفق ہوگئے تھے۔  اس نظریہ کے تحت مملکتِ خداداد پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ پاکستان میں نظریاتی ہونے کا تصور بعد کے حالات اور افراد کی ذہنی قابلیت مسدود ہونے کی وجہ سے تبدیل ہو گیا۔  نظریاتی اساس میں اپنی ذات کے سوا معاشرہ کی بہبود، اس کی ترقی ، تعمیر اور بقا پنہاں ہوتی ہے جو آج کی سیاسی وسماجی زندگی کی تیزرفتاری ، افراتفری اور نفسا نفسی کے باعث کئی پردوں میں جاکر چھپ گئی ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 2017

سینیٹ میں جب انتخابی اصلاحات ایکٹ2017سابق وزیر قانون زاہد حامد پیش کررہے تھے تو مسلمان ہونے کے حلف نامے کے عنوان سے ختم بنوت کے قانون پر یقین رکھنے کے قانون پر پہنچے توجمعیت علماء اسلام کے سینیٹر حافظ حمداللہ نے نے نشاندہی کروائی کہ یہاں الفاظ  تبدیل کئے گئے ہیں۔  اصل لفظ حلف اٹھاتا ہوں  تھا نہ کہ اقرار کرتا ہوں ۔  اس کی تائید قائد ایوان راجا ظفر الحق اور سینیٹرز نے بھی کی ۔ یہ ابتدا  تھی اس دھرنے کی جو 22دن تک اسلام آباد اور روالپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آبا دانٹر چینچ پر ہوا اور جس نے جڑواں شہروں کے عوام کے معاملات زندگی کو مسلسل متاثر کئے رکھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 30 2017

6نومبر کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر فیض آباد کے مقام کو ختم نبوت ﷺ کو موضوع بناکر موجودہ حکومت کیلئے ایک آزمائش کا انتظام کیا گیا ۔ یہ 2014 کے بعد دھرنا آزمائش کی ایک اور لہر تھی ۔  پاناما کے بعد اس نئے  امتحان میں سب ہی کردار پرانے ہیں۔ 22دن بعد اس دھرنے کا اختتام حکومت کے تئیں ہیپی انڈنگ تھا ، دھرنا تقریباً پر امن انداز میں اختتام کو پہنچا۔ حالانکہ 20ویں دن دھرنا دینے والوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کا آغاز دن چڑھتے ہی کردیا تھا۔ اور فیض آباد انٹر چینج میدان  جنگ بن گیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 22 2017

18نومبر کو بلوچستان کے علاقے تربت سے پنجاب کے شہر گجرا ت سے تعلق رکھنے والے 5نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوئیں جنہیں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔ اس سے چند دن قبل 15افراد کی لاشیں بھی تربت ہی کے علاقے بلیدہ سے ملی تھیں۔ یعنی ایک ہفتہ میں 20لوگوں کا صوبے میں قتل اپنے ساتھ دہشت گردی کی نئی لہر لے آیا ہے۔ جس نے صوبائی سطح پر نون لیگی حکومت کیلئے کئی سوالات پیدا کردیئے ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 17 2017

جمہوری نظام کیلئے جمہور کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ عوام کسی کی مقبولیت کا تعین کرنے ، اسے اقتدار تک رسائی کا فیصلہ کرتے ہیں۔  یہ الگ بات ہے کہ اقتدار کی کرسی پر براجمان ہونے کے بعد ان کے منتخب کردہ افراد ان کی زندگی کو لاحق مسائل حل کرنے کی بجائے ذاتی مفادات کے لئے کام کرنے لگتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 22 2017

انسانی معاشرے کی بقا،  استحکام ،  توازن یا برابری کا انحصار انصاف کی بلاامتیاز فراہمی سے مشروط ہوتا ہے ۔ یہی معاشرے کی تعمیر و ترقی کیلئے جزوِ لازم بھی قرار دیا جاتا ہے ۔ اگر کسی فرد کو برابری کی بنیاد پر اس کے حقوق میسر آجائیں تو وہ یقینی طور پر اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی برتنے کا سوچنے اور نہ اس میں غفلت کا مرتکب نہیں ہوگا۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 2017

انتخابی دھاندلیوں کے نعروں سے جنم لینے والا حکومت مخالف طوفان 120 دن کے دھرنے کے بعد بھی تھم نہ سکا۔ بلکہ اس میں تغیانی کی کیفیت رہی۔ جیسے زلزلے کے بعد بھی آفٹر شاکس آتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ پاناما پیپر ز کے اجراء سے یوں لگا کہ حکومت کا سب کچھ جل کر خاکستر ہونے لگا۔ کوئی جائے پناہ دستیاب نہ ہوسکی ۔ اس آگ کے شعلے اس قدر بلند ہوئے کہ تیسری بار  انتھک جدوجہد اور آئین میں ترمیم کے بعد میاں نوازشریف وزیراعظم منتخب ہونے کے باوجود نااہل ہوگئے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 2017

ہمارے ملک میں بہت سے مافیا بہت عرسے سے سرگرم ہیں اور عوام کے ساتھ انتہائی ظالمانہ نوعیت کا سلوک کیا جارہا ہے۔ ابلاغ عامہ میں اس کو تسلسل سے پیش بھی کیا جاتاہے لیکن اس کی پشت پناہی کرنے والے اس قدر مضبوط اور بااختیار ہیں کہ ان مافیا عناصر کو مسلسل توانائی فراہم کرتے رہتے ہیں ۔ عوام چاہے کتنا ہی واویلا کرلیں ، میڈیا کس قدر ہی ان کے پردے فاش کرلے مگر کوئی نہیں جو ان کی روک تھام کرسکے۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 مئی 2017

چند دن بعد رمضان کا بابرکت مہینہ شروع ہونے والا ہے۔ ہمارے سروں پر ایک ایسا مہینہ سایہ فگن ہوگا جو اپنی عظمت میں اپنی مثال آپ ہے جس میں جنت کے تمام دروازے کھول دئے جاتے ہیں ، جہنم کے ہر دروازے پر تالے ڈال دئے جاتے ہیں۔ سرکش شیاطین کو جکڑ کر سمندروں کی تہہ میں غرق کردیا جاتا ہے ۔ اس ماہ کی ہر رات منادی کی جاتی ہے کہ ہے کوئی خیر کا طلب گا ر، ہے کوئی نجات کا چاہنے والا، آؤ اور آگے بڑھ کر خیر پالو ، نجات حاصل کرلو۔ اس مہینہ کی ایک رات ہزار مہینوں سے افضل قرار دی گئی ہے جس میں روح الامین فرشتوں کے ساتھ زمین پر اترتے ہیں اور اللہ کی خوشنودی کے طلب گاروں کی بخشش کاسامان کرتے ہیں۔ جو کوئی اس خیر سے محروم ہو ا وہ واقعی محروم ہوگیا۔

مزید پڑھیں

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...