مباحث (3)

  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

معروف صحافی کالم نگار شاعر اور ڈراما نگار منو بھائی نے چھ فروری 1933 کو وزیر آباد میں جنم لیا۔ گورنمنٹ کالج کیملپور موجودہ اٹک سے تعلیم پائی۔ فتح محمد ملک اور شفقت تنویر مرزا ان کے کلاس فیلو تھے۔ ان دنوں کالج کے پرنسپل معروف اسکالر ڈاکٹر غلام جیلانی برق اور ڈاکٹر محمد عثمان بھی اسی کالج سے وابستہ تھے۔ ان دنوں کالج کے پرنسپل اور طالب علموں کے درمیان فاصلے نہیں ہوتے تھے۔ ان طالب علموں اور ڈاکٹر برق کے درمیان ایک علمی روحانی رشثہ استوار ہوا اور یوں اس درسگاہ سے عظیم لکھاری اور صحافیوں نے جنم لیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

بات کرنا بھی ایک فن ہے اور اس میدان میں ہر آدمی فنکار نہیں ہوتا۔ مجھے خود بات کرنے کی مشق نہیں ہے۔ جو لوگ ناخوش یا ناراض ہونا اہتے ہیں وہ ہو ہی جاتے ہیں۔ آپ سب لوگوں کو خوش نہیں کر سکتے اور پھر سب لوگوں کو خوش کرنے کی ضرورت بھی کیا ہے۔ بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ میں سب کو برا بھلا ہی کہتا رہتا ہوں۔ کبھی کسی کی خوبیوں پر میری نظر نہیں جاتی۔ مجھے تو یاد نہیں پڑتا کہ میں نے ’’ایویں‘‘ ہی کسی کی برائی کی ہو۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 7 دن پہلے 

کم سن زینب کے لرزہ خیز قتل نے پورے ملک میں غم وغصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس طرح کے واقعات ہمارے ملک میں بڑھتے جارہے ہیں۔ ہرکسی کے پاس دوسرے کو قتل کرنے کا جواز موجود ہے۔ ہر کوئی دوسرے کو قتل کرنے کا اجازت نامہ اپنے ہاتھوں میں لیے ہوتا ہے۔ آپ ایسی ویڈیوز سوشل میڈیا پر باآسانی دیکھ سکتے ہیں جس میں کوئی کسی دوسرے شخص کو قتل کرنے کا اعلان کررہا ہے۔ وہ شخص حکومت میں اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہے یا کچے گھروں میں رہنے والے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 11 جنوری 2018

مجھے داد نہیں
 داد رسی چاہیے۔۔۔۔۔۔۔

وحشت ناک خبریں مجھے ہمیشہ ذہنی طور پر منجمد کر دیتی ہیں۔۔۔۔ میں نے حفاظتی تدابیر کر رکھی ہیں۔۔۔۔ میں نے گھر میں ٹی وی نہیں رکھا۔۔۔۔ مجھے چسکے لے لے کر چٹخارے دار خبریں سناتے چہروں کی داخلی مسرتیں محسوس کر کے سلگنے کی خواہش نہیں ۔۔۔۔ پھر بھی خبریں کسی نہ کسی طور کسی ماہر کھوجی کی طرح کھرا اتھاتے میری بے خبری میں ا گھیرتی ہیں۔۔۔۔ صبح عین اس وقت جب میں نے موبائل کا بٹن بند کر کے سونا چاہا۔۔۔۔ کسی ستم ظریف نے معصوم زینب کی تصویر لگا دی۔۔۔۔ 
رات بھر کی جاگی آنکھوں میں ریت جھونکی گئی۔۔۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 11 جنوری 2018

قصور میں ننھی زینب کے ساتھ رونماہونے والا المناک سانحہ اورپھراسے بے دردی کے ساتھ قتل کرکے لاش کا کوڑے کے ڈھیر پرپھینک دیاجانا ایک ایسااندوہناک واقعہ ہے کہ جس کے بارے میں بات کرنے کے لئے بہت حوصلہ چاہیے اور بہت ہمت چاہیے۔ لیکن اس معاشرے میں پے درپے رونما ہونے والے ایسے شرمناک واقعات نے ہمیں بہت ساحوصلہ بھی دیدیا ہے اورہم میں ظلم سہنے کی ہمت بھی بہت پیداہوچکی ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 جنوری 2018

اور یہ چوتھی معصقوم بچّی ہے جسے قصور میں جنسی زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا ہے اور آج ہی فیصل آباد سے پھر ایک نویں جماعت کے طالب علم کی لاش برآمد ہوئی  ہے جو لاپتہ تھا ۔ اُسے بھی جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد ہلاک کیا گیا ہے اور یہ اپنی نوعیت کی پہلی واردات نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی فیصل آباد کم سن لڑکوں کے قتل اور جنسی زیادتی کی وارداتوں کی وجہ سے ایک عرصے سے خبروں میں رہا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 جنوری 2018

لاہور سے کوئٹہ تھکا دینے والا سفر ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ٹرین چلتے چلتے تھک جائے گی اور ایک مقام پر تو یقین ہوجاتا ہے کہ بس تھک ہی گئی۔ تب گاڑی کے پیچھے بھی ایک انجن لگا دیا جاتا ہے۔ طویل صبر کے بعد پہلی بار کوئٹہ پہنچا تو ایک خوب صورت شہر میں اپنے آپ کو پاکر تھکاوٹ کی بجائے راحت محسوس کی۔ رات کوئٹہ قیام کے بعد دوسرے دن کوئٹہ سے بس کے ذریعے ایران پاکستان سرحد کی طرف سفر کا آغاز ہوا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 جنوری 2018

میں ابھی ابھی پاکستان سے پلٹا ہوں، وہاں رہ کر بہت کچھ دیکھا، سنا اور بھوگا ۔۔۔ کہننے، سننے اور کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ واضح فرق ۔۔۔۔۔ جسے میں اپنے حساب سے جوں کا توں پیش کر رہا ہوں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 جنوری 2018

جہاں گردی کے راستوں کی منصوبہ بندی کا انحصار میری دلچسپیوں پر ہوتا ہے۔ کبھی کبھی سیدھے سفر کرتے گئے اور طے شدہ شہروں، قصبات اور علاقوں کو دیکھتے اور عبور کرتے چلا جاتا ہوں اور کبھی کبھی یہ عمل سیدھا جاکر واپس اور پھر دوسری طرف روانہ ہوجانے پر مشتمل ہوتا ہے۔ کیتھرین کی سرخ رینالٹ کار کے سٹیئرنگ پر ذمہ داری اس کی تھی اور روٹس طے کرنا میری ذمہ داری تھی۔ جیرونا، فرانس سے سپین داخل ہوتے ہی میرے نشان زدہ مقامات میں پہلا مقام تھا۔ آگے جانے سے پہلے ہمیں ایک بار پر پھر فرانس سپین سرحد پر واپس آنا تھا۔ جیرونا میں پہلا دن گزارنے کے بعد۔ شہر سے باہر موجود سستی ترین کیمپنگ میں قیام اور پہلی رات سپین میں گزارتے ہوئے ایک عجیب احساس تھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 جنوری 2018

ایک ایسے معاشرے میں جہاں ہم صدیوں کی روایات کے امین ہوں اور جہاں بنیاد پرستی پر فخرکیا جاتا ہو اور جہاں ہمارے ماہ و سال ایک ہی ڈھب سے گزر رہے ہوں ۔ جہاں نئے اور پرانے کی تمیز مٹ چکی ہو اپنے اور بیگانے کا فرق ختم ہوچکا ہو۔ دیوانے اور فرزانے کو ایک ہی صف میں کھڑا کیا جاتا ہو اور جہاں یہ بحث ہر سال شدو مد سے جاری رہے کہ سال عیسوی کے آغاز پر مبارکباد دینا جائز ہے یا ہجری سال کے ماتمی مہینے میں سال نو کا جشن منانا عین ثواب ہے۔ اس ماحول میں ہم دوہزار اٹھارہ کے آغاز پر آپ کو مبارکباد دینے کی جرات تو نہیں کرسکتے ہاں البتہ دوہزار سترہ کا ماتم بہت خشوع وخضوع کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...