مباحث (26)

  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

ہر سال کی طرح 11 فروری کو مقبول بٹ شہید کی برسی منائی گئی مگر ماننا پڑے گا کہ اس سال دنیا بھر میں جہاں کہیں جموں کشمیر کے باشندے موجود ہیں وہاں انہوں نے ماضی کے نسبت زیادہ منظم اور جوش و خروش سے مقبول بٹ شہید کی برسی منائی۔  جس کے لیے وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ موجودہ ٹیکنالوجی نے بھی کافی آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔ جبری طور پر منقسم جموں کشمیر کے باشندوں اور تارکین وطن کے درمیان رابطے آسان اور مضبوط ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 23 جنوری 2018

کہاں جا رہے ہو اور کیوں؟ یہ سوال مجھے  اور میرے سسرالی گھر کے درمیان پاک فوج کی چوکی پر کھڑے ایک فوجی نوجوان نے اس وقت پوچھا جب میں اپنی اہلیہ اور کمسن بچیوں کے ہمراہ دو ہفتے قبل اپنی اہلیہ کے  چچا کے گھر جا رہا تھا، جو فوت ہو گئے تھے۔ فوجی افسر کا سوال سنتے ہی میرے ذہن میں درجنوں جواب گھوم گئے اور وہ سارے کے سارے سخت تھے۔ پھر فوری طور پر یہ نصحیت یاد آ گئی کہ ہر سوال کا جواب احسن طریقے سے دینا چائیے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 22 2017

لاہور ایک تاریخی شہر ہے اور ہم بھی وہاں اپنی تاریخ کی تلاش اور اس کو قومی نصاب میں شامل کروانے کی خاطر  عالمی شہرت یافتہ قانون دان  ڈاکٹر عبدالباسط کے ساتھ مشاورت کے لیے سوموار اٹھارہ دسمبرکو ان کے دفتر پہنچے۔ میرے ساتھ تاریخ کے پروفیسرجمیل کھٹانہ اور میرے ایک عزیز ناصر خان تھے۔ جموں کشمیر کے موجودہ حکمران کتنے عظیم اور باشندگا ن ریاست کتنے بد نصیب ہیں کہ انہیں اپنی تاریخ کی تلاش اور اسے تعلیمی اداروں میں پڑھانے کے لیے قانونی چارہ جوئی کے لیے عدالتوں کے دھکے کھانے پڑرہے ہیں۔ لیکن ہمیں کامل یقین ہے کہ  مورخ سب کے ساتھ پور پورا انصاف کرے گا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 2017

14 نومبر کو آزاد کشمیر حکومت کو نوٹس دیا گیا تھا کہ ہماری قانونی و سیاسی کو ششوں کے نتیجے میں قائم ہونے والے آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ کے قیام کو پانچ سال گزرنے کے باوجود اسے نافذ نہیں کیا گیا اور پرانی فرسودہ کتابوں پر آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ کا لیبل لگا کر تعلیمی اداروں میں پڑھائی جا رہی ہیں۔ یہ کشمیری والدین اور ان کے بچوں کے ساتھ دھوکہ ہے۔ کیونکہ ان میں جموں کشمیر کی تاریخ و ثقافت بارے کچھ بھی نہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 01 2017

ریسرچ سنٹر اینڈ سیکورٹی سٹڈیز ایک پاکستانی ماہر امتیاز گل نے 2007  میں اسلام آباد میں ایک جرمن ادارہ ہنری بوئل ستفتنگ کے تعاون سے قائم کیا تھا جس کا مقصد سیکورٹی اور گورننس تھا۔ تب سے یہ ادارہ وقتا فوقتا مختلف ماہرین کی آراء لینے کے لئے  پروگرامات منعقد کرواتا رہتا ہے ۔ حال ہی میں مسئلہ کشمیر اور اس کے حل پر بحث کے لیے ایک ورکشاپ منعقد کی گئی جس کے دو چیف سپیکر ڈاکٹر سید نذیر گیلانی اور آزاد کشمیر کے ریٹائرڈ جسٹس جناب منظور حسین گیلانی تھے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 28 2017

کسی معاشرے کی اخلاقی قدریں دیکھنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کے آسودہ حال لوگ اپنے معاشرے کے کم خوش نصیب، کمزور، بیمار،  نادار، غریب،  یتیم،  بزرگوں اور بچوں کے ساتھ کیا برتاؤ کرتے ہیں۔ ایک مہذب معاشرہ ایسے افراد کے لیے سہارا بنتا ہے جبکہ غیر مہذب معاشرہ ایسے افراد کی مدد کے بجائے ان کا استحصال کرتا ہے۔ ہم سب اگر اپنے انفرادی و اجتماعی رویوں پر غور کریں تو ہمیں باآسانی معلوم ہو جائے گا کہ  ہم کتنے مہذب ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 2017

ضلع میرپور کو متحدہ جموں کشمیر میں بھی ایک منفرد مقام حاصل تھا۔ مہاراجہ کے دور میں موجودہ پورا میرپور ڈویژن ایک ضلع تھا۔ جموں کشمیر کی جبری تقسیم کے پندرہ سال بعد ایوبی دورہ حکومت میں ڈیم کی تعمیر کے لیے لوگوں کو یہاں سے زبردستی بے دخل کرنے کی کوشش کی گئی تو اس وقت میرے ماموں راجہ سید اﷲ خان وہاں پولیس انسپکٹر تھے، جنہوں نے آنکھیں بند کرکے حکومت کے حکم پر عمل کرنے کے بجائے لوگوں کے حقوق کے حوالے سے ان سے گفت و شنید کا مشورہ دیا۔  پھر حکومت نے راجہ سیدا ﷲ خان کو ہی ڈیم کے اشو پر ہمارے ایک اور رشتہ دار جنرل سروپ خان کے والد میجر غلام عباس کو قائل کرنے کی ذمہ داری سونپی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 2017

سائنس اور سیاست پندرہ سال تک برطانوی پارلیمنٹ کا رکن رہنے والے ڈاکٹر برائن ایڈن کی آٹو بائیو گرافی ہے۔ ڈاکٹر برائن ایڈن کے ساتھ میرا رابطہ اس وقت ہوا جب برطانیہ میں میری ماورائے عدالت سزا کے خلاف سیاسی و قانونی مہم شروع ہوئی۔ یہ سن نوے کی دہائی کے وسط کی بات ہے جب برطانوی وزیر داخلہ نے یہ انوکھا اعلان کیا کہ میری اور میرے ساتھی ریاض ملک کی سزا کا تعین جج نہیں بلکہ وہ بحثیت وزیر داخلہ کرے گا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 18 2017

تقسیم ہند سے قبل جموں کشمیر کی عوامی تحریک اور جنوبی افریقہ میں سیاہ فام عوام کی تحریک میں کافی مماثلت پائی جاتی تھی۔ جموں کشمیر کے عوام کی اکثریت مسلمانوں کی تھی لیکن حکمران خاندان غیر مسلم تھا جس نے بیس فی صد غیر مسلموں کواسی فی صد مسلمانوں پر مسلط کر رکھا تھا۔ لہذا مہاراجہ کی شخصی حکومت کے خلاف مسلمان اکثریت کی اپنے بنیادی انسانی و جمہوری حقوق کے لیے جد و جہد سو فی صد جائز تھی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 2017

ایک مقبول حدیث کے مطابق مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کر دینی چائیے۔ نبی کریم نے کسی شخص سے مفت کام کروانے کے عمل کو سخت ناپسند فرمایا اور غلاموں کی آزادی کو صرف پسند نہیں کیا بلکہ ان کی کوششوں سے کئی غلام آزاد ہوئے۔ سب سے بڑی مثال مشہور صحابی حضرت بلال حبشی کی ہے جنہیں حضرت ابو بکر صدیق نے پیسے دے کر آزاد کروایا ۔ حضرت عثمان غنی نے بھی نبی کریم کی ہدایت پر متعدد غلاموں کو آزاد کروایا۔ لیکن سعودی حکمرانوں نے آج بھی اپنے ملک کے اندر غریب ممالک سے آنے والے مزدوروں کو غلام بنا کر رکھا ہوا ہے۔

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...