مباحث (198)

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

میڈیا پر شائع ہونے والی معلومات کے مطابق گزشتہ تین سالوں میں280ارب روپے سے زائد کے قرضے معاف کیے گئے۔ 30سالوں میں سینکڑوں نجی کمپنیوں نے قرضے معاف کر وائے جنکی تعداد400کے لگ بھگ ہے۔ ان میں سے سب سے زیادہ قرضے 2015میں مسلم لیگ نون کی حکومت کے دوران معاف کئے گئے۔ 2013میں چھ ارب روپے، 2014میں 5 ارب روپے اور2015میں پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ مالیت کے280ارب روپے کے قرضے معاف کئے گئے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

کسی اہم مسئلے کا حل تلاش کرنے کی بجائے اسے دبا دینا آسان ہوتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ آسان اس پر کمیشن بٹھا دو۔ یقین نہ آئے تو گزشتہ 70برسوں میں قائم ہونے والے تحقیقاتی اور اصلاحی کمشینوں کا حال دیکھ لیں۔ بیشتر کی رپورٹیں قومی مفادات کے نام پر بھی سرد خانے میں محفوظ ہیں۔ 1972میں حمود الرحمن کمیشن نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے ذمہ داروں کا تعین کیا تھا۔ بھارتی جریدے انڈیا ٹو ڈے نے 2000میں کمیشن کی رپورٹ شائع کر دی مگر حکومت پاکستان نے اس لیک رپورٹ کو آج تک نہیں مانا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 2017

روس میں سوشلسٹ انقلاب آئے ہوئے سو سال گزر چکے ہیں۔ اس صدی کے دوران سویت یونین دنیا کی سپر پاور بنا پھر اس کا پورا نظام اسلحہ سازی کی دوڑ اور پولٹ بیورو کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے اپنے بوجھ تلے منتشر ہو گیا جس میں اہم فیکٹر سویت یونین کی افغانستان میں آمد اور اس کے خلاف عالمی سرمایہ دار ممالک نے عرب اتحادیوں کے ساتھ سرمایہ پول کرکے جہادیوں کی مدد سے اس کو افغانستان سے نکلنے پر مجبور کیا۔ دوسرے کمیونسٹ پارٹی پر اجارہ داریوں نے سویت یونین کو نظریاتی اہداف سے دور کر دیا۔ روس کی معیشت اب سکڑ کر شائد اٹلی کے برابر ہو گئی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 2017

پاکستان کے سیاسی، معاشی اور ثقافتی منظر نامے میں عجیب سی کیفیات دیکھائی دے رہی ہیں۔ حکمران طبقات کی لڑائی میں فوج اور عدلیہ کے کردارپر تنقیدکی جا رہی ہے۔ پاکستان کا موجودہ سیاسی بحران دراصل نیو ورلڈ آرڈر اور سسٹم کی کمزوریوں کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان کے حکمران طبقات کے درمیان اتنا شدید تصادم ستر سالہ تاریخ میں پہلے نہیں آیا۔ بحران اتنا شدید ہو چکا ہے جس سے عوام ہیجانی صورتحال سے دو چار ہیں۔ حکمران طبقات کی روایتی جماعت مسلم لیگ جو دراصل انہی اداروں کی پروان کردہ ہے، میاں محمد نواز شریف کی  نااہلی کی وجہ سے ریاستی اداروں کے خلاف شدید تنقید اور محاذ آرائی میں مصروف ہیں۔ جب کہ اس جماعت کے اندر اراکین اس محاذ آرائی کے خلاف ہیں۔  وہ درمیانی اور مصالحتی رویہ اختیار کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ تاکہ پارٹی کسی ممکنہ انتشار سے دو چار نہ ہو۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 2017

گزشتہ دنوں برطانیہ کے معتبر تعلیمی ادارے لندن اسکول آف اکنامکس میں ایشین ڈیولپمنٹ سو سائٹی کے زیر اہتمام پاکستان میں در پیش مختلف نوعیت کے ایشوز جس میں جمہوریت ، معیشت اور خارجہ پالیسی نمایا ں ہیں ان کے حوالے سے اپنے خیالات کے اظہار کیلئے پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور سنیٹر شیری رحمان نے خارجہ پالیسی جبکہ وزیر اعظم پاکستان کے مشیر مفتاح اسماعیل نے پاکستانی معیشت ،  ریٹائرڈ جنرل عبدالقیوم اور پاکستان پیپلزپارٹی کے راہنما قمر زمان کائرہ نے سول ملٹری تعلقات کی روشنی میں پاکستان کے جمہوری اداروں کو کیسے مضبوط کیا جا سکتا ہے، کے بارے میں اظہار خیال کیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 03 2017

طبقاتی معاشرے میں انسان کو بہت سی بنیادی مشکلات در پیش ہوتی ہیں۔ ان کی زندگیاں حکمران طبقات کے سامنے کیڑے مکوڑوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آج پاکستان کی اسی فیصد آبادی صاف پانی سے محروم ہے تو دوسری طرف بیاسی فیصد کو مناسب سائنسی علاج کی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ لوگ غربت جہالت اورتواہم پرستی کی وجہ سے جاہل عاملوں ، نیم حکیموں اور سنیاسیوں سے علاج کرواتے ہیں جن میں سے بیشتر کی جان ہی چلی جاتی ہے۔ ہم اخبارات میں نام نہاد عاملوں اور پیروں کے تشدد، جادو اور منتر سے زیادہ خواتین کی ہلاکتوں کی خبریں پڑھتے رہتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 24 2017

پاکستان کے دانشور جس طرح لبرل ازم کی آڑ میں اس خطے کے رہنے والے انسانوں کے طرز زندگی، آرٹ، تاریخ اور علمی ورثے کو ایک متعصبانہ اصطلاح سے جوڑتے رہے ہیں اس کو سطحی لبرل ازم کا نام دیا جا سکتا ہے۔ پاکستانی لبرل ہمنوا بد ترین علمی گھٹن میں پھنسے ہوئے لوگ ہیں۔ ان کی پرانی نو آبادیاتی سوچ ہے۔ ان کو معلوم نہیں کہ نو آبادیاتی نظام میں جن مقاصد کے تحت محکوم اقوام کی ثقافتوں، نظریات اور سیاست کے بارے میں تضادات پیدا کئے گئے تھے، وہ اب کسی کام کے نہیں رہے ہیں۔ جبکہ پاکستان لبرلز ابھی تک انگریز منشیوں کی زبان میں بات کرنے کو جدیدت اور ترقی کا نام دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 22 2017

یورپ ، امریکہ اور جاپان میں ریاستی سیاسی اور معاشی معاملات کو چلانے کیلئے صنعتی انقلاب کے بعد صنعتی کلچر کے ذریعے اخلاقیات قائم کیں۔ ان تمام معاملات میں برطانیہ سب سے آگے تھا۔ برطانیہ میں کلاسیکل جاگیردار کی جگہ صنعتی ثقافت نے حاصل کرلی۔  یاد رہے کسی سماج کو ترقی یافتہ بنانے کیلئے جاگیر دارانہ خاندانی زنجیروں کو توڑنا اہم ہوتا ہے تاکہ قدامت اور رجعت پسندی کی پسماندگی سے نکل کر اسٹیٹ کرافٹنگ کے عمل کو مختلف انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 21 2017

اعداد میں ہیرا پھیری کے ذریعہ گمراہ کن ترقی اور غربت میں کمی کے دعوے کرنا حکمران طبقے کے دانشوروں اور گماشتوں کا وطیرہ بن گیا ہے۔ حکومت ترقی اور سرمایہ کاری سے عاری معیشت میں بڑھوتی کے دعوے کرتی اور غربت میں کمی کی نوید دیتی ہے۔ اس کی تازہ مثال وزارت منصوبہ بندی اور ترقی کی رپورٹ ہے جو گزشتہ ہفتے مسلم لیگ (ن) کے دانشور وزیر احسن اقبال نے پیش کی۔ رپورٹ میں کثیرالجہتی غربت کے انڈیکس کو دکھایا گیا جس کے مطابق 2004سے 2015کے دوران شدید غربت کی شرح 55فیصدسے گھٹ کر 39فیصد ہوگئی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 19 2017

آج کل پاکستانی وزیر خارجہ آصف کے بیان پہلے گھر کی صفائی، کے حوالے سے میڈیا اور سرمایہ دارانہ سیاست میں ہیجان خیز صورت حال برپا ہے۔ صفائی توگھر کی ہونی چاہیے مگر ہمارے علاقائی ممالک بھارت اور افغانستان کی سیاست سماجیت اور اخلاقی غلاظت نے ان کے معاشروں کو تعفن زدہ بنادیا ہے۔ بھارت جو کہ سیکولرازم کا علمبردار تھا اور ماضی میں غیر وابستہ تحریک سے منسلک رہا ہے، نے بے پناہ فوجی ظاقت حاصل کی۔ اس کے علاوہ گزشتہ دہائیوں میں  تجارتی مفادات کے لئے  حکمران طبقے نے  مذہب کو بطور خاص  استعمال کیا ہے۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...