مباحث (185)

  وقت اشاعت: 25 2017

ایک عجیب سی بے چینی ہے۔ کنفیوژن ہے۔ ابہام ہے۔ دکھ ہے۔ کرب ہے۔ محبت بھی ہے۔ نفرت بھی ہے۔ فخر بھی ہے۔ پشیمانی بھی ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ ایک طرف میجر اسحاق کا نماز جنازہ ہے۔ دوسری طرف اسحاق ڈار کی لندن سے چھٹی کی درخواست ہے۔ عجیب حسن اتفاق ہے دونوں کا نام اسحاق ہے۔ ایک نے وطن کے لیے جان دے دی ہے۔ دوسرا وطن سے بھاگ گیا ہے اور جان چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 2017

پاکستان کی سیاست ایک ایسے دوراہے پر آگئی ہے جہاں سیاستدان ہوش کھو بیٹھے ہیں۔ معاملات کو خوش اسلوبی سے نمٹانے کے بجائے ضد میں آکر پھنس گئے ہیں۔ نان ایشوز، ایشو بن گئے ہیں۔ نواز شریف اور عمران خان حقیقت پسندی سے دور ہو گئے ہیں۔ نواز شریف مقدمات کے حوالے سے حقیقت کا ادراک کر رہے ہیں نہ مریم حقیقت پسندی سے کام لے رہی ہیں۔ نہ حسن اور حسین حقیقت کا ادراک کر رہے ہیں۔ نہ اسحاق ڈار کے معاملہ پر عقلیت پسندی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی بھی ہوش کے بجائے جوش کی پالیسی ہی ثابت ہو رہی ہے۔ پتہ نہیں انہیں کس نے مشورہ دیا ہے کہ وہ اداروں سے لڑائی میں جیت سکتے ہیں۔ کیا یہ پتہ چلنے کے بعد کہ کلثوم نواز بیمار ہو چکی ہیں انہیں حلقہ  120 سے انتخاب لڑانے کا فیصلہ سیاسی تھا یا بچگانہ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 18 2017

جب معاشرے میں چوری عام ہو۔ چور کھلے عام پھر رہے ہوں۔ ایسے میں اگر ایک چور کو پکڑ کر سزا دے بھی دی جائے تو اس سے چوری نہیں رکتی بلکہ سزا ملنے والا چور مظلوم بھی بن جاتا ہے۔ سزا چاہے جتنی بھی قانونی و جائز ہو لیکن پھر بھی وہ چور یہ باور کروانے میں کامیاب ہو جاتا ہے کہ اس اکیلے کو سزا دے کر اس کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔ وہ مظلوم ہے۔ اس طرح وہ چور نظام عدل کو نہ صرف للکارنے کی پوزیشن میں آجاتا ہے بلکہ نظام عدل کی ساکھ پر سوالیہ نشان اٹھانے پر بھی کامیاب ہو جاتا ہے۔ اسی لیے احتساب جب تک برابر اور سب کے لیے نہ ہو مکمل نہیں ہوتا اور قانون بھی جب تک سب کے لیے برابر نہ ہو مکمل نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 16 2017

کراچی میں اسٹبلشمنٹ کے کردار کے حوالہ سے ایک عجیب بحث شروع ہے۔ کوئی کمیشن بنانے کا مطالبہ کر رہا ہے کوئی اور راگ الاپ رہا ہے۔ اتنے شور میں مجھے ایسا لگا جیسے کراچی میں پی ایس پی اور ایم کیو ایم کے درمیان اتحاد کوئی ملک دشمنی تھی۔ یہ کوئی پاکستان مخالف حکمت عملی تھی۔ اس سے پاکستان کی سالمیت کو ناقابل تلافی نقصان کا خدشہ تھا۔ مجھے ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں اتنی حیران ہیں کہ جیسے یہ کام پہلی دفعہ ہوا ہو۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 14 2017

جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کے درمیان عوام کی خدمت کا مقابلہ ہو تا ہے۔ سیاسی جماعتیں عوام کو یہی یقین دلاتی ہیں کہ وہ ان کی زیادہ بہتر خدمت کر سکتی ہیں۔ مقابلہ عوامی خدمت کا ہی ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان میں سیاسی جماعتیں عوام کو اس طرف آنے ہی نہیں دیتیں۔ عوام کو ایسے مسائل میں الجھا دیا جاتا ہے جن کا براہ راست ان سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جب تک سیاسی جماعتوں میں عوامی خدمت کا مقابلہ نہیں ہوگا تب تک ملک میں جمہوریت مستحکم نہیں ہوسکتی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 2017

ملک میں جمہوریت کمزور ہے۔ اس کے مستقبل کے بارے میں خدشات موجود ہیں۔ حلقہ بندیوں کے حوالہ سے آئین سازی تعطل کا شکار ہے۔ سینیٹ انتخابات پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی جمہوریت کے تسلسل پر اتفاق رائے ہے۔ مجھے تو حیرانی ہے کہ وہ ادارے جن پر جمہوریت کو کمزور کرنے کا الزام ہے، جو جمہوریت مخالف سمجھے جاتے ہیں، وہی جمہوریت کے محافظ بن کر بیٹھے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ نظام چلنا چاہیے جب کہ جن کو نظام چلانے کی بات کرنی چاہیے وہ نظام کو لپیٹنے کی خواہش کر رہے ہیں۔ ایسے میں جمہوریت زیادہ مضبوط لگ رہی ہے کیونکہ جمہوریت مخالف جمہوریت کے محافظ بن گئے ہیں اور محافظ دشمن بنے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 24 2017

نواز شریف دوبارہ پاکستان کے طوفانی دورہ پر آرہے ہیں۔ یہ ان کی ایک باقاعدہ حکمت عملی کاحصہ ہے۔ جس کے تحت وہ چند دن کے لیے پاکستان آتے ہیں اور سیاسی درجہ حرات میں ہل چل پیدا کرتے ہیں۔ پھر واپس چلے جاتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں آنے اور جانے کا یہ سلسلہ چلتا رہے۔ نواز شریف کو یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ ان کی گرفتاری گیم پلان میں نہیں ہے۔ اس لیے وہ اس کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ اس بات کو اس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ نواز شریف نے اپنے مخالفین کو یہ بات باور کروا دی ہے کہ ان کی گرفتاری سے فائدہ نہیں نقصان ہوگا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 23 2017

ویسے تو چھوٹے پیر پگاڑ ا میں وہ بات نہیں ہے جو بڑے پیر پگاڑ ا کی تھی۔ یہ مانا جاتا تھا کہ بڑے پیر پگاڑا کی سیاسی پیشن گوئیاں درست ہوتی تھیں اور انہیں آنے والے حالات کا پہلے سے علم ہوتا تھا۔ یا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ بڑے پیر پگاڑا پاکستانی سیاست کا سکرپٹ لکھنے والوں کے ساتھ بہترین تعلقات رکھتے تھے، اس لئے ان کو پہلے سے سکرپٹ کا علم ہو تا تھا۔ تا ہم بڑے پیر پگاڑا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے چھوٹے پیر پگاڑا نے بھی پیشن گوئی کردی ہے کہ انہیں 2018 میں انتخابات نظر نہیں آرہے۔ بلکہ وہ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر خدانخواستہ  2018 میں انتخابات ہو گئے تو بہت خون خرابہ ہوگا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 19 2017

سیاست ایک بے رحم کھیل ہے۔ یہ تخت اور تختہ کا کھیل ہے۔ اس میں ہونے کو آئیں تو سو غلطیاں بھی معاف ہو جاتی ہیں اور پکڑی جائیں تو ایک غلطی بھی تخت کو تختہ میں بدل دیتی ہے۔ اس لیے یہ جوش نہیں ہوش کا کھیل ہے۔ یہ جذبات کا نہیں عقل و دانش کا کھیل ہے۔ یہ نہ سچ ہے نہ جھوٹ ۔ نہ مکمل سچ چل سکتا ہے نہ مکمل جھوٹ چل سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 17 2017

ملک میں جہاں جمہوریت کے حوالے سے سوالات خدشات موجود ہیں۔ وہاں سیاسی قیادت بھی شدید خدشات اور غیر یقینی کی صوتحال سے دو چار ہے۔ میاں نواز شریف نا اہل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اپنی نا اہلی کے بعد اپنی و اپسی کے لیے بہت کوشش کی ہے لیکن شدید کوشش کے باوجود واپسی کے راستے نہیں کھل رہے۔ وہ اپنی جماعت کے دوبارہ سربراہ تو بن گئے ہیں لیکن پھر بھی معاملات پر ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کا کنٹرول کمزور ہو تا جا رہا ہے۔ وہ اپنے آپ کو گیم میں ان رکھنے کی جتنی بھی کوشش کر رہے ہیں، اس کے منفی نتائج ہی سامنے آرہے ہیں۔

مزید پڑھیں

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...