مباحث (185)

  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

سب نظریں آصف زرداری کی طرف ہیں۔ مسلم لیگ (ن) پریشان ہے۔ انہیں انداذہ ہی نہیں تھا کہ وہ صدارت کی پیشکش بھی ٹھکرا دیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے خیال میں تو تھا کہ ان کے پاس آصف زرداری کودینے کے لئے بہت کچھ ہے وہ مانگ کر تو دیکھیں۔ اس لئے ڈیل تو ہو ہی جائے گی۔ لیکن آصف زرداری جیسا ذہین اور زیرک سیاستدان بھی پرانے گلے شکوے لے کر بیٹھ جائے گا ۔ اس کا تو خیال بھی نہیں تھا۔ آصف زرداری تو ماضی میں رہنے والا انسان نہیں ۔ وہ تو آج اورمستقبل کا خیال رکھنے والے انسان ہیں۔ لیکن وہ تو گلے شکوے لے کر بیٹھ گئے ہیں۔ تب یہ ہوا تھا اور تب وہ ہوا تھا۔ یہ پرانے حساب کتاب کی تو کسی کو امید ہی نہیں تھی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

مسلم لیگ (ن) کے اندر مفاد کی جنگ نہیں ہورہی۔ لیڈرآپس میں شراکت اقتدار پر نہیں لڑ رہے۔ وزارتوں کی بندر بانٹ پر کوئی لڑائی نہیں ہے۔ سوچ اور نظریہ کی لڑائی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی سینئر لیڈر شپ میں سوچ اور نظریہ کا اختلاف بڑھ گیا ہے۔ ایک طرف مفاہمت کی سوچ اور دوسری طرف مزاحمت کا نظریہ ہے۔ مزاحمت والے مفاہمت والوں کی بات سننے کو تیار نہیں اور مفاہمت والے مزاحمت والوں کے ساتھ ایک قدم بھی چلنے کو تیار نہیں۔ دونوں طرف سے ایک ہی بات ہے کہ بس بہت ہو گئی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 5 دن پہلے 

دنیا ایک گلوبل ویلج بن گئی ہے۔ اس سے جہاں ممالک کے درمیان سرحدوں کی اہمیت کم ہو گئی ہے، وہاں سرحدوں پرہونے والی لڑائی کی ہیئت بھی بدل گئی ہے۔ پہلے جنگیں صرف سرحدوں پر لڑی جاتی تھیں لیکن جدید میڈیا کے اس دور میں اب جنگ ہر گھر میں لڑی جاتی ہے۔ دشمن آپ کے گھر گھر اور ہر بیڈ روم تک پہنچ گیا ہے۔ ایسے میں اس کو شکست دینے کے لئے جنگی حکمت عملی کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلے جنگ لڑنا صرف فوج کا کام تھا۔ لیکن اب تو جب تک آپ کا ہر شہری آپ کے ساتھ شریک نہیں آپ دشمن سے کوئی بھی جنگ نہیں جیت سکتے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 7 دن پہلے 

جاتی عمرا کی خبریں تو یہی ہیں کہ میاں نواز شریف کسی بھی قسم کا سرنڈر کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ ایک اندازہ تو یہی تھا کہ جی ٹی روڈ یاترا کے بعد میاں نواز شریف کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ وہ بند گلی میں پھنس گئے ہیں۔ بلکہ خبریں تو یہ ہیں کہ جی ٹی روڈ مارچ کے بعد وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ جنہوں نے انہیں گھر بھیجا ہے وہ بند گلی میں پھنس گئے ہیں۔ اس لیے اب انہیں گھر بھیجنے والی قوتوں کے پاس نواز شریف کی شرائط ماننے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ نواز شریف پوری قوت سے ٹکرانے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ وہ مشاورت بھی انہیں سے کر رہے ہیں جو ان کے ہم خیال ہیں۔ جن کو ان سے اختلاف ہے، ان کو مشاورتی اجلاسوں میں بلایا بھی نہیں جا رہا۔ اسی لیے چوہدری نثار علی خان سمیت کئی بڑے نام نظر نہیں آرہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 اگست 2017

نواز شریف کی ریلی کامیاب رہی یا نہیں یہ بات قابل بحث ہے۔۔ گو کہ ریلی ابھی مکمل نہیں ہو ئی۔ اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگلے مراحل پہلے مراحل سے بھی زیادہ کامیاب ہوں  گے۔ لاہور میں تیاریاں عروج پر ہیں۔ اس لیے کامیابی کوئی بحث نہیں۔ سیاسی ریلیوں میں جب ایک خاص تعداد میں لوگ آجاتے ہیں تو وہ کامیابی یا ناکامی کی بحث سے مبرا ہو جاتی ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 اگست 2017

نواز شریف کا جی ٹی روڈ پر سفر جاری ہے۔ جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں اور جب آپ پڑھ رہے ہوں گے یقینا سفر خیر سے چل رہا ہوگا۔ بس یہی دعا ہے کہ سفر خیریت سے مکمل ہو۔ کیا یہ سفر نواز شریف کی سیاست کو نئی زندگی بخش دے گا۔ کیا پانامہ کے داغ دھل جائیں گے۔ کیا نا اہلیت کا داغ دھل جائے گا۔ یہ سوال اہم ہیں کہ آخر اس سفر کا مقصد اور اہداف کیا ہیں۔ جب تک مقصد اور اہداف سامنے نہیں ہو ں گے اس کی کامیابی اور ناکامی کا تجزیہ کرنا مشکل ہوگا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 اگست 2017

اب اس بات میں کوئی ابہام نہیں کہ میاں نواز شریف بھر پور مزاحمت کے موڈ میں ہیں۔ وہ اپنی مخالف قوتوں کے ساتھ بھرپور قوت سے ٹکرانا چاہتے ہیں ۔ جس کے نتیجے میں یا تو ان کی مخالف قوتیں پاش پاش ہو جائیں۔ یا نواز شریف کی بچی کھچی سیاست بھی ختم ہو جائے۔ وہ لڑائی کو فائنل راؤنڈ میں لانے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 01 اگست 2017

سیاست کے بدلتے منظر نامے میں ایک نئی خبر یہ ہے کہ عمران خان اب خیبر پختونخواہ کی حکومت سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ کسی نہ کسی طرح ان کی حکومت ختم کر دی جائے اور وہ شہید بن کر میدان میں آجائیں۔ اسی حکمت عملی کے تحت انہوں نے دوسری بار شیر پاؤ کی جماعت کو حکومت سے نکال دیا ہے۔ ایک دفعہ پہلے بھی انہوں نے شیر پاؤ کے وزراء پر کرپشن کا الزام لگا کر انہیں نکال دیا تھا بعد میں تمام الزامات واپس لے کر انہیں پھر شامل کر لیا تھا۔ یہ کہا جاتا تھا تب بھی عمران خان کے پی کے کی اپنی حکومت ختم کرنا چاہتے تھے۔ لیکن ناکام ہو گئے تھے اور بعد میں دوبارہ حکومت چلانے کا فیصلہ ہوا تو شیر پاؤ کو دوبارہ شامل کر لیا گیا۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 31 جولائی 2017

کیا نواز شریف کی نا اہلی سے سیاسی طوفان تھم گیا ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس فیصلہ سے طوفان بڑھ جائے گا۔ پہلے یہ طوفان یک طرفہ تھا لیکن اب جوابی حملہ بھی ہو گا۔ کہا جا سکتا ہے کہ نواز شریف کی ہتھکڑیاں اور بیڑیاں کھل گئی ہیں۔ ان کی خاموشی ٹوٹ گئی ہے۔ وہ اب آزاد انسان ہیں۔ اور پہلے زیادہ خطرناک ہوں گے۔ وہ مائنس ہو کر بھی مائنس ہو نے کے لئے تیار نہیں۔ وہ میدان سے باہر ہو کر میدان سے باہر ہونے کے لئے تیار نہیں۔ وہ آؤٹ ہو کر بھی آؤٹ نہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 جولائی 2017

آہستہ آہستہ ہوش جوش پر غالب آرہا ہے۔ اور بالا خر میاں نواز شریف نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ محاز آرائی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ ورنہ  اس سے قبل حیران کن بات یہی تھی کہ وہ سیاسی خودکشی کیوں کر رہے ہیں۔ بلا شبہ حکومت آج جس صورتحال کا شکار ہیں اس کی ساری ذمہ داری اس پر  ہی عائد ہوتی ہے۔ اس نے معاملہ کو قانونی اور سیاسی طور پر مس ہینڈل کیا ہے۔  حکومت نے  اپنے لئے باقی تمام آپشن کے دروازے بند کر لئے ہیں۔ وہ بند گلی میں ہیں۔ لیکن اس نے اس صورتحال کا خود انتخاب کیا ہے۔ ورنہ وزیراعظم کے قریبی لوگ ان کو دوسرے آپشنز کا مشورہ دیتے رہے ہیں۔ جو انہوں نے مسترد کئے۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...