مباحث (169)

  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

افغانستان  اپنے داخلی بحران کے تناظر میں ایک بڑی مشکل صورتحال سے دوچار ہے ۔ یہ ناکامی محض آج کی موجود افغان حکومت کی ہی نہیں بلکہ اس حکومت کی براہ راست سرپرستی کرنے والے امریکہ کی بھی ہے ۔ کیونکہ امریکہ نے افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے جو بھی حکمت عملی اختیار کی اس میں کامیابی کم اورناکامیاں  زیادہ رہیں۔  اول پہلے طاقت کا بھرپور استعمال کیا گیا اور دوئم بعد میں اچھے اور برے طالبان کے درمیان تمیز قائم کرکے طالبان کے ساتھ مفاہمت کا ایجنڈا بھی چلایا گیا ۔ لیکن امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ناقص حکمت عملی نے افغانستان کو اس خطہ کی سیاست میں ایک خطرناک ملک بنا دیا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ریاستی وحکومتی دہشت گردی کی بدترین مثال سانحہ ماڈل ٹاون کی صورت میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ ایک طرف دہشت گردی کی بدترین مثال اور دوسری طرف حکمران طبقہ کی جانب سے قانون کی حکمرانی کا قتل ظاہر کرتا ہے کہ ہم کس طرز کی حکمرانی کی طرف گامزن ہیں۔  اس واقعہ کے بعد حکومت اور حکومتی اداروں نے یہ تاثر دیا کہ ان کے سامنے انسانی جانوں کا بہیمانہ قتل کی کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ اور اس پر محض تاخیری حربوں نے انصاف کے عمل کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 5 دن پہلے 

کسی بھی جمہوری سیاست  اصلاحات اہم ہوتی ہیں۔  سیاسی حکومتیں جمہوری پلیٹ فارم  سے  معاشرے میں حقیقی تبدیلیوں کے لئے اقدامات کرتی ہیں۔  جمہوری معاشروں میں  بڑے انقلاب نہیں آتے ، بلکہ انقلاب کی بجائے سیاسی طبقات اصلاحات کی مدد سے آگے بڑھتے ہیں ۔  جمہوری سیاست میں  اصلاحات کا عمل کنجی کی حیثیت رکھتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہم اصلاحا ت کی سیاست کو  طاقت فراہم نہیں کرسکے ۔  اگر اصلاحات کی سیاست میں عوام اہم نہ ہوں اوراس کی جگہ افراد یا خاندان کے مفادات بن جائیں تو پھر اصلاحات کے ایجنڈے کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عوام ، ریاست، حکومت اور اس کے اداروں کے درمیان ایک بڑی خلیج پیدا بنتی جارہی ہے جو  اس ملک کے مفادات کے خلاف ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 2017

یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان ایک بحرانی کیفیت سے دوچار ہے ۔ اگرچہ بہت سے سیاسی پنڈت یا وہ سیاسی طبقہ جن کے مفادات کو کوئی نقصان نہیں ہورہا، ان کے بقول ملک درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے ۔ جب کہ اس وقت بحران یہ ہے کہ مسئلہ محض حکومت کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر معاشرے کے نظم و نسق، طرز حکمرانی میں ممزوری اور اداروں کے درمیان  بداعتمادی کی فضا موجود ہے ۔ اسی تناظر میں فوجی ترجمان کے اس بیان کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ شخصیات سے ادارے اور اداروں سے زیاد ہ اہم ریاست ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 03 2017

کوئی بھی سماج  سماجی سرمایہ کی بنیاد پر ہی آگے بڑھتا ہے ۔ آپ سماج میں جو رویے، مزاج ، طور طریقے، زبان، کلچرل، انداز وبیان، تہذیب، تمدن، تفریح، رہم سہن، تعمیرات کو فروغ دیتے ہیں وہ ہی معاشرہ کی عکاسی بھی کرتا ہے ۔ ماضی کے لوگوں سے پوچھیں تو وہ ماتم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ سماج میں جو تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اس نے پورے معاشرتی کلچر کو ہی بدل دیا ہے ۔ یہ بات سچ ہے کہ معاشرہ اور اس کا کلچر یا تمدن بڑی تیزی سے بدل رہا ہے  لیکن یہ بدلنا فطری امر ہوتا ہے ۔ مسئلہ بدلنے کا نہیں بلکہ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ جو کچھ تبدیل ہورہا ہے وہ اس سماج میں کیا مثبت یا منفی تبدیلیاں لانے کا سبب بنا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 30 2017

اسلام آباد میں 22روز تک ختم نبوت میں ترمیم کے مسئلہ پر تحریک لبیک کے دھرنے کے نتیجے میں حکومت اور علامہ رضوی کے درمیان ایک تحریری معاہدہ کے بعد دھرنا ختم ہوگیا ہے ۔ لیکن اس تحریری معاہدہ کے بعد اس کی حمایت اور مخالفت میں ایک نئی بحث مختلف سیاسی ، قانونی ، حکومتی حلقوں میں شروع ہوگئی ہے۔ عمومی طور پر جب دو فریقین میں کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو کوشش کی جاتی ہے کہ اس معاہدہ کو دونوں فریقین کے لیے قابل قبول بنایا جائے ۔ لیکن اس معاہدہ نے حکومتی ساکھ جو پہلے ہی بری طرح مجروح یا کمزور تھی اسے اور زیادہ کمزور اور تماشہ بنادیا ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وزیر داخلہ احسن اقبال کے بقول دھرنا مظاہرین سے حکومتی معاہدہ افسوسناک ہے اور اس پر فخر نہیں کیا جاسکتا، جوظاہر کرتا ہے کہ حکومت کو مظاہرین کے سامنے پسپائی اختیار کرنی پڑی ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 28 2017

پاکستان میں بدقسمتی سے اسٹیبلیشمنٹ کی سیاست کو بڑی بالادستی حاصل رہی ہے ۔ یہ بالادستی فوجی حکومتوں کے علاوہ سیاسی حکومتوں میں بھی دیکھی جاسکتی ہے ۔ آج بھی جو جمہوری سیاست چل رہی ہے، اس میں سیاسی پنڈت مجموعی طور پر اسٹیبلیشمنٹ کو ایک طاقت ور فریق کے طور پر دیکھتے ہیں ۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف  اپنے خلاف ہونے والے تمام فیصلوں کوقانون کی نظر سے دیکھنے کی بجائے سول اور فوجی بیورورکریسی پر مبنی اسٹیبلیشمنٹ کے کھیل کے ساتھ جوڑتے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اسٹیبلیشمنٹ کے پس پردہ کھیل نے اس ملک میں جمہوری عمل کو مضبوط بنانے کی بجائے مفاداتی سیاست کو تقویت دی ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج بھی جمہوریت اپنے ارتقائی عمل سے گزر رہی ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 26 2017

دنیا میں پارلیمانی جمہوریت بنیادی طور پر اپنی ساکھ اور صلاحیت کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے ۔ یہ ساکھ کی اہم کنجی اصولی معیارات اور سنجیدہ طرز فکر پر مبنی سیاسی  فیصلوں سے پرکھی جاتی ہے ۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہماری سیاست اور جمہوریت سے وابستہ فریقین جمہوریت اور پارلیمانی روایات  یا پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دیتے ۔ ہمارے جیسے ملکوں میں سیاسی فریقین پارلیمنٹ کو  اپنے مخصوص  مفاد کو سامنے رکھ کر بطور ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ پارلیمانی اور جمہوری سیاست کا فہم اور ادراک رکھنے والے اس بات کی گواہی دیں گے کہ ہم ابھی مجموعی طور پر پارلیمانی اور جمہوری سیاست سے بہت دور کھڑے ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 23 2017

حقیقی تعلیم ترقی کی کنجی ہے ۔ قومو ں نے تعلیم کی بنیاد پر ہی  سیاسی ، سماجی اور معاشی میدان اور سائنس و ٹیکنالوجی کے عمل میں ترقی کی۔ تعلیم کا دعویٰ کرنا آسان ہوتا ہے ، جبکہ تعلیم کے حقیقی عوامل کو پورا کرنا مشکل کام ہے۔  اس کے لئے ایک مضبوط سیاسی کمٹمنٹ درکار ہوتی ہے۔ وہیں تعلیم سے متعلق فہم ، ادراک اور تدبر سمیت دنیا میں ہونے والی تعلیمی تجربات سے مکمل استفادہ بھی حاصل کرنا ہوتا ہے ۔ جبکہ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دنیا میں ہونے والی تعلیمی ترقی کے مقابلے میں ماضی کی روایات اور روائتی طور طریقوں میں گھرے نظر آتے ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 19 2017

پاکستان کی سیاسی اورجمہوری سیاست میں انتخابات اور جمہوری تسلسل کا مسئلہ ہمیشہ سے بگاڑ کا شکار رہا ہے ۔ جمہوریت اور فوجی حکمرانی کے درمیان جاری بحران نے ہمیشہ مسائل پیدا کئے ہیں۔  یہ ہی وجہ ہے کہ سیاسی اور فوجی حکومتوں کے درمیان  آنکھ مچولی کا کھیل دیکھنے کو ملتا رہتا ہے ۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کے سیاسی منظر نامہ میں جو بحرانی کیفیت غالب ہے اس کا ایک حل نئے انتخابات کی طرف فوری پیش قدمی ہے ۔ اگرچہ فوری نئے انتخابات کا نعرہ محض پاکستان تحریک انصاف اورعمران خان نے لگایا ہے اور اس نعرہ کو دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے  پزیرائی نہیں ملی ۔ لیکن اس کے باوجود کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اب مسئلہ کا حل نئے انتخابات ہی ہیں۔

مزید پڑھیں

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...