مباحث (169)

  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ماضی کے مقابلے میں بلوچستان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے ۔ اس کا اعتراف وہی لوگ کرسکتے ہیں جو عملی طور پر بلوچستان کے داخلی مسائل اور اس کے حل کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کا فہم رکھتے ہیں ۔ بلوچستان میں بہتری کوئی آسان عمل نہیں بلکہ ایک مشکل چیلنج تھا ۔ کیونکہ ایک طرف بلوچستان کی صورتحال کے بگاڑ میں داخلی مسائل تھے تو خارجی مسائل و  بیرونی مداخلت نے بھی صورتحال کو گھمبیر کردیا تھا ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

اس برس پاکستان کا یوم آزادی بڑی شان و شوکت سے منایا گیا اور اس میں سیاسی ، فوجی قیادت کے علاوہ ہر طبقہ فکر کے لوگوں نے  پاکستان سے اپنی یکجہتی کا اظہار کیا ۔ یوم آزادی سے  محبت کا اظہار ہر پاکستانی کا حق ہے۔ کیونکہ غلامی کے مقابلے میں آزادی ایک نعمت سے کم نہیں ۔ آزادی کا احساس اسی کو ہوسکتا ہے جو آزادی کے مقابلے میں غلامی کے شکنجے میں جکڑا ہوا  ہو۔ اس لیے اپنی آزادی کے دن کو منانا ہمارا حق بھی ہے  اور فرض بھی۔  بالخصوص ہماری نئی نسل کو سمجھنا ہوگا کہ آزادی کیوں ضروری تھی اوراس کو کیسے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ معاشی بدحالی سے نمٹنا اور  کر ملک کو  ترقی اور خوشحالی کے راستے پر ڈالنا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے  ریاست ، حکومت اور ادارہ جاتی سطح پر موجود ترجیحات کا جائزہ لیں تو اس میں  سیاسی اور معاشی نعرے تو نظر آتے ہیں مگر عملی صورتحال کافی بگاڑ کا شکار ہے ۔  حکومت اور اس کے  ماہرین  معاشی صورتحال کے اعداد وشما ر کو ترقی کے تناظر میں پیش کرتے ہیں ۔ مگر حقائق حکومتی دعوؤں کے برعکس ہیں اور یہ صورتحال  حکمرانوں  اور عوام  کے درمیان بداعتمادی پیدا کرتی ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 14 اگست 2017

پاکستان کی سیاست عمومی طور پر تضادات اور فکری مغالطوں پر استوار ہے ۔ ایک فکر اقتدار میں شامل لوگوں کی ہوتی ہے اور دوسری فکر ہمیں حزب اختلاف کی صورت میں نظر آتی ہے ۔ اقتدار اور حزب اختلاف کا سیاسی ایجنڈا ایک دوسرے سے متصادم ہوتا ہے ۔ اقتدار کے کھیل میں قومی معاملات، مفادات سے زیادہ اپنے ذاتی مفادات پر مبنی اقتدار کی سیاست کو مضبوط بنایا جاتا ہے۔ جبکہ حزب اختلاف  سیاسی انقلابی نعرے اور خوشنما باتوں  کے ساتھ  عوام کا دل لبھاتی ہے۔  تضادات پرمبنی سیاست میں سب سے زیادہ استحصال عام اور کمزور آدمی  کا ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 اگست 2017

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی ان کے لیے ، جماعت کے لیے اور ان کے حامی دانشوروں کے لیے بھی کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہے۔  یہی وجہ ہے کہ اس نااہلی کو قبول نہیں کیا گیا ۔  نااہلی سے قبل بھی نواز شریف نے  جماعت اور سربراہ حکومت کے طو ر پر عدالتی عمل اور جے آئی ٹی کو شک کی نگاہ سے دیکھا تھا۔ بالخصوص جے آئی ٹی کے ارکان اور ان کی جانب سے جمع کروائی گئی حتمی رپورٹ کو نہ صرف تنقید کا نشانہ بنایا گیا  بلکہ اس رپورٹ کے نتائج کو ہی قبول نہیں کیا گیا ۔ لیکن سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ مقدمہ میں نااہلی کو نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ دلیل یہ دی جارہی ہے کہ اس مقدمہ کو قانونی معاملات سے زیادہ سیاسی تعصب کی بنیاد پر نمٹا گیا ، جو انصاف کے تقاضوں کے برعکس ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 03 اگست 2017

میاں نواز شریف کی نااہلی سپریم کورٹ کے بنچ کا متفقہ فیصلہ ہے ۔ لیکن اس مسئلہ کو نواز شریف کے حامی، ان کی جماعت، قانونی ماہرین اور سیاسی دانشورمتنازعہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ پانامہ مقدمہ کے آغاز سے ہی  یہ کوشش کی گئی تھی کہ اس قانونی مسئلہ کو سیاسی نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف انتقامی مسئلہ سمجھ کررائے عامہ کو ہموار کیا جائے۔ اور یہ بتایا جائے کہ  ان کی نااہلی، کرپشن اور بدعنوانی پر نہیں بلکہ ایک ملکی اور بین الااقوامی سازش کی وجہ سے ہوئی ہے اور  اس کھیل کا ایک مہرہ عمران خان بھی ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 01 اگست 2017

یہ مزاج ہر سطح پر غالب ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کی بجائے اس کا ملبہ دوسروں پر ڈال کر خود کو بری الزمہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ منطق یہ دی جاتی ہے کہ ہم قصور وار نہیں بلکہ ہمارے خلاف سازش ہوئی ہے ۔ یہی کچھ صورتحال ہمیں سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد دیکھنے کو ملی ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 27 جولائی 2017

اگرچہ پاکستان میں ادارہ سازی کے بحران کے حوالے سے کافی حد تک اتفاق پایا جاتا تھا ، لیکن یہ بحث میڈیا اور فکری مجالس میں ہی  سنی جاتی رہی ہیں ۔ لیکن پانامہ کے مقدمہ میں اداروں کے بحران کا سوال عدالت میں بھی اٹھائے گئے ہیں۔  پانامہ مقدمہ میں  ریاستی اداروں کی خود مختاری ، شفافیت اور ان کی آزادی پر بنیادی نوعیت کے سوالات اٹھائے گئے ہیں ۔ اگر ہمارے ریاستی ادارے اسی انداز میں کام کررہے ہیں تو ہم اس ملک میں اپنے قومی اداروں کو کیسے شفاف اور فعال بناسکتے ہیں ۔ پانامہ مقدمہ سے قبل بھی کئی بار چیف جسٹس اور دیگر جج  اداروں کی بربادی کا ماتم کرتے رہےہیں ۔  پانامہ کا فیصلہ کسی کے حق اور مخالفت میں آئے ، اہم معاملہ یہ ہے کہ اس  سے کیا  قومی اداروں میں شفافیت کی طرف پیش قدمی ہو سکے گی۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 24 جولائی 2017

پاکستانی معاشرے میں  جمہوریت کو تقویت دینے کے حوالے سے  پرجوش اور فکری مباحث دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ یہ رجحان صحت مند معاشرے کی عکاسی کرتا ہے ۔ جو معاشرہ فکری مباحث کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے، وہی ترقی کرتا ہے۔  لیکن المیہ ہے کہ یہاں فکری مباحث میں بلاوجہ  سیاسی مغالطے اور سیاسی بنیا د پر الجھنوں کو شعوری یا لاشعوری طور پر پیدا کرکے مثبت تبدیلیوں کا راستہ روکا جاتا ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہاں اب فکری ، سیاسی اور پسند و ناپسند کی بنیاد پر  تقسیم گہری ہوتی جارہی ہے ۔ لوگ اپنی اپنی باتوں کی دلیل بھی رکھتے ہیں اور اس میں شدت بھی ، لیکن  اس میں ہمیں عقل ودانش سے زیادہ جذباتیت کا عنصر زیادہ نمایاں نظر آتا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 جولائی 2017

مسلم لیگ (ن) اور اس کے قائد نواز شریف  بڑی مشکل صورتحال سے دوچار ہیں ۔ اگرچہ ماضی میں بھی ان کو کئی بڑے بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن موجودہ بحران ماضی کے بحران کے مقابلے میں بہت بڑا ہے ۔ ماضی میں وہ سیاسی مسائل میں الجھ کر اداروں سے ٹکراؤ کا شکار رہے ہیں ۔ وہ اس لڑائی کو عمومی طور پر جمہوریت اور سول حکومت کی بالادستی کے نعرے کے طور پر استعمال کرتے تھے ۔  وہ اس حالیہ بحران کو بھی اسی موضوع سے جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ لیکن اس بار مسئلہ اتنا سادہ نہیں ۔ کیونکہ اس دفعہ ان کی اور ان کے خاندان کی ذاتی مالی ، سیاسی اور اخلاقی ساکھ پر بنیادی نوعیت کے سوالات اٹھے ہیں ۔ یہ سوالات محض ان کے سیاسی مخالفین تک ہی محدود نہیں بلکہ ملک کی اہم عدالت اور اس کے حکم پر بننے والی جے آئی ٹی نے بھی  تفتیشی عمل میں اٹھائے ہیں۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...