معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

مباحث (169)

  وقت اشاعت: 02 اپریل 2018

پاکستان کی ریاست، حکومت معاشرہ انتہا پسندی سے نمٹنے اور ایک پرامن ، منصفانہ ، رواداری پر مبنی معاشرے کے لیے نئے بیانیہ کی تلاش میں سرگرداں ہے ۔  جو جنگیں علمی اور فکری مباحث کے نتیجے میں آگے بڑھتی ہیں وہی نئے بیانیہ کی تلاش میں کوئی مثبت اور پائدار حل تلاش کرنے میں کامیاب بھی ہوتی ہیں۔ انتہا پسندی جیسے مرض کا مقابلہ محض انتظامی بنیادوں پر ممکن نہیں ہوتا۔ یہ عمل وقتی طور پر تو کچھ نتائج بہتری کی صورت میں دیتا ہے مگر مستقل بنیادوں پر اس کا علاج ممکن نہیں ہوتا۔ مستقل علاج معاشرے کے مجموعی مزاج میں میں تبدیلی سے ہی ممکن ہے۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 01 اپریل 2018

پاکستان میں اعلی تعلیم کے معیار کو موثر ، شفاف اور عالمی معیار کے مطابق بنانا ایک بڑا چیلنج ہے ۔ کیونکہ اس وقت عالمی درجہ بندی میں ہماری اعلی تعلیم کے معیارات پر کئی سوالیہ نشان ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پرائمری تعلیم سمیت اعلی تعلیم کی ساکھ پر بھی ماہرین تعلیم اور اہل دانش سنگین نوعیت کے سوالات اٹھاتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری ہر طرح کی تعلیم عملی طور پر ریاستی و حکومتی ترجیحات میں محض لفظوں ، تقریروں اور بیان بازی تک محدود ہے ۔ عملی طور پر تعلیم کے حوالے سے ہمارے عمل اور عملدرآمدی نظام نہ تو موثر ہیں اور نہ ہی شفافیت کے زمرے میں آتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 مارچ 2018

پاکستان کی سیاسی و جمہوری کہانی بڑی عجیب اور تضادات پر مبنی ہے ۔ ہر سول اور فوجی دور میں نئے نئے تجربات کے ساتھ نظام کی اصلاح کم اور بگاڑ زیادہ ہؤا ہے ۔ نئے قوانین یا پالیسیاں بنانے کے پیچھے اصل مقصد اپنے حکمرانی کے نظام کو منصفانہ اور شفاف بنانا ہوتا ہے ۔  جب بھی کوئی پالیسی یا قانون سازی کی جاتی ہے تو اس میں سب سے اہم فریق لوگ ہوتے ہیں ۔ کیونکہ ہر پالیسی یا قانون سازی عام اور بالخصوص محروم طبقات کے مفادات کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہے۔ اسی سے  ساکھ بنتی ہے ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں عوامی مفادات کو پس پشت ڈال کر ہم نئے تجربات کرکے ایک مخصوص گروپ کے مفادات کو تقویت دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 26 مارچ 2018

پاکستان میں سیاست کا جائزہ لیا جائے تو اس میں تضادات کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے ۔ تضادات پر مبنی سیاست کا عمل محض سیاسی جماعتوں تک ہی محدود نہیں بلکہ اس میں مذہبی سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں ۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سیاسی جماعتیں بشمول مذہبی سیاسی جماعتو ں کے سامنے اصول، نظریات، سوچ، فکر اور اخلاص کے مقابلے میں مفادات اور اقتدار کی سیاست کا غلبہ ہوگیا ہے۔ فرق یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں جمہوریت کے نام پر اور مذہبی سیاسی جماعتیں اسلام کے نام پر اسے بطور ہتھیار استعمال کرکے لوگوں کو گمرا ہ کرتی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جمہوری سیاسی جماعتوں کے ساتھ  مذہبی سیاست نے  کی  ساکھ بھی مجروح ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 25 مارچ 2018

ہماری درس گاہوں یا دانش گاہوں میں فکری اور علمی بنیادوں پر امن ، سماجی ہم آہنگی، رواداری اور قومی یکجہتی کی بنیاد پر بچوں اوربچیوں میں ایک نئے بیانیہ کی بحث کو آگے بڑھایا جائے  تو اس کے مستقبل پر دوررس مثبت نتائج مرتب ہوں گے ۔ کیونکہ نئی نسل میں عدم برداشت اور ایک دوسرے کے خیالات میں مختلف سوچ اور فکر کے باوجو د مل کر آگے نہ بڑھنے کی جو روش سماج میں طاقت پکڑ رہی ہے، وہ ایک بڑے خطرے کی نشاندہی کرتی ہے جو اہل دانش اور دیگر طبقات کو غور وفکر کی دعوت بھی دیتی ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 23 مارچ 2018

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں  سردمہری یا بداعتمادی  دونوں ملکوں کو تعلقات کی بہتری کی طرف بڑھنے سے روکتی ہے ۔ حالیہ کچھ عرصہ میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں ماضی کے مقابلے میں اور زیادہ خرابیوں نے جنم لیا ہے ۔ دونوں ممالک میں جو طبقات تعلقات میں بہتری کے خواہش مند ہیں، وہ صورتحال سے کافی مایوس اور نالاں نظر آتے ہیں ۔ بھارت میں نریندر مودی کی حکومت نے معاملات میں اور زیادہ شدت  پیدا کرکے آگے بڑھنے کے امکانات کو محدود کردیا ہے ۔ بنیادی مسئلہ مکالمہ یا مذاکرات  میں ڈیڈ لاک کا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ عمل کسی بھی صورت میں مناسب حکمت عملی کی نشاندہی نہیں کرتا ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 مارچ 2018

مسلم لیگ(ن) کی قیادت اور بالخصوص سابق وزیر اعظم اور تاحیات پارٹی کے قائد نواز شریف نے 2018کے انتخابات کے تناظر میں جو بنیادی انتخابی منشور کا نکتہ پیش کیا ہے، وہ ’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ ہوگا۔ نواز شریف یقینی طور پر اپنی نااہلی کے بعد سیاسی طور پر بہت رنجیدہ ہیں ۔ ان کے بقول ایک خاص سازش کے تحت پس پردہ قوتوں نے  ان کو سیاسی طور پر بے دخل کیا ہے ۔ نواز شریف نے اپنی نااہلی کے فیصلے کو قبول کرکے گھر بیٹھنے کی بجائے خود باہر نکل کر سیاسی میدان میں جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ نواز شریف کے پاس یہ ہی واحد آپشن تھا وگرنہ دوسری صورت میں ان کی سیاست کا خاتمہ ہوجاتا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 18 مارچ 2018

سابق وزیر اعظم نواز شریف  نااہلی کے باوجود ہر صورت میں پارٹی کی قیادت اپنے کنٹرول میں ہی رکھ کر سیاسی گرفت کو مضبوط رکھنا چاہتے تھے ۔ اس فیصلہ پر عملدرآمد کے لیے انہوں نے قانونی راستہ بھی اختیار کیا اور ان کی نااہلی کے باوجود پارٹی نے ان کو اپنا صدر منتخب کیا۔ لیکن عدالتی فیصلہ کے تحت ان کو پارٹی صدارت کی قربانی دینے کی کڑوی گولی ہضم کرنا پڑی ۔ کیونکہ نواز شریف کو اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ اگر وہ پارٹی صدر نہیں رہتے تو بہت جلد پارٹی پر ان کی سیاسی گرفت بھی کمزور ہوجائے گی ۔ نواز شریف کے بقول اسٹیبلیشمنٹ بھی یہ ہی چاہتی ہے کہ نواز شریف کو دیوار سے لگا کر ان کی جگہ کسی اور کو متبادل کے طور پر سامنے لایا جائے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 مارچ 2018

ایک عمومی تجزیہ یہ ہی تھا کہ مسلم لیگ (ن) اور ان کی اتحادی جماعتیں آسانی سے چیرمین سینٹ اور ڈپٹی چیرمین سینٹ کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے اپنی پہلے سے موجود سیاسی بالادستی کو اور زیادہ مضبوطی میں بدل دیں گی۔ مسلم لیگ (ن) کا خیال یہ تھا کہ اگر وہ سینٹ کے چیرمین اور ڈپٹی چیرمین کے انتخاب میں اپنی برتری قائم کرتے ہیں تو اس کا براہ راست سیاسی فائدہ ان کو اور ان کی جماعت کو عام انتخابات کی سیاست میں ہوگا ۔نواز شریف کا خیال تھا کہ وہ سینٹ میں بالادستی حاصل کرکے اپنے ووٹروں، حامیوں، ارکان اسمبلیوں، سیاسی مخالفین اور بالخصوص اسٹیبلیشمنٹ کو یہ پیغام دینے میں کامیاب ہوجائیں گے ، وہ ہی اصل سیاسی طاقت ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 مارچ 2018

پاکستان میں جمہوریت ابھی بھی اپنے ارتقائی عمل سے گزررہی ہے ۔  کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کا تسلسل ، تجربہ اور مستقل مزاجی اس میں موجود خرابیوں کو دور کرنے کا سبب بنتی ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم جمہوریت سے جڑے ہوئے بھی ہیں اور جمہوری تسلسل کے حامی بھی ہیں۔ کیونکہ جمہوری عمل اصلاحات کی مدد سے آگے بڑھتا ہے اور یہ ہی عمل کسی بھی معاشرے میں جمہوری ماحول اور فیصلہ سازی کے عمل کو مضبوط بناتا ہے ۔ لیکن یہ بنیادی نوعیت کا سوال ہمارے جیسے معاشروں میں ہمیشہ سے بحث طلب رہا ہے کہ کونسی جمہوریت اوراس کے خدوخال کیا ہوں ۔

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...