مباحث (168)

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

پاکستان میں انسانی حقوق کی توانا آواز اور ریاست کے مقتدر اور طاقتور ستونوں کو بے خوفی سے چیلنج کرنے والی عاصمہ جہانگیر بھی اتوار11 فروری کو اُس انجانی دنیا میں چلی گئیں جہاں سے کبھی کوئی لوٹ کر نہیں آیا۔ وہ بغاوت، جرأت اور بے خوف جدوجہد کا استعارہ تھیں۔ یہ تینوں صفات انہیں تیسری نسل میں منتقل ہوئی تھیں۔ انہوں نے نہ صرف اپنے پرکھوں کی ان صفات کی بے جگری کے ساتھ حفاظت کی، بلکہ کسی حد تک یہ ’’جراثیم‘‘ نئی نسل میں منتقل کرنے میں بھی کامیاب رہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 فروری 2018

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دوٹوک انداز میں کہہ دیا ہے کہ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ابھی تک باضابطہ طور پر مستقبل کے وزیراعظم کے لیے کوئی نام فائنل نہیں کیا۔ شہبازشریف کا نام پارٹی کے سربراہ نوازشریف نے ایک میڈیا ٹاک میں ضرور لیا ہے لیکن پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی یا سینٹرل ورکنگ کمیٹی نے اس طرح کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ انتخابات کے بعد اگر پارٹی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوئی تو پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور سینٹرل ورکنگ کمیٹی اس معاملے پر غور کرے گی اور کوئی مناسب نام دے گی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 01 فروری 2018

اپنے لندن والے الطاف بھائی سے بہت پہلے پنجاب بلکہ پورے پاکستان میں ’’بھائی‘‘ کے نام سے مشہور ہونے والے منو بھائی بھی راہئ ملکِ عدم ہوگئے۔ اُن کی یہ حسرت اُن کے ساتھ ہی قبر میں اتر گئی کہ کوئی انہیں بیٹا،بابا، چاچا، ماما، تایا، دادا یا نانا بھی کہہ لیتا۔ ان کے قریبی دوستوں کے مطابق ان کی اہلیہ بھی جلدی یا غصے میں انہیں منو بھائی کہہ کر ہی پکارلیتی تھیں۔ وہ ایک بھرپور زندگی گزار کر اپنے رب کے حضور پیش ہورہے تھے۔ انہوں نے ادب، صحافت، تعلقاتِ عامہ، ایڈورٹائزنگ، تراجم، شوبز، ٹریڈ یونین اور خدمتِ خلق میں دیر تک یاد رکھا جانے والا کام کیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 جنوری 2018

’’فاشسٹ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو کوہالہ کے پل پر پھانسی دیں گے‘‘۔ اس جرأت مندانہ نعرے سے شہرت پانے والے ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغر خان بھی 5 جنوری 2018 کو راہی ملکِ عدم ہوگئے۔ موت کے وقت ان کی عمر 97 سال تھی، اور ان کی 98 ویں سالگرہ میں صرف 12 دن باقی تھے جب انہوں نے راولپنڈی کے فوجی اسپتال میں زندگی کی آخری سانسیں پوری کیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 21 2017

کمپیوٹر کی ایجاد کے بعد یورپ اور امریکہ میں توکتب بینی کی شرح میں کوئی خاص کمی نہیں آئی البتہ پاکستان جہاں پہلے ہی یہ شرح قابل رشک نہیں تھی، مزید گر گئی ہے۔ بزرگ نسل، اساتذہ اور علم و ادب سے وابستہ طبقے کو شکایت ہے کہ ہماری نئی نسل کتاب سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ جبکہ نئی نسل کا کہنا ہے کہ نہ ایسی کتابیں لکھی جا رہی ہیں اور نہ ایسا ادب تخلیق ہو رہا ہے جسے ترجیحی طور پر پڑھا جا سکے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 2017

چودہ انسانی جانوں کے خون میں نہائے ہوئے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جسٹس نجفی رپورٹ منظرعام پر آگئی ہے، جس کے بعد ملکی سیاست خصوصاً پنجاب کی سیاست میں ایک نیا بھونچال آگیا ہے۔ 16،17 جون 2014 کو پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹریٹ پر پنجاب پولیس کے دھاوے اور آپریشن کے نتیجے میں 14 بے گناہ افراد مارے گئے تھے، جس پر عوامی تحریک اور حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کی جانب سے مسلسل احتجاج کیا جاتا رہا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 30 2017

آخرکار 22 دن کے دھرنے،6 معصوم شہریوں کی ہلاکت، عدالت کی لعن طعن، کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری اور لاکھوں شہریوں کے سفری مشکلات سے دوچار ہونے کے بعد وہی ہوا جو دھرنے کے پہلے دن کیا جاسکتا تھا، بلکہ دھرنا شروع ہونے سے قبل ہی کردیا جاتا تو شاید دھرنا ہی نہ ہوتا۔ لیکن حکومت شاید اپنی رٹ ثابت کرنے پر تلی ہوئی تھی۔ وہ حکومتی رٹ جو ملک کے کسی چھوٹے سے چھوٹے ادارے، کسی چوک اور کسی گلی محلے میں بھی نہیں نظر آرہی تھی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 24 2017

پاکستان میں صحت اور تعلیم کے شعبوں کو سب سے زیادہ نظرانداز کیے جانے والے شعبے سمجھا جاتا ہے، اور یہ بات زیادہ غلط بھی نہیں ہے۔ ملک کے چاروں صوبوں میں صحت کی ابتر صورتِ حال ہر روز میڈیا کے ذریعے قوم کے سامنے آتی رہتی ہے۔ البتہ تعلیم کی زبوں حالی کا اتنا تذکرہ نہیں ہوتا کہ اس میدان میں سیٹھوں کی سرمایہ کاری بہت زیادہ ہوچکی ہے۔ تاہم چند سال بعد یہ تباہی ایسے دھماکے کی صورت میں سامنے آئے گی کہ سب سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 16 2017

قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اور پارلیمانی امور پر ایک دانشور کی حیثیت رکھنے والے سینئر سیاست دان سید فخر امام اس بات پر کڑھ رہے تھے کہ پاکستان اور اس کے عوام کے اصل مسائل کی طرف کسی کی توجہ نہیں، سیاست دان سطحی معاملات میں الجھے ہوئے ہیں، اداروں کے درمیان کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ زیادہ اختیارات کے حصول کے لیے مقابلہ ہورہا ہے۔ اور اسٹیبلشمنٹ اپنا کھیل کھیلنے میں مصروف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ارکانِ اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دے کر بڑا ظلم کیا گیا ہے۔ انہیں صرف قانون سازی کرنی چاہیے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 2017

چار دہائیوں سے اقتدار میں موجود مسلم لیگ (ن) آج کل سخت مشکل اور پریشانی میں ہے۔ اس وقت یہ جماعت اقتدار میں بھی ہے اور اپوزیشن میں بھی۔ خود اس کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس کی حقیقی پوزیشن کیا ہے۔ ایوانِ اقتدار یا حزبِ مخالف۔ وفاق اور چار صوبائی درجے کی اکائیوں میں اس کی حکومت بھی ہے اور یہ جماعت اور اس کے سربراہ مخالفانہ جلسے جلوس بھی کررہے ہیں اور شکوے شکایات بھی۔

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...