مباحث (168)

  وقت اشاعت: 5 دن پہلے 

قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اور پارلیمانی امور پر ایک دانشور کی حیثیت رکھنے والے سینئر سیاست دان سید فخر امام اس بات پر کڑھ رہے تھے کہ پاکستان اور اس کے عوام کے اصل مسائل کی طرف کسی کی توجہ نہیں، سیاست دان سطحی معاملات میں الجھے ہوئے ہیں، اداروں کے درمیان کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ زیادہ اختیارات کے حصول کے لیے مقابلہ ہورہا ہے۔ اور اسٹیبلشمنٹ اپنا کھیل کھیلنے میں مصروف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ارکانِ اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دے کر بڑا ظلم کیا گیا ہے۔ انہیں صرف قانون سازی کرنی چاہیے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 2017

چار دہائیوں سے اقتدار میں موجود مسلم لیگ (ن) آج کل سخت مشکل اور پریشانی میں ہے۔ اس وقت یہ جماعت اقتدار میں بھی ہے اور اپوزیشن میں بھی۔ خود اس کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس کی حقیقی پوزیشن کیا ہے۔ ایوانِ اقتدار یا حزبِ مخالف۔ وفاق اور چار صوبائی درجے کی اکائیوں میں اس کی حکومت بھی ہے اور یہ جماعت اور اس کے سربراہ مخالفانہ جلسے جلوس بھی کررہے ہیں اور شکوے شکایات بھی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 2017

پشاور کے حلقہ این اے 4 کے ضمنی انتخاب اور اس کے نتائج نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ ملک کا موجودہ انتخابی نظام مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے۔ یہ نہ معاشرے میں کسی سطح کی کوئی تبدیلی لاسکتا ہے اور نہ عوام کو کچھ ڈیلیور کرسکتا ہے۔ اس نظام کی اپنی اور اسے چلانے والوں کی خرابیاں مل کر عوام کا حقِ حکمرانی چھین رہی ہیں اور اشرافیہ کی مرضی کے نتائج دے رہی ہیں۔ یہی سبق لاہور کے حلقہ این اے 120 سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یہ نشست وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی سے خالی ہوئی تھی اور ان کی بیمار بیوی سے پُر ہوگئی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 30 2017

ملک میں ایک جانب سیاسی گہما گہمی اپنے عروج پر ہے تو دوسری جانب بے یقینی اس سے بھی زیادہ۔ عمران خان اندرونِ سندھ سیاسی نقب لگانے کی کوشش میں ہیں، تو خالی گھر دیکھ کر آصف زرداری اور بلاول بھٹو خیبر پختون خوا میں جا بیٹھے ہیں۔ پیر آف پگاڑا سندھ کی قوم پرست جماعتوں اور پیپلزپارٹی مخالف لوگوں کو اکٹھا کررہے ہیں تو خان اسفند یار ولی لال ٹوپی لگا کر اپنے آبائی صوبے میں جلسے کرتے پھر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن جگہ جگہ عمران خان کو للکار رہے ہیں، تو شہبازشریف پنجاب میں اپنی کامیابیوں اور خدمات کے خود ہی ڈھول پیٹ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 26 2017

1970  کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں جب نوجوان نسل آج کی طرح ماڈرن نہیں ہوئی تھی، نوجوانوں کے ہاتھوں میں موبائل اور بغل میں لیپ ٹاپ نہیں آیا تھا، پی ٹی وی واحد چینل اور ٹی وی سیٹ خال خال تھے۔ بیل باٹم پہنے ہوئے یونیورسٹیوں کے لڑ کے لڑکیاں بھی ایک دوسرے سے کترا کر گزرتے اور بات کرنے سے گریز کرتے تھے۔ اس وقت لائبریریاں آباد تھیں اور تعلیمی اداروں میں نظریاتی مباحث کے ساتھ ادبی رجحانات پر گفتگو ہوتی اور بزرگوں کے دستی تھیلوں اور نوجوانوں کے ہاتھوں میں کوئی غیر نصابی کتاب ضرور ہوتی تھی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 19 2017

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گلہ کیا ہے کہ ملک میں عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ یہ بات انہوں نے کسی اخباری پریس کانفرنس، کسی صحافی سے انٹرویو، کسی اخباری بیان میں نہیں کی بلکہ نوشہرو فیروز (سندھ) میں غلام مرتضیٰ خان جتوئی کے گھر پر ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ سیاسی فیصلے، عدالتوں اور سڑکوں پر نہیں ہوتے، یہ فیصلے پولنگ سٹیشنوں پر ہوں گے۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ حکومت نے 28 جولائی کا عدالتی فیصلہ تسلیم کیا ہے۔ اس موقع پر یہ بھی کہا کہ میثاقِ جمہوریت پر عمل نہ کرنے سے سیاست اور سیاست دان بدنام ہو رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 2017

20 ستمبر 1996 کو میر مرتضیٰ بھٹو کو کراچی میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کردیا گیا۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے بڑے صاحبزادے کے ساتھ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اُن کی حقیقی بہن بے نظیر بھٹو ملک کی وزیراعظم تھیں اور سندھ میں بھی ان کی پارٹی کی حکومت قائم تھی۔ بے نظیر کو بھائی کی ہلاکت کی خبر ملی تو اُن کا کہنا تھا کہ یہ کام اُن سے بالا بالا کیا گیا کہ انہیں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ اگر یہ بات درست تھی تو گویا ایک بڑی پارٹی کی سربراہ اور ملک کی وزیراعظم مکمل بے بس تھی۔ ایسے میں دوراندیش مبصرین کا کہنا تھا کہ حکومت کی رٹ ختم ہوچکی اور یہ حکومت زیادہ دن نہیں چل سکے گی۔ ذرائع کے مطابق بعض قریبی لوگوں نے وزیراعظم کو یہ مشورہ دیا کہ اب ان کے اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے، بہتر ہے کہ وہ خود اس بکھیڑے سے جان چھڑا لیں۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اس احتیاط کے باوجود صرف 45 دن بعد 5 نومبر 1996 کو ان کی حکومت ختم ہوگئی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 2017

پاکستانی سیاست ہر گزرتے دن کے ساتھ گنجلک ہوتی جا رہی ہے ۔ پیچیدگیاں بڑھ رہی ہیں اور بظاہر معاملات حل ہوتے نظر نہیں آ رہے۔ ڈان لیکس کے افشا کے بعد سے پورا ملک ایک بے یقینی کی صورتِ حال سے دوچار ہے اور ہر روز یا ہر ہفتے ایسی بے یقینی کی صورتِ حال پیدا ہو جاتی ہے کہ عام آدمی کو لگتا ہے کہ ہم اس صورتِ حال سے نہیں نکل سکیں گے۔ ابھی یہ صورتِ حال بہتر نہیں  ہوتی، محض اس کی شدت کم ہوتی ہے کہ کوئی نیا مسئلہ سر اٹھا لیتا ہے۔ یہ سارے مسائل ایک تو ملکی حالات اور سیا ست میں ہلچل پیدا کیے رکھتے ہیں۔ دوسرے سیاست دان اور میڈیا انہیں اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ اُن کی سنگینی سے انکار ممکن نہیں ہوتا اور پورا سسٹم اُس سے متاثر ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ اصل صورتِ حال کیا ہوتی ہے یہ اللہ ہی جانتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 2017

ماہِ ستمبر کے ہنگامہ خیز دن جیسے تیسے گزرگئے، اکتوبر کے فیصلہ کن دن سر پر چڑھے آرہے ہیں۔ اکتوبر ہی وہ مہینہ ہے جب پاکستان میں جنرل ایوب خان نے پہلا مارشل لا لگایا تھا اور اکتوبر کا ہی مہینہ تھا جب جنرل پرویزمشرف نے نوازشریف کو اقتدار سے علیحدہ کرکے جیل بھیجا تھا۔ اور اب 2017 کا اکتوبر آگیا ہے جس میں بہت کچھ اسکرپٹ کے مطابق اور بہت کچھ توقع کے خلاف ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 20 ستمبر 2017

ملک میں ایک عرصے سے کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے اور احتساب کا مطالبہ ہو رہا ہے۔ پاکستان اس اعتبار سے ایک بدقسمت ملک ہے کہ قدرتی وسائل اور معدنی دولت سے مالامال ہونے اور محنتی، جفاکش اور باصلاحیت آبادی کا حامل ہونے کے باوجود ترقی و خوشحالی کے معاملے میں اس کا الٹا سفر پہلے دن ہی سے جاری ہے۔ جس کی وجہ کرپشن کا ہر روز بڑھنا اور احتساب کا نہ ہونا ہے۔ یہ کام پہلے دن سے جاری ہے اور ہر روز اس کے حجم میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...