مباحث (168)

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

ملک میں ایک عرصے سے کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے اور احتساب کا مطالبہ ہو رہا ہے۔ پاکستان اس اعتبار سے ایک بدقسمت ملک ہے کہ قدرتی وسائل اور معدنی دولت سے مالامال ہونے اور محنتی، جفاکش اور باصلاحیت آبادی کا حامل ہونے کے باوجود ترقی و خوشحالی کے معاملے میں اس کا الٹا سفر پہلے دن ہی سے جاری ہے۔ جس کی وجہ کرپشن کا ہر روز بڑھنا اور احتساب کا نہ ہونا ہے۔ یہ کام پہلے دن سے جاری ہے اور ہر روز اس کے حجم میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

یہ ستمبر 2012 کا ایک روشن دن تھا۔ ماڈل ٹاؤن لاہور کی ایک کوٹھی جو امتدادِ زمانہ سے کئی بار اجڑی اور کئی بار آباد ہوئی تھی اُس کے بڑے ہال میں کوئی تیس کے قریب افراد ایک بڑی میز کے گرد بیٹھے اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ سب کے سامنے دوچار اخبارات پڑے تھے۔ سخت سیکورٹی انتظامات کے باوجود کوٹھی میں خاصی چہل پہل تھی۔ اوپر کی منزل کو جانے والی سیڑھیوں میں کھڑی ایک خاتون جو اب وفاقی وزیر ہیں، ملازمین کو ہدایات دے رہی تھیں۔ سیکورٹی چیکنگ پر مامور عملہ آنے والے بیشتر افراد کو نامراد لوٹا رہا تھا، کچھ کو ذلیل بھی کیا جارہا تھا۔ البتہ مؤثر اور عملہ کی مٹھی گرم کرنے والے افراد کوٹھی کے اندر آجا سکتے تھے، جہاں دوسرا عملہ مختلف حیلوں بہانوں سے اُن کی جیبیں خالی کرا رہا تھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 14 ستمبر 2017

پاکستان میں اقتدار کے ایوانوں میں اُس رسّاکشی کا آغاز ہوچکا ہے جس میں پہلے مرحلے پر نئی صف بندی ہوتی ہے، پھر راہیں جدا ہوجاتی ہیں پھرقابلِ قبول جواز تراشے جاتے ہیں اورآخر میں راہوں کی جدائی سیاسی دشمنی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ بعض اوقات یہ راہیں ایسی جدا ہوتی ہیں کہ برسوں ساتھ چلنے والے پھر ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے بھی روادار نہیں رہتے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 25 اگست 2017

معزول وزیراعظم ، ان کا حکمران خاندان اور اسٹبلشمنٹ کی مدد اور اشیرباد سے تین عشروں تک ملکی سیاست پر چھائی ہوئی ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز اب بڑی تیزی کے ساتھ اپنے منطقی ا نجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ تکلیف دہ انجام کچھ تو اسکرپٹ کے مطابق ہے کچھ تقدیر کا لکھا ہے۔ کچھ اپنی حماقتوں اور غلطیوں کا نتیجہ ہے۔ کچھ مکافاتِ عمل ہے کہ جو کچھ تیس پنتیس سالوں میں بویا گیا اسے کاٹنے کا وقت آگیا ہے۔ کچھ اپنی ہوشیاریوں اور چالاکیوں کا کیا دھرا ہے اور کچھ بے عقل اور بے تدبیر خوشامدی مشیروں کی سیاسی سرمایہ کاری ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 22 اگست 2017

معزول وزیراعظم نوازشریف اور اُن کے بیٹوں نے جمعہ کے روز نیب حکام کے سامنے پیش ہونے سے انکار کرکے ایک نئی لڑائی کا آغاز کر دیا ہے۔ نیب حکام کا مسلسل انتظار اور آخر کار شریف خاندان کا نیب حکام سے سوالنامہ مانگنا اس رویے کا اظہار ہے جس میں اشرافیہ اپنے آپ کو کسی جگہ پر جواب دہ نہیں سمجھتی۔ شریف خاندان کا یہ رویہ اس غلط فہمی کا اظہار بھی ہے جس کے تحت یہ خاندان اب بھی اپنے آپ کو وزیراعظم سمجھتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 اگست 2017

نااہل وزیراعظم نوازشریف کا الٹا قافلہ لاہور پہنچ چکا ہے۔ الٹا اِن معنوں میں کہ سیاسی جماعتوں اوراقتدار کے خواہش مندوں کے تمام قافلے اسلام آباد کی طرف جاتے ہیں کہ یہ شہر اقتدارکا مرکز اور وفاق کا دارالحکومت ہے لیکن نوازشریف کا قافلہ اسلام آباد چھوڑ کر لاہور کی طر ف آیا ہے۔ ابھی تک کسی کو نہیں معلوم کہ اس قافلے کی منزل کیا ہے اور اس تھکا دینے والی مشق کا مقصد کیا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 اگست 2017

بیس کروڑپاکستانیوں اور باقی دنیا میں پاکستان سے محبت کرنے اور یہاں کے معاملات میں دلچسپی رکھنے والے کئی کروڑ افراد کوایک سال سے زیادہ عرصے تک اضطرابی اور ہیجانی کیفیت میں رکھنے والا پانامہ کیس آخر کار اپنے انجام تک پہنچ گیا۔ ملکی معیشت کے علاوہ میڈیا اور عدلیہ کے اعصاب پرسوار اس کیس کا آخر کار فیصلہ آہی گیا۔ وزیراعظم نوازشریف نااہل ہوچکے، اُن کی نااہلی اور قومی اسمبلی کی نشست سے محرومی کا الیکشن کمیشن نے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 جولائی 2017

پاناما مقدمہ اور اس پر ہونے والی سیاسی و عدالتی پیش رفت پاکستانی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جس نے پوری ملکی سیاست کو ایک سال سے زائد عرصہ تک اپنے گرد گھمایا ہے۔ اپریل 2016 میں انٹرنیشنل کنسورشیم فار انوسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کے ذریعے کیے جانے والے انکشافات نے دنیا کے کئی ممالک میں طوفان اٹھائے، لیکن پاکستان میں اٹھنے والا یہ طوفان اب تک نہیں تھم سکا۔ کئی ممالک کے صدور، وزرائے اعظم اور دیگر عہدیداروں نے  استعفے دے کر اپنے ملکوں کو بحران سے بچایا اور اپوزیشن نے معمول کی تحقیقات پر اکتفا کرلیا۔ لیکن پاکستان میں ایک طرف حکمران الزامات کے باوجود اقتدار سے چمٹے رہے تو دوسری طرف اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اس معاملے کو مُردہ نہیں ہونے دیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 جولائی 2017

پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے حکم پر بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ آنے بعد بھی نئے نئے خدشات اور سوالات سر اٹھا رہے ہیں۔ جن پر سپریم کورٹ، جے آئی ٹی کے ارکان اور اُن کے ادارے، پانامہ کیس کے فریقین، حکومتی اور اپوزیشن جماعتیں غور کر رہی ہیں اور عوام بھی ان سے لاتعلق نہیں ہیں بلکہ اُن کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات بھی عوامی سطح پر سامنے آ رہے ہیں۔ یہ خدشات اور سوالات اپنے جوابات چاہتے ہیں۔ کچھ جوابات سپریم کورٹ کاحتمی فیصلہ آنے پر سامنے آ جائیں گے اور باقی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ منظر پر آتے رہیں گے۔ تاہم یہ سوالات اور اِن سے جڑے ہوئے خدشات عوام کے ذہنوں کو پریشان کر رہے ہیں۔ یہی پریشانی آج ایک بحران کی شکل میں ہمارے سامنے ہے اور بڑا سوال یہی ہے کہ کیا حتمی فیصلہ آنے کے بعد یہ بحران ختم ہو جائے گا، یا اُس کی کوکھ سے نئے بحران جنم لیں گے۔ زیادہ خدشات یہی ہیں کہ بحران ختم نہیں ہوگا بلکہ یہ نئے بحرانوں کو جنم دے گا۔ اس وقت سب سے اہم سوال یہی ہے کہ فیصلے کے بعد کیا ہو گا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 جولائی 2017

ٹھیک چالیس سال پہلے جولائی کے ہی تپتے ہوئے دن تھے اور رم جھم کرتی شامیں بھی۔ سیاسی درجۂ حرارت اُس وقت بھی عروج پر تھا۔ دیوار پر لکھا ہوا اندھے کو بھی نظر آرہا تھا، مگر حاکمِ وقت کا دعویٰ تھا کہ اُس کی کرسی بہت مضبوط ہے۔ وہ کبھی سازشوں کا ذکر کرتا، کبھی بھرے مجمع میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کا خط دکھاتا۔ مگر انا کے پہاڑ سے نیچے اترنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اصل مسئلہ کو ٹال رہا تھا، پاکستان قومی اتحاد کی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ محض وقت گزاری کررہا تھا۔ وقت تو گزر گیا مگر صرف 5 جولائی 1977 تک۔ پھر اُس مضبوط کرسی کے دعویدار حکمران کو پہلے جیل، پھر عدالتوں کے کٹہروں، اور آخرکار پھانسی گھاٹ تک جانا پڑا۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...