مباحث (16)

  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

سکول کے زمانے میں خرگوش اور کچھوے کی کہانی پڑھی تھی۔ یہ کہانی تو ہم کب کے بھول چکے تھے کہ 12 فروری 2018 کو  حلقہ این اے 154 کے ضمنی انتخاب کے نتیجہ نے بھولی بسری کہانی کو یاد کروا دیا۔ یادش بخیر ہم نے انہی کالموں میں آپ سے عرض کیا تھا کہ این اے 154 کے ضمنی انتخابات میں تحریکِ انصاف کی کامیابی یقینی ہے۔ اس کی وجہ بڑی سیدھی سادی تھی کہ جہانگیر ترین نے جب خود ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی تو تب سے لے کر ان کی نااہلی تک ان کا جانشین علی ترین حلقہ میں سرگرم تھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

پاکستان بنیادی طور پر جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے تناظر میں اپنے ابتدائی ا ور ارتقائی عمل سے گزررہا ہے ۔ یہ سمجھنا کہ پاکستان میں جمہوریت ایک مضبوط تناور درخت کی طرح ہے تو یہ محض خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں ہوگا ۔ جمہوریت کی مضبوطی یا کمزوری کے بارے میں تجزیہ کیا جاتا ہے تو اس میں یقینی طور پر داخلی اور خارجی دونوں طرز کے مسائل غالب نظر آتے ہیں ۔ جمہوریت سے وابستہ جمہوری قوتوں کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ عمومی طور پر اپنے داخلی مسائل کو نظرانداز کرکے سارا ملبہ خارجی مسائل پر ڈالتے ہیں۔ یقینی طور پر خارجی مسائل بھی اہم ہیں لیکن داخلی مسائل کے بہتر تجزیہ کے بغیرخارجی مسائل سے نمٹنا بھی ناممکن ہوتا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

9مارچ2015 بی بی سی ہندی ویب سائٹ پر ایک مضمون سُدِ ھیتی ناسکر کا شائع ہوا تھا۔ جس میں جنسی تشدد کے واقعات پر خاموشی کی پانچ وجوہات بیان کی گئیں تھیں۔ گرچہ مضمون تین سال پرانا ہے اس کے باوجود جن وجوہات کو اس مضمون میں بیان کیا گیا ہے وہ اہم ہیں اور بیشتر واقعات میں بیان کردہ وجوہات آج بھی برقرار رہیں۔ مضمون نگا ر نے مغربی بنگال کے مرشدآباد ضلع کا دورہ کیا جس میں بتایا کہ وہاں تعلیم اور صحت سے وابستہ سہولیات برائے نام ہیں۔ ضلع میں جن خواتین سے ملاقات ہوئی ان میں کئی خواتین ایسی ہیں جنہوں نے اپنے ساتھ ہوئی زیادتی کے واقعات کی رپورٹ درج نہیں کرائی ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

انسانی حقوق کی معروف ، پرجوش اور سرگرم راہنما عاصمہ جہانگیر واقعی اپنی ذات میں ایک با کمال عورت تھیں ۔ اس ملک میں جب بھی انسانی حقوق سے وابستہ معاملات یا تحریک پر تاریخ  مرتب کی جائے گی تو عاصمہ جہانگیر کا نام کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جاسکے گا۔ پاکستان میں وہ واقعی انسانی حقوق کا استعارہ تھیں اور ایسی آواز جو ہمیشہ کمزور ، مظلوم ، بے کس اور بے سہارا عورتوں اور مردوں کے لئے اٹھتی تھی ۔ جن مسائل یا مقدمات کو لینے یا لڑنے کے کوئی سکہ بند بہادر تیار نہ ہوتا تو عاصمہ جہانگیر اپنے خود کو پیش کردیتی تھیں ۔ وہ  ایک ایسی متحرک اور فعال شخصیت تھیں جو ہمیشہ کچھ نہ کچھ کرنے کی لگن، شوق اور جستجو رکھتی تھیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

پاکستان میں ریاستی اور حکومتی نظام میں سب سے زیادہ اگر کسی شعبہ کوسیاسی بنیادوں، اقرپروری ، نااہلی اور عدم شفافیت کی بنیاد پر چلایا گیا ہے تووہ مجموعی طور پر تعلیم کا نظام ہے ۔ وہ ریاستیں جو دنیا میں اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر داخلی اور خارجی محاذ پر اپنا نام بناتی ہیں ان کی پہلی ترجیح تعلیم کا اعلی معیار اور اس میں  سرمایہ کاری کرنا ہوتا ہے ۔ اسی لئے  تعلیم میں سیاسی مداخلت ، عدم شفافیت اور میرٹ کی بالادستی کے  نظام کو یقینی بنایا جاتا ہے ۔ لیکن پاکستان میں  تعلیم کی وہ اہمیت نہیں جو ہمیں دنیا کی ذمہ دار ریاستوں یا حکومتی نظام میں  نظر آتی ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

پاکستان میں انسانی حقوق کی توانا آواز اور ریاست کے مقتدر اور طاقتور ستونوں کو بے خوفی سے چیلنج کرنے والی عاصمہ جہانگیر بھی اتوار11 فروری کو اُس انجانی دنیا میں چلی گئیں جہاں سے کبھی کوئی لوٹ کر نہیں آیا۔ وہ بغاوت، جرأت اور بے خوف جدوجہد کا استعارہ تھیں۔ یہ تینوں صفات انہیں تیسری نسل میں منتقل ہوئی تھیں۔ انہوں نے نہ صرف اپنے پرکھوں کی ان صفات کی بے جگری کے ساتھ حفاظت کی، بلکہ کسی حد تک یہ ’’جراثیم‘‘ نئی نسل میں منتقل کرنے میں بھی کامیاب رہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 فروری 2018

خواتین کے ساتھ زیادتیاں مختلف طریقہ سے ان کا استحصال ان کی عصمت و عفت کو تارتار کرنے کے واقعات وغیرہ ہر صبح اخبارات کی زینت ہوتے ہیں۔ کسی بھی زبان کا کوئی بھی اخبار ہو یا کسی بھی علاقہ ، ضلع اور ریاست سے نکلنے والا اخبار، وہاں کی مقامی خبروں میں اس قسم کی غیر شائستہ اور ظلم و ستم کی داستیں درج ہوتی ہیں۔ گزشتہ سال کے دوران ہندوستان میں گیارہ عصمت دری کے ایسے وحشیانہ واقعات سامنے آئے ہیں جنہوں نے وقتاً فوقتاً ملک اور اہل ملک کو دنیا کے سامنے شرمسار کیا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 فروری 2018

پاکستان میں پولیس کا نظام کے بگاڑ کی وجہ ان کے داخلی اور خارجی دونوں سطحوں کے معاملات ہیں ۔ یہ خرابیاں یا بربادی کا عمل چند برسوں کی کہانی نہیں بلکہ اس میں ماضی اور حال کی پالیسیوں، اقدامات اور ترجیحات پر مبنی بگاڑ کا کھیل شامل ہے ۔ خرابیوں کی وجہ خود پولیس کا اپنا غیر شفافیت پر مبنی نظام بھی ہے۔ لیکن یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پولیس کے نظام میں بگاڑ کا اہم فریق  حکمران طبقات ہیں۔ مسئلہ کسی ایک خاص جماعت یا حکومت کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر دیکھیں تو یہ آپ کو پورے سیاسی ، انتظامی نظام اور بری حکمرانی کے کھیل سے جڑ ا نظر آتا ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پولیس کے نظام میں بے پناہ اصلاحات کے باوجود یہ عوامی اور ادارہ جاتی سطح پر اپنی ساکھ نہیں بناسکا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 11 فروری 2018

اگر کسی بھی معاشرے میں جمہوری عمل  کو مضبوط بنانا ہے تو یہ مقصد سیاسی تنہائی میں حاصل نہیں ہو سکتا۔  بلکہ اس کو معاشرے کے مجموعی مزاج اور فکر کی بنیاد پر آگے بڑھانا ہوگا۔ یہاں المیہ یہ ہے کہ جمہوریت سے وابستہ افراد جمہوریت اور قانون کی حکمرانی پر بات تو بہت کرتے ہیں مگر عملی طور پر ان کا طرز عمل جمہوریت کے برعکس ہوتا ہے ۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ مجموعی طور پر معاشرے میں رائے عامہ بنانے والے مختلف فریقین باہمی تضادات اور فکری مغالطے کے باعث جمہوری عمل کی بحث و مباحثہ کو مضبوط بنانے کی بجائے کمزور کرنے کا سبب بن رہے ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 فروری 2018

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دوٹوک انداز میں کہہ دیا ہے کہ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ابھی تک باضابطہ طور پر مستقبل کے وزیراعظم کے لیے کوئی نام فائنل نہیں کیا۔ شہبازشریف کا نام پارٹی کے سربراہ نوازشریف نے ایک میڈیا ٹاک میں ضرور لیا ہے لیکن پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی یا سینٹرل ورکنگ کمیٹی نے اس طرح کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ انتخابات کے بعد اگر پارٹی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوئی تو پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور سینٹرل ورکنگ کمیٹی اس معاملے پر غور کرے گی اور کوئی مناسب نام دے گی۔

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...