معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

مباحث (16)

  وقت اشاعت: 05 اپریل 2018

جب سے کرشنا کوہلی پی پی کی جانب سے سینیٹر منتخب ہوئی ہیں تب سے مَیں سوچ رہا تھا کہ تھر سے تعلق رکھنے والی اس سیاستدان پر کچھ لکھوں۔ ابھی ان کی شخصیت کے متعلق لکھنے کے لیے ذہن میں خاکہ سوچ رہا تھا کہ اخبارات میں ان کے بارے میں بے شمار خبریں، مضامین اور انٹرویوز آ رہے ہیں۔ سیاست میں عہدہ ملنا کتنا بڑا اعزاز ہے کہ ایک دم سے انسان زمین سے آسمان پر پہنچ جاتا ہے۔ ابھی کل کی بات ہے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کے زمانے میں تھر کے علاقے میں خوراک نہ ہونے سے سینکڑوں بچے موت کے منہ میں چلے گئے۔ میڈیا چیختا رہا لیکن پیرانہ سالی کی وجہ سے سیّد قائم علی شاہ کے کانوں پر جوں نہ رینگی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 03 اپریل 2018

مظالم میں اضافہ جہاں ایک جانب ملک میں رائج لا اینڈ آڈر کی کمزور صورتحال کو پیش کرتا ہے وہیں سماجی انتشارکو بھی بطور شہادت سامنے لاتا ہے ۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں انسانوں کے درمیان ہی انسان تقسیم کر دیئے گئے ہوں، جہاں چند لوگوں نے اپنی حیثیت کو مقدم رکھنے کے لیے سماجی رشتوں میں دراڑ ڈالی ہو ، جہاں کسی کو ذلیل تو کسی کو حقیر کے درجہ میں فٹ کیا جانے لگے، جہاں پیدائش کی بنا پر کوئی اعلیٰ تو کوئی ادنیٰ کہا جائے، ایسے معاشرے میں مظالم سرچڑھ کے نہیں بولیں گے تو اور کیا ہوگا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 اپریل 2018

پاکستان کی ریاست، حکومت معاشرہ انتہا پسندی سے نمٹنے اور ایک پرامن ، منصفانہ ، رواداری پر مبنی معاشرے کے لیے نئے بیانیہ کی تلاش میں سرگرداں ہے ۔  جو جنگیں علمی اور فکری مباحث کے نتیجے میں آگے بڑھتی ہیں وہی نئے بیانیہ کی تلاش میں کوئی مثبت اور پائدار حل تلاش کرنے میں کامیاب بھی ہوتی ہیں۔ انتہا پسندی جیسے مرض کا مقابلہ محض انتظامی بنیادوں پر ممکن نہیں ہوتا۔ یہ عمل وقتی طور پر تو کچھ نتائج بہتری کی صورت میں دیتا ہے مگر مستقل بنیادوں پر اس کا علاج ممکن نہیں ہوتا۔ مستقل علاج معاشرے کے مجموعی مزاج میں میں تبدیلی سے ہی ممکن ہے۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 01 اپریل 2018

پاکستان میں اعلی تعلیم کے معیار کو موثر ، شفاف اور عالمی معیار کے مطابق بنانا ایک بڑا چیلنج ہے ۔ کیونکہ اس وقت عالمی درجہ بندی میں ہماری اعلی تعلیم کے معیارات پر کئی سوالیہ نشان ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پرائمری تعلیم سمیت اعلی تعلیم کی ساکھ پر بھی ماہرین تعلیم اور اہل دانش سنگین نوعیت کے سوالات اٹھاتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری ہر طرح کی تعلیم عملی طور پر ریاستی و حکومتی ترجیحات میں محض لفظوں ، تقریروں اور بیان بازی تک محدود ہے ۔ عملی طور پر تعلیم کے حوالے سے ہمارے عمل اور عملدرآمدی نظام نہ تو موثر ہیں اور نہ ہی شفافیت کے زمرے میں آتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 مارچ 2018

ہم نے گزشتہ دنوں سٹیفن ہاکنگ پر جو کالم لکھے تو اس کے پسند کرنے کی تعداد اپنی جگہ پر اہم ہے لیکن ان کالموں کے اختتام پر ڈاکٹر ہارون خورشید پاشا کے حوالے سے ہم نے سرائیکی کے معروف شاعر شاکر شجاع آبادی کی بیماری کی بابت جو بات لکھی اس پر ہم سے بے شمار دوستوں نے رابطہ کیا اور مطالبہ کیا کہ شاکر شجاع آبادی کی شاعری پر بات کریں۔ اور ان کی بیماری کے متعلق بھی بتائیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 مارچ 2018

پاکستان کی سیاسی و جمہوری کہانی بڑی عجیب اور تضادات پر مبنی ہے ۔ ہر سول اور فوجی دور میں نئے نئے تجربات کے ساتھ نظام کی اصلاح کم اور بگاڑ زیادہ ہؤا ہے ۔ نئے قوانین یا پالیسیاں بنانے کے پیچھے اصل مقصد اپنے حکمرانی کے نظام کو منصفانہ اور شفاف بنانا ہوتا ہے ۔  جب بھی کوئی پالیسی یا قانون سازی کی جاتی ہے تو اس میں سب سے اہم فریق لوگ ہوتے ہیں ۔ کیونکہ ہر پالیسی یا قانون سازی عام اور بالخصوص محروم طبقات کے مفادات کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہے۔ اسی سے  ساکھ بنتی ہے ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں عوامی مفادات کو پس پشت ڈال کر ہم نئے تجربات کرکے ایک مخصوص گروپ کے مفادات کو تقویت دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 28 مارچ 2018

چیف جسٹس ثاقب نثار سے ون آن ون ملاقات سے پہلے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ہفتہ کے روز لاہور آئے۔ جہاں انہوں نے شہباز شریف کے طوفانی انداز میں لاہور کے گردونواح کے وورے کیے۔ اور وہ باتیں کیں جو خود کسی طوفان سے کم نہیں یا آنے والے کسی طوفان کا پیش خیمہ ضرور بن سکتی ہیں ۔ انہوں نے لاہور کے قریب واقع سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں ملک کے پہلے سی سی وی لائن اور ایلومینیم الائے مینوفیکچرنگ پلانٹ کا افتتاح کیا اور قوم کو بتایا کہ اس پلانٹ کی تنصیب سے بجلی کے پیداواری اخراجات اور ترسیل کے نقصانات کم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے شہباز شریف سے ایک قدم آگے بڑھ کر اعلان کیا کہ آئندہ پندرہ سال کے لیے بجلی کی ضروریات کے پیداواری منصوبے مکمل کرلیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 26 مارچ 2018

پاکستان میں سیاست کا جائزہ لیا جائے تو اس میں تضادات کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے ۔ تضادات پر مبنی سیاست کا عمل محض سیاسی جماعتوں تک ہی محدود نہیں بلکہ اس میں مذہبی سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں ۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سیاسی جماعتیں بشمول مذہبی سیاسی جماعتو ں کے سامنے اصول، نظریات، سوچ، فکر اور اخلاص کے مقابلے میں مفادات اور اقتدار کی سیاست کا غلبہ ہوگیا ہے۔ فرق یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں جمہوریت کے نام پر اور مذہبی سیاسی جماعتیں اسلام کے نام پر اسے بطور ہتھیار استعمال کرکے لوگوں کو گمرا ہ کرتی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جمہوری سیاسی جماعتوں کے ساتھ  مذہبی سیاست نے  کی  ساکھ بھی مجروح ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 26 مارچ 2018

پارلیمنٹ میں ارجن لال مینا کے ایک سوال کا تحریری جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے سماجی انصاف رام داس اٹھاولے نے جانکاری دی کہ سال 2016میں دلتوں کے خلاف امتیاز اور بے عزتی سے جڑے 40774معاملے درج کئے گئے ۔ جس میں ایس سی کمیونٹی کے لوگوں کے خلاف امتیاز اور بے عزتی سے جڑے معاملے درج ہیں۔ دلتوں اور پس ماندانہ ذاتوں کے ساتھ امتیازی رویے اور سلوک کے واقعات ہندوستان میں نئے نہیں ہیں۔ یہ معاملات اور رویے ہر دن سامنے آتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 25 مارچ 2018

”میری خادم حسین رضوی سے استدعا ہے کہ وہ ملک مارشل لا نافذ کردیں“۔ انہوں نے جب یہ کہا تو میری زبان سے بے ساختہ پھسلا۔
”پین دی۔۔۔“۔
کل میٹرو بس میں راول پنڈی سے اسلام آباد جاتے ہوئے، میرے ساتھ کی نشست پر بیٹھے صاحب نے ”رضوی مارشل لا“ کی تجویز دی، تو میرا حیران ہونا فطری تھا۔
”مارشل لا؟ اور خادم حسین رضوی؟ کیسے“؟
”مجھے نہیں پتا کیسے، لیکن وہی اس ملک پر حکمرانی کے حقیقی حق دار ہیں۔ جیسے انہوں نے ختم نبوت کے مسئلے پر جرات کا مظاہرہ کیا، ڈٹ کر بات منوائی، ویسی ہی جرات کا مظاہرہ کرتے اقتدار پر قبضہ کرلینا چاہیے“۔

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...