معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

مباحث (158)

  وقت اشاعت: 06 اپریل 2018

دور حاضر میں معیشت کو مستحکم کرنے کے علاوہ دشمن کی چالوں کو ناکام بنانا بھی  ضروری ہے ۔ جو لوگ بین الاقوامی میڈیا سے جڑے ہیں انہیں معلوم ہے آئے دن کہیں نہ کہیں کوئی ایسا واقع ضرور ہوتا ہے جس میں انسانی جانیں بھی جاتی ہیں اور دیگر نقصانات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارا میڈیا کس کی زبان بولتا ہے اس بارے میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ چھوٹا منہ اور بڑی بات۔ ترقی یافتہ معاشروں میں جھوٹ دھوکا فریب جیسی چیزیں کم ملتی ہیں۔ یہ لوگ اپنے آپ سے بھی سچ بولتے ہیں، اپنے غلطیوں کو تسلیم کرتے ہیں اور ان پر نادم بھی ہوتے ہیں۔  جیسے ہی حالات و واقعات سازگار ہوتے ہیں ، یہ ان غلطیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 اپریل 2018

شیخ ابراہیم ذوق کے شعر کا ایک مصرعہ ہے کہ اپنی خوشی نا آئے نا اپنی خوشی چلے، معلوم نہیں کتنے یہ بات دل میں ہی لے کر چلے گئے ۔  انسان اپنی پیدائش سے موت تک سفر کسی اور کے بتائے ہوئے راستے پر کرتا ہے ۔ نہ تو وہ کوئی راستہ بنانے کا اہل ٹھہرتا ہے اور نہ ہی کسی کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے سے انکار کرسکتاہے۔ جن معاشروں میں ابھی تک توازن برقرار ہے ان میں لوگ فرمانبردار اورمروجہ معاشرتی پابندیوں اور اقدار کے پابند ہیں۔ ہمارے منہ میں جو زبان ہے وہ محتاج ہے اس زبان کی جو ہمارے آس پاس بولی جائے گی، ذہن محتاج ہے ان سوچوں کا جو سوچنے کیلئے دی جائیں گی، نظریں محتاج ہیں وہ سب دیکھنے کی جو انہیں دکھایا جائے گا۔ اس توازن کو بگاڑ نے کی  کوششیں اب کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 21 مارچ 2018

زندگی میں بہت سارے معاملات میں ایسا ممکن ہے کہ  سیدھی سڑک پر چلتے ہوئے اچانک سے دائیں یا بائیں سے کسوئی گاڑی  نمودار ہوجائے اور حادثہ ہوجائے۔  یا پھر بالکل سیدھی وکٹ پر کھیلتے ہوئے اچانک کسی وکٹ سے محروم بیزار گیند باز کی ایک گیند کا اچانک ٹرن ہوجانا یا پھر اضافی اچھال  بلے باز کی باری  ختم کرنے کا سبب بن جاتی ہے ۔ حادثے ہماری تاک میں ہوتے ہیں۔  ہمیں تنہا پاتے ہی دبوچ لیتے ہیں۔ کب، کہاں، کیا ہونے والا ہے اس کا اندازہ لگانا  ناممکن سی بات ہے ۔ اسی طرح  قدرت ہمیں خوشیاں بھی کب کہاں سے دے، ہمارے علم سے ماورا ہے۔  ان باتوں سے علم کا بہت گہرا تعلق ہے۔ علم والوں کو کسی حد تک پتہ ہوتا ہے کہ  کب کیا ہوسکتا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 14 مارچ 2018

حقیقت تلخ اور کڑوی ہوتی ہے۔ لیکن حقائق سے صرف اس لئے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں یا لکھنا ترک نہیں کیا جاسکتا کہ اس سے آپ کو تکلیف ہوتی ہے یا اپنی بدنامی کا خوف  ہے ۔ ہمارے یہاں شادیوں میں بہت ساری رسومات میں سے ایک رسم جوتا چھپائی کی بھی ہوتی ہے مگر جوتا مارنے کی کوئی باقاعدہ رسم ہمارے معاشرے میں رائج نہیں۔ لیکن اب کشیدہ سیاسی ماحول میں سیاسی لیڈروں پر جوتا مارنے کو روایت کا درجہ دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 02 مارچ 2018

آج دنیا میں انگنت ادارے انسانوں کو انسانیت کا درس پڑھانے میں مصروف ہیں۔ لاتعداد ادارے پاکستان جیسے ملک میں بھی اپنی ایسی ہی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ اس کام کیلئے عالمی ادارے جو رقم خرچ کر رہے ہیں اس کا تخمینہ لگانا بھی آسان نہیں ہے۔ مگر فکر کی بات یہ ہے کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود انسانیت جیسے آخری ہچکیاں لے رہی ہو۔ اگر یوں سمجھاجائے کہ یہ دنیا کو نئی طرز کی انسانیت سکھانے کی بدولت ہوتا جارہا ہے تو غلط نہیں ہوگا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 28 فروری 2018

انسانی ترقی میں اس کے ذہن و دل کی زرخیزی کابہت عمل دخل ہے ۔ یہ زرخیزی قدرت مخصوص لوگوں کوہی عنایت کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چند لوگ یا مخصوص لوگ ہی دنیا کے کینوس پر اپنے آپ کو منور کرواسکے اور ایسے راستے نکالے جن پر آج تک دنیا گامزن ہے۔ علم کا حصول ہی دنیا اور آخرت میں آسانی کا باعث بنا ہے اور آسان اور صحیح راہیں چنے میں مددگار ثابت ہوا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 فروری 2018

پاکستان پر تو جیسے موروثی سیاست دانوں نے اپنا قبضہ ہی جمالیا ہے ۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں جو  صوبائی سطح پر مضبوط گرفت رکھتی ہیں جن میں سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی، پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اورخیبر پختون خوا میں عوامی نیشل پارٹی  قابل ذکر ہیں۔ مذکورہ جماعتیں اپنے وجود میں آنے سے لے کر آج تک مخصوص خاندانوں کی میراث ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 فروری 2018

پاکستان کی سیاست ،سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کے مرہون منت ہوتی ہے ، اس سیاست میں نہ تو سیاسی جماعتوں کا عمل دخل ہوتا ہے اور نہ ہی ان جماعتوں کے منشورکا۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ  جماعت کا سربراہ  ہی منشور ہوتا ہے اور جماعت اسی سے شروع ہوکر اسی پر ختم ہوجاتی ہے۔   پاکستانیوں نے یہ بات سمجھنے میں دیر کردی ، ہمیں اسی وقت سمجھ آجانا چاہئے تھا جب پاکستان مسلم لیگ قائدِ اعظم کے ساتھ ہی دفن کردی گئی تھی۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 فروری 2018

پاکستان ہمیشہ سے ہی معاشی بحرانوں کی آماجگاہ رہا ہے۔ دوسری طرف اس ملک کے سیاستدانوں کے کارخانے منافع بخش ہونے کے علاوہ ترقی کی منزلیں بھی طے کرتے چلے جاتے ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی اسٹیل مل دیوالیہ ہوچکی ہے مگر ہمارے حکمرانوں کے لوہے کے کارخانے منافع  بخش ہیں۔  پاکستان کی ہوائی سروس کی پروازیں ساری دنیا میں جگ ہنسائی کا سبب بنی ہوئی ہیں مگر نجی ائر لائنز منافع بنا رہی ہیں۔ اسی طرح اور بہت سے ادارے ہیں جو ملکی تحویل میں ہونے کی وجہ سے خسارے کا شکار ہوتےہیں۔ جبکہ یہی ادارے جب نجی ملکیت میں کام کرتے ہیں تو منافع کے ریکارڈ توڑتے ہیں۔  بدقسمتی سے ریاست کو ہمیشہ ہی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 26 جنوری 2018

ہر کوئی اپنی بات منوانا چاہتا ہے۔ منوانے والوں کے طریقے بھی مختلف ہوتے ہیں۔  جدید دورکی رعنائیوں میں میڈیا نے خوب چار چاند لگائے ہیں اور منوانے کی  ذمہ داری اٹھانے کی بھرپور کوشش میں مصروف عمل ہے۔  آج لفظوں کا شور ہے اور منوانے والوں کہ ہاتھوں میں ڈھول ہیں ۔  یہ تو سب خوب سمجھتے ہیں کہ منوانے کا قانون سے گہرا تعلق ہے۔ قانون کا کام جرم کی روک تھام ہی نہیں بلکہ معاشرے میں ایک ایسی فضاء قائم کرنا ہے جس سے عوام میں قانون اور قانون کے محافظوں پر بھروسہ اور اعتماد قائم ہوسکے۔ اور وہ معاشرے میں رونما ہونے والے جرائم کے سدباب کیلئے قانون کے شانہ بشانہ کام کرنے میں فخر محسوس کریں۔

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...