مباحث (158)

  وقت اشاعت: 13 فروری 2018

پاکستان پر تو جیسے موروثی سیاست دانوں نے اپنا قبضہ ہی جمالیا ہے ۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں جو  صوبائی سطح پر مضبوط گرفت رکھتی ہیں جن میں سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی، پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اورخیبر پختون خوا میں عوامی نیشل پارٹی  قابل ذکر ہیں۔ مذکورہ جماعتیں اپنے وجود میں آنے سے لے کر آج تک مخصوص خاندانوں کی میراث ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 فروری 2018

پاکستان کی سیاست ،سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کے مرہون منت ہوتی ہے ، اس سیاست میں نہ تو سیاسی جماعتوں کا عمل دخل ہوتا ہے اور نہ ہی ان جماعتوں کے منشورکا۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ  جماعت کا سربراہ  ہی منشور ہوتا ہے اور جماعت اسی سے شروع ہوکر اسی پر ختم ہوجاتی ہے۔   پاکستانیوں نے یہ بات سمجھنے میں دیر کردی ، ہمیں اسی وقت سمجھ آجانا چاہئے تھا جب پاکستان مسلم لیگ قائدِ اعظم کے ساتھ ہی دفن کردی گئی تھی۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 فروری 2018

پاکستان ہمیشہ سے ہی معاشی بحرانوں کی آماجگاہ رہا ہے۔ دوسری طرف اس ملک کے سیاستدانوں کے کارخانے منافع بخش ہونے کے علاوہ ترقی کی منزلیں بھی طے کرتے چلے جاتے ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی اسٹیل مل دیوالیہ ہوچکی ہے مگر ہمارے حکمرانوں کے لوہے کے کارخانے منافع  بخش ہیں۔  پاکستان کی ہوائی سروس کی پروازیں ساری دنیا میں جگ ہنسائی کا سبب بنی ہوئی ہیں مگر نجی ائر لائنز منافع بنا رہی ہیں۔ اسی طرح اور بہت سے ادارے ہیں جو ملکی تحویل میں ہونے کی وجہ سے خسارے کا شکار ہوتےہیں۔ جبکہ یہی ادارے جب نجی ملکیت میں کام کرتے ہیں تو منافع کے ریکارڈ توڑتے ہیں۔  بدقسمتی سے ریاست کو ہمیشہ ہی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 26 جنوری 2018

ہر کوئی اپنی بات منوانا چاہتا ہے۔ منوانے والوں کے طریقے بھی مختلف ہوتے ہیں۔  جدید دورکی رعنائیوں میں میڈیا نے خوب چار چاند لگائے ہیں اور منوانے کی  ذمہ داری اٹھانے کی بھرپور کوشش میں مصروف عمل ہے۔  آج لفظوں کا شور ہے اور منوانے والوں کہ ہاتھوں میں ڈھول ہیں ۔  یہ تو سب خوب سمجھتے ہیں کہ منوانے کا قانون سے گہرا تعلق ہے۔ قانون کا کام جرم کی روک تھام ہی نہیں بلکہ معاشرے میں ایک ایسی فضاء قائم کرنا ہے جس سے عوام میں قانون اور قانون کے محافظوں پر بھروسہ اور اعتماد قائم ہوسکے۔ اور وہ معاشرے میں رونما ہونے والے جرائم کے سدباب کیلئے قانون کے شانہ بشانہ کام کرنے میں فخر محسوس کریں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 23 جنوری 2018

ہا ر جیت کھیل کا حصہ ہوتا ہے اور ہارنے والے اپنی ہار سے سبق سیکھ کر  بہتری  کیلئے  کام کرتے ہیں اور مستقبل میں  پہلے سے بہتر کارگردگی سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔  ہارتا اور جیتتا وہی ہے جو کھیل کا حصہ ہوتا ہے اس بات کو مرزا عظیم بیگ عظیم نے یوں کہا تھا:

شہ زور اپنے زور میں گرتا ہے مثل برق
وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 18 جنوری 2018

ملکوں اور قوموں کی ترقی کی  بنیادی وجوہات میں سے ایک توان ممالک کے حکمران اپنے اقتدار کیلئے بہت واضح اور جامع حکمت عملی اپنی عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں۔  وہ حکمت عملی جو وقت کی ضرورت ہوتی ہے اور دوسری اور اہم ترین وجہ  فیصلوں پر استقامت ، ثابت قدمی سے قائم رہنا ہے۔  ہمارے ملک میں حادثات و سانحات کا تو تسلسل ہوتا ہے مگر کسی بھی حکومت کی نہ تو کوئی جامع حکمت عملی ہوتی ہے اور نہ ہی اس حکمت عملی پر دیرپا و مستحکم اقدامات ہوتے ہیں۔ وقتی طور پر عوام کو دکھانے کیلئے تو کچھ بھی ہوجاتا ہے مگر مستقل طور پر کوئی اقدام نہیں ہوپاتا۔ ہم ، ہمارے حکمران جذباتی ہیں اور سال ہا سال سے جذبات کے سمندر میں غوطہ زن ہیں ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 جنوری 2018

آج صبح گھر سے دفتر جاتے ہوئے اسکول جانے والے معصوم بچوں پر جب نظر پڑ رہی تھی تو دل پر ایک خراش پڑتی تھی ۔ قصور میں ہونے والے واقعہ کی تحقیق یا اس کی گہرائی میں جانے کی مجھ میں سکت نہیں ہے۔ اور نہ ہی مجھے اس واقعہ کے سیاق و سبق سے کوئی واسطہ ہے۔ میرا اس سے واقعہ سے بہت گہرا تعلق ہے جس کے باعث گزشتہ شب بیداری کی نظر ہو گئی، در اصل میری بیٹی کا نام بھی زینب ہے اور اس نام کا تعلق ہمارے پیارے نبی ﷺ کے گھیرانے سے  ہے ۔ میری خواہش تھی کے میرے پاس اتنا اختیار ہوتا کہ میں پاکستان بھر کے اسکول آج احتجاجاً بند کروا سکتا اور زینب کے خاندان والوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کر سکتا۔ دوسرا یہ کہ ارباب اختیار تک یہ بات پہنچاسکتا کہ زینب صرف قصور ہی نہیں،  پورے پاکستان کیلئے کتنی اہم ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 جنوری 2018

آج صبح قائدِ اعظم محمد علی جناح کے ایک پیغام سے آنکھوں کوبصیرت میسر آئی اور یہ پیغام جیسے آنکھوں میں جم کر رہ گیا ، کوشش کریں کے اسے پڑھنے کیلئے دل کی زبان استعمال کریں ۔  وہ کہہ رہے تھے کہ میں اپنا کام کرچکا ہوں، قوم کو جس چیز کی ضرورت تھی وہ اسے مل گئی ہے ، اب یہ قوم کا کام ہے کہ وہ اسے تعمیر کرے ۔ قائد کے فرمان سے جو چیز میں نے سمجھی ہے، وہ ہے قوم ، کیا ہم قوم ہیں۔ ہم تو قومیتوں کا ایک ریوڑ ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 2017

فوج اور سیاستدانوں کے درمیان نہ تو کبھی مفاہمت کی اعلی ترین فضا قائم رہی ہے اور نہ  ہی قائم ہو نے کا امکان ہے۔ سیاستدان عوام کا نمائندہ ہوتے ہیں اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرتے ہیں ، یہ جمہوریت اور جمہوری اقدار کے پاسدار ہوتے ہیں۔ اسی طرح فوج ایک ایسا منظم ادارہ ہوتا ہے جو ملک کو خارجی اور داخلی دہشت گردی جیسے واقعات اور دشمن کی دراندازی کو روکنے میں اپنا کردار نبھاتی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 21 2017

میڈیا کے توسط سے بارہا یہ باور کرایا جاتا رہا ہے کہ ہم سب برائے فروخت ہیں یعنی سب کی قیمتیں لگتی ہیں اور جیسے بازار میں مختلف  اقسام کی اشیاء فروخت کیلئے پیش ہوتی ہیں ، بالکل اسی طرح سے ہم لوگ بھی بکتے ہیں۔ اب  خریدار ہمارے ساتھ جو چاہے کریں۔ بدعنوانی دوطرفہ عمل ہے۔ اگر ایک بدعنوانی کررہا ہے تو کسی کے ساتھ بدعنوانی ہورہی ہے۔ یعنی اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ آپ اس مکمل زنجیر کو بے نقاب کریں۔

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...