مباحث (158)

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

وقت آن پہنچا ہے کہ  اپنے ملک کی خاطر نفرت اور شر انگیز سیاسی و مذہبی حربوں سے جان چھڑالی جائے۔ پاکستان میں پہلی دفعہ کسی بااثر شخصیت کو جواب دہ ہونا پڑا ہے حالانکہ وہ ملک کا وزیر اعظم تھا۔  اس باعث ملک کے  سیاسی ماحول میں خوف موجود ہے۔ یہ اندیشہ موجود ہے کہ  فوج کا دوبارہ اقتدار نہ سمبھال لے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 16 اگست 2017

مشہور کہاوت ہے کہ چت بھی میری اور پٹ بھی ۔ موجودہ دور میں ہمیں تو ہر طرف اس کہاوت کا عملی مظاہرہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ یعنی اقتدار بھی اپنے پاس ہی ہے اور احتجاج بھی خود ہی کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ اپنی رہی سہی عزت کو سنبھالنے کی کوشش میں کیا جا رہا ہے۔ یہاں جماعت کی عزت بھی فرد واحد کی عزت سے  مشروط ہے۔ اگر جناب گئے تو پھر جماعت بھی گئی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 اگست 2017

پاکستانی قوم پچھلے ستر سالوں سے مسائل اور امتحانات سے نمٹتی چلی  آرہی ہے۔ ہم نے بحیثیت قوم ہمیشہ مسائل سے نمٹنے کیلئے وقتی فیصلے کئے۔ ہم نے کبھی بھی مکمل نجات کی جانب دھیان نہیں دیا۔ جس کی وجہ سے وہ مسائل پھر اسی طرح سے ہمیں ستاتے چلے آرہے ہیں ۔ سیلاب ہر سال ہی ہمارے علاقوں میں تباہی مچاتے ہیں۔ ہم ہر سال ان سیلابوں کی وجہ سے کتنا نقصان برداشت کرتے ہیں۔ ہم ہر سال وقتی سدِ باب کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں مگر کوئی با قاعدہ انتظام نہیں کرتے۔ کوئی ڈیم نہیں بناتے۔ اپنے نہری نظام پر دھیان نہیں دیتے۔ کیونکہ عوام یہ مطالبہ ہی نہیں کرتے۔ بس جیسے بھی ہو وہ وقت گزر جائے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 06 اگست 2017

دنیا سمٹ کر گلوبل ویلیج بن چکی ہے اور رہی سہی کثر گوگل نے پوری کر دی ہے۔ لکھنے والوں میں بھی بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔  اس کی اہم ترین وجہ آن لائن شائع ہونے کی سہولت ہے ۔  فنونِ لطیفہ کی ہر قسم آن لائن دستیاب ہے۔  شاعری ہو یا  افسانہ یا پھر کوئی مضمون سب کچھ آن لائن میسر ہے۔ ایک زمانہ تھا جب کوئی لکھنے والا صرف اس وجہ سے نہیں لکھ پاتا تھا کہ لکھ کر اپنے پاس ہی رکھنا پڑے گا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کسی تحریر کی اشاعت مقصود ہوتی تھی تو بہت بھاگ دوڑ کرنا پڑتی تھی۔ تکنیکی ترقی نے  ایسا متبادل  پیش کردیا ہے کہ نئی نسل  کتاب اور کاغذ پر چھپے الفاظ سے ناآشنا ہوتی جارہی ہے۔ یہ تبدیلی انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کی وجہ سے آئی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 اگست 2017

پاکستانی شہری اور  دنیا کے دیگر ممالک میں مقیم پاکستانی اپنے وطن سے  والہانہ محبت کرتے ہیں۔ مگر یہ محبت اس وقت ہی نظر آتی ہے جب ہمارا پڑوسی ملک کوئی دھمکی آمیز بیان دے یا پھر کسی قسم کا الزام لگائے۔ پاکستان سے محبت دل کے کسی پنہاں خانے میں سوئی رہتی ہے اور دیگر محبتیں جن میں سیاسی وابستگی ، فرقہ پسندی علاقے کی محبت اور زبان سے تعلق  غالب رہتا ہے۔ پاکستان کو اللہ رب العزت نے نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے ان نعمتوں کی بدولت پاکستان آج تک اپنے پیروں پر کھڑا ہے ۔ پاکستانی آزادی کی 70 ویں سالگرہ کا جشن شایان شان طریقہ  سے منانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ پاکستان سے محبت کرنے والے اپنی محبت کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 03 اگست 2017

پاکستان کی اعلی ترین عدلیہ کے پانچ رکنی بینچ  نے متفقہ طور پر میاں نواز شریف  کو نااہل قرار دیا ہے۔ لیکن  میاں صاحب اس بات پربضد ہیں کہ ان کو بتایا جائے کہ ان کا قصور کیا ہے۔ وہ یہ تو بارہا پوچھ چکے ہیں کہ مجھے میرا قصور بتایا جائے مگر انہوں نے ایک بار بھی یہ نہیں کہا کہ میرے بچوں کا کیا قصور ہے انہیں کیوں اس معاملے میں گھسیٹا گیا ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 28 جولائی 2017

ملک خداد پاکستان میں قانون کی پکڑ موٹر سائیکل سوار سے شروع ہوکر گدھا گاڑی چلانے والے پر مکمل ہوجاتی ہے۔ کراچی شہر میں کسی بھی نوعیت کا کوئی مسلۂ درپیش ہو سب سے پہلے عوامی سواری یعنی موٹر سائیکل والوں کی شامت آجاتی ہے۔ اس شامت کو بر لانے میں پولیس کی وردی میں ملبوس ( چاہے وہ سفید وردی ہویا پھر کالی) کبھی کونے کھانچوں میں چھپ کر کھڑے ہوجاتے ہیں یا پھر بیچ سڑک میں ٹریفک کے مسائل میں اضافہ کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 26 جولائی 2017

دنیا کہ جن ملکوں نے ترقی کی ہے اور جو کر رہے ہیں ان ممالک نے تعلیم کو سب سے زیادہ اہمیت دی ۔ پھر کچھ یوں ہوا کہ تعلیم اور تہذیب جدا جدا ہوگئے۔ تعلیم کی ترقی جاری ہے مگر تہذیب جیسے آخری سانسیں لے رہی ہے۔ صرف تعلیم کی ترقی نے انسان میں  جدید ترین  ہتھیاروں کی دوڑشروع کروا دی اور آج دنیا کا ہر ملک اس دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی انتھک تگ و دو میں مصروف ہے۔ یہ وہ ہتھیار ہیں جن سے صرف انسانوں کا ہی نہیں بلکہ انسانیت کا قتلِ عام ہو رہا ہے۔ معاشرتی نظام تباہ ہوتے جا رہے ہیں۔ انسان انسا ن سے خوفزدہ ہے۔ اس خوف نے انہیں ایک دوسرے کا دشمن بنادیا ہے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 21 جولائی 2017

کسی نے بہت خوب کہا کہ اگر سماجی میڈیا 1947 میں ہوتا تو پاکستان کے حصول کی جدو جہد سماجی میڈیا پر ہی چلتی اور بلند و بانگ نعرے ہر کسی کی ٹائم لائن پر لکھے ہوتے یا پھر ڈی پی بنے ہوتے۔  سڑکیں خالی ہوتیں، کوئی شور شرابے کی نوبت نہیں آتی اور سب سے بڑھ کر تحریک بغیر خون خرابے کے چلتی رہتی۔ پھر اس بات کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں کے ہم آج کن حالات میں کہاں ہوتے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 19 جولائی 2017

اجارہ داری کے لغوی معنی ہیں بلا شرکت غیرتسلط جبکہ بالادستی کا مطلب یہ لیا جاسکتا ہے کہ طے شدہ اور واضح کردہ اختیار کا بھرپور استعمال ۔ جہاں اجارہ داری ہوتی ہے وہاں فرد یا افراد اپنی من مانی کرتے ہیں اور معاشرہ ابتری کا شکار ہوتا ہے۔ ایسے معاشرے میں بدلاؤ کسی مخصوص سوچ کا محتاج ہوتا ہے ۔ دوسری طرف باہمی رضامندی اور افہام و تفہیم سے مرتب کردہ معاشرے کیلئے باقاعدہ ایک دستاویز کا مرتب دینا اور اس دستاویز کے مطابق معاشرے کو چلانا بالادستی کے زمرے میں آتا ہے۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...