مباحث (131)

  وقت اشاعت: 21 جنوری 2018

فرض کرو، کسی مرد نے تیسرا یا چوتھا نکاح کرلیا ہو!
فرض کرو اپنی پیرنی سے نکاح کیا ہو!
فرض کرو پیرنی جیسی نیک، پارسا اور انتہائی پرہیزگار عورت نے کسی اور سے نکاح کرنے کے لیے اپنے پہلے شوہر سے خلع لے لی ہو!

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 جنوری 2018

میڈم نورجہان کو میں نے صرف ایک بار دیکھا تھا۔ میرے بچپن کا اختتامی زمانہ تھا۔ ہم حج کے لیے جدہ ائرپورٹ پر اترے تھے۔ اچانک وہ میرے سامنے آگئیں۔ سفید احرام ماتھے کو آدھے تک ڈھکے ہوئے تھا۔ سفید سوتی شلوار قمیص۔ ململ کا سفید دوپٹہ، نماز میں اوڑھنے کے انداز میں لپٹا ہوا۔ شفاف اور مکمل دھلا دھلایا چہرہ۔
یہ ان کے انتہائی عروج کا زمانہ تھا مگر وہ اطراف کے لوگوں سے قطعی بےنیاز تھیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 2017

معاشرہ اس ایک سوچ کا نچوڑ بن چکا ہے کہ مرد بن کر دکھاؤ۔ مرد کا بچہ بن کر دکھاؤ۔
دیکھا جائے تو مذہبی اور سماجی سطح پر راہ چلتی لڑکیوں کے جسم کے پرائیویٹ پارٹ میں چاقو گھونپنے سے لے کر خودکش بمبار بن کر پھٹنے اور زندہ انسانوں کی دھجیاں اُڑا دینے تک کا معاملہ اور ماں جائی بہنوں کو غیرت کے نام پر قتل کرنے اور زندہ جلانے سے لے کر کسی کی بیٹی کو انتقاماً ننگا کرکے گلیوں میں گھمانے تک کا معاملہ مردانگی ہی تو ہے۔
مذہبی اجتماع میں پین دی سری جیسی للکار بھی مردانگی ہی تو ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 08 2017

پیارے مولوی صاحب!
گزارش ہے کہ میں اس وقت مدینے میں ہوں۔ ویسی ہی ہوں جیسی پاکستان میں ہوتی ہوں۔ اِک بندہ گندا۔ باہر سے دھلی دھلائی اندر سے گناہوں اور خطاؤں سے لدی اور میلی۔ شیطان مردود یہاں بھی ساتھ ساتھ چلا آیا ہے اور عین نماز میں میرے سر پر پنجے گاڑ کر آ بیٹھتا ہے۔ امام تکبیر دیتا ہے تو چونک کر یاد آتا ہے کہ میں تو نماز میں ہوں! ساتھ ہی آنکھیں پھاڑ کر سامنے دیکھتی ہوں تو دھک سے رہ جاتی ہوں۔ الامان! صرف نماز ہی میں نہیں ہوں بلکہ مسجد نبوی میں بھی ہوں!

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 25 2017

کئی دنوں سے ایسا لگ رہا ہے جیسے اصحابِ کہف کی طرح اچانک آنکھ کھلی ہے۔ اُٹھی ہوں۔ شہر کی طرف گئی ہوں تو حیرت زدہ رہ گئی ہوں۔ یا خدا! زمانہ تو قیامت کی چال چل چکا ! یہ میں کہاں آ کھڑی ہوئی ہوں! انسانوں کا ہجوم تو ہے مگر انسان کہاں ہیں! ایک ہنگامہ سا برپا ہے چاروں طرف کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی، مگر یہ کیسی زباں ہے کہ جس میں شور تو ہے مگر الفاظ نہیں ! کون ہیں یہ لوگ! کیا کہہ رہے ہیں! اور وہ لوگ کہاں چلے گئے، میں جن کی ہم زباں تھی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 2017

میری بیٹی کو مجھ سے اکثر ایک شکایت بہت ہی شدید طریقے سے رہی ہے۔
وہ یہ کہ اکثر میرے فیس بک پر موجود لوگ اسے فرینڈ ریکئسٹ بھیجتے ہیں۔ گو کہ چند خواتین یا لڑکیاں بھی اس میں شامل ہوتی ہیں مگر ظاہر ہے کہ اسے مرد یا لڑکے زیادہ کھٹکتے ہیں یا یوں کہا جائے کہ برے لگتے ہیں۔ کیونکہ خود دبئی میں رہتی ہے اس لیے آئے دن فرینڈ ریکوئیسٹ کا اسکرین شاٹ اور ایک بپھرا ہوا میسج آتا ہے کہ یہ دیکھیے۔ یہ آپ کے دوست اور فین!
جواب میں میں اسے ایک مسکراہٹ بھیج دیتی ہوں۔
پھر سوال آتا ہے کہ آپ اسے کتنا جانتی ہیں؟
میں کہتی ہوں کہ کوئی خاص نہیں۔
پوچھتی ہے کہ میں رجیکٹ کر دوں؟
میں کہتی ہوں کہ کر دو۔ اس کا آپشن تم رکھتی تو ہو!

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 01 ستمبر 2017

میں نے آنکھ کھول کر دنیا کو دیکھا تو ہر سال کا حج زندگی کا لازم حصّہ پایا۔ بابا اور اماں کی زندگی مکہ اور مدینہ کے گرد منڈلاتی تھی دو پروانوں کی طرح۔ تیسری میں آ گئی جسے ان کی انگلی پکڑ کر اس مرکزِ حیات کے گرد منڈلانا ہوتا تھا۔ بابا سرکاری ملازم تھے۔ ہر سال حج کے لیے ان کی چھٹی کا معاملہ پھنس جاتا۔ اعتراض آتا کہ ابھی پچھلے سال تو گئے ہو! اُدھر چھٹی کی درخواست چیف سیکریٹری کی ٹیبل پر پڑی پھڑپھڑا رہی ہوتی اور اِدھر وہ بے چین ہوئے پھرتے اور اماں کو سفر کی تیاری کا کہہ رہے ہوتے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 12 اگست 2017

بچہ مر گیا
 جمہوریت کا قافلہ آگے بڑھ گیا
نواز شریف کی جدوجہد کو بس شہید کے خون کی ضرورت تھی، سو بالآخر ایک بچہ جمہوریت کی راہ میں کچلا گیا اور صد آفرین کہ کیپٹن صفدر جیسے درویش صفت مجاہد نے بچے کی کچلی گئی لاش کو اس جدوجہد کا شہید ہونے کا تمغہ بھی عطا کر دیا، جو سیدھا بچے کے باپ کے دل میں جا لگا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 29 جولائی 2017

اس ملک کا پہلا صادق و امین جنرل ضیاء تھا۔

جو خود ایک ایسا نفسیاتی مریض تھا جسے بھٹو دشمنی میں جل کر سیاہ ہو چکے مولویوں اور فتویٰ سازوں نے وردی کے اوپر امیرالمومنین کی شیروانی پہنائی تھی۔ انہوں نے اسے اس ذہنی بیماری میں مبتلا کر دیا تھا کہ ایک بھٹو کو پھانسی چڑھا کر تم بخشے جا چکے ہو۔ تمہارے تمام پوشیدہ گناہ کبیرہ بھی اور صغیرہ بھی معاف ہو چکے ہیں۔ اب تم باوضو ہو۔ ہر انسان کی طرح وہ بھی اپنی ذاتی زندگی میں گناہوں اور خطاؤں سے گزرا ہی ہوگا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 23 جون 2017

ذوالفقار علی بھٹو نے سب کو پریشان کر دیا ہے۔ گویا وہ ہم سب کی مشترکہ پراپرٹی ہو جو اب ہماری بندر بانٹ میں ہمارے حصے میں آ نہیں پا رہی۔ ہم ہاتھ ملتے رہ گئے ہیں۔ تلملا رہے ہیں۔

مگر کمال کر دیا اس بچے نے! پاکستانی سماج، پاکستان میں مذہب کے بیوپاریوں، پاکستانی سیاست اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے منہ پر ایک طمانچہ دے مارا ہے اس نے۔

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...