مباحث (121)

  وقت اشاعت: 18 جون 2017

اندرا گاندھی سے شملہ میں مذاکرات کے لئے جانے سے پہلے صدر پاکستان ذولفقار علی بھٹو نے زندگی کے مختلف شعبوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔ طلبہ کے جن چند نمائندوں کو بلایا گیا ان میں محمد اشرف عظیم اور میں بھی شامل تھے۔ ہم گورنمنٹ کالج لاہور کی طلبا یونین کے  بالترتیب، صدر اور سیکرٹری تھے۔ یہ ملاقات مری کے گورنر ہاؤس میں ہونا قرار پائی۔ ہمارے سفر اور وہاں قیام کے انتظامات لاہور کے اسسٹنٹ کمشنر رضا کاظم نے کئے۔ 18جون 1972کو ہم وقت مقررہ پہ گورنر ہاؤس پہنچے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 جون 2017

یہ اس دور کی بات ہے جب میں اپنی والدہ کے ساتھ خواتین کی مجالس میں جا سکتا تھا۔ ایک مجلس میں ہم وقت سے ذرا پہلے پہنچ گئے۔ ایک خاتون قسمت کا حال بتا رہی تھیں۔ انہوں نے اپنی انگلیوں سے میرے ماتھے کی جلد کو سکیڑ کر نمایاں ہونے والے بل بغور دیکھے اور کچھ دیر سوچ کے، گویا فیصلہ سنانے والے انداز میں کہا: ’’یہ جج بنے گا!‘‘ باجی (ہم اپنی والدہ کو باجی کہتے تھے) خوش ہوگئیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 31 مئی 2017

راوی کی ادارت
گورنمنٹ کالج لاہور کے ادبی مجلے’راوی‘ کا مدیر سال ششم سے، شریک مدیر پنجم اور ایک ایک نائب مدیر چہارم اور سوم سے لیا جاتا تھا۔ میں جب سال سو م میں پہنچا تو میں نے اس اسامی کے لئے درخواست دی۔ میری غزلیں ’راوی‘ میں اور قطعات کالج گزٹ میں شائع ہوتے رہے تھے۔ میں ’مجلس اقبال‘ کی مجلس عاملہ کا رکن تھا اور انٹر کالجیٹ مشاعروں میں کالج کی نمائندگی کر کے متعدد انفرادی انعامات اور کالج کے لئے ٹرافیاں حاصل کر چکا تھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 16 مئی 2017

مشرقی پاکستان میں مشاعرے
پاپا کو ڈھاکہ، سلہٹ اور چاٹگام میں منعقد ہونے والے مشاعروں میں شرکت کی دعوت ملی۔ منتظمین نے پی آئی اے کا ٹکٹ بھیجا جو دو سو دس یا بیس روپے کا تھا۔ اُس وقت لاہور سے کراچی کا کرایہ بھی تقریباً اتنا ہی تھا۔ منٹگمری (موجودہ ساہیوال) تک ریل کا انٹر کلاس کا ٹکٹ غالباً چار پانچ روپے تھا۔ ہم انہیں ائرپورٹ چھوڑنے گئے۔اُن دنوں مسافروں کو الوداع یا خوش آمدید کہنے والے، جہاز کے اتنے قریب جا سکتے تھے کہ انہیں آواز دے کے بلا سکتے تھے۔ اُس دن ہم نے احمد ندیم قاسمی اور قتیل شفائی کو پہلی بار دیکھا۔ پاپا کی واپس آمد پر جب جہاز کا دروازہ کھلا تو چند مسافروں کے بعد پاپا نظر آئے۔ اُن کے ہاتھ میں ڈوریوں سے لٹکی ہوئی ایک چاٹی دیکھ کے ہم حیران ہوئے۔ گھر پہنچ کے اُس میں سے جو مٹھائی نکلی اُس کی لذت مدتوں زبان پہ رہی۔ چاٹی میں کیلے کے پتوں سے تہیں بنا کے مختلف اقسام کی مٹھائیاں رکھی گئی تھیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 25 اپریل 2017

چند برس ہوئے پاکستان کے ایک بڑے انگریزی اخبار نے سو نامور پاکستانیوں کے پر وفائلز پہ مبنی خصوصی شمارہ شائع کیا۔ شخصیات کی اس فہرست میں سیاست دان اورحکمران حاوی تھے لیکن شاعروں ادیبوں، فنکاروں اور کھلاڑیوں کی ایک قابل ذکر تعداد بھی تھی۔ یہاں ناصر کاظمی کی موجودگی پہ مجھے دلی خوشی ہوئی لیکن سلطان خان کو نہ پا کر باقاعدہ رنج ہوا۔ یہ ٹھیک ہے کہ ان کے کارہائے نمایاں تقسیم سے پہلے سرانجام دئے گئے تھے لیکن ان کا تعلق پاکستان کے شہر سرگودھا سے تھا جہاں انہوں نے تمام زندگی گزاری۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 04 اپریل 2017

بھٹو صاحب نے جنرل ضیا الحق کو ان سے سینئر جرنیلوں پر ترجیح دیتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف بنا دیا۔ کئی لوگوں نے بیان کیا ہے کہ جنرل ضیا بھٹو کی بہت خوش آمد کرتے تھے اور ان سے بہت جھک کے ہاتھ ملاتے تھے۔ ایک سینئر بیوروکریٹ نے لکھا ہے کہ ایک بار بھٹو نے ان سے کہا تھا کہ فوج کے سربراہ کا اتنا جھک کے ملنا اس کے شایان شان نہیں۔ اللہ نے بھٹو کو جو کچھ اور جتنا کچھ دیا تھا اس کے نتیجے میں اگر وہ خود پسند ہو جاتے تو کچھ عجب نہیں تھا۔ البتہ سیاست کے طالب علم ، استاد اوراتنا تجربہ رکھنے کے ناتے انہیں خوش آمد سے ایسے بدکنا چائیے تھا جیسے کوا غلیل سے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 19 مارچ 2017

ہماری خواہش تھی کہ ہماری یونین کی تقریب حلف برداری میں بھٹو صاحب آتے۔ میں اور اشرف انہیں مدعو کرنے راولپنڈی گئے اور اپنے دوست رفعت پاشا کے گھر ٹھہرے جو ہمیں اپنی فوکس ویگن میں ایوانِ صدر لے کے گئے۔ صدر کے سیکریٹری تک رسائی ہوئی۔ ہماری دعوت کے جواب میں بھٹو صاحب نے شکریئے کے ساتھ پیغام بھیجا کہ وہ بہت مصروف تھے اور تجویز دی کہ ہم عبدالحفیظ پیرزادہ کو مدعو کریں۔ وزیرِ تعلیم ہونے کے ناتے سب سے زیادہ متعلقہ شخص بھی وہی تھے۔ پیرزادہ صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے بخوشی ہامی بھرلی۔ میں لاہور واپس آیا تو پاپا کی طبیعت کو مزید خراب پایا۔ چند روز بعد، 2مارچ کو، وہ انتقال کر گئے۔ ہمیں ایسا لگا جیسے ہمارے سر پہ سے چھت ہی نہیں ہٹ گئی بلکہ پاؤں تلے سے زمین بھی نکل گئی تھی۔ لیکن ہم بھرپور کوشش کرکے دنیا کے سامنے خود کو قائم رکھتے اور معمول کی زندگی گزارتے ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 01 مارچ 2017

[سرگنگارام ہسپتال، لاہور۔ کمرہ نمبر 9۔ 28مئی 1949۔ محمد سلطان کاظمی (عمر 55۔56سال، گندمی رنگ، درمیانہ بدن) بستر پہ نیم دراز۔ ان کا نوجوان پسر ناصررضا کاظمی (عمر 24 سال، سانولا رنگ، بڑی بڑی روشن آنکھیں، گٹھا ہوا جسم) کرسی پر۔]
محمد سلطان: ناصر، اپنی کوئی غزل تو سناؤ۔
ناصر: (خوشگوار حیرت سے) غزل؟ یہ غزل کا خیال کیسے آیا آپ کو؟
محمد سلطان: کیوں؟ پہلے کبھی نہیں سنی تم سے؟
ناصر: جی، سنی تو، لیکن کم ہی.... اور اس وقت آپ کی طبیعت بھی تو ٹھیک نہیں۔
 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 16 فروری 2017

میرے دوستوں کا حلقہ انتہائی محدود تھا۔ میں نے گورنمنٹ کالج سٹوڈنٹس یونین کی سیکرٹری شپ کے لیے اپنی انتخابی مہم شروع کی تو کسی نے بھی اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ سب یہ سوچ رہے تھےکہ میں کسی مرحلے پر کنارہ کش ہو جاؤں گا۔ پاپا کوالیکشن میں حصہ لینے کا بتایا تو انہیں نے سختی سے یہ ارادہ ترک کرنے کا مشورہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے میری پڑھائی میں بہت حرج ہوگا ۔ انہیں یہ بھی تشویش تھی کہ ملکی سیاست اور سیاسی جماعتوں کے تعلیمی درسگاہوں میں بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث میں کسی جھمیلے میں نہ الجھ جاؤں۔ لیکن میں اپنی ضد پہ اڑا رہا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 فروری 2017

مانچسٹر میں یہ میرا پہلا ہفتہ تھا۔ برٹش کونسل کی نمائیندہ ٹریسا ہین مَر کا دیا ہوا خط اور بینک ڈرافٹ لے کر میں یونیورسٹی کیفے ٹیریا کے بالمقابل واقع نیٹ ویسٹ بینک کی عمارت میں داخل ہوا اور قطار میں شامل ہو گیا۔ ڈرافٹ 800 پاؤنڈ کا تھا جس میں خوش آمدید، فوری ضرورت، گرم کپڑوں اور کتابوں کے الاؤنس شامل تھے۔ اس کے بعد ایک سال تک مجھے چار سو آٹھ پاؤنڈ ماہانہ ملنا تھے۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...