قانون کا خون

پاکستان ایک عجیب بستی ہے جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بیشتر اہل کار اکھڑ ، بد مزاج ، دشنام طراز اور بالعموم غیر مہذب رویوں کے حامل ہوتے ہیں ۔ اُن کے عوام سے اندازِ تخاطب میں انتہا کی فرعونیت ہوتی ہے اور اُن کی نظریں قانون کے نفاذ پر نہیں قانون کی بھینس کے دودھ پر ہوتی ہیں اور وہ اُس سے مکھن نکال کر اپنی مونچھوں کی پرورش کرتے ہیں ۔ مونچھیں پالنا برِ کوچک کے پہلوانوں اور پولیس کے سرکاری دہشت گردوں کا رویہ رہا ہے ۔
میں گذشتہ کئی دنوں سے ساہیوال میں پولیس کی کاروائی اور اُن کے طرزِ عمل کو ہونقوں کی طرح دیکھتا رہا ہوں اور تا حال یہ سمجھ نہیں سکا کہ پنجاب کی پولیس کوئی سچ مُچ کا قانون نافذ کرنے والا ادارہ ہے یا سُپاری لے کر واردات کرنے والا مافیا ۔ پولیس تو وہ طاقت ہے جو کُتے کی دم کی طرح جلیبی نما مجرموں کو جرم کے چنگل سے نکال کر معمول کی معاشرتی زندگی کی شاہراہ پر ڈال دیتی ہے ۔ پولیس خُدائی خدمت گار ہے جس کا کام لوگوں کے جان و مال کی حفاظت ہے لیکن جہاں جان و مال کے رکھوالے قاتل بن جائیں وہاں قانون بے چارہ شرم کے مارے زیرِ زمین چلاجاتا ہے ۔ اور پھر قانون کی عدم موجودگی میں پولیس اور چور مل کر جرم کا بھنگڑا ناچتے ہیں ، مل کر حرامخوری کے پکوڑے تلتے ہیں اور حرام کو ماں کا دودھ سمجھ کر اُس سے اپنے بیوی بچوں کو پالتے ہیں ۔
مذہبی افلاطونوں اور سیاسی دغا بازوں ے نے نعروں کی زبان میں پاکستان کا مطلب لا الہ الاللہ رقم کر کے اُن بے چاروں کے بازو پر امام ضامن کی طرح باندھ دیا گیا ہے جو لا الہ الاللہ کا مطلب تک نہیں جانتے ۔ اور اس بھیڑ میں گھرے لوگوں میں پولیس کا ادارہ بھی شامل ہے ۔ ہر پولیس والے کو پاکستان کے اس مطلب پر مبنی نعرہ ازبر ہے ۔ وہ قومی ترانے پر کھڑا ہونا بھی سیکھے ہوئے ہیں مگر قانون کا مطلب اُنہیں نہیں آتا ۔ وہ قانون کو مچھلی پکڑنے والی بنسی سمجھتے ہیں جس سے وہ زرِ نقد کی مچھلیاں پکڑ کر قانون کی قیمت وصول کرتے ہیں ۔
اب جب کہ ساہیوال میں ہونے والے واقعے نے پولیس کے ہدف بنا کر قتل کرنے والے کردار کو موضوعِ بحث بنا رکھا ہے ، سیاست دان اپنی اپنی ڈفلی پر اپنا اپنا راگ پیش کر رہے ہیں ۔ کوئی ماڈل ٹاؤن کی مال کونس بجا رہا ہے ، کوئی قصور کی زینب کے ریپ اور قتل کی دہائی دے رہا ہے ، کوئی عابد باکسر کی ٹرافیاں گنوا رہا ہے اور کوئی نجیب اللہ اور راؤ انوار کی پوتھی کھولے بیٹھا ہے ۔ غرضیکہ ایک طوفانِ بد تمیزی ہے جو اسمبلی کے ایوانوں سے لے کے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ہر جگہ مچا ہوا ہے ۔ لالہ ملنگ کہ رہا تھا کہ یارو ! ملک اس طرح تو نہیں چلتے۔ یہ ملک ہے یا علی بابا کی گپھا جہاں وہ اپنے چالیس ہزار چوروں کے ساتھ لوگوں کے گھروں کو لوٹتا ، ان کی جان و مال سے کھیلتا اور نظریہ ئ پاکستان کی آبرو ریزی کرتا ہے ۔
میں نے لالہ ملنگ سے کہا کہ جس کے ہاتھ میں اقتدار کی لاٹھی ہو تی ہے ،عوام نام کی بھینس اُسی کی ہوتی ہے۔ اب وہ چاہے تو اس بھینس کو دوہے یا اُسے قصاب کے ہاتھ فروخت کر کے دام کھرے کرے ۔ ساہیوال میں جو کچھ ہوا وہ طاقت کی لاٹھی کا معاملہ ہے اور تم ، میں ، غالب ، جون یا میر کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے کیونکہ قانون کی لاٹھی جب اندھوں کے ہاتھ میں ہو تو کس پر پڑتی ہے وہ اندھا بھی نہیں جانتا ۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے اخلاقی رویے کسی قوم کے مہذب ہونے کے پیمانے ہوتے ہیں لیکن افسوس کہ پاکستان میں اخلاق کا پیمانہ موجود ہی نہیں ۔ بلکہ اُن کا اندازِ تکلم میر کے کوچہ ئ جاناں والوں کی پکار کا سا ہوتا ہے :
یوں پُکاریں ہیں مجھے کوچہ ئ جاناں والے
اِدھر آ بے ، ابے او چاک غریباں والے
اور اس کے بعد غلیظ گالیاں ، تھپڑ اور اس سونے پر چھترول کا سہاگہ مگر اب چھتر کی جگہ سیدھی گولی چلتی ہے جو نہ بچے دیکھتی ہے نہ عورتیں بس چھید کرتی چلی جاتی ہے ۔ یہ ہے ہماری تہذیب جس کے بارے میں مولانا ظفر علی خان نے فرمایا تھا :
تہذیبِ نو کے مونہہ پہ وہ تھپڑ رسید کر
جواِس حرامزادی کا حُلیہ نگاڑ دے
ناگاہ مجھے اچانک یاد آیا کہ میں تو نارویجین شہری ہوں جہاں کی پولیس ساہیوال یا لاہور کی نہیں ہے ۔ ابھی دو ہفتے قبل میں ایک کیس کے سلسلے میں ایک دیسی صاحب کا ترجمان بن کر اوسلو گیا تھا ۔ پولیس افسر کے کمرے میں ترجمان اور صاحبِ معاملہ پولیس اہلکار کے سامنے آرام دہ کرسیوں پر بیٹھے تھے۔ وہ نوجوان پولیس افسر بار بار ہم سے پانی یا کافی کا پوچھ رہا تھا اور اور وقفے وقفے سے اُٹھ کر پانی کا جگ لے کر گلاس بھر رہا تھا۔ کارروائی دس بجے سے دو بجے تک جاری رہی ۔ انتہائی پرسکون ماحول میں جس نہ سخت کلامی تھی نہ تلخی اور نہ ہی گالی ۔ میں نے برف کے موسم کے بھاری بوٹ پہن رکھے تھے۔ کمرے کے اندر پاؤں کو حرارت ناقابلِ برداشت لگی تو میں نے بوٹ اتار دیے ۔اور دو گھنٹے جرابوں میں بیٹھا رہا ۔ جب کام ختم ہوا تو جوتے دوبارہ پہننے تھے لیکن مجھے لگا کہ شو ہارن کے بغیر جوتا نہیں پہن سکوں گا ۔ میں نے پولیس افسر سے کہا کہ شو ہارن میہا ہو سکتا ہے تو اس نے نفی میں جواب دیا اور کہا جوتا پہننا ہے تو میں مدد کرتا ہوں ۔ وہ میرے پاؤ ں میں آن بیٹھا ، جوتوں کو انگلیوں سے کھولا اور مجھے سہولت سے جوتے پہنا کر کہا کہ میرے والد کی جوتوں کی دکان تھی اور میں طالب علمی کے زمانے میں دکان پر سیلز مین رہا ہوں ۔ تب مجھے وہ اشتہاری گانا یاد آیا جو کبھی پاکستان میں پولیس کی شان میں تیار کیا گیا تھا کہ :
پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی
مگر میں یہ دیکھ کر افسردہ اور دل زدہ سا رہ گیا کہ میری مدد کرنے والی پولیس پاکستان کی نہیں ناروے کی ہے جو قانون کا خون نہیں کرتی۔
کاش پاکستان کی پولیس خُلقِ محمدی کے اسلحے سے لیس ہوتی اور اپنے طرزِ عمل سے قانون کی شان بڑھاتی مگر۔
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

Comments:- User is solely responsible for his/her words