سپریم کورٹ نے راؤ انوار کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست مسترد کردی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سابق سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راؤ انوار کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست مسترد کردی۔
واضح رہے کہ راؤ انوار پر نقیب اللہ محسود سمیت دیگر افراد کو کراچی میں جعلی انکاؤنٹر کے دوران قتل کرنے کا الزام ہے تاہم وہ ابھی ضمانت پر ہیں۔ راؤ انوار نے عدالت میں عمرہ کرنے اور بیرون ملک میں اپنی بیٹی کی شادی میں جانے کے لیے اپنا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست دی تھی۔
چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے راؤ انوار کی پٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے ان کے وکیل کو مخاطب کر کے سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ’راؤ انوار بری کيسے ہو گيا‘۔ جس پر وکیل نے بتایا کہ ’راؤ انوار ضمانت پر ہیں‘۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ راؤ انوار کے اہل خانہ بیرون ملک میں ہیں اور وہ ان سے ملنے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ راؤ انوار کے اہل خانہ کو بھی پاکستان بلا لیں، راؤ انوار کا پاسپورٹ ضبط کر لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’راؤ انوار نے جوان بچہ مار دیا، جب تک ٹرائل مکمل نہیں ہوتا وہ پاکستان میں ہی رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ راؤ انوار کو کیسا پکڑوایا گیا یہ ہمیں پتہ ہے۔ اور اسے دوران حراست تمام سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
جنوری 2018 میں کراچی میں نقیب اللہ محسود سمیت 4 افراد کے قتل کا معاملہ سامنے آیا تھا جنہیں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی جانب سے مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا تھا۔
جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ نقیب اللہ کے مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کا معامہ سوشل میڈیا پر سامنے آیا، جس کے بعد راؤ انوار کے خلاف ایک مہم کا آغاز ہوا۔ ابتدائی طور پر پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ شاہ لطیف ٹاؤن کے عثمان خاصخیلی گوٹھ میں مقابلے کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے تھے۔
اس وقت ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی جانب سے الزام لگایا گیا تھا کہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے افراد دہشت گردی کے بڑے واقعات میں ملوث تھے اور ان کے لشکر جھنگوی اور عسکریت پسند گروپ داعش سے تعلقات تھے۔
تاہم نقیب اللہ کے ایک قریبی عزیز نے پولیس افسر کے اس متنازع بیان کی تردید کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مقتول حقیقت میں ایک کپڑے کی دکان کا مالک تھا اور اسے ماڈلنگ کا شوق تھا۔
سوشل میڈیا پر اس مہم کے سامنے آنے کے بعد چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے واقعے کا ازخود نوٹس لیا تھا جبکہ راؤ انوار کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا تھا۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words