معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

فوری تبصرہ


  وقت اشاعت: 07 اپریل 2018

لاہور میں داتا دربار کے باہر لبیک تحریک کا دھرنا  جاری ہے اور اب اس میں ایک ہفتے کی توسیع کردی گئی ہے۔ دھرنا کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ آئیندہ جمعرات تک اگر پنجاب حکومت نے نومبر میں فیض آباد دھرنا کے خاتمہ کے لئے ہونے والے معاہدہ پر پوری طرح عمل  نہ کیا تو ملک بھر میں احتجاج   شروع کیا جائے گا۔ فیض آباد دھرنا کے موقع پر خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے اسی قسم کی اطلاعات سامنے آنے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس معاملہ کو ’مفاہمت‘ سے حل کرنے پر زور دیا تھا۔ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے اصرار کے باوجود  ذبردستی دھرنا ختم کروانے کے لئے فوجی  کمک فراہم کرنے سے گریز کیا تھا۔ اس کی بجائے پنجاب رینجرز کے سربراہ نے دھرنا ختم کروانے میں ثالث کا کردار ادا کیا اور ایک میجر جنرل کی گواہی میں وفاقی حکومت کو لبیک تحریک کی شرائط پر معاہدہ کرنا پڑا تھا، تاکہ دھرنا ختم ہو سکے۔ اب لاہور میں ویسی ہی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اگرچہ اس کی نوعیت مختلف ہے۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ حکومت اور اس کے ادارے کیوں مذہبی گروہوں کے استحصال کا شکار ہورہے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 اپریل 2018

سپریم کورٹ کے عزت مآب چیف جسٹس ثاقب  نثار  ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کے ذمہ دار ہیں۔ وہ اس عہدہ  تک  شعبہ قانون میں اپنے طویل تجربہ اور محنت کی وجہ سے پہنچے ہیں۔ انہیں اپنی سینارٹی اور اہلیت کی بنا پر ملک میں مروج طریقہ کار کے مطابق  یہ عہدہ تفویض ہؤا ہے اور اس سال کے آخر میں یہ مدت پوری ہونے کے بعد وہ بخیر و خوبی ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارنے لگیں گے۔ پھر کسی میڈیا ہاؤس یا صحافی کی نگاہ اور کان اس بات پر مرکوز نہیں ہوں گے کہ ثاقب نثار کیا کہتے ہیں اور کیا سوچتے ہیں۔  اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ چیف جسٹس کو مسلسل خبروں میں رہنے کی ضرورت ہے۔ وہ ریمارکس یا تقاریر کے حوالے سے کوئی نہ کوئی ایسی بات کہتے ہیں جنہیں شہ سرخیوں کے ساتھ  اخبارات اور  الیکٹرانک میڈیا پر نمایاں کیا جاتا ہے۔  جیسا کہ انہوں نے آج ایک بار پھر یقین دلایا ہے کہ وہ عہدہ تو چھوڑ سکتے ہیں لیکن کسی قسم کے مارشل لا کی توثیق نہیں کرسکتے۔ انہیں یہ یقین دہانی کروانے  کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔ اگر وہ اس بات کی وضاحت کرسکیں تو اس ملک کے عوام جمہوریت کے تسلسل اور آئین کی بالادستی کے معاملہ پر زیادہ مطمئن ہو سکیں گے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 اپریل 2018

سعودی عرب کے ولی عہد اور  قومی معاملات میں ’اسٹرانگ مین‘ کی حیثیت رکھنے والے  شہزادہ محمد بن سلمان نے فلسطینی علاقوں میں  یہودیوں کے بطور قوم آباد  رہنے  کے حق کو تسلیم کرنے کی بات کرکے ایک گنجلک اور مشکل بحث کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ امریکہ کے تین ہفتے کے دورہ کے دورا ن ایک جریدے ’اٹلانٹک‘ کے ایڈیٹر  جیفری گولڈ برگ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ  ’ میرے خیال میں دنیا میں کہیں بھی لوگوں کو پرامن قوم کے طور پر زندہ رہنے کا حق حاصل ہے۔  ہمیں بیت المقدس میں مسجد اقصی کے حوالے سے مذہبی تشویش ہے اور ہم فلسطینی عوام کے حقوق کے بارے میں متفکر ہیں۔ اس اصول سے قطع نظر ہمیں کسی قوم کے خلاف کوئی اعتراض نہیں ہے‘۔ سعودی ولی عہد کے اس بیان  کو اسرائیل کے بارے میں سعودی عرب کے بدلتے ہوئے رویے کی تصدیق کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ مبصر اس بیان سے یہ نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ  سعودی عرب نے فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے وجود  کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے جو مسلمہ سعودی پالیسی کے برعکس بیان ہے۔ شہزادہ محمد چونکہ شاہ سلمان کے بعد سعودی عرب کے بادشاہ بنیں گے اور خادم حرمین شریفین بھی ہوں گے ،  اس لئے اس بیان کی اہمیت دو چند ہو گئی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 03 اپریل 2018

بھارتی سیکورٹی فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں فائرنگ کرکے درجن بھر سے زائد نوجوانوں کو عسکریت پسند قرار دے کر ہلاک کردیا۔ اس کے علاوہ بھارتی فوج کے حملوں میں چار شہری اور ستر سے  زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ مشتعل مظاہرین کے حملوں اور کارروائیوں کے نتیجہ میں تین بھارتی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں ۔ اس طرح سری نگر کے جنوب میں واقعہ علاقوں میں دن بھر کی کارروائیوں میں 20 سے  زائد افراد بھارتی حکومت کی عاقبت نااندیشانہ پالیسی اور فوج کی طرف سے طاقت کے  اندھا دھند استعمال  کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کے باوجود بھارتی حکومت اس غلطی کا اقرار کرنے پر آمادہ نہیں ہے کہ کشمیری عوام کے جائز نمائیندوں کے ساتھ اکرات کرنے اور کشمیر میں بھڑکی ہوئی احتجاج کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے مسئلہ کا سیاسی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے  برعکس بھارت  مقبوضہ کشمیر کے عوام کی تحریک خود ارادی کو دہشت گردی اور پاکستان کی تخریب کاری کہتے ہوئے اصل مسئلہ سے گریز کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 01 اپریل 2018

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ دو گھنٹے طویل ملاقات کے بعد مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ ایک طرف وہ مختلف مقدمات کی سماعت کے دوران سینئر وکیلوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے یقین دہانی کروارہے ہیں کہ وزیر اعظم سے ان کی ملاقات کا صرف عدلیہ کو فائدہ ہؤا ہے کیوں کہ  حکومت نے عدالتی معاملات میں سہولت فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔  ایک مقدمہ کی سماعت پر سینئر وکیل اور پیپلز پارٹی کے رہنما سردار لطیف کھوسہ کے استفسار پر  چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ان پر اعتبار کیا جائے، عدالت  نے اس ملاقات سے کچھ نہیں کھویا بلکہ فائدہ ہی ہؤا ہے۔ انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لوگ فریاد لے کر سپریم کورٹ آتے ہیں  اور عدالت سب کی درخواستیں سنتی ہے۔ اس مکالمہ کے تناظر میں ہونے والی رپورٹنگ میں  بتایا گیا کہ چیف جسٹس نے وزیر اعظم کو فریادی قرار دیا تھا۔  یہ ملاقات اور چیف جسٹس کی وضاحت اس وقت قومی سطح پر بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 30 مارچ 2018

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائیریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے  نام نہاد ’باجوہ ڈاکٹرائن ‘ اور اٹھارویں آئینی ترمیم کے حوالے سے جنرل قمر جاوید باجوہ کے مبینہ تحفظات کے بارے میں وضاحت کی ہے۔ یہ وضاحت بروقت اور بے حد ضروری تھی۔ یہ بات خوش آئیند ہے کہ فوج کے ترجمان نے ملک کے سیاسی ماحول میں افواہ سازی کے ماحول اور قیاس آرائیوں کی روک تھام کے لئے ایک پریس کانفرنس میں یہ واضح کیا  ہے کہ باجوہ ڈاکٹرئن کا تعلق صرف عسکری اور سیکورٹی معاملات سے ہے ، اس کا ملک کے سیاسی امور سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بتایا ہے کہ فوج اٹھارویں ترمیم کے خلاف نہیں اور اس بات کو مثبت طور سے دیکھتی ہے کہ صوبوں کو زیادہ اختیارات  تفویض کئے گئے ہیں۔  تاہم ان کا کہنا ہے کہ   'سکیورٹی ایک وفاقی معاملہ ہے اور اگر صوبوں کو  وسائل اور ضروری میکانزم فراہم کئے جائیں تو وہ بھی سکیورٹی خدشات سے نمٹنے کے انتظامات کر سکتے ہیں۔ لیکن ان میں ہم آہنگی کی ضرورت ہوگی۔'

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 28 مارچ 2018

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے آج جائینٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹرز کے دورے کے دوران  چیئرمین جائینٹ چیفس آف اسٹاف جنرل زبیر محمود کو یقین دلایا ہے کہ قوم مسلح افواج کی تمام مالی ضروریات پوری کرے گی۔   اس موقع پر انہیں ملک کو لاحق  ہونے والے کسی خطرہ کی صورت میں فوج کی آپریشنل تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی جس پر وزیر اعظم نے اطمینان کا اظہار کیا۔  مسلح افواج کو وزیر اعظم کی یہ یقین دہانی ایک ایسے وقت میں کروائی گئی ہے جب ملک کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے اور گزشتہ دو ماہ کے دوران روپے کی قدر میں دس فیصد تک کمی آچکی ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ مارچ کے دوران روپے کی قدر میں چار سے پانچ فیصد تک  کمی آئی ایم ایف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے کی گئی ہے تاکہ ادائیگیوں میں عدم توازن پورا کرنے کے لئے مزید قرضہ لیا جاسکے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 26 مارچ 2018

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ دو روز کے دوران  مختلف مواقع پر گفتگو کرتے ہوئے چند ایسی باتیں کی ہیں جس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں  ہے کہ حکمران مسلم لیگ (ن) جمہوریت کو اپنی پارٹی کی کامیابی سے زیادہ اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ اسی لئے وزیر اعظم  عباسی ، نواز شریف کا  دفاع کرتے ہوئے اصرار کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ اگر ان کو سزا ہوگئی تو وہ جیل سے بھی پارٹی کی قیادت کریں گے کیوں کہ پرویز مشرف کے دور میں وہ جلاوطنی کے باوجود  پارٹی معاملات دیکھتے رہے ہیں۔ تاریخ کے جھمیلوں میں پڑنے کی بجائے وزیر اعظم  سے یہ درخواست کرنا ضروری ہے کہ  عدالت نواز شریف کو دو مختلف مواقع پر نااہل قرار دے چکی ہے ۔ پہلے انہیں 2013 کے انتخابات میں کاغذات نامزدگی میں درست معلومات نہ دینے پر نااہل قرار دیا گیا،  پھر انتخابی قانون میں ترمیم کو مسترد کرتے ہوئے انہیں پارٹی قیادت سےعلیحدہ کیا گیا۔   اس لئے شاہد خاقان عباسی اس بحث میں الجھنے کی بجائے   ملک میں جمہوری روایت کو مستحکم کرنے کے لئے کام کریں تو بہتر ہوگا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 24 مارچ 2018

یہ تو سب ہی کہتے ہیں کہ آئیے وعدہ کریں۔ تجدید عہد کریں اور یہ عزم تازہ کریں کہ اس ملک کو قائد اعظم محمد علی جناح کے خواب کی مانند سب رہنے والوں کے لئے جنت نشین بنا دیں گے۔ کیوں نہ اس دن کی تقدیس کا احترام کرتے ہوئے آج ایک سچ بولیں۔ آج یہ اعلان کریں کہ ہم سارے وعدوں سے بری ہوئے۔ آج وعدہ توڑنے کا دن ہے۔ 1940 کو اس روز جن لوگوں نے لاہور میں جمع ہو کر قرارداد پاکستان کی صورت میں ایک وعدہ اور عہد کیا تھا وہ اب سارے رخصت ہوئے۔ یا انہیں استبداد زمانہ نے ایسی ایسی تصویریں دکھا دی ہیں کہ وہ خود سوچتے ہوں گے کاش یہ زندگی تین چوتھائی صدی پیچھے دھکیل دی جائے۔ ہم اس ساعت میں موجود ہوں جب لوگوں کا ایک جم غفیر اکثریت کے استبداد سے خوفزدہ، انصاف کے حصول کے لئے ایک علیحدہ ملک کے خواب کی تشکیل کا عہد کر رہا تھا۔ بس یوں ہو کہ اس لمحہ میں ان 75 برس کے وہ سارے تجربات بھی ہمارے ساتھ ہوں جو ہم نے 1940 سے آج تک پہنچنے میں حاصل کئے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 22 مارچ 2018

انسانی حقوق کی حفاظت کے لئے فعال کردار ادا کرنے کا دعویٰ کرنے   والی پاکستان کی سپریم کورٹ اور  ہر مظلوم کی آواز پر ’قاضی الحاجات‘ بن کر موقع پر پہنچنے کا اعلان کرنے والے چیف جسٹس نے قصور کی سات سالہ زینب کےقتل کیس کے بارے میں گمراہ کن اور جھوٹی خبریں نشر کرنے پر ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام پر تین ماہ کی پابندی عائد کی ہے۔  سپریم کورٹ نے اس حوالے سے سو موٹو  کے تحت کارروائی کا آغاز کیا تھا اور سماعت کے آغاز میں ہی ملک کے اہم ترین صحافیوں اور اینکر پرسنز کو طلب کرکے ان سے اس معاملہ میں رائے طلب کی تھی۔   البتہ اب عدالت نے شاہد مسعود کی فراہم کردہ معلومات غلط ثابت ہوجانے اور بر وقت معافی نہ مانگنے پر ان کا پروگرام تین ماہ کے لئے بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس فیصلہ کے بعد ملک میں آزادی رائے اور صحافت اور صحافی کی خودمختاری کے حوالے سے سنگین سوالات سامنے آئے ہیں۔ ان میں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کیا اب سپریم کورٹ ہر جھوٹی اور غلط خبر کی تحقیقات کا فریضہ بھی سرانجام دے گی اور ڈاکٹر شاہد مسعود کی طرح غلط خبر فراہم کرنے  والے ہر صحافی اور اینکر کوطلب کرکے اسے سزا دی جائے گی۔

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...