فوری تبصرہ


  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے ایبٹ آباد میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنی پارٹی کی انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز کیا ہے۔ تاہم اس تقریر میں بھی وزارت عظمی سے نااہلی کے بعد کی جانے والی سب تقریروں کی طرح پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ، جے آئی ٹی کی تحقیقات اور عوام کے ساتھ اپنے تعلق کے حوالے سے باتوں پر زور دیا گیا۔ انہوں نے ایک بار پھر دو ٹوک الفاظ میں اس بات کو مسترد کیا ہے کہ مائنس نواز شریف فارمولا سیاسی تبدیلی لا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا نواز شریف اب ایک نظریہ کا نام ہے ، یہ نظریہ عوام کی بہبود اور بہتری کے لئے انقلای تبدیلیاں لاکر رہے گا۔ ملک میں بہت سے لوگ نواز شریف کے اس دعویٰ سے متفق نہیں ہوں گے اور بہت سے تجزیہ نگار بھی یہ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف 14 برس کے وقفہ کے بعد 2013 میں ایک بار پھر شاندار کامیابی حاصل کرکے حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے تھے لیکن وہ عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم اور وزیر داخلہ احسن اقبال کی اپیل کے باوجود رات گئے تک مظاہرین نے فیض آباد انٹر چینج پر اپنا دھرنا ختم نہیں کیا تھا۔ یہ دھرنا وزیر قانون زاہد حامد کے استعفیٰ کے لئے کیا جارہاہے ۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ انتخابی قانون مجریہ 2017 کی منظوری کے دوران جان بوجھ ختم نبوت پر ایمان رکھنے کے بارے میں حلف نامہ کو حذف کیا گیا تھا اور اس سازش میں وزیر قانون شامل تھے ، اس لئے وہ اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیں۔ حکومت نے اسے سہو قرار دیتے ہوئے ایک ترمیم کے ذریعے اس کی اصلاح بھی کرلی تھی اور کل مزید ترمیم کے ذریعے ختم نبوت پر ایمان رکھنے کا حلف نامہ اردو اور انگریزی زبانوں میں قانون کا حصہ بنایا گیا ہے۔ وزیر قانون نے اس موقع پر ختم نبوت پر اپنے غیر متزلزل یقین کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اور ان کے بچے حرمت رسول ؑ پر جان قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔ تاہم اس جذباتی تقریر کا بھی مظاہرین پر کوئی اثر نہیں ہؤا۔ قیاس ہے کہ حکومت رات کے دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کرے گی ۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے آج ایک بار پھر ملک کی اعلی ترین عدالت پر دوہرا معیار اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ناانصافی کے خلاف جد و جہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے یہ بات احتساب عدالت میں اپنے خلاف دائر مقدمات کی سماعت کے دوران اخباری نمائیندوں سے باتیں کرتے ہوئے کہی ہے۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ججوں نے ان کے خلاف پاناما کیس میں جو زبان استعمال کی ہے ، وہ وہی زبان ہے جو ان کے سیاسی مخالفین استعمال کرتے رہے ہیں۔ نواز شریف یہ باتیں پہلے بھی کرتے رہے ہیں تاہم اس بار انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ احتساب عدالت کی کارروائی انہیں سزا دلوانے کے لئے شروع کی گئی ہے۔ انہیں یہ عدالت سزا نہیں دے رہی بلکہ انہیں سزا دلوانے کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے سربراہ  اور تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے ایک شخص کے یہ الزامات سنگین ہیں اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ان شکایات کا نوٹس لینا چاہئے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

پاکستان کے پیچیدہ، مشکل اور الزام تراشی سے بھرپور ماحول میں دو اچھی خبریں موصول ہوئی ہیں جن پر اہل پاکستان سکھ کا سانس لے سکتے ہیں۔ سندھ رینجرز کے سربراہ میجر جنرل محمد سعید نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں اس بات کی تردید کی ہے کہ رینجرز گزشتہ ہفتہ کے دوران ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کے درمیان اتحاد قائم کروانے میں شامل تھی یا ایک ہی روز بعد اس مجوزہ اتحاد کا شیرازہ بکھرنے میں ان کا کوئی کردار ہے۔ اس طرح انہوں نے مصطفی کمال کے اس دعویٰ کی  تردید کی ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے ڈاکٹر فاروق ستار سے ملے تھے اور اتحاد کرنے پر آمادہ ہوئے تھے۔ اس حوالے سے دوسری اچھی خبر یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نواز شریف اور اہل خاندان کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کا ریفرنس دوبارہ کھولنے کی سماعت کرنے والے سہ رکنی بنچ کی قیادت کرنے سے انکار کردیا ہے۔ آج اس بنچ کے روبرو پہلی سماعت شروع ہوتے ہوئے جسٹس کھوسہ نے یہ کہتے ہوئے اس مقدمہ کی سماعت سے معذرت کرلی کہ وہ اس بارے میں پہلے ہی رائے دے چکے ہیں اس لئے اب اس مقدمہ کی سماعت نہیں کرسکتے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 2017

پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ساتھ انتخابی اور سیاسی اتحاد قائم کرنے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد الزام عائد کیا ہے کہ دونوں پارٹیوں کے درمیان روابط اسٹیبلشمنٹ نے کروائے تھے اور ان کا آغاز ڈاکٹر فاروق ستار کی خواہش پر ہؤا تھا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے لیڈروں سے ملاقات بھی اسٹیبلشمنٹ کے ہاں ہوئی تھی لیکن فاروق ستار پہلے سے وہاں موجود تھے۔ اس بیان سے مصطفی کمال واضح طور سے دو مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ ایک تو وہ اتحاد کی کوشش ناکام ہونے کا الزام ایم کیو ایم پر عائد کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی پارٹی اس اتحاد سے مطمئن نہیں تھی کیوں کہ ایم کیو ایم بدستور الطاف حسین کے زیر اثر ہے جو کہ ا ن کے بقول بھارتی ایجنسی ’را‘ کے ایجنٹ ہیں۔ دوسرے مصطفی کمال کی خواہش ہے کہ وہ اس ناکام کوشش کے بعد ایم کیو ایم پاکستان اور ڈاکٹر فاروق ستار کو اس کے حامیوں کی نظر میں گرا سکیں اور یہ بتائیں کہ وہ جس رہنما اور پارٹی کو نجات دہندہ سمجھتے ہیں وہ تو خفیہ اداروں کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 11 2017

پاکستان نے انسانی بنیادوں پر پاکستان میں موت کی سزا پانے والے بھارتی نیوی افسر کلبھوشن یادیو کی بیوی کو ان سے ملاقات کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس بارے میں اسلام آباد میں بھارت کے ہائی کمیشن کو مطلع کردیا گیا ہے۔ یہ ملاقات خالصتا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کروانے کا فیصلہ کیا گیا اور یہ ملاقات پاکستان میں کروائی جائے گی۔ پاکستان اس سے پہلے بھارت کی طرف سے کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دینے سے انکارکرچکا ہے ۔پاکستان کی طرف سے اس اعلان کے بعد دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان کشیدگی میں کمی کی امید کی جا سکتی ہے تاہم طرفین کو مزید خیر سگالی کا مظاہرہ کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ تصادم کی صورت حال کو ختم کرنے کے لئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی۔ بھارت میں نریندر مودی نے حکومت سنبھالنے کے بعد پاکستان کے ساتھ ضد اور اشتعال انگیزی کی پالیسی اختیار کی ہے جو پورے خطے کے لئے خطرات اور اندیشوں کا سبب بنی ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 10 2017

کل کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار اور پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے دونوں پارٹیوں کا سیاسی اور انتخابی اتحاد بنانے کا اعلان کیا۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ کراچی کے ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچانے اور شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم کراچی کی سیاست اور ان دونوں پارٹیوں کی وجہ تسمیہ جاننے والے لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ دو متحارب اور ایک دوسرے کو مہاجروں اور کراچی کے شہریوں کا دشمن قرار دینے والے دو گروہ اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر اتفاق رائے پیدا کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس طرح سال سے بھی کم مدت میں ہونے والے متوقع انتخابات سے پہلے یہ اشارے دیئے جارہے ہیں کہ اس بات کا فیصلہ صرف عوام کے ووٹ نہیں کریں گے کہ کون اسمبلیوں میں ان کی نمائیندگی کرے گا بلکہ اس کا فیصلہ ملک کے بعض با اختیار حلقے کریں گے جو کراچی یا دوسرے لفظوں میں ملک کا برا بھلا باقی سب سے زیادہ سمجھتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 2017

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اس وقت ایران کے سہ روزہ دورہ پر ہیں۔ اس دورہ کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنے کے علاوہ علاقے میں دہشت گردی کی روک تھام کے لئے تعاون کو بڑھانا بھی ہے۔ اس دورہ میں جنرل باجوہ نے ایرانی فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل محمد بغیری اور وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل امیر حاتمی سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے صدر روحانی اور وزیر خارجہ جاوید ظریف کے ساتھ ملاقات میں بھی باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ آرمی چیف ایک ایسے وقت میں یہ دورہ کررہے ہیں جب افغانستان میں قیام امن کے لئے امریکہ پرجوش اقدامات کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ محاذ آرائی کا اعلان کرتے ہوئے اسے مشرق وسطیٰ میں انتہا پسندی کے فروغ کا سبب قرار دے چکے ہیں۔ اس دوران لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری کے اچانک استعفیٰ اور سعودی عرب میں کرپشن کے الزام میں متعدد شہزادوں ، وزیروں ، سابقہ وزیروں اور سرمایہ کاروں کی گرفتاری سے پورے خطے میں تشویشناک صورت حال پیدا ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 2017

فوج نے یقین دہانی کروائی ہے، وزیر اعظم واضح کرچکے ہیں اور اب ملک کے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور موجود وزیر داخلہ احسن اقبال نے یقین دلایا ہے کہ ملک میں مارشل لاء لگنے یا ٹینکنو کریٹس کی حکومت قائم کئے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس کے باوجود اس حوالے سے قیاس آرائیوں کا سلسلہ بند ہونے کا نام نہیں لیتا۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے گزشتہ ہفتہ کے دوران لندن میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد اعلان کیا تھا کہ نواز شریف کے بعد شہباز شریف جانشین ہوں گے اور پارٹی میں وراثت کے سوال پر کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن اس بارے میں بھی چہ میگوئیوں کا سلسلہ بند ہونے میں نہیں آتا۔ اب خبر آئی ہے کہ نواز شریف رائے ونڈ میں اپنی رہائش گاہ پر پارٹی کے اہم لیڈروں سے ملاقات کررہے ہیں تاکہ اس تاثر کو ختم کرنے کے لئے واضح حکمت عملی تیار کی جاسکے کہ پارٹی کے مختلف گروہ اختلاف کا شکار ہیں اور پارٹی کے اندر قیادت کے سوال پر کھینچا تانی ہو رہی ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 2017

دنیا بھر میں مخصوص علاقوں کے لوگ علیحدگی کی تحریکیں چلاتے رہتے ہیں۔ ان تحریکوں کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں۔ عام طور پر کسی مخصوص علاقے میں جب یہ احساس تقویت پکڑتا ہے کہ حکومت ان کے ساتھ انصاف کرنے اور ان کے حصے کے وسائل فراہم کرنے میں ناکام ہو رہی ہے تو یہ مؤقف اختیارکیا جاتا ہے کہ اس وفاقی انتظام سے علیحدگی اختیار کی جائے جس سے اس علاقے کے لوگوں کو شکایات ہوتی ہیں۔ پاکستان کے صوبے بلوچستان میں بھی اس قسم کا احساس موجود ہے۔ یکے بعد دیگرے اقتدار سنبھالنے والی حکومتیں بلوچستان کے عوام کے مطالبات پر غور کرنے اور ان کی شکایات سن کر ان کا حل تلاش کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ملک کی ہر حکومت نے خواہ وہ سیاسی حکومت تھی یا فوجی ، بلوچستان میں وسائل کی دستیابی، سہولتوں کی فراہمی اور مقامی معاملات میں زیادہ خود مختاری کے مطالبات کو ’غداری‘ قرار دینے کی کوشش کی اور احتجاج کو طاقت کے زور پر دبانے کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ برس ہا برس کی سیاسی محرومی کی وجہ سے بعض عناصر نے مسلح تصادم کا راستہ بھی اختیار کیا ہے۔

مزید پڑھیں

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...