فوری تبصرہ


  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

پاکستان میں انسانی حقوق کی علمبردار اور وکیل رہنما عاصمہ جہانگیر نے حکومت کی طرف سے سوشل میڈیا کے مختلف فورمز پر اظہار خیال کرنے والے لوگوں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائی پر شدید تنقید کی ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ حکومت اگر فوج کو خوش کرنے کے لئے کوئی اقدام کرنا چاہتی ہے تو وہ اپنے بل بوتے پر کرے۔ اس مقصد کے لئے اسے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ عاصمہ جہانگیر کا یہ بیان برقت انتباہ کی حیثیت رکھتا ہے اور ملک کے قانون دانوں اور سیاست دانوں کو اس حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرنا چاہئے تاکہ ایک جمہوری معاشرہ میں شہریوں کو آزادی اظہار کا جو حق حاصل ہونا چاہئے اس پر ڈاکہ ڈالنے کی سرکاری حکمت عملی کو ناکام بنایا جا سکے۔ اس معاملہ کا تعلق کسی ایک گروہ ، سیاسی جماعت یا مذہبی و سیاسی عقیدہ سے نہیں ہے ۔ یہ ایک اصول کا معاملہ ہے اور ہر طبقہ فکر کو اس حوالے سے ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہئے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 1 دن پہلے 

دنیا کے بیشترمسلمان ملکوں کے سربراہان مملکت و حکومت سعودی عرب کی دعوت پر آج ریاض میں جمع ہیں جہاں وہ ایک اسلامی سربراہی کانفرنس میں شریک ہوں گے اور امریکہ کے صدر ٹرمپ کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے کے عزم کا اظہار کریں گے۔ یہ اجلاس اسلامی ملکوں کی فوج جسے امریکی میڈیا ’عرب یا اسلامی نیٹو‘ کا نام دیتا ہے ، کے باقاعدہ قیام کی توثیق بھی کرے گا۔ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف بھی آج صبح سعودی دارلاحکومت پہنچنے والے تھے۔ خیال ہے کہ وہ اجلاس سے خطاب کے دوران دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے پاکستانی قربانیوں کا ذکر کریں گے۔ تاہم اجلاس کی سب سے اہم دلچسپی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسلام کے بارے میں خطاب ہوگا۔ ٹرمپ گزشتہ برس اپنی انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں اور اسلام پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں لیکن اب وہ اسلام کو امن کا مذہب قرار دے کر مسلمان لیڈروں اور عوام سے اپیل کریں گے کہ سب ملک کر دہشت گردی کے خلاف کام کریں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

ایران میں صدر حسن روحانی دوسری مرتبہ ملک کا صدر منتخب ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس طرح امید کی جارہی ہے کہ ایران بیرونی دنیا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں جاری رکھے گا اور ملک میں اعتدال پسندانہ حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔ حسن روحانی کو اعتدال پسند اور روشن خیال رہنما سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس بار ایرانی عوام نے حسن روحانی کی خارجہ پالیسی اور دنیا کے ساتھ روابط بڑھانے کی حکمت عملی کی وجہ سے بڑھ چڑھ کر ان کی کامیابی میں کردار ادا کیا ہے۔ حسن روحانی کو قدامت پسند 56 سالہ ابراہیم رئیسانی کی طرف سے ذبردست مقابلہ کا سامنا تھا۔ رئیسانی پیشہ کے لحاظ سے وکیل ہیں لیکن وہ بھی عالم دین ہیں اور انہیں ملک کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے انتخاب کے دوران انہیں ملک کے قدامت پسند سیاسی گروہوں کے علاوہ خامنہ ای کی بالواسطہ حمایت بھی حاصل تھی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 3 دن پہلے 

امریکی صدر ٹرمپ اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر کل سعودی عرب پہنچ رہے ہیں جہاں وہ اسلامی ملکوں کے متعدد سربراہوں سے ملاقات کریں گے۔ اسلامی مملکتوں کے سربراہوں اور وزرائے اعظم کو شاہ سلمان نے خاص طور سے اسلامی فوجی اتحاد کے منصوبہ کو حتمی شکل دینے کے لئے مدعو کیا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف بھی سعودی عرب پہنچ رہے ہیں جہاں ان کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہ راست ملاقات بھی متوقع ہے۔ امریکی صدر نے دنیا کے مسلمانوں میں امریکہ اور اس کے نئے صدر کے ارادوں کے بارے میں غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے اپنے پہلے غیر ملکی دورے میں سب سے پہلے سعودی عرب جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات ہیں ، اس لئے وہ وہاں سے اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والے گروہوں کے خلاف جنگ منظم کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن سعودی وزیر خارجہ عادل بن احمد الجبیر اور امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے صدر ٹرمپ کے دورہ سے پہلے واضح کیا ہے کہ یہ دورہ ایران کے خلاف سعودی طاقت میں اضافہ کے نقطہ نظر سے کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف نے جاسوسی اور دہشت گردی کے الزام میں قید بھارتی نیوی افسر کلبھوشن سدھیر یادیو کی پھانسی رکوانے کے لئے بھارت کی درخواست منظور کرتے ہوئے حتمی فیصلہ تک پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روکنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی طرف سے بھارتی سفارت خانہ کو یادیو تک قونصلر رسائی نہ دینے کا فیصلہ عالمی قانون کے تحت درست نہیں تھا۔ اب عالمی عدالت انصاف اس معاملہ کی باقاعدہ سماعت کرے گی ۔ دونوں ملک اس سماعت کے دوران اپنے دلائل اور شواہد عدالت کے سامنے پیش کریں گے۔ تاہم ابتدائی سماعت میں عالمی عدالت نے پاکستان کا یہ مؤقف مسترد کردیا ہے کہ وی آنا کنونشن کے تحت یہ عدالت اس معاملہ کی سماعت کا اختیار نہیں رکھتی۔ اسی طرح پاکستان کا یہ مؤقف بھی مسترد کردیا گیا ہے کہ جاسوسی اور دہشت گردی کے الزام میں قید بھارتی شہری تک قونصلر رسائی کا حق نہیں دیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 5 دن پہلے 

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک کے بعد دوسری ایسی مشکل کا سامنا کررہے ہیں جس کا محور روس کے ساتھ ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں کے تعلقات سے ہے۔ کل شام واشنگٹن پوسٹ نے یہ دھماکہ خیز خبر شائع کرکے واشنگٹن کے سیاسی ماحول میں تہلکہ مچا دیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتہ کے دوران روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف اور سفیر سرگئی کشلیاک کے ساتھ ملاقات میں انہیں ایسی انٹیلی جنس معلومات فراہم کی تھیں جو انتہائی خفیہ تھیں اور یہ معلومات امریکہ کو اس کے ایک حلیف ملک نے فراہم کی تھیں۔ اصولی طور پر امریکی صدر کوئی بھی خفیہ ملاقات کسی کو بھی فراہم کرنے کا اختیار رکھتا ہے لیکن اس معاملہ میں ایک تو یہ معلومات روس کو بتائی گئی تھیں جسے امریکہ میں دشمن سمجھا جاتا ہے۔ دوسرے ماہرین کا کہنا کہ کسی حلیف ملک سے حاصل ہونے والی معلومات اس کی اجازت کے بغیر کسی تیسرے ملک کو بتانا درست اقدام نہیں ہو سکتا۔ اب ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ پیغام کے ذریعے اس خبر کی تصدیق کی ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ انہیں بطور صدر اس کا حق تھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 7 دن پہلے 

انسان اگر عقل کل ہوجائے تو چوہدری نثار علی خان بن جاتا ہے۔ اور اگر وہ پاکستان جیسے ملک کا وزیر داخلہ بھی بن جائے تو یا تو اس کی حماقتوں پر سر دھننے کو جی کرتا ہے یا ان سے خوف محسوس ہوتا ہے کیوں کہ اس قسم کے حاکم ماضی میں ایسے رویوں اور سماجی مزاج کو جنم دینے کی وجہ بنے ہیں جن کی وجہ سے معاشرہ میں گھٹن اور ذہنی بے راہروی پیدا ہونے کے علاوہ سماج کے ایسے مصلحین کی ایسی پوری نسل تیار ہوئی ہے جو اپنی مرضی مسلط کرنے کے لئے مشعال خان جیسے نوجوان کو قتل بھی کر سکتی ہے اور جس کے علما ببانگ دہل یہ اعلان بھی کرنے کے قابل ہوتے ہیں کہ ’ گستاخ کی سزا ۔ سر تن سے جدا‘ ۔ اس مزاج نے معاشرہ میں جو گل کھلائے ہیں ، وہ پوری قوم کے سامنے ہیں۔ ملک کے وزیر اعظم سمیت بعض رہنما کبھی کبھار ان رویوں کو سماجی برائی اور نا قابل قبول رویہ قرار دینے کی زحمت بھی کرتے ہیں لیکن ان کا یہ انتباہ بھی معاشرہ سے انتہا پسندی اور اپنا قانون خود ہی نافذ کرنے کے طریقہ کو ختم کرنے میں ناکام رہتا ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 15 مئی 2017

پاکستان پیپلز پارٹی کے معاون چیئر مین آصف علی زرادری آئیندہ انتخابات کے لئے سیاسی ہمدردیاں حاصل کرنے اور نئے ساتھی تلاش کرنے کے لئے اس وقت خیبر پختون خوا کا دورہ کررہے ہیں۔ پشاور میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بعض ایسی باتیں کہی ہیں جو ایک قومی لیڈر کو زیب نہیں دیتیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کو بیک وقت نیچا دکھانے کے لئے خیبر پختون خوا کے باشندوں کی مظلومیت پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ اس صوبے کے عوام کن صعوبتوں کا سامنا کررہے ہیں۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی باور کروانے کی کوشش کی کہ کراچی میں پختونوں کی سب سے زیادہ تعداد رہتی ہے۔ آصف زرداری نے ملک کی خارجہ پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان نے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ دشمنی کا رشتہ استوا کیا ہؤا ہے جبکہ ان کے دور میں ہر طرف امن ہی امن تھا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 14 مئی 2017

گوادر کے علاقے پشغان میں موٹر سائیکلوں پر سوار نامعلوم افراد نے سڑک کی تعمیر کا کام کرنے والے مزدوروں پر فائرنگ کرکے دس افراد کو ہلاک کردیا ہے۔ یہ حملے دو مختلف مقامات پر کئے گئے ہیں لیکن دونوں واقعات میں موٹر سائیکلوں پر سوار حملہ آور ہی ملوث تھے ۔ حملہ آوروں نے مزدوروں کے قریب آکر ان پر گولیاں برسائیں جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ بعد میں فوجی طیارے کے ذریعے میتوں کو اسپتال پہنچانے کا انتظام کیا گیا۔ بلوچستان لبریشن آرمی نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب وزیر اعظم نواز شریف چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ بیجنگ میں بیلٹ ایند روڈ فورم کے اجلاس میں شرکت کررہے ہیں۔ اس اجلاس میں متعدد ملکوں کے وزرائے اعظم اور صدور شریک ہیں۔ پاکستان اور چین اس موقع پر مزید منصوبوں کے لئے دستخط بھی کرنے والے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 مئی 2017

مستونگ میں ہونے والے دہشت گرد حملہ میں 25 افراد جاں بحق اور 40 زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کے رہنما عبدالغفور حیدری کے قافلہ کو نشانہ بنانے کے لئے کیا گیا تھا۔ وہ خود بھی اس دھماکہ میں معمولی زخمی ہوئے ہیں لیکن مستونگ میں واقعہ مدرسہ اور مسجد میں نماز کے لئے آنے والے دو درجن سے زائد لوگ جان سے گئے۔ یہ حملہ پاکستانی حکومت اور عوام کو یہ باور کروانے کے لئے کافی ہونا چاہئے کہ ملک میں دہشت گرد عناصر اب بھی پوری قوت کے ساتھ موجود ہیں اور وہ کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی صلاحیت کا مظاہرہ آج بھی کیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے آج ان دہشت گردوں کے نشانے پر وہ شخص تھا جو پاکستانی فوج اور عوام سے لڑنے والے عناصر سے ہمدردی کا اظہار کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا اور نام نہاد ’ناراض عناصر‘ کو مین اسٹریم میں واپس لانے کے لئے اقدامات کرنے کا مشورہ دیتا رہا ہے۔

مزید پڑھیں

Islamic Council Norway Fails Muslims and the Society

By hiring Nikab-wearing Leyla Hasic, Islamic Council Norway has taken a clear stand in a controversial debate. Norwegian Muslims neither are represented nor served with t

Read more

loading...