فوری تبصرہ


  وقت اشاعت: آج 17:17:51

سپریم کورٹ نے نواز شریف کو اپنے ہی نام سے قائم مسلم لیگ کی صدارت سے  علیحدہ کرتے ہوئے  سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سابق صدر کو کسی بھی سیاسی پارٹی کا سربراہ بننے کا نااہل قرار دیا  ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم سہ رکنی بنچ نے آج صبح ہی انتخابی ایکٹ مجریہ 2017 کے خلاف سماعت مکمل کی تھی۔ اس قانون کو پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی سمیت 18  درخواستوں کے ذریعے عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ نواز شریف نے اس مقدمہ میں فریق بننے سے انکار کردیا تھا تاہم مسلم لیگ (ن) نے  اپنے وکیل کے ذریعے نمائیندگی کی تھی۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل رانا وقار نے آج اختتامی سماعت میں عدالت کو بتایا تھا کہ آئین کی شق 17 کسی بھی شخص کو  سیاسی سرگرمیوں کا حق عطا کرتی ہے جسے کسی صورت واپس نہیں لیا جاسکتا۔ تاہم عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کی شق 62 اور 63 کے تحت نااہل ہونے والا کوئی شخص کسی پارٹی کا سربراہ بھی نہیں ہو سکتا کیوں کہ پارٹی کا سربراہ اہم قومی امور طے کر تا ہے۔ اس حکم کے تحت سینیٹ کے لئے مسلم لیگ ( ن) کی نامزدگیاں بھی منسوخ کردی گئی ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس فیصلہ کی وجہ سے  3 مارچ کو منعقد ہونے والے سینیٹ  کے انتخابات متاثر ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: آج 16:51:43

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے واضح کیا ہے کہ عدلیہ سمیت ملک کے سب اداروں کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے فرائض سرانجام دینے چاہئیں۔ قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پارلیمنٹ کی سب پارٹیوں سے اپیل کی کہ  عدلیہ جس طرح پارلیمانی امور میں مداخلت  کررہی ہے، اس کی روک تھام ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اصول کی بات ہے۔ یہ معاملہ کسی ایک پارٹی سے متعلق نہیں ہے بلکہ سب پارٹیوں کو اس صورت حال پر غور کرکے پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے کام کرنے کی ضرورت  ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ  خبروں کے مطابق عدالتوں میں منتخب ارکان کو چور اور لٹیرے کہا جاتا ہے۔ حکومت کے کاموں میں مداخلت کی جاتی ہے۔ اس لئے یہ طے ہونا ضروری ہے کہ قانون سازی  پارلیمنٹ کا حق ہے اور اس پر قدغن قبول نہیں کی جاسکتی۔ انہوں واضح کیا کہ امور حکومت میں عدالتوں کی مداخلت کی وجہ سے اصل نقصان ملک اور اس کے لوگوں کا ہوگا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 2 دن پہلے 

لاہور کی انسداد دہشت  گردی عدالت نے قصور کی سات سالہ زینب کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے کے الزام میں  عمران علی نامی شخص کو مختلف  دفعات کے تحت چار بار موت کی سزا دی ہے۔  پنجاب کے پراسیکیوٹر جنرل احتشام قادر نے بتایا ہے کہ  قصور میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد قتل کے دیگر دس معاملات کی تفتیش  مکمل ہونے پر زینب قتل کیس کے مجرم کے خلاف ان معاملات میں بھی  مقدمات دائر کئے جائیں گے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ  عمران کا ڈی این اے ان تمام بچوں کی لاشوں سے ملنے والے ڈی این اے سے ملتا ہے۔ اس لئے یہ قیاس کیا جارہا ہے کہ عمران ہی قصور میں گزشتہ دو برس کے دوران اغوا، جنسی تشدد اور قتل کے ان تمام واقعات میں ملوث ہے۔  عمران علی پر عائد الزامات انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں اور ایسا مجرم کسی رعایت یا ہمدردی کا مستحق نہیں ہوسکتا  لیکن اس بات کی ضمانت دینا حکومت پاکستان اور عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ ہر ملزم کے ساتھ قانون کے تقاضوں کے مطابق سلوک کیا جائے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 4 دن پہلے 

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور دیگر ججوں کی طرف سے ’نا مناسب الفاظ‘ استعمال کرنے پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیا پی سی اوکے تحت حلف لینے والے جج اب  باقی لوگوں کو اخلاقیات کا درس دیں گے۔ آج اسلام آباد میں احتساب عدالت میں پیش ہونے کے بعد اخباری نمائیندوں سے باتیں کرتے ہوئے  نواز شریف نے چیف جسٹس ثاقب نثار کے طرز تکلم کو عمران خان کے مماثل قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بتا سکتا ہے کہ جو زبان چیف جسٹس استعمال کررہے ہیں ، اس میں اور عمران خان کے الزامات سے بھرپور لب و لہجہ میں کیا فرق ہے۔ نواز شریف کی سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف یہ سخت تنقید   عدالت عظمی کی اس وارننگ کے باوجود سامنے آئی ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ عدالتوں کی توہین برداشت نہیں کی جائے گی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 6 دن پہلے 

پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی کرنے اور ہمسایہ ملکوں میں تخریبی کارروائیوں کا ذمہ دار ہونے کے الزامات کے جلو میں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے عزم کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ پاکستان ہمسایہ ملکوں  میں امن و امان کا خواہاں ہے اور  اپنی سرزمین پر  کسی ایسی سرگرمی کی اجازت نہیں دیتا جو دوسرے ملکوں میں انتشار پیدا کرنے کا سبب بنی ہو۔ انہوں نے یہ یقین دہانی کابل میں منعقد ہونے والی فوجی سربراہان کی ایک کانفرنس میں کروائی ہے جس میں امریکی فوجی لیڈروں کے علاوہ  افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک قازقستان، کرگستان، تاجکستان، ترکمنستان اور ازبکستان کے فوجی سربراہوں نے شرکت کی اور علاقے میں امن و امان کی صورت حال اور باہمی تعاون بڑھانے کے معاملات پر بات چیت کی۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 13 فروری 2018

عاصمہ جہانگیر کے انتقال کی خبر دنیا بھر میں دکھ اور افسوس سے سنی گئی ہے۔ قومی لیڈروں کے علاوہ عالمی سطح پر انسانی حقوق اور بہبود کے لئے کام کرنے والے اداروں اور افراد نے بھی عاصمہ جہانگیر کی اچانک رحلت پر گہرے رنج و الم کا اظہار کیا ہے۔ یہ بات ہر طبقہ  فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی طرف سے کی جارہی ہے کہ  عاصمہ کی اچانک  وفات سے پاکستان اپنی ایک باوقار اور طاقت ور آواز سے محروم ہوگیا ہے جس نے  انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لئے اپنی زندگی وقف کردی تھی۔    ایک فوجی آمر  کی طرف سے اپنے والد کی قید کے خلاف شروع ہونے والی جد و جہد صرف ان کے لئے انصاف کے حصول تک محدود نہیں رہی بلکہ عاصمہ جہانگیر نے  مظلوموں کی مدد کرنے اور جمہوریت کے خلاف فوجی آمریت کی چیرہ دستیوں کے سامنے کلمہ حق کہنے کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیا تھا، جس پر وہ آخری سانس تک کاربند رہیں۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 فروری 2018

موضوعات کی کمی نہیں ہے۔ قومی سیاست ہو یا عالمی معاملات، دنیا بھر میں  خبروں کی لحظہ بہ لحظہ  تبدیل ہوتی صورت حال  توجہ چاہتی ہے۔  ان پر غور کرنے اور ان کے ہماری زندگیوں پر اثرات کا جائزہ لینے  کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان  سے تعلق رکھنے والا   کا کوئی صحافی یا مبصر آج مردان میں ہونے والے مظاہرے اور  مقررین کی طرف  سے سامنے آنے والے  اس  نعرے کو کیسے نظر انداز کرسکتا ہے جس میں مشال  پر ظلم کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’ہمیں روک سکتے ہو تو روک لو‘۔  اس نعرہ کی تفصیل مقررین کی گفتگو اور اشتعال انگیز تقریروں میں بیان کردی گئی ہے۔ ہجوم کا مطالبہ بہت سادہ ہے۔ کہ عدالتوں کو بند کرکے دین کے معاملات پر فیصلے کرنے ، فتوے صادر کرنے اور سزائیں دینے کا کام ان لوگوں کے حوالے کردیا جائے۔  مشال خان کے مقدمہ کا فیصلہ چونکہ ملک کے قانون کے تحت ایک عدالت نے کیا ہے ، اس لئے مظاہرین کو وہ قبول نہیں ہے۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 09 فروری 2018

مردان کی عبد الولی خان یونیورسٹی کے  نوجوان طالب علم مشال خان  کے قاتلوں کو مختلف نوعیت کی سزائیں دی گئی ہیں۔  ہری پور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں اس  بہیمانہ قتل کے 57 ملزموں کے خلاف مقدمہ چلایا گیا تھا جبکہ اس جرم کا اصل ذمہ دار تاحال مفرور ہے۔ عدالت نے ایک شخص کو پھانسی، پانچ کو عمر قید اور 25 کو مختلف مدت قید کی سزائیں سنائی ہیں۔ سزا پانے والوں اور مقتول کے ورثا کے وکیلوں نے اس فیصلہ کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس لئے پاکستان کی تاریخ کے اس دردناک قتل کے مقدمہ کا  حتمی فیصلہ ہونے میں ابھی کافی وقت لگے گا۔ مشال خان کے والد اور دیگر اہل خانہ نے  مقدمہ میں  26 افراد کو بے گناہ قرار دے کر بری کرنے کے فیصلہ پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ مشال کے والد  اقبال لالہ کا کہنا ہے کہ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ جب ان سب کے خلاف ویڈیو کے علاوہ دیگر ثبوت موجود تھے تو انہیں کیسے رہا کردیا گیا۔

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 07 فروری 2018

پاکستان میں آج یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا۔ قومی لیڈروں ، حکومت کے ترجمانوں اور فوج کے سربراہ سمیت  ہر چھوٹے بڑے  رہنما نے آج کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔ جلسے منعقد ہوئے اور جلوس نکالے گئے۔   جلسے ہوں یا بیانات ان سب میں ایک بات مشترک ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا سلسلہ بند کرے اور کشمیریوں کو  استصواب کا حق دیا جائے۔ تاکہ یہ خطہ پاکستان کا حصہ بن جائے۔ یہ مطالبے اس سچائی کے باوجود تواتر سے کئے جاتے ہیں کہ بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے اور اس مسئلہ پر اب بات کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہے۔ نریندر مودی کی حکومت  کے دوران پاکستان کے ساتھ بھارت نے مذاکرات کا سلسلہ بند رکھا ہے اور لائن آف کنٹرول  پر  صورت حال سنگین رہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت کی موجودہ قیادت پاکستان کے ساتھ معاملات طے کرتے ہوئے کشمیر کو ایجنڈے کا حصہ بنانا نہیں چاہتی۔ 

مزید پڑھیں

  وقت اشاعت: 05 فروری 2018

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار جس پھرتی ، تندہی اور پرزور انداز میں سیاسی حملوں کا جواب دیتے ہیں ، اسے دیکھتے ہوئے چیف صاحب سے یہ درخواست کرنا غیر مناسب نہ ہوگا کہ وہ سپریم  کورٹ کو الیکشن کمیشن کے پاس سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹر کروانے پر غور کریں۔ جہاں تک اس معاملہ کے آئینی پہلو کاتعلق ہے تو وہ اس  شعبہ کے ماہر ہیں اور بطور ادارہ سپریم کورٹ آئین کی جس شق کی جیسے چاہے توجیہ و تشریح کرنے کی مجاز ہے۔ اگر ملک میں نظریہ ضرورت کے تحت یکے بعد دیگرے آئین کی خلاف ورزیوں کی اجازت دی جاسکتی ہے،  ایک فوجی حکمران کو آئین میں ترمیم کرنے کا غیر مشروط حق دیاجاسکتا ہے  اور ایک منتخب وزیر اعظم کو  قانون اور انصاف کا خون کرتے ہوئے پھانسی کے تختے پر لٹکایا جا سکتا ہے تو سپریم کورٹ کے لئے یہ کیا مشکل کام ہوگا کہ وہ آئین کی مختلف شقات اور قوم کی ضرورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے سپریم کورٹ سمیت مختلف قومی اداروں کو سیاسی جماعتوں کے طور پر کام کرنے کا استحقاق عطا کردے۔

مزید پڑھیں

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...