معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

دوہری شہریت

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 12 مارچ 2018

سپریم کورٹ آف پاکستان سینیٹ انتخابات کے بعد ایک بار پھر دوہری شہریت کے حامل ارکان کی قانونی حیثیت پر غور کررہی ہے۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران سینیٹ انتخابات کے بعد جہاں دھاندلی، ہارس ٹریڈنگ اور ارکان اسمبلی کی خریداری جیسے الزامات اور انکشافات کا اظہار ہؤا تو یہ بات بھی سامنے لائی گئی کہ نئے منتخب ہونے والے سینیٹرز میں پانچ  لوگوں کے پاس دوہری شہریت ہے۔ یعنی وہ پاکستانی شہریت کے علاوہ کسی دوسرے ملک کے بھی شہری ہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو جب سیاسی نمائیندوں کی اس ’بے ایمانی‘ کا پتہ چلا تو انہوں نے سو موٹو لیتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ان پانچ سینیٹرز کی کامیابی کا نوٹی فیکیشن جاری نہ کرنے کا حکم دیا۔ اور متعلقہ سینیٹرز کو جواب دینے کے لئے طلب کرلیا۔ اب اسی عدالت نے تبدیلی قلب کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک فوری حکم کے ذریعے ان سینیٹرز کو عبوری طور پر سینیٹ کا رکن تسلیم کرلیا ہے لیکن حتمی فیصلہ کے لئے سات رکنی نیا بنچ بنانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

اس تازہ حکم کی بو العجبی ناقابل فہم ہے۔  اگر دو ملکوں کی شہریت رکھتے ہوئے پاکستان کا کوئی سرکاری عہدہ رکھنا یا  عوامی نمائیندگی کا حق حاصل کرنا ملک کے آئین کے خلاف ہے تو سپریم کورٹ ایک عبوری اور عارضی حکم کے ذریعے مشکوک لوگوں کو سینیٹ کے رکن کے طور پر کام کرنے کی اجازت کیوں کر دے سکتی ہے۔ اگر عدالت نے اس قدر چستی کا مظاہرہ کیا تھا کہ چند روز پہلے الیکشن کمیشن کو حکم دیا گیا کہ منتخب  سینیٹرز کا سرکاری اعلان روک لیا جائے تو کسی حتمی نتیجہ تک پہنچے بغیر اب کس قانونی یا اخلاقی  بنیاد  یا کامن سنس کی رو سے یہ حکم دیا گیا ہے کہ اس  معاملہ کا فیصلہ تو نیا 7 رکنی بنچ آرام سے کرے گا لیکن فی الوقت یہ سینیٹرز عوامی نمائیندگی کا حق ادا کریں، سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں ووٹ ڈالیں اور اس سیاسی جوڑ توڑ  کا حصہ بنیں جس کے تحت تمام سیاسی پارٹیاں کسی بھی قیمت پر اپنی مرضی کا چیئرمین سینیٹ سامنے لانا چاہتی ہیں۔

سوال تو یہ ہے کہ اگر کل کلاں سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے یہ طے کیا کہ دوہری شہریت رکھنے والے اسمبلیوں یا سینیٹ کے رکن نہیں رہ سکتے تو اس دوران سپریم  کورٹ کے عارضی حکم کے تحت سینیٹ کی رکنیت کا مزا لینے والے اور فیصلوں میں حصہ ڈالنے والوں کےووٹوں سے ہونے والے فیصلوں کی قانونی حیثیت کیا ہوگی۔ یہ سوال اس لئے بھی اہمیت اختیار کرجاتا ہے کہ ابھی حال ہی میں  چیف جسٹس کی سربراہی میں الیکشن ایکٹ 2017 کے بارے میں درخواستوں کا فیصلہ کرتے ہوئے عدالت نے نواز شریف کو پاناما کیس میں نااہلی کی وجہ سے پارٹی قیادت سے بھی نااہل قرار دیا تھا ۔ بلکہ یہ انقلابی عدالتی نظیر بھی قائم کی تھی کہ نواز شریف نے 28 جولائی 2017 کی نااہلی کے بعد سے  پارٹی کے جو بھی فیصلے کئے ہیں ، وہ بھی کالعدم ہوں گے کیوں کہ  آئین کی شق 62 اور 63 کے تحت نااہل ہونے ولا کوئی شخص کوئی ایسا سیاسی فیصلہ کرنے کا بھی اہل نہیں ہو سکتا جس کے قومی سیاست پر اثرات مرتب ہوتے ہوں۔

سپریم کورٹ کےاس حکم کے بعد الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ (ن) کے صدر کے طور پر نہ صرف نواز شریف کو قبول کرنے سے انکار کردیا بلکہ ان کی صدارت کے دوران پارٹی کی طرف سے سینیٹ کے لئے کی جانے والی نامزدگیوں کو بھی مسترد کردیا گیا اور ان امیدواروں سے کہا گیا کہ وہ آزاد حیثیت میں انتخاب میں حصہ لے سکتے ہیں لیکن پارٹی امید وار کے طور پر ان کو انتخاب لڑنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اس طرح سپریم  کورٹ کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی یہ تاریخ ساز فیصلہ کیا کہ ملک  کی سیاسی  تاریخ میں  پہلی بار  سب سے بڑی سیاسی جماعت کو ایوان بالا کے انتخاب میں براہ راست حصہ لینے سے محروم کردیا گیا۔ سپریم کورٹ کے اس تاریخ ساز فیصلہ کی روشنی میں اگر عدالت کے تازہ عبوری حکم کو پرکھا جائے تو فطری طور سے یہ سوال پیدا ہوگا  کہ مستقبل میں ان  سینیٹرز کو نااہل قرار دینے کی صورت میں ان فیصلوں  کی ’قانونی‘ حیثیت کیا ہوگی جن میں ان لوگوں نے ووٹ دیئے ہوں گے۔ سینیٹ میں پارٹیوں کے درمیان گروہ بندی کی وجہ سے بعض اہم فیصلے جن میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب بھی شامل ہے ۔۔۔ محض ایک آدھ ووٹ کی برتری سے طے پاسکتے ہیں یا مسترد ہو سکتے ۔ عبوری حکم سے پہلے جسٹس اعجاز الحسن نے استفسار بھی کیا کہ اگر بعد میں یہ سینیٹرز نااہل قرار دیئے گئے تو سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئر مین کے انتخاب کا کیا بنے گا۔ اس پر چیف جسٹس نے یہ کہہ کر بات کو ٹال دیا کہ یہ پیچیدہ معاملہ  اس پر لارجر بنچ غور کرنے کے بعد تفصیلی فیصلہ کرے گا اور  پانچ سینیٹرز کے حق نمائیندگی کو تسلیم کرنے کا عبوری حکم جاری کردیا گیا۔

اس حکم کو پاناما کیس میں نواز شریف  کو نااہل قرار دیئے جانے کے فیصلہ کے تناظر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ  کو علم تھا کہ وہ ٹرائل کورٹ نہیں ہے اور نواز شریف کے خلاف بدعنوانی کے الزامات صرف الزام ہیں  جن پر عدالتی حکم کے بغیر انہیں قصور وار قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن اس کے باوجود عدالت نے قیاس، گمان اور اپنے تاثر کی بنیاد پر یہ طے کرلیا کہ وہ قصور وار ہیں لہذا ایک مشکوک جے آئی ٹی  کے نامکمل کام کی بنیاد پر دبئی کی ایک کمپنی کے ذریعے اقامہ لینے اور اس عہدہ کی تنخواہ وصول نہ کرنے کو بدیانتی اور خیانت قرار دیتے ہوئے ، انہیں وزیر اعظم کے طور پر نااہل قرار دیا گیا تھا۔ بعد میں اسی فیصلہ کو بنیاد بنا کر پارلیمنٹ کے منظور شدہ قانون کو مسترد کرتے ہوئے  نواز شریف کو پارٹی صدارت سے بھی الگ کیا گیا۔ اب یہی عدالت مشکوک سینیٹرز کو عبوری طور پر کام کرنے کا حق دے رہی ہے۔  فیصلوں میں اس تضاد کی جو بھی قانونی صراحت کی جائے لیکن  اس کی حکمت کو سمجھنا اور قبول کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس طرح ہی کے فیصلوں کی وجہ سے سپریم کورٹ پر  شریف خاندان کے ساتھ تعصب برتنے اور انصاف کے معیار پر پورا نہ اترنے کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔

الیکشن کمیشن گو کہ ایک خود مختار ادارہ ہے۔ ملک میں انتخابات منعقد کروانا اور امید واروں کی صلاحیت کے بارے میں فیصلہ کرنا اس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ لیکن سپریم کورٹ  بے دریغ الیکشن کمیشن کی خود مختاری کو نظر انداز کررہی ہے اور  الیکشن کمیشن بھی اپنے دائرہ کار کے بارے میں اصرار کرنے اور سپریم  کورٹ سے یہ درخواست کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا کہ  اسے آزادی سے کام کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ اداروں کی خود مختاری کے حوالے سپریم کورٹ کو ضامن اور محافظ کی حیثیت حاصل ہے ۔ سارے اختیارات خود اپنے ہاتھ میں لینے کا رویہ معاملات کو مشکل اور پیچیدہ بنانے کا سبب بنتا ہے۔ یہ رویہ اگر عدالت عظمیٰ کی طرف سے سامنے آئے گا تو نظام کو لاحق اندیشوں میں اضافہ ہوگا۔

اس معاملہ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ایک طرف ملک کی سپریم کورٹ  بیرو ن ملک مقیم پاکستانیوں کے حقوق کی حفاظت کرنے اور انہیں ووٹ کا حق دینے کے معاملہ پر غور کررہی ہے لیکن دوہری شہریت کے معاملہ میں ایسے ہی پاکستانی شہریوں کے  حقوق کو جرم قرار دینے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔ بلکہ تحریک انصاف کے چوہدری سرور کے اس دعوے پر کہ وہ تو 2013 سے برطانوی شہریت واپس کرچکے ہیں، یہ سوال اٹھایا گیا کہ جب ان کے بچے برطانوی شہری ہیں اور ان کا کاروبار بھی برطانیہ میں ہے تو وہ پاکستانی سیاست میں کیوں دلچسپی رکھتے ہیں۔ کسی فرد کے شہری حقوق کے حوالے سے یہ ریماکس حیران کن حد تک ناقابل فہم ہیں۔ اس سے  یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اس سوال پر سپریم کورٹ  خود واضح نہیں ہے کہ اسے کیا کرنا چاہئے ۔ پھر ایسے نازک معاملہ پر سوموٹو لے کر کون سے شہری حق کی حفاظت کرنے کا بیڑا اٹھایا گیا تھا۔

دوہری شہریت کے حوالے کوئی فیصلہ صرف سیاست میں دلچسپی لینے والے لوگوں تک ہی محدود نہیں ہونا چاہئے۔ بلکہ دوہری شہریت  رکھنے والے ججوں ، سرکاری افسروں اور دیگر اہم  عہدوں پر کام کرنے والے لوگوں کا سراغ لگانا اور ان کے بارے میں اصول طے کرنا بھی اہم ہے۔ جب تک پوری تصویر سامنے رکھتے ہوئے کوئی اصول طے نہیں ہو گا، سپریم کورٹ دوہری شہریت کے حوالے سے ٹھوکر کھاتی رہے گی۔
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...