معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

سیاسی دھول

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 05 مارچ 2018

کئی ماہ کی قیاس آرائیوں اور ان شبہات کے باوجود کہ ملک میں جمہوریت کا بستر گول کرنے کے لئے سب سے پہلے سینیٹ انتخابات کو نشانہ بنایا جائے گا تاکہ نواز شریف کو  وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کے بعد مسلم لیگ (ن) کا سیاسی راستہ مسدود کیا جاسکے، یہ انتخابات بخوبی انجام کو پہنچے۔ جوں جوں نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے خلاف اپنے مؤقف میں سختی پیدا کی، اسی کے ساتھ یہ گمان بھی کیا جانے لگا تھا کہ تصادم کے نتیجہ میں ملک میں جمہوریت کو شدید نقصان پہنچے گا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اپنے فیصلوں اور ریمارکس میں اس بات کا کھلم کھلا اظہار کرتے رہے ہیں کہ  سیاسی پارٹیوں کو ملک کے اداروں کا احترام کرتے ہوئے ہی کام کرنا ہوگا۔ اس کا اعادہ انہوں نے اس وقت بھی کیا جب ملک میں سینیٹ کے انتخاب منعقد ہورہے تھے اور مسلم لیگ (ن) یا دوسرے لفظوں میں نواز شریف کے حمایت یافتہ امید وار جیت رہے تھے۔ اب مسلم لیگ (ن) یہ انتخابات جیت چکی ہے اور نواز شریف کے عدلیہ مخالف بیانیہ میں شدت آسکتی ہے۔

چیف جسٹس نے   پنجاب کے بیوروکریٹ احد چیمہ کی  نیب کے ہاتھوں گرفتاری  کے بعد  بیوروکریسی کے احتجاج اور پنجاب اسمبلی میں نیب کے خلاف قرارد اد پر تبصرہ کرتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ کیا اب ’ سیاسی ماسٹر ‘ نیب کے بعد سپریم کورٹ کے خلاف بھی قرار داد منظور کریں گے۔ چیف جسٹس  کی طرف سے تواتر سے عدالتوں کی خود مختاری کے حوالے سے بیانات اور تبصرے سامنے آنے سے  یہ قیاس تو کیا جاسکتا ہے کہ جسٹس ثاقب نثار کو اس بات کا اندازہ ہے کہ عدالت عظمی جس طرح سیاسی مقدمات میں فعالیت اور سختی کا مظاہرہ کررہی ہے ، اس سے ملک  کی سیاست میں افراتفری پیدا ہوئی ہے۔   سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ 2017 کے معاملہ میں فیصلہ دیتے ہوئے نواز شریف کو نہ صرف پارٹی قیادت  کے لئے نااہل کیا بلکہ یہ بھی قرار دیا کہ  28  جولائی 2017 کو پاناما کیس میں نااہل ہونے کے بعد سے پارٹی کے بارے میں نواز شریف نے جو بھی فیصلے کئے ہیں ، وہ بھی کالعدم ہوں گے۔  اس قسم کے فیصلہ کی نظیر نہیں ملتی جس کے تحت ماضی میں کئے گئے فیصلوں کو تبدیل یا منسوخ کردیا گیا ہو۔

ماضی قریب میں  پرویز مشرف کے دور میں عدلیہ بحالی تحریک کے  دوران جسٹس عبدلحمید ڈوگر  نے پی سی او کے تحت حلف لے کر ملک کے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالا تھا۔ تاہم 2009 میں جسٹس افتخار چوہدرری کی بحالی کے بعد سپریم کورٹ نے اس نامزدگی کو ناجائز قرار دیا تھا اور  عدلیہ تحریک کے دوران پی سی او پر حلف لینے والے جج اپنے عہدوں سے علیحدہ کردیئے گئے تھے۔ لیکن اس فیصلہ میں بھی ڈوگر عدالت کے فیصلے منسوخ یا تبدیل نہیں کئے گئے تھے۔  پارٹی صدر کے طور پر نواز شریف کے فیصلوں کو کالعدام قرار دینے کا نتیجہ تھا کہ اس عدالتی فیصلہ کو مسلم لیگ (ن) پر سیاسی حملہ تصور کیا گیا۔ اس کے نتیجہ میں مسلم لیگ (ن)  کے امید وار سینیٹ کے انتخاب میں آزاد امیدواروں کے طور پر شریک ہونے پر مجبور ہوئے۔ اس کے باوجود آج کے انتخاب میں مسلم لیگ(ن) بلوچستان کے علاوہ ہر صوبے میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اور سینیٹ کی سب سے بڑی پارٹی بن گئی ہے۔ اسلام آباد سے پارٹی کی حمایت سے منتخب ہونے والے سینیٹر مشاہد حسین سید نے سینیٹ انتخاب کو نواز شریف کے بیانیہ پر منی ریفرنڈم قرار دیا ہے۔  نواز شریف کا بیانیہ اس وقت عدلیہ مخالف ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ملک کی اعلیٰ عدالت سیاسی فیصلے دیتے ہوئے نہ صرف انہیں انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے بلکہ ملک میں جمہوریت کا راستہ بھی کھوٹا کررہی ہے۔

سینیٹ انتخاب میں کامیابی سے مسلم لیگ (ن) نے دو باتوں کو غلط ثابت کیا ہے۔ ایک تو یہ کہ اس کی صفوں میں کوئی انتشار نہیں ہے۔ پنجاب اور قومی اسمبلی میں اس کے ارکان نے پارٹی لائن کے مطابق ووٹ دیئے ہیں۔ اس کے علاوہ اسے خیبر پختون خوا میں دو اور فاٹا کی چاروں نشستیں بھی حاصل ہوئی ہیں۔  اس طرح نواز شریف نے نہ صرف پارٹی پر اپنی گرفت کو واضح کردیا ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیا ہے کہ وہ ملکی سیاست میں غیر متعلق نہیں ہوئے ہیں۔  اگر  نواز شریف کی یہ طاقت بعض حلقوں کے لئے قابل قبول نہیں  ہے تو یہ جیت ملک میں مزید سیاسی تصادم اور انتشار کی راہ ہموار کرے گی۔   ایک طرف مسلم لیگ (ن)  پنجاب ، اسلام آباد اور کے پی کے میں اپنی پارٹی پوزیشن  کی مناسبت سے کامیاب ہوئی ہے تو دوسری طرف پیپلز پارٹی نے کے پی کے اور بلوچستان میں غیر متوقع طور پر نشستیں حاصل کرکے مبصرین کو حیران کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایم کیو ایم پاکستان میں انتشار کا فائدہ اٹھا کر بھی پیپلز پارٹی سندھ کی گیارہ میں سے دس نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

سینیٹ انتخاب سے پہلے ہارس ٹریڈنگ اور ارکان اسمبلی کو خریدنے کے بارے میں خبریں اور الزامات سامنے آرہے تھے۔ آج کے انتخاب کے بعد  نتائیج کی روشنی میں پیپلز پارٹی کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہئے کہ وہ کس طرح مختلف اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشن سے کہیں زیادہ نمائیندگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ الیکشن کمیشن کو بھی سندھ  اور خیبر پختون خوا کے علاوہ بلوچستان میں ہونے والی سیاسی  اکھاڑ پچھاڑ میں ہونے والی سودے بازی میں ملوث ارکان کا سراغ لگانے کی کوشش کرنی چاہئے۔  تاکہ مستقبل میں اس قسم کے ناجائز ہتھکنڈوں کی روک تھام ہو سکے۔

سیاسی طور پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں اپنی کامیابی کا اعلان کریں گی۔  اور پاکستان تحریک انصاف الزام تراشی کے ذریعے ان دونوں پارٹیوں کو نیچا دکھانے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ اس حوالے سے سینیٹ انتخابات کے بعد ملک میں سیاسی  دھول میں اضافہ ہی ہوگا اور اس سال کے آخر میں قومی انتخابات تک یہ سلسہ جاری رہے گا۔ تاہم نواز شریف نے سینیٹ انتخابات کے ذریعے ایک بار پھر پارٹی کے اندر اور باہر اپنے مخالفین کو حیران کیا ہے ۔ دیکھنا ہوگا کہ  انہیں اس حیرت کی کیا قیمت چکانا پڑتی ہے۔
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...