یہ ہر مشال کو ماریں گے

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 09 فروری 2018

موضوعات کی کمی نہیں ہے۔ قومی سیاست ہو یا عالمی معاملات، دنیا بھر میں  خبروں کی لحظہ بہ لحظہ  تبدیل ہوتی صورت حال  توجہ چاہتی ہے۔  ان پر غور کرنے اور ان کے ہماری زندگیوں پر اثرات کا جائزہ لینے  کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان  سے تعلق رکھنے والا   کا کوئی صحافی یا مبصر آج مردان میں ہونے والے مظاہرے اور  مقررین کی طرف  سے سامنے آنے والے  اس  نعرے کو کیسے نظر انداز کرسکتا ہے جس میں مشال  پر ظلم کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’ہمیں روک سکتے ہو تو روک لو‘۔  اس نعرہ کی تفصیل مقررین کی گفتگو اور اشتعال انگیز تقریروں میں بیان کردی گئی ہے۔ ہجوم کا مطالبہ بہت سادہ ہے۔ کہ عدالتوں کو بند کرکے دین کے معاملات پر فیصلے کرنے ، فتوے صادر کرنے اور سزائیں دینے کا کام ان لوگوں کے حوالے کردیا جائے۔  مشال خان کے مقدمہ کا فیصلہ چونکہ ملک کے قانون کے تحت ایک عدالت نے کیا ہے ، اس لئے مظاہرین کو وہ قبول نہیں ہے۔

آج ہی یہ خبر بھی شائع ہوئی ہے کہ پاک فوج کے سربراہ نے فوجی عدالتوں سے  سزا پانے والے سات دہشت گردوں کی موت کی سزا کی توثیق کردی ہے۔ لیکن سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ اگر اس ملک میں دہشت گرد پیدا کرنے کے کارخانے بند نہیں کئے جاسکتے تو دہشت گردی کے الزام میں چند لوگوں کو  موت کے گھاٹ اتارنے سے کیا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اگر اس ملک میں مذہبی دیوانگی  کا مظاہرہ کرنے والا ہر گروہ ملک کے قانون  سے مستثنیٰ ہے  اور اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس کے بارے میں جو چاہے گفتگو کرے اور کسی بھی لمحے مملکت کا پہیہ جام کردینے  کی دھمکی دے کر اپنے مطالبات منوانے کے  قابل ہو تو پھر انتہا پسندی اور قانون شکنی کا راستہ کس طرح روکا جاسکتا ہے۔ نومبر میں فیض آباد میں دھرنا دینے والوں نے جو روایت قائم کی تھی اور فوج کے تعاون سے وہ جس طرح حکومت وقت کو نیچا دکھانے میں کامیاب ہوئے تھے، آج مردان میں مذہبی  گروہوں کے اجتماع نے اپنے طور اسی سفر کا آغاز کیا ہے اور ان کے مطالبے بھی اسی اصول کے پابند ہیں کہ ’ہمیں من مانی کرنے کا حق حاصل ہے‘۔

مرادن  میں آج جن گروہوں نے مشال خان کیس  میں آنے والے فیصلہ کے خلاف احتجاج کیا ہے ، ان میں ایک ایسی جماعت کے لیڈر و کارکن شامل  تھے جو خیبر پختون خوا کی حکومت کا حصہ ہے۔ اور ایک ایسی پارٹی کے  رہنما اور کارکن بھی متحرک تھے جو وفاقی حکومت کی حامی ہے اور  مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کی قیمت عہدوں اور مراعات کی صورت میں وصول کرتی ہے۔  اس کے علاوہ ایسے مذہبی گروہ اس اجتماع کا حصہ تھے جو ختم نبوت کا نعرہ لگا کر  اس معاشرہ کے ہر اس اصول اور ضابطہ کو ماننے سے انکار کرتے ہیں، جو ایک مہذب اور قانون پسند معاشرہ کی تشکیل کے لئے ضروری ہے۔ یہ لوگ آج مشال خان کو قتل کرنے کے جرم میں سزا پانے والوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔  یعنی یہ ملک میں نافذ نظام عدل  میں اپنا مقدمہ پیش کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں بلکہ یہ متنبہ کررہے ہیں کہ اگر ان لوگوں کو رہا نہ کیا گیا جو مشال کو قتل  کرنے کے جرم میں شریک پائے گئے ہیں تو وہ ملک کا پہیہ جام کردیں گے، سپریم کورٹ کا گھیراؤ کریں گے اور حکومت کو کام نہیں کرنے دیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ  مشال کو مارنے والے اسلام کے غازی  ہیں اور آئیندہ بھی اگر کوئی مشال کی طرح  ’توہین مذہب‘ کا مرتکب ہؤا تو اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو  گزشتہ برس اپریل میں مشال کے ساتھ کیا گیا تھا۔

یہ واضح ہونا چاہئے کہ اس معاملہ میں تمام تفتیشی  و  عدالتی رپورٹوں میں یہ کہا گیا ہے کہ مشال راسخ العقیدہ مسلمان تھا اور اس نے توہین مذہب نہیں کی تھی لیکن عبدالولی خان یونیورسٹی کی سیاست میں ملوث لوگوں نے مشال خان کو اپنے عزائم کے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے اسے راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا  اور اس کے خلاف توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگا کر مشتعل ہجوم کے ذریعے مروا دیا گیا۔  اس مصدقہ تحقیقاتی  مؤقف کے مقابلہ میں مردان  میں احتجاج کرنے والے ان افواہوں  کو سچ ماننے پر اصرار کرتے ہیں جو جان بوجھ کر مشال خان کے خلاف پھیلائی گئی تھیں اور جن کے نتیجے میں  ایک نوجوان طالب علم پر حملہ کروایا گیا تھا۔ اس طرح سوال پیدا ہوتا ہے کہ  اگر کوئی گروہ توہین مذہب یا ختم نبوت کا نعرہ بلند کرتے ہوئے، جھوٹ  کو عام کرنے اور تسلیم کرنے پر مجبور  کرتا ہے تو ریاست اور اس کے شہریوں کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ کیا خاموشی اختیار کرنا ہی بہترین حکمت عملی ہے یا اس قسم کا غیر قانونی اور غیر اخلاقی نعرہ بلند کرنے والوں کی سرزنش بھی ضروری ہے۔

اس حوالے سے یہ بات  جان لینا اہم ہے کہ یہ مظاہرین صرف فیصلہ کو غلط قرار دے کر احتجاج نہیں کررہے بلکہ وہ یہ اعلان بھی کررہے ہیں کہ وہ  آئیندہ بھی توہین مذہب کا الزام لگنے کے بعد کسی  کی بھی جان لینے سے دریغ نہیں کریں گے۔  یہ لاقانونیت عام کرنے کا اعلان ہے۔ اس کی ذمہ داری دینی جماعتوں کے مقامی رہنما قبول کررہے ہیں لیکن قومی سطح پر  ملک کے مذہبی رہنما زبان دانتوں میں دبائے ہوئے ہیں اور حکومت اور عدالتی نظام بھی آنکھیں موندے یہ توقع کررہا ہے کہ نعرے لگانے والے لوگ منتشر ہوجائیں گے اور مسئلہ از خود حل ہو جائے گا۔ تاہم اس بارے میں یہ یاد دلوانے میں کوئی ہرج نہیں ہے کہ  ماضی میں ختم نبوت کے معاملہ پر احتجاج اور  تحاریک نے تشدد اور انتشار کو جنم دیا ہے۔ اس لئے یہ  امکان موجود ہے کہ مردان میں شروع ہونے والا بظاہر ایک مقامی احتجاج کچھ عرصہ کے بعد ایک قومی مسئلہ کی صورت میں سامنے آکھڑا ہو۔

اس حوالے سے ملک کے مذہبی رہنماؤں اور سیاسی قیادت سے گزارش ہی کی جاسکتی ہے۔  اسلامی نظام نافذ کرنے کا مطالبہ کرنے والے دیندار  طبقے یہ دعویٰ کرتے ہیں  شرعی نظام میں انصاف عام ہوگا اور سب کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے گا۔ ان کی بات تسلیم کرتے ہوئے یہ تو پوچھا جاسکتا ہے کہ کیا یہ انصاف ان لوگوں  کو بھی ملے گا جن پر توہین مذہب کا جھوٹا الزام عائد کرکے ہلاک کیا جاتا رہا ہے یا  جن مظلوموں کو کسی مقدمہ کے  بغیر غیر معینہ مدت کے لئے جیلوں میں بند کردیا جاتا ہے تاکہ معاشرے میں فساد پیدا نہ ہو۔ اور کیا یہ مذہبی رہنما اس بات کا جواب دینا گوارا کریں گے کہ مشال کو قتل کرنے کے لئے جس درندگی اور انسانیت سوز تشدد کا مظاہرہ کیا گیا تھا، کیا اسلامی نظام  میں سزائیں دینے کا یہی طریقہ اختیار کیا جائے گا۔  اگر اپنے  نامعلوم اہداف  کے لئے تگ و دو کرتے ہوئے  ملک کے مذہبی رہنما اس وقت اس سوال کا  واضح جواب نہیں دیں گے اور پوری قوم کو گمرہی کی طرف گامزن رہنے دیں گے تو  انہیں اس خاموشی پر اپنے رب کو تو جواب دینا ہی پڑے گا۔ علمائے دین کو یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ کیا کسی بھی قصور وار کو  الزام عائد ہونے کے بعد صفائی پیش کرنے اور اپنا دفاع کرنے کا موقع  دینے  کی کوئی روایت بھی اسلامی نظام میں موجود ہوگی یا افواہوں  پر یقین کرتے ہوئے انسا نوں کو ہلاک کرنے کے احکامات صادر ہؤا کریں گے۔ دینی رہنماؤں کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ کیا الزام عائد ہونے کے بعد فیصلہ کرنے اور سزا دینے کا اختیار مشتعل ہجوم کے ہاتھ میں رہے گا یا اس کے لئے متفقہ ضابطہ کار پر عمل کرنا ضروری ہوگا۔

ختم نبوت  پاکستان کا ایک سنگین دینی اور سیاسی مسئلہ  ہے۔ گزشتہ ستر برس میں مختلف حکومتوں نے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے  مختلف النوع مفاہمتی فارمولے اختیار کئے ہیں۔ لیکن 1973 کے آئین کے بعد سے خاموشی اختیار کرنے  کو اس سوال پر قومی سیاسی پالیسی کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔ ملک کی سیاسی قیادت کو سمجھ لینا چاہئے کہ مزید خاموشی سے یہ معاملہ سلجھنے کی بجائے بگڑنے کا اندیشہ ہے۔ اس طرح ملک میں نفرت اور خوں ریزی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ اب سیاسی قیادت کو یہ خاموشی توڑ کر ختم نبوت کے علاوہ توہین مذہب کے قوانین کے غلط استعمال کے حولے سے قومی مفاہمت پر مبنی کوئی فارمولا تلاش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل ہو سکے۔ اس فارمولے میں البتہ یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ کوئی  ریاست کسی ایک عقیدہ کو دوسرے پر  فوقیت نہیں دے سکتی اور نہ ہی ایک گروہ کو  اکثریت کی وجہ سے اقلیتی گروہوں کو ہلاک کرنے کا اختیار دیا جاسکتا ہے۔  یہ مسئلہ اب حل کرنے کی ضرورت ہے ، اس سے نظریں چرانا قومی ذمہ داری سے رو گردانی کے مترادف ہے۔  

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...