معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

پاکستان اور کشمیر

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 07 فروری 2018

پاکستان میں آج یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا۔ قومی لیڈروں ، حکومت کے ترجمانوں اور فوج کے سربراہ سمیت  ہر چھوٹے بڑے  رہنما نے آج کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔ جلسے منعقد ہوئے اور جلوس نکالے گئے۔   جلسے ہوں یا بیانات ان سب میں ایک بات مشترک ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا سلسلہ بند کرے اور کشمیریوں کو  استصواب کا حق دیا جائے۔ تاکہ یہ خطہ پاکستان کا حصہ بن جائے۔ یہ مطالبے اس سچائی کے باوجود تواتر سے کئے جاتے ہیں کہ بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے اور اس مسئلہ پر اب بات کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہے۔ نریندر مودی کی حکومت  کے دوران پاکستان کے ساتھ بھارت نے مذاکرات کا سلسلہ بند رکھا ہے اور لائن آف کنٹرول  پر  صورت حال سنگین رہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت کی موجودہ قیادت پاکستان کے ساتھ معاملات طے کرتے ہوئے کشمیر کو ایجنڈے کا حصہ نہیں بنانا چاہتی۔ 

تاہم اہل پاکستان کو اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ صورت حال صرف بھارت کی موجودہ حکومت اور اس کی سرکاری پالیسیوں کے بارے میں  ہی نہیں کہی جاسکتی۔ بلکہ کشمیریوں کی بڑی تعداد بھی ان شرائط پر پاکستان کو اس تنازعہ کا حصہ نہیں سمجھتی جو پاکستان میں مقبول عام ہیں اور جن کی بنیاد پر قومی بیانیہ یا کشمیر کے حق خود اختیاری کے لئے مہم جوئی کی جاتی ہے۔ یہ درست ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کی تحریک اور احتجاج کے دوران پاکستان کے حق میں  نعرے لگائے جاتے ہیں اور پاکستانی پرچم لہرایا جاتا ہے۔ اس قسم کی حرکتوں کو بھارتی حکومت ملک سے غداری قرار دے کر ایسے نوجونوں  کو پکڑنے اور نشان عبرت بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ جبکہ پاکستان میں اسے مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کے ساتھ ہمدردی کا اعلان سمجھ کر یہ بتانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اہل کشمیر دراصل پاکستان کے ساتھ ہیں اور کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانے کے لئے بھارتی  طاقت سے ٹکرانے کے لئے سڑکوں پر نکلتے ہیں۔

یہ دونوں تفاہیم حقیقت حال  کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں لوگ ضرور موجودہ انتظام سے تنگ ہیں اور بھارتی حکومت کے سخت اقدامات کے علاوہ سیاسی اور مالی ترغیب کے باوجود وہ موجودہ سیاسی اور انتظامی  صورت حال سے مطمئن نہیں ہیں۔ کشمیری وسیع تر خود مختاری  کے خواہشمند ہیں اور ایک بہت بڑی تعداد میں کشمیری باشندے بھارت سے آزادی بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ سمجھ لینا  بھی بہت بڑی غلطی  ہوگا کہ وہ بھارت سے آزادی پا کر پاکستان کے ساتھ  ملنا چاہتے ہیں ۔ کشمیریوں کی بڑی تعداد خود مختار مملکت کی خواہاں ہے۔ اگرچہ اس کے ساتھ ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو زیادہ علاقائی اختیار کے ساتھ بھارت کا حصہ بنے رہنے ہر آمادہ ہیں اور کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو پاکستان کے ساتھ اشتراک چاہتے ہیں۔ لیکن غیر جانبدارانہ  رائے شماری یا جائزے موجود نہ ہونے کی وجہ سے یہ کہنا مشکل ہے کہ کتنے فیصد لوگوں کی تعداد کیا چاہتی ہے۔ اس لئے بعض اشاریوں پر سیاسی مؤقف قائم کرلینا درست نہیں ہوگا۔

پاکستان کی کشمیر پالیسی اب تک وہی ہے جو 1948 میں اقوام متحدہ میں رائے شماری کی قرارداد منظور ہونے کے وقت تھی۔ اسی لئے پاکستان میں کشمیر کو اپنا حصہ قرار دیا جاتا ہے اور اس تاثر کو تقویت دی جاتی ہے گویا بھارت کشمیر پر قبضہ کے ذریعے پاکستان کے ایک حصہ پر قابض ہے ۔ لیکن یہ تفہیم تاریخی حقائق کے منافی ہونے کے علاوہ معروضی صورت حال  سے بھی مطابقت نہیں رکھتی۔ گزشتہ ستر برس کے دوران پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔ کشمیر میں اب وہ نسل آباد نہیں ہے جس نےبرصغیر میں تحریک پاکستان کے وقت پیدا ہونے والی جذباتی سیاسی کیفیت میں آنکھ کھولی تھی اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ مسلمان آبادی کے خطے کے طور پر کشمیر کا پاکستان سے الحاق ہی حقیقت پسندانہ اور ان کے مفادات کے مطابق ہوگا۔ ان برسوں میں پاکستان دو لخت ہؤا۔ اس طرح اس بنیادی اصول کو شدید نقصان پہنچا ہے کہ عقیدہ  کی بنیاد پر کوئی خطہ ایک ملک کی حیثیت سے کامیاب ہو سکتا ہے۔ سقوط ڈھاکہ  کے سانحہ نے یہ سبق سکھایا ہے کہ لوگوں کو اکٹھا رکھنے اور ایک قوم کے طور پر آگے بڑھنے کے لئے صرف عقیدہ کا ایک ہونا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے لئے  ہر طبقہ اور علاقہ کی معاشی، سماجی اور سیاسی  ضرورتوں کو بھی پورا کرنا پڑتا ہے۔  مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کی کہانی دراصل یہ پیغام دیتی ہے کہ  عقیدہ کے نام پر ایک خطہ حاصل کرنے کے باوجود ایک ہی ملک کے دو حصے اس لئے تادیر ایک ساتھ نہیں چل سکے کیوں کہ وسائل کی مساوی تقسیم اور  باہمی احترام اور اعتماد کا رشتہ استور کرنے کے لئے کام نہیں ہو سکا۔

اگر پاکستان کے اندر رہنے والے لوگوں کی بڑی تعداد اس ملک میں جاری پالیسیوں سے نالاں ہو کر اپنے لئے علیحدہ ملک حاصل کرنے پر مجبور ہوگئی تھی تو ان برسوں میں کشمیر میں پیدا ہو کر اور پروان چڑھنے والی نسلوں کے سوچنے سمجھنے اور معاملات کی تفہیم میں بھی ضرور تبدیلیاں آئی ہوں گی۔ لیکن پاکستان اپنی بھارت دشمن پالیسی اور کشمیر بن  کر رہے گا پاکستان،  کے جذباتی نعروں کی گونج میں بدلتے حالات اور پیش آنے والے واقعات کے مطابق اپنی کشمیر پالیسی کو تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہو سکا۔   اس لئے ابھی تک اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کی بات کی جاتی ہے جو دراصل اب متروک دستاویزات سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے سیاسی لیڈر کمزور رہے ہیں۔ اور ملک کی فوج کے لئے کشمیر کو بھڑکتا موضوع بنائے رکھنا، اپنی اہمیت اور قوت کو اجاگر کرنے کے لئے ضروری تھا۔ اس وقت  ملک میں جو صورت حال موجود ہے ، اس میں کوئی سیاسی لیڈر طے شدہ بیانیہ سے ہٹ کر مؤقف اختیار کرکے سیاسی موت کو دعوت دینے کا حوصلہ نہیں کرسکتا۔

اس پس منظر میں البتہ زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ملک کے سوچنے سمجھنے والے حلقوں نے بھی اس حوالے سے گفتگو کرنے یا بدلتی ہوئی صورت حال پر توجہ دلانے کے لئے کام کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ حالانکہ اس وقت پاکستان کو جن مسائل کا سامنا ہے، اس کی بنیادی وجہ بھارت کے ساتھ معاندانہ تعلقات ہیں اور ان خراب تعلقات کی بنیاد کشمیر کا معاملہ ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ پاکستان سیاسی، سماجی، معاشی اور سفارتی سطح پر جس صورت حال کا شکار ہے، اس کے ہوتے ہوئے کسی بھی خطہ کے لوگ پاکستان کا حصہ بننے پر کیوں تیار ہوں گے۔ پاکستان کے لوگ پاکستان سے بھاگنے اور دوسرے ملکوں میں پناہ لینے یا امکانات حاصل کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔ پاکستان کی ریاست اور ادارے اپنے لوگوں کی ضروریات پوری کرنے اور مختلف خطوں کے درمیان انصاف کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ تو کشمیر کے لوگ کیوں خود کو بحران اور مشکلات کا شکار ایک ریاست کا حصہ بنانے کے لئے خون  بہائیں گے۔

اہل پاکستان کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہئے کہ جب بھی کشمیر کی بات کی جاتی ہے تو اس سے مراد  صرف بھارت کے زیر انتظام کشمیر نہیں ہوتا بلکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر بھی اسی ریاست کا حصہ ہے، جو متنازعہ ہے۔ اگر بھارت نے اپنے زیر انتظام حصہ پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے تو پاکستان نے بھی نام نہاد ’آزاد کشمیر‘ کے ساتھ وہی سلوک کیا ہے۔ اگر بھارتی کشمیر میں کٹھ پتلی حکومت قائم کی جاتی ہے تو پاکستانی کشمیر میں بھی ایسی حکومتیں معرض وجود میں آتی ہیں۔ ان حالات میں پاکستان کیسے یہ دعویٰ قبول کروا سکتا ہے کہ دراصل بھارت کے زیر انتظام کشمیر ہی مقبوضہ ہے اور اس کے زیر انتظام خطہ کو آزاد کہا جائے کیوں کہ پاکستان کا یہ مؤقف ہے۔

حالات کا تقاضہ ہے کہ کسی نہ کسی سطح پر اس بات کی تحریک و کوشش کا آغاز ہو سکے کہ کشمیر کے سوال پر قومی بیانیہ فرسودہ  اور ناقابل عمل ہے۔ پاکستان کو کشمیر پالیسی پر نظر ثانی کرکے اسے حالات کے مطابق استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح کشمیریوں کو انصاف ملنے کا  امکان بھی پیدا ہوگا اور بھارت کے ساتھ دشمنی کا رشتہ بھی ختم کیا جاسکے گا۔

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...