معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

پارلیمنٹ پر لعنت

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 20 جنوری 2018

قومی اسمبلی نے بجا طور سے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید کی پارلیمنٹ کے بارے میں بدکلامی کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک میں جمہوری نظام نافذ ہے اور پارلیمان اس نظام کا مقدس ترین ادارہ ہے۔ کل لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کے رہنما طاہرالقادری کی طرف سے منعقد ہونے والی احتجاجی ریلی میں ان دونوں لیڈروں نے پارلیمنٹ پر عدم اعتماد کے علاوہ بطور ادارہ اس کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس دیئے تھے۔ پہلے شیخ رشید نے جو بلند بانگ اور اشتعال انگیز باتیں کرنے میں ملکہ رکھتے ہیں پارلیمنٹ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ۔ ان کے بعد عمران خان نے اپنی تقریر میں شیخ رشید کی باتوں کی تائد کرتے ہوئے کہا کہ جو پارلیمنٹ ایک مجرم کو پارٹی کا صدر بنادے ، میں ایسی پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتا ہوں۔ قومی اسمبلی میں سب سیاسی پارٹیوں نے عمران خان اور شیخ رشید کے اس طرز عمل کو مسترد کیا ہے۔

لاہور میں ہونے والا جلسہ دراصل اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے موجودہ حکومت کے خلاف اپنے غم و غصہ کا اظہار کرنے کے لئے منعقد کیا گیا تھا۔ بے شمار پبلسٹی اور کئی جماعتوں کی حمایت کے باوجود اس موقع پر قابل ذکر تعداد میں لوگوں کو جمع بھی نہیں کیا جاسکا۔ شاید اسی لئے سیاسی لیڈروں نے اپنی اس کمزوری پر پردہ ڈالنے کے لئے سخت ترین الفاظ استعمال کرنا ضروری سمجھا۔ شیخ رشید یا طاہر القادری جیسے لیڈروں کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ اپنی گفتگو میں کیا لب و لہجہ اختیار کرتے ہیں یا ان کی باتیں بلا جواز اور بے مقصد نعرے بازی پر مشتمل ہیں۔ لیکن اگر پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف جیسی بڑی پارٹیوں کے لیڈر بھی غیر محتاط زبان استعمال کریں گے اور تقریر کے جوش میں ہوش گنوا بیٹھیں گے تو یہ ملک میں نظام کی بہتری کے لئے باندھی جانے والی امیدوں کے لئے انتہائی مایوس کن صورت حال ہے۔ عمران خان کے علاوہ آصف علی زرداری نے بھی کل کے جلسہ میں اسی قسم کا غیر محتاط طرز گفتگو اختیار کرنا ضروری سمجھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ جب چاہیں شریف خاندان کی حکومتیں ختم کردیں گے اس کے باوجود آصف زرادری نے ملک کے جمہوری نظام کو نشانہ بنانے کی کوشش نہیں کی بلکہ اپنے غصے سے صرف شریف خاندان کو نشانہ بنایا۔

اسی طرح یہ بات بھی خوش آئیند ہے کہ پیپلز پارٹی نے عمران خان اور شیخ رشید کی گفتگو سے فوری طور پر خود کو الگ کرنا ضروری سمجھا۔ پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرادری نے عمران خان کی تقریر کے فوری بعد ایک ٹویٹ میں جمہوریت پر اپنے پختہ یقین کا اظہار کرتے ہوئے عمران خان کی الزام تراشی کو مسترد کردیا تھا۔ اسی طرح آج قومی اسمبلی میں جب ان دونوں لیڈروں کی طرف سے پارلیمنٹ کو بطور ادارہ مطعون کرنے کی مذمت کے لئے اجلاس منعقد ہؤا تو اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے اس کی بھرپور حمایت کی اور اپنی تقریر میں عمران خان اور شیخ رشید کے الزامات اور دشنام طرازی کو مسترد کردیا۔ ملک میں سیاسی تصادم کی موجودہ فضا میں پیپلز پارٹی اور اس کے رہنماؤں کا یہ طرز عمل خوش آئیند ہے اور اس بات کی ضمانت فراہم کرتا ہے کہ ذمہ دار سیاسی جماعتیں باہمی اختلافات کے باوجود نظام لپیٹنے اور جمہوریت کو گالی دینے کی کوشش نہیں کرتیں۔

عمران خان ملک میں برسر اقتدار آکر انصاف کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں اور اپنے حامیوں کو ’ نئے پاکستان‘ کے خواب دکھاتے ہیں۔ لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر نظر آتے ہیں کہ وہ ایک سیاسی لیڈر ہیں جو ملک کے آئین کے تحت قائم جمہوری پارلیمانی نظام میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہیں بطور لیڈر اگر میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اہمیت دی جاتی ہے تو اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ان کی پارٹی 2013 کے انتخابات میں قومی اسمبلی میں تین درجن نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی اور خیبر پختون خوا میں ان کی پارٹی مخلوط حکومت قائم کرسکی تھی۔ اس طرح ان کی سیاسی توقیر کی وجہ عوام کی حمایت اور انہیں حق نمائیندگی تفویض کرنا ہے۔ لیکن اس حق نمائیندگی کا ہی تقاضہ ہے کہ وہ دوسرے منتخب نمائیندوں اور پارٹیوں سے اختلاف کرتے ہوئے بھی اس بات کا احترام کریں کہ انہیں بھی لوگوں نے ووٹ دیئے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کو ووٹ دینے والے ایک کروڑ سے زائد لوگ بھی اسی ملک کے شہری ہیں اور انہیں بھی ان لوگوں میں شامل ہونا چاہئے جن کو انصاف دلانے کے لئے عمران خان دن رات شریف خاندان کو تنقید اور گالم گلوچ کا نشانہ بناتے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما کو یہ باور کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ انصاف کسی ایک شخص ، طبقہ، گروہ، لیڈر یا پارٹی تک محدود نہیں ہو سکتا۔ اگر عمران خان پاکستان کے شہریوں کو انصاف فراہم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں یہ بھی یقینی بنانا ہوگا اور سمجھنا ہوگا کہ جس طرح کوئی عام آدمی انصاف کا حقدار ہے اسی طرح نواز شریف کو بھی انصاف ملنا چاہئے۔ اس مقصد کے لئے ملک کے عدالتی نظام پر یقین کرتے ہوئے یہ انتظار کرنا ضروری ہے کہ عدالتوں میں الزامات ثابت ہوں اور کسی غلطی کی سزا دی جائے۔ یہ بات ریکارڈ کا حصہ اور خاص طور سے عمران خان کے پیش نظر رہنی چاہئے کہ نواز شریف کو ابھی کسی مقدمہ میں قصور وار قرار دے کر سزا نہیں دی گئی۔ الزامات کی حد تک وہ ضرور ملک کے سب سے بدعنوان لیڈر ہیں لیکن یہ الزام خواہ نیب عائد کرے یا عمران خان پریس کانفرنسوں میں اس کا ڈھنڈورا پیٹتے رہیں جب تک شفاف عدالتی نظام میں انہیں کسی گناہ کی سزا نہیں دی جاتی ، نواز شریف یا کسی بھی شہری کو ’مجرم‘ قرار دینا بد اخلاقی اور انصاف کی بنیادی تفہیم کے خلاف ہے۔ عمران خان کو یہ بات یقینی بنانا ہوگی کہ وہ جب انصاف کی بات کرتے ہیں تو وہ کسی ایک خاندان یا بعض لوگوں سے انتقام لینے کو ’انصاف‘ قرار دینے کی غلطی کے مرتکب نہ ہوں ورنہ ان کی قیادت ملک کو ایک سنگین بحران کی طرف لے جانے کا سبب بنے گی۔

قومی لیڈر اور ملک کے اقتدار کی خواہش رکھنے والے لیڈر کے طور پر عمران خان سے یہ توقع بھی کی جاتی ہے کہ وہ متوازن اور حقائق پر مبنی بات کریں ۔ سیاسی مخالفین کو ضرور نشانہ بنائیں لیکن ان کی اصل طاقت ان کا منشور اور اصلاح کے لئے ان کی پارٹی کا پروگرام ہونا چاہئے۔ دیگر پارٹیوں کی طرح عمران خان بھی یہ تو بتاتے ہیں کہ کس نے کیا غلط کیا لیکن یہ بتانے پر صلاحیت صرف نہیں کرتے کہ وہ کس طرح ملک کو درپیش مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان کی حکومت کس طرح ماضی میں پیپلز پارٹی یا موجودہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے مختلف ہوگی۔

بدقسمتی کی بات ہے کہ عمران خان نے قومی اسمبلی کی قرار داد کے بعد اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے اس پر اصرار کیا ہے اور نام لے کر الزام عائد کئے ہیں کہ فلاں فلاں کی چوری کی وجہ سے پارلیمنٹ بدنام ہوئی ہے۔ لیکن عمران خان کو سوچنا چاہئے کہ پالیمنٹ کا حصہ تو وہ خود بھی ہیں۔ جب وہ پارلیمان کو گالی دیتے ہیں تو نشانے پر ملک کی جمہوریت اور آئین کے علاوہ وہ ذاتی طور پر خود بھی ہوتے ہیں۔ خود پر لعنت بھیجنے والے لیڈر سے قوم کسی بھلائی کی کیا امید کرسکتی ہے۔
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...