معزز صارفین ہماری ویب سائٹ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو ویب سائٹ دیکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں شکریہ

انصاف اور سیاست

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 08 جنوری 2018

عہدے سے حاصل اختیار کے بل بوتے پر اپنا ذاتی قد اونچا کرنے کی کوشش کرنے والا نہ تو نیک نام ہو سکتا ہے اور نہ ہی تاریخ اسے اچھے الفاظ سے یاد کرتی ہے۔ ایسے لوگوں کی باتیں اور اقدامات دراصل اپنے اقتدار کے فروغ یا ذاتی تشہیر کی درپردہ شدید خواہش کا پرتو ہوتے ہیں ۔ اسی لئے وہ فلاح عامہ کا کوئی کام کرنے میں بھی ناکام رہتے ہیں۔ ایسے لوگ جب بھی عہدہ کو ذاتی تشہیر اور سرخروئی کا سبب بناتے ہیں تو اس سے چند حلقوں کی طرف سے واہ واہ کے ڈونگرے تو برسائے جا سکتے ہیں جس سے ذاتی انا کی تسکین کا سامان مہیا ہو سکتا ہے لیکن یہ افراد اپنے اداروں کے لئے بھی شرمندگی اور ناکامی کا سبب بنتے ہیں کیوں کہ وہ اپنا اصل کام چھوڑ کر اس کام کو کرنے کے درپے ہوتے ہیں جس کا اختیار نہ تو قانون و آئین انہیں دیتا ہے اور نہ ہی وہ جس کی اہلیت اور صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ اصول اگر ملک میں فوجی سربراہی سے حاصل ہونے والے اختیار کی بنیاد پر اقتدار پر قبضہ کرنے والے جرنیلوں پر لاگو ہوتا ہے تو ججوں کی کرسیوں پر بیٹھنے والے منصف بھی اس کی زد میں آتے ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے فلاح عامہ کے مختلف سو موٹو معاملات کی سماعت کرتے ہوئے جو حکم جاری کئے اور جو ’لیکچر‘ دینے کی کوشش کی ، اس سے سپریم کورٹ کی طرف سے انصاف فراہم کرنے اور سب کو بلاتخصیص قانون کے سامنے جوابدہ کرنے سے زیادہ اس بات کا گمان ہوتا ہے کہ وہ جج سے زیادہ مصلح قوم کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ اور اب انہوں نے یہ قصد کرلیا ہے کہ جو کام سیاستدان نہیں کرسکے ، وہ بہر حال انہیں انجام تک پہنچا کر دم لیں گے ۔ اسی لئے ان کے قلم سے کوئی اعلیٰ پائے کے فیصلے تو سامنے نہیں آرہے لیکن ان کے تبصروں اور زبانی دھمکی آمیز انتباہ سے سنسنی کی صورت حال ضرور پیدا ہورہی ہے۔ ملک کے عوام کو متعدد بنیادی سہولتیں فراہم نہیں ہیں۔ اس کی وجہ جزوی طور پر سیاستدانوں کی نااہلی اور نوکر شاہی کی لاپرواہی بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کی بنیادی اور اہم ترین وجہ ملک کے معاشی معاملات ہیں۔ مالدار ٹیکس دینے کے لئے تیار نہیں ہیں اور حکومت ٹیکس کا کوئی ایسا نظام متعارف کروانے میں کامیاب نہیں ہوتی جو ملک کی کالی معیشت کو کم کرسکے اور زیادہ سے زیادہ تجارتی اور مالی لین دین سرکاری کنٹرول میں لایا جا سکے۔ تاکہ ٹیکس اور محاصل سے حاصل آمدنی میں اضافہ ہو سکے۔

یہ ایک پیچیدہ، گنجلک اور سنگین مسئلہ ہے۔ ماضی میں اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے بندوق کے زور پر اقتدار سنبھال کر چار فوجی جرنیل زور آزمائی کرچکے ہیں لیکن نہ تو لوگوں کو کوئی سہولت حاصل ہوئی، نہ ملک کا نظام درست ہو سکا اور نہ سیاستدانوں کو ’ایماندار‘ بنایا جا سکا۔ بلکہ تاریخی تجربات اس بات کے شاہد ہیں کہ ان ادوار میں ہی دراصل سیاست اور مالی بدعنوانی کا تال میل شروع ہؤا تھا کیوں کہ فوجی سرکار کو اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے سرمایہ داروں کی دولت اور سیاست دانوں کے تعاون کی ضرورت ہوتی تھی۔ کچھ ایسے ہی جذبہ سے ایک فوجی آمر کو ’انکار‘ کرکے قومی ہیرو بننے والے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے بھی قومی معاملات کو درست کرنے اور بے لگام سیاستدانوں کو مزا چکھانے کا عزم کیا تھا ۔ لیکن عہدے کی مدت پوری ہونے کے بعد اب وہ اپنی ہی سیاسی جماعت کے ذریعے قیادت کا منصب پانے کی خواہش پال رہے ہیں ۔ اور پوی قوم ان فیصلوں کا نتیجہ بھگت رہی ہے جو انہوں نے عوام کی محبت اور قوم کی سرخروئی کے لئے کئے تھے۔ فوجی جرنیل ہو یا عدالت کا جج ، وہ جب بھی اپنا کام چھوڑ کر ایسا کام کرنے کی کوشش کرے گا جو نہ تو اس کا شعبہ ہو اور نہ ہی اسے اس پر دسترس و مہارت حاصل ہو تو ناکامی ہی اس کا مقدر ٹھہرتی ہے۔ سیاست کا شوق جرنیلوں کی طرح جج حضرات بھی ریٹائر منٹ کے بعد پورا کرسکتے ہیں لیکن انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر سیاست کرنے کا انجام اچھا نہیں ہو سکتا۔

آج جسٹس ثاقب نثار نے پنجاب میں صاف پانی کی فراہمی، صحت اور تعلیم کے مسائل کے علاوہ ملک میں میڈیکل تعلیم کے معیار اور نجی میڈیکل کالجوں میں ہوشربا فیسوں کے حوالے سے مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے بعض احکامات دیئے ۔ تاہم وہ اپنی باتوں اور تبصروں سے دھمکانے اور لیکچر دینے کی زیادہ کوشش کرتے رہے ۔ انہوں نے پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں فیس کی حد چھ لاکھ 42 ہزار مقرر کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر اس حکم کی خلاف ورزی ہوئی تو وہ ملک کے تمام پرائیویٹ میڈیکل کالج بند کردیں گے۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی ہے کہ غریب کے بچے بھی ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں۔ اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے چیف جسٹس سے یہ تو ضرور پوچھا جا سکتا ہے کہ ملک میں ساڑھے چھ لاکھ روپے فیس دے کر کون سے غریب خاندان کا بچہ تعلیم حاصل کرنے کی سکت رکھتا ہے۔ جس ملک میں ایک تہائی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو اور ملک کے نوجوانوں کو ۔۔۔ خواہ وہ پڑھے لکھے ہوں یا ان پڑھ ۔۔۔ روزگار نہ تو میسر ہو اور نہ ہی اس کے امکانات ہوں، وہاں کون سا غریب چیف جسٹس کے مقررہ معیار کے مطابق اپنے بچے کو ڈاکٹر بنانے کی حیثیت رکھتا ہے۔ چیف جسٹس قانون کے مطابق کسی بھی نجی یا سرکاری ادارے کی گرفت کریں اور غلط کام پر سزا دیں لیکن معاشی بحران اور معاشرتی عدم توازن کا نام لے کر سیاسی بیان جاری کرنے کا کام سیاست دانوں پر چھوڑ دیں تو خود ان کے وقار اور احترام کے لئے بہتر ہوگا۔

ملک میں پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کی بھرمار اس لئے ہوئی ہے کہ ڈاکٹر بننے کے بعد روزگار ملنے کا یقین ہوتا ہے۔ ملک کے علاوہ عالمی منڈیوں میں ڈاکٹروں کی مانگ ہے۔ اب اگر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ’غریبوں کی ہمدردی‘ میں تمام نجی میڈیکل کالج بند کردیں گے تو سوال پیدا ہوگا کہ تمام اداروں کے خلاف بلاتخصیص ایک حکم جاری کرنے کا اختیار انہیں کون سے قانون کے تحت حاصل ہے۔ ہر شخص اپنے فعل کا خود ہی ذمہ دار ہے۔ اس لئے قانون گناہگار کو سزا دیتا ہے، اس کے پورے خاندان کو پابند سلاسل نہیں کرتا۔ اسی طرح ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے متنبہ کیا ہے کہ اگر پنجاب میں صحت اور تعلیم کی صورت حال بہتر نہ ہوئی تو ’میں اورینج لائن سمیت تمام ترقیاتی منصوبوں کو بند کردوں گا‘۔ چیف جسٹس کو خود ہی یہ سمجھ لینا چاہئے کہ انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر وہ اپنی انا کے غلام نہیں ہوتے بلکہ قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔ اس لئے ایسا کلام کرنے سے پہلے اس کے مضمرات پر غور کرنا بہتر ہوگا۔ صحت اور تعلیم کی سہولتیں صرف پنجاب میں ہی نہیں بلکہ ملک کے چپے چپے میں فراہم ہونے کی ضرورت ہے۔ لیکن کیا ترقیاتی کاموں کو روک دینے سے یہ سہولتیں عام ہو جائیں گی۔ اگر ایسا ممکن ہے تو بسم اللہ کیجئے سب سے پہلے سی پیک کے منصوبوں پر کام روکئے۔

چیف جسٹس صاحب آگاہ ہوں تو بہتر ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کو روکنے سے ناقابل برداشت مالی نقصانات ہو سکتے ہیں۔ اور بالآخر یہ قیمت انہی غریب عوام کو ادا کرنا پڑے گی جن کے بچوں کو ڈاکٹر بنوانے کے لئے جسٹس ثاقب نثار پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کو بند کروانے پر تلے ہوئے ہیں۔ اسی طرح یہ نکتہ بھی پیش نظر رہے تو عنایت ہوگی کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ ملک کے غریبوں کو اس وقت سب سے پہلے روزگار حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ تب ہی وہ بچوں کو تعلیم بھی دلوا سکیں گے اور اہل خانہ کے بیماروں کو علاج فراہم ہو سکے گا۔

ملک کے حالات پر سب کا دل کڑھتا ہے لیکن اگر جج حضرات ان حالات پر تبصرے اور تقریریں کرنے کی بجائے قانون پر عملداری کو یقینی بنائیں تو بہتر ہوگا۔ کیوں کہ تقریر تو محلے کا ملا اور علاقے کا سیاستدان بھی شب و روز کرتا ہے۔
 

آپ کا تبصرہ

Donald Trump's policy towards Pakistan

Donald Trump's; the president of US war of tweets was a fierce attack on Pakistan, accusing the country of "lies and deceit" and making "fools" of US leaders. Trump decla

Read more

loading...