بیت المقدس

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 7 دن پہلے 

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانہ کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ مؤخر کیا ہے اور اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ دنیا بھر سے سامنے آنے والے احتجاج کی وجہ سے شاید سفارت خانہ منتقل کرنے کے اقدام سے باز رہیں۔ امریکی میڈیا نے گزشتہ ہفتہ کے دوران خبر دی تھی کہ ٹرمپ اپنا انتخابی وعدہ پورا کرنے کے لئے دسمبر کے شروع میں ا مریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کرنے والے ہیں۔ تاہم ٹرمپ کے مشیر اور یہودی العقیدہ داماد جیرڈ کشنر نے گزشتہ روز بتایا تھا کہ ابھی اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ یورپین یونین کے علاوہ فلسطینی انتظامیہ اور اسلامی تعاون تنظیم نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امکان پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے۔ 28 رکنی یورپین یونین نے واضح کیا ہے کہ اس قسم کے یک طرفہ فیصلہ کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے حوالے دشواریوں میں اضافہ ہو جائے گا۔

اسرائیل نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں دیگر عرب علاقوں کے علاوہ بیت المقدس پر بھی قبضہ کیا تھا۔ تاریخی اہمیت کا حامل یہ شہر مسلمانوں ، عیسائیوں اور یہودیوں کے لئے یکساں طور سے اہم ہے اور وہاں ان تینوں عقائد کے مقدس مقامات موجود ہیں۔ فلسطینی قیادت یہ واضح کرتی رہی ہے کہ بیت المقدس مستقبل میں قائم ہونے والی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہوگا۔ جبکہ اسرائیل بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت قرار دیتا ہے اور سرکاری دفاتر وہاں منتقل کردیئے گئے ہیں۔ تاہم اسرائیل کو تسلیم کرنے والے حتیٰ کہ اس کی سرپرستی کرنے والے امریکہ نے بھی بیت المقدس کو متنازعہ علاقہ مانتے ہوئے اسے اسرائل کا دارالحکومت تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی سفارت خانے وہاں منتقل کئے گئے ہیں۔ البتہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران یہودی ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ صدر بننے کے بعد بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیں گے اور امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کردیا جائے گا۔ اب انتخابی مہم کے دوران روس کے ساتھ ساز باز کے سوال پر سیاسی دباؤبڑھنے کے بعد وہائٹ ہاؤس کی طرف سے یہ اشارے دیئے گئے تھے کہ صدر ٹرمپ امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کرنے والے ہیں۔

ان خبروں پر دنیا بھر سے سخت رد عمل دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکہ کے راوئیتی یورپی حلیف ملکوں نے اس فیصلہ کے نتائج کے بارے میں متنبہ کیا ہے اور امریکی صدر کو اس قسم کا متنازعہ اور اشتعال انگیز فیصلہ کرنے سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ فرانس کے صدر ایمینیول میکران نے اس معاملہ پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بیت المقدس کے مستقبل کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ اسرائیل اور فلسطینی رہنماؤں کے درمیان بات چیت سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم نے بھی اس معاملہ پر سخت انتباہ دیتے ہوئے قرار دیاہے کہ ایسا امریکی فیصلہ عرب اور مسلمان ملکوں کے خلاف علی الاعلان جارحیت کے مترادف ہوگا۔ تنظیم نے اپنے 57 رکن ملکوں سے کہا ہے کہ اگر کوئی ملک ناجائز طور سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو تمام ممالک اس سے سفارتی تعلقات منقطع کرلیں۔

اس تنظیم کی رسمی حیثیت اور عرب ملکوں کے امریکہ پر انحصار کی وجہ سے اس بات کا امکان نہیں ہے کہ امریکی ناگوار فیصلہ کے بعد مسلمان یا عرب ملکوں کی اکثریت اس قسم کا انتہائی اقدام کرنے کا حوصلہ کرسکے گی۔ خاص طور سے صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ اشتراک میں اضافہ کیا ہے اور اس کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ میں ایران کے خلاف محاذ آرائی کی منصوبہ بندی بھی کی جارہی ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے انتہا پسندی سے نمٹنے اور سعودی عرب کی معاشی حالت بہتر بنانے کے لئے جو اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے، ان میں اسرائیل کے ساتھ تعاون بڑھانے کے امکانات کا حوالہ بھی دیا جاتا رہا ہے۔ یہ خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں کہ دونوں ملکوں کے نمائیندوں کے درمیان درپردہ ملاقاتوں کا سلسلہ کافی عرصہ سے جاری ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے اسرائیل اور سعودی عرب انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بھی کرتے ہیں۔

اس پس منظر ہی کی وجہ سے سعودی عرب نے امریکہ سے آنے والی خبروں پر تشویش کا اظہار بھی وزارت خارجہ کے غیر اہم ترجمان کے ذریعے کرنا کافی سمجھا ہے۔ اس کے برعکس اسلامی تعاون تنظیم کی اس وقت صدارت کرنے والے ترکی کے صدر طیب اردوان نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کل ٹیلی ویژن پر اپنی پارٹی کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے بیت المقدس کی حیثیت کو مسلمانوں کے لئے ’ریڈ لائن ‘ قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اس حوالے سے کوئی غلط فیصلہ کیا تو ترکی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرلے گا۔ ترکی نیٹو کا رکن ہے اور امریکہ کا اہم حلیف ہے۔ اس لئے امریکہ کی خواہش رہی ہے کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات استوار ہوں۔ اس طرح مسلمان ملکوں میں اسرائیل کو تسلیم کروانے کی مہم میں بھی مدد ملتی ہے۔ 2010 میں غزہ کے لئے امداد لے جانے والے ترک امدادی جہاز پر اسرائیلی حملہ کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات خراب ہوگئے تھے جو کافی مشکل سے بحال ہو سکے ہیں۔ صدر اردوان فلسطینی ریاست کے شدید حامی ہیں۔

ان حالات میں صدر ٹرمپ کی طرف سے اگر بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان ہوتا ہے تو اس سے فلسطینی علاقوں میں بے چینی اور احتجاج دیکھنے میں آئے گا تاہم یہ بات ممکن نہیں ہے کہ مسلمان یا عرب ممالک امریکہ جیسی سپر پاور کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا انتہائی اقدام کریں۔ مسلمان ملکوں کے اسی کمزور رویہ اور بے اصولی کی وجہ سے فلسطین ، کشمیر ، میانمار کے روہنگیا اور دیگر علاقوں میں مشکلات کا شکار مسلمانوں کے کسی مسئلہ کا کوئی باعزت حل تلاش کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...