دورہ پاکستان

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 05 2017

امریکہ کے وزیر دفاع جیمز ماتھس ایک روزہ دورہ پر سوموار کو اسلام آباد پہنچیں گے جہاں وہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کریں گے۔ یہ دورہ اگست میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے نئی افغان پالیسی کے تناظر میں بے حد اہمیت رکھتا ہے ۔ صدر ٹرمپ نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے پاکستان کے بارے میں سخت مؤقف اختیار کیا تھا اور اور اسے اپنی پالیسی تبدیل کرنے کی درپردہ دھمکی دی تھی۔ اس کے برعکس بھارت کے بارے میں امریکی صدر کا لب و لہجہ خوشگوار تھا اور انہوں نے نئی دہلی سے افغانستان کے ترقیاتی منصوبوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ پاکستان میں اس پالیسی کے حوالے سے سخت رویہ اختیار کیا گیا تھا۔ پاکستانی حکام نے امریکہ پر واضح کردیا ہے کہ وہ ’ڈو مور‘ کے تقاضے پورے کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لئے امریکی خواہش اور ضرورت کو سمجھتا ہے اور اس بارے میں تعاون بھی کرنا چاہتا ہے لیکن وہ دھمکی اور دباؤ کی پالیسی کو قبول نہیں کرتا۔

جیمز ماتھس کے دورہ اسلام آباد کے دوران بھی ایک دوسرے کی پوزیشن کو سمجھنے اور اپنے مؤقف کو درست ثابت کرنے کی کوشش دیکھنے میں آسکتی ہے۔ تاہم اس دورہ سے حالات میں کسی ڈرامائی تبدیلی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی سخت الفاظ پر مبنی تقریر کے بعد اگرچہ امریکی حکام نے اپنا لب و لہجہ نرم کیا ہے اور پاکستان کو بعض رعائیتیں دینے کی کوشش بھی کی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے ۔ واشنگٹن بدستور یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کی پشت پناہی کرتا ہے اور طالبان سے اس کے مراسم ہیں۔ پاکستان ان دونوں الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی فوج نے آپریشن ضرب عضب اور آپریشن رد الفساد کے ذریعے ملک میں تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف یکساں قوت سے کارروائی کی ہے اور اب ملک میں کسی دہشتگرد گروہ کا کوئی ٹھکانہ موجود نہیں ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے پاکستان پر الزام تراشی کے ذریعے سفارتی فضا خراب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان سمجھتا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی جاتی ہے اور اکثر صورتوں میں اس کارورائی میں شامل دہشت گرد بھی سرحد پار سے ہی آتے ہیں۔ کل ہونے والی ملاقاتوں میں خاص طور سے گزشتہ روز پشاور کے ایگری کلچر انسٹی ٹیوٹ پر حملہ کا حوالہ بھی دیا جائے گا۔ یہ خوں ریزی کرنے والے دہشت گرد براہ راست افغانستان میں موجود اپنے سرپرستوں سے رہنمائی لے رہے تھے۔

پاکستان کو امریکہ سے یہ گلہ بھی ہے کہ وہ افغانستان میں خوں ریزی روکنے کے لئے تو پاکستان کی مدد کا خواہشمند ہے لیکن اس کے ساتھ ہی بھارت کو افغانستان میں پاؤں جمانے کا موقع فراہم کرتا رہا ہے۔ اس طرح بھارت افغان سرزمین سے پاکستان میں تخریب کاری کرنے والے گروہوں کی امداد اور تربیت کرنے میں کامیاب ہے۔ امریکہ نے اس شکوہ شکایت کا براہ راست جواب دینے سے گریز کیا ہے ۔ اس کا کہنا کہ وہ اس علاقے میں سب ملکوں کے ساتھ میرٹ کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے۔ بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات متاثر نہیں ہو سکتے۔ امریکی وزیر دفاع بھی اسی مزاج اور رویہ کے ساتھ ہی اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ جیمز ماتھس کا کہنا ہے کہ پاکستان خود دہشت گردی سے شدید نقصان اٹھا چکا ہے ۔ اس لئے دہشت گرد گروہوں کے خاتمہ کا سب سے زیادہ فائدہ اسی کو ہوگا۔ اس اصول پر پاکستان کو بھی کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن امریکہ کی افغانستان میں حکمت عملی کے حوالے سے دونوں ملکوں میں اختلاف واضح ہے۔

امریکہ چاہتا ہے کہ وہ افغانستان میں طالبان کے خلاف کارروائی میں اضافہ کرے اور پاکستان اپنے علاقوں میں افغان طالبان کو پناہ دینے سے گریز کرتے ہوئے انہیں یہاں سے مار بھگانے کے لئے فوجی کارروائی کرے۔ ٹرمپ حکومت کا خیال ہے کہ اس طرح طالبان کو سیاسی مذاکرات اور مصالحت پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کا دوٹوک مؤقف ہے کہ صرف ان عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے جو مصالحت کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان سمجھتا ہے کہ طالبان کے خلاف سترہ برس کی فوجی کارروائی میں کامیابی حاصل نہیں کی جاسکی۔ اس لئے اب یہ تسلیم کرلینا چاہئے کہ اس تنازعہ کا صرف سیاسی حل ہی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے جنگ جوئی ، تصادم ، دھمکی اور انتقام کی باتیں کرنے کی بجائے مفاہمت اور سیاسی حل پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

کل کی ملاقاتوں میں اگرچہ امریکی وزیر دفاع پاکستان سے تعاون بڑھانے کے لئے دباؤ ڈالیں گے لیکن پاکستان اپنی پوزیشن پر اصرار کرے گا۔ امریکہ یہ سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہے کہ افغانستان میں بھارت کا کردار محدود کئے بغیر امریکہ پاکستان کا اعتماد جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ بھارت لائن آف کنٹرول پر مسلسل جارحیت کا ارتکاب کررہا ہے۔ نریندر مودی حکومت نے ہر سطح پر پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے سے انکار کیا ہے۔ اب وہ افغان سرزمین میں اثر و رسوخ کے ذریعے پاکستان کو حصار میں لینے کی کوشش کررہا ہے۔ پاکستان اس صورت حال میں سخت دباؤ کا سامنا کررہا ہے اور اسے قومی سلامتی کے حوالے سے شدید اندیشے لاحق ہیں۔ امریکہ کو افغانستان میں امن کے لئے پورے خطے کی صورت حال کو سمجھتے ہوئے حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی۔ جب تک وہ اپنی غلطیوں کو دہرانے پر اصرار کرتا رہے گا، پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات بھی مشکلات اور بحران کا شکار رہیں گے۔

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...