اچھی خبریں اور شبہات

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 5 دن پہلے 

پاکستان کے پیچیدہ، مشکل اور الزام تراشی سے بھرپور ماحول میں دو اچھی خبریں موصول ہوئی ہیں جن پر اہل پاکستان سکھ کا سانس لے سکتے ہیں۔ سندھ رینجرز کے سربراہ میجر جنرل محمد سعید نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں اس بات کی تردید کی ہے کہ رینجرز گزشتہ ہفتہ کے دوران ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کے درمیان اتحاد قائم کروانے میں شامل تھی یا ایک ہی روز بعد اس مجوزہ اتحاد کا شیرازہ بکھرنے میں ان کا کوئی کردار ہے۔ اس طرح انہوں نے مصطفی کمال کے اس دعویٰ کی  تردید کی ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے ڈاکٹر فاروق ستار سے ملے تھے اور اتحاد کرنے پر آمادہ ہوئے تھے۔ اس حوالے سے دوسری اچھی خبر یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نواز شریف اور اہل خاندان کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کا ریفرنس دوبارہ کھولنے کی سماعت کرنے والے سہ رکنی بنچ کی قیادت کرنے سے انکار کردیا ہے۔ آج اس بنچ کے روبرو پہلی سماعت شروع ہوتے ہوئے جسٹس کھوسہ نے یہ کہتے ہوئے اس مقدمہ کی سماعت سے معذرت کرلی کہ وہ اس بارے میں پہلے ہی رائے دے چکے ہیں، اس لئے اب اس مقدمہ کی سماعت نہیں کرسکتے۔

یہ دونوں خبریں اس لحاظ سے اہم ہیں کہ ملک کے سیاسی معاملات میں اداروں کی مداخلت کے حوالے سے بہت دھول اڑائی جارہی ہے۔ اب ملک کے دونوں اہم اداروں کی طرف سے سیاست اور ادارہ جاتی معاملات کو علیحدہ کرنے کے اعلان سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ فوج یا سپریم کورٹ سیاست میں مداخلت کی کسی پالیسی پر عمل پیرا نہیں ہیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آج مقدمہ کی سماعت سے گریز کرکے سپریم کورٹ کی نیک نیتی اور اپنی غیر جانبداری پر اٹھنے والے بہت سے سوالات کو ختم کرنے کی مؤثر کوشش کی ہے۔ ان کا یہ فیصلہ قابل قدر ہے اور یہ اس کی روشنی میں امید کی جاسکتی ہے کہ عدالت عظمی مستبل میں سیاسی معاملات پر فیصلے دیتے ہوئے سیاسیت اور قانون کے تقاضوں کے درمیان فرق کو واضح کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کے احکامات یا ججوں کے ریمارکس سے یہ قیاس نہ ہو کہ جج کسی خاص سیاسی یا اخلاقی نقطہ نظر کی حمایت کررہے ہیں یا کوئی خاص ایجنڈا آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

پاناما کیس کے حوالے سے آنے والے فیصلوں ، ریمارکس اور احکامات سے اس قسم کی رائے قائم کرنا آسان ہو گیا تھا۔ یوں لگنے لگا تھا کہ سپریم کورٹ بھی ملک کی سب سے بڑی پارٹی کی قیادت کے خلاف فریق کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ تاہم جسٹس کھوسہ کے دانشمندانہ اقدام سے اس تاثر کو زائل کرنے میں مدد ملے گی۔ البتہ سپریم کورٹ کی انتظامیہ کو مستقبل میں مزید احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہوگی تاکہ ایسے ججوں کو ان مقدمات کی سماعت پر مقرر نہ کیا جائے جو اس حوالے سے پہلے ہی واضح رائے کا اظہار کرچکے ہوں۔ جسٹس کھوسہ نے آج حدیبیہ پیپر ملز کے مقدمہ کی سماعت سے انکار کرتے ہوئے یہی بات واضح کی ہے کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے انہیں بنچ میں شامل کرتے ہوئے پاناما کیس میں ان کا فیصلہ نہیں پڑھا تھا ورنہ وہ اس کیس کے حوالے سے ان کی رائے جاننے کے بعد انہیں اس بنچ کا حصہ نہ بناتے۔ الزام تراشیوں اور قیاس آرائیوں سے بھرپور سیاسی ماحول میں اس قسم کی احتیاط بے حد ضروری ہے۔ اسی طرح اداروں کا احترام اور ان پر اعتماد برقرار رہ سکتا ہے۔

سندھ رینجرز کی طرف سے کراچی کی سیاسی صورت حال میں کردار کے حوالے سے وضاحت بھی اہم ہے کیوں کہ پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ اتحاد ٹوٹنے کے بعد واضح کیا تھا کہ یہ اتحاد اسٹیبلشمنٹ کی کوششوں اور ڈاکٹر فاروق ستار کی خواہش کی وجہ سے قائم کیا گیا تھا۔ میجر جنرل محمد سعید نے اس بیان کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ رینجرز کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ کراچی میں مختلف سیاسی گروہوں کے درمیان تصادم کو روکا جاسکے۔ اسی طرح انہوں نے اس دعوے کو بھی مسترد کیا ہے کہ گزشتہ برس ایم کیو ایم پاکستان رینجرز سندھ کے سابق سربراہ جنرل بلال اکبر کے دفتر میں قائم کی گئی تھی۔ میجر جنرل محمد سعید نے بتایا ہے کہ رینجرز سیاسی جماعتیں بنانے یا توڑنے کا کام نہیں کرتے۔ ان کا مقصدامن و امان بحال رکھنا اور لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کرنا ہے۔ تاہم انہوں تسلیم کیا کہ مختلف سیاسی دھڑے رینجرز کے ذریعے بات چیت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اس امکان کو قبول کیا کہ ایسے مذاکرات کے دوران کسی فوجی افسر نے اپنی اس رائے کا اظہار کیا ہو کہ اگر دونوں جماعتیں اکٹھی ہو جائیں تو یہ بہتر ہوگا۔  البتہ انہوں نے اسے سیاسی معاملات میں مداخلت ماننے سے انکار کیا ہے۔

یہ بات اب سندھ رینجرز یا سیاسی معاملات طے کروانے میں ملوث دیگر عسکری اداروں کے علم میں بھی آگئی ہوگی کہ اس قسم کے کردار کو سیاست دان، میڈیا یا عام لوگ مختلف انداز میں دیکھ سکتے ہیں اور ایسی معلومات کی من مانی توضیح کرکے مرضی کے نتائج اخذ کرسکتے ہیں۔ اس طرح یہ تاثر قوی کیا جاتا ہے کہ ملک میں بدستور ملک کی فوج ہی چھوٹے بڑے سیاسی فیصلے کرنے، جماعتوں کو ملانے اور توڑنے یا حکومت بنانے یا اس حوالے سے مدد فراہم کرنے کا سب سے مؤثر ادارہ ہے۔ یہ خبریں یا اس حوالے سے کی جانے والی قیاس آرائیاں کس حد تک درست یا غلط ہیں، اس کی مکمل تصویر کبھی سامنے نہیں آتی۔ ملک میں تسلسل سے یہ کہنے والے سیاستدان اور صحافی موجود ہیں کہ فوج ہی ملک کی اصل سیاسی قوت ہے۔ جب سندھ رینجرز کے سربراہ سیاسی اتحاد کے لئے اثرانداز ہونے کی تردید کرتے ہوئے یہ مان لیتے ہیں کہ رینجرز سیاسی رابطوں اور ان مذاکرات میں رائے دینے میں ملوث رہے ہیں تو اس قیاس کو یکسر مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ فوج کے ادارے سیاسی معاملات میں دلچسپی لیتے ہیں اور اپنی مرضی کے گروہوں کی سرپرستی بھی کرتے ہیں۔

ان ’غلط فہمیوں ‘ کی بیخ کنی کے لئے یہ ضروری ہے کہ فوج کا کوئی بھی ادارہ سیاسی گروہوں سے روابط کو محدود کرے ۔ حکومت کی حد تک یہ رابطے کئے جاتے ہیں اور باقی گروہوں کو برسر اقتدار پارٹیوں کے ذریعے پیغام رسانی بھی کی جا سکتی ہے۔ لیکن مختلف سیاستدانوں اور پارٹیوں سے رابطوں کے نتیجے میں سیاست میں فوج کی دلچسپی کے بارے میں شبہات برقرار رہیں گے۔ اول تو یہ ملاقاتیں ہونی نہیں چاہئیں یا پھر انہیں خفیہ نہیں ہو نا چاہئے۔ ایسے مواقع پر میڈیا کو بھی مدعو کیا جائے تاکہ کسی قسم کے شک کی گنجائش باقی نہ رہے۔ اور میڈیا بھی بے سر و پا خبروں کو نشر و شائع کرنے سے باز رہے۔ 
 

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...