اسٹیبلشمنٹ کون

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 7 دن پہلے 

پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ساتھ انتخابی اور سیاسی اتحاد قائم کرنے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد الزام عائد کیا ہے کہ دونوں پارٹیوں کے درمیان روابط اسٹیبلشمنٹ نے کروائے تھے اور ان کا آغاز ڈاکٹر فاروق ستار کی خواہش پر ہؤا تھا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے لیڈروں سے ملاقات بھی اسٹیبلشمنٹ کے ہاں ہوئی تھی لیکن فاروق ستار پہلے سے وہاں موجود تھے۔ اس بیان سے مصطفی کمال واضح طور سے دو مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ ایک تو وہ اتحاد کی کوشش ناکام ہونے کا الزام ایم کیو ایم پر عائد کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی پارٹی اس اتحاد سے مطمئن نہیں تھی کیوں کہ ایم کیو ایم بدستور الطاف حسین کے زیر اثر ہے جو کہ ا ن کے بقول بھارتی ایجنسی ’را‘ کے ایجنٹ ہیں۔ دوسرے مصطفی کمال کی خواہش ہے کہ وہ اس ناکام کوشش کے بعد ایم کیو ایم پاکستان اور ڈاکٹر فاروق ستار کو اس کے حامیوں کی نظر میں گرا سکیں اور یہ بتائیں کہ وہ جس رہنما اور پارٹی کو نجات دہندہ سمجھتے ہیں وہ تو خفیہ اداروں کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔

مصطفی کمال، فاروق ستار اور ایم کیو ایم کو کراچی کے عوام کی نگاہوں میں گرانا چاہتے ہیں کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی موجودگی میں پاک سرزمین پارٹی کو کراچی کے عوام میں قبولیت نصیب نہیں ہو سکتی۔ اس لحاظ سے یہ ہتھکنڈہ بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت بدھ کے روز پاک سرزمین پارٹی اور ایم کیو ایم کا اتحاد کروانے کی کوشش کی گئی تھی۔ تاہم اس اتحاد میں پہلی دراڑ خود مصطفی کمال نے ہی ڈال دی تھی جب انہوں نے کہا تھا کہ نئی پارٹی کا نام ایم کیو ایم نہیں ہو سکتا اور یہ کہ وہ صرف کراچی کے مہاجروں کے نمائندے نہیں ہیں۔ کراچی کے مہاجر وں تک یہ بات یوں پہنچی کہ مصطفی کمال ان کے حقوق کی بات کرنے اور ان کے مسائل کو حل کروانے کے لئے تیار نہیں ہیں لیکن ان کے ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ پاک سرزمین پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان مہاجر ووٹ بنک تک ہی رسائی چاہتی ہیں لیکن مصطفی کمال کو غلط فہمی ہے کہ وہ الطاف حسین کو غدار قرار دے کر اور ایم کیو ایم کو مطعون کرکے یہ مقصد حاصل کرسکتے ہیں۔ جبکہ فاروق ستار کے لئے یہ سوال پیدا ہو گیا تھا کہ اگر وہ مصطفی کمال کے ایجنڈے پر صاد کہتے ہیں تو ان کا ووٹر ان سے بھی ناراض ہو کر کسی تیسری سیاسی قوت کی طرف رخ کرسکتا تھا۔ اس لئے انہوں نے پہلے تو سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا پھر یک بیک واپس آکر پاک سرزمین پارٹی سے اتحاد ختم کرکے اپنی سیاست اور پارٹی کو سنبھالنے کی کوشش کی ۔

کراچی میں ہونے والے اس سیاسی تماشہ کا ڈراپ سین تو بہت جلد ہو گیا اور اب مصطفی کمال نے اس بات کی تصدیق بھی کردی ہے کہ یہ سارا ڈرامہ کس قوت کے کہنے پر رچایا گیا تھا۔ اگرمصطفی کمال یہ اقرار نہ بھی کرتے تو بھی یہ واضح تھا کہ کراچی کے دو مخالف سیاسی دھڑے یک بیک کیوں کر ایک ہونے اور دوبارہ مل کر سیاسی سفر کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا ایک واضح اشارہ پاک فوج کے سابق سربراہ اور ملک کے سابق فوجی حکمران نے اس وقتی سیاسی اتحاد کا فوری خیر مقدم کرتے ہوئے بھی دیا تھا۔ اور اتحاد کے خاتمہ کی خبر آتے ہی یہ کہنا بھی ضروری سمجھا کہ وہ ایک قومی لیڈر ہیں اور صرف کراچی کی پارٹی کی قیادت کرنا ان کی شان کے خلاف ہے۔ سمجھنے والے ان دونوں بیانات سے پوری کہانی سمجھ گئے تھے کہ کس طرح ایک سیاسی ڈھونگ رچانے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔ تاہم مصطفی کمال کا بیان اگرچہ ڈاکٹر فاروق ستار اور ایم کیو ایم کو ناقابل اعتبار ثابت کرنے کی کوشش ہے تاکہ ان پر سیاسی دباؤ برقرار رکھا جا سکے اور ایک بار پھر گھیر کر اسی بندھن میں باندھنے کی کوشش کی جائے جس سے وہ رسی تڑا کر بھاگنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن اس افراتفری میں وہ یہ اقرار کرنے پر مجبور ہوگئے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر سیاست کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کون ہے۔ اس حوالے سے مریم نواز نے بھی آج اپنے ٹویٹ پیغامات میں اس پراسرار قوت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ ہر کوئی نواز شریف نہیں کہ وطن کی محبت میں اداروں کی پردہ داری کرتا رہے‘۔ مریم نواز کے دعوے اور مصطفی کمال کے بیان کی روشنی میں انہیں سے یہ پوچھنا مناسب ہوگا کہ وہ بتا دیں کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کون ہے کہ جس کے کہنے پر فاروق ستار ہو یا مصطفی کمال سر کے بل حاضر ہونے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ کیا اس کا کوئی نام بھی ہے یا یہ بے چہرہ لوگوں کا کوئی افسانوی کردار ہے۔ مصطفی کمال جن لوگوں کے کہنے پر فاروق ستار سے ملنے گئے تھے ، وہ کون تھے اور یہ ملاقات کہاں طے ہوئی تھی۔ اگر وہ اپنی حب الوطنی کے ثبوت کے طور پر یہ بتانے پر آمادہ ہو سکیں تو پھر فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور سے یہ پوچھا جا سکے گا کہ یہ کون لوگ ہیں جو ملک میں سیاسی پارٹیوں کو متحد کروانے یا لڑوانے کا کھیل، کھیل رہے ہیں ۔ فوج تو کہتی ہے کہ وہ آئین کی پابند ہے اور سیاست سے اس کا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...