کلبھوشن یادیو

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 11 2017

پاکستان نے انسانی بنیادوں پر پاکستان میں موت کی سزا پانے والے بھارتی نیوی افسر کلبھوشن یادیو کی بیوی کو ان سے ملاقات کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس بارے میں اسلام آباد میں بھارت کے ہائی کمیشن کو مطلع کردیا گیا ہے۔ یہ ملاقات خالصتاٌ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کروانے کا فیصلہ کیا گیا اور یہ ملاقات پاکستان میں کروائی جائے گی۔ پاکستان اس سے پہلے بھارت کی طرف سے کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دینے سے انکارکرچکا ہے ۔ پاکستان کی طرف سے اس اعلان کے بعد دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان کشیدگی میں کمی کی امید کی جا سکتی ہے تاہم طرفین کو مزید خیر سگالی کا مظاہرہ کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ تصادم کی صورت حال کو ختم کرنے کے لئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی۔ بھارت میں نریندر مودی نے حکومت سنبھالنے کے بعد پاکستان کے ساتھ ضد اور اشتعال انگیزی کی پالیسی اختیار کی ہے جو پورے خطے کے لئے خطرات اور اندیشوں کا سبب بنی ہوئی ہے۔

کلبھوشن یادیو مبینہ طور پر گرفتاری کے وقت بھارتی نیوی کے کمانڈر کے عہدے پر فائز تھے، گزشتہ برس مارچ میں بلوچستان کے علاقے ماشخیل سے گرفتار کئے گئے تھے۔ ان پر پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزام میں فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔ اس سال اپریل میں انہیں جاسوسی اور تخریب کاری کے الزام میں موت کی سزا دی گئی تھی جس کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے تصدیق بھی کردی تھی۔ تاہم عالمی عدالت انصاف نے بھارت کی درخواست پر مداخلت کرتے ہوئے اس سزا پر عمل درآمد روکنے کا حکم دیا تھا۔ عالمی عدالت نے پاکستان کا یہ مؤقف تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا کہ عدالت کو اس معاملہ پر غور کرنے یا کوئی فیصلہ صادر کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اب عالمی عدالت انصاف میں حتمی فیصلہ تک پاکستان کلبھوشن کی پھانسی کی سزا مؤخر رکھنے کا پابند ہے۔

بھارت اس بات سے انکار کرتا ہے کہ کلبھوشن یادیو پاکستان میں جاسوسی کے لئے گیا تھا یا اسے پاکستان میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ یادیو ایران میں کاروباری سلسلہ میں مقیم تھا اور پاکستانی ایجنٹوں نے اسے وہاں سے اغوا کیا تھا۔ کلبھوشن کے قبضہ سے پاکستانی اہلکاروں کو جو پاسپورٹ ملا تھا اس پر اس کا نام حسین مبارک پٹیل لکھا تھا۔ اس طرح بھارت کا مؤقف اس حد تک کمزور ثابت ہوتا ہے کہ کلبھوشن ایک عام شہری تھا اور وہ پاکستان نہیں گیا تھا۔ بھارت کی طرف سے کلبھوشن یادیو کو موت کی سزا دینے پر سخت رد عمل ظاہر کیا گیا تھا اور وزیر خارجہ سشما سوراج نے یادیو کو ’بھارت کا سپوت‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسے پھانسی دینے کی صورت میں پاکستان کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ اس کے علاوہ مختلف تنظیموں اور گروہوں نے بھی کلبھوشن کے معاملہ پر پاکستان کے خلاف مظاہرے کرنے اور الزام تراشی کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

پاکستان کلبھوشن کی گرفتار ی کو اپنے اس مؤقف کے ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہے کہ بھارت افغانستان کے راستے پاکستان میں تخریب کاری میں ملوث ہے اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان دشمن عناصر کو دہشت گردی کے لئے تیار کرتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کلبھوشن یادیو کی گرفتاری سے پہلے بھی کشیدہ تھے ۔ نریندر مودی کی حکومت متعدد بار مذاکرات شروع کرنے پر متفق ہو کر اس سے منحرف ہو چکی تھی۔ تاہم کلبھوشن کی گرفتاری اور اسے موت کی سزا دیئے جانے کے بعد بھارت کا رویہ زیادہ درشت ہو گیا تھا۔ پاکستان نے بھی کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد اس معاملہ میں بھارت کو کوئی رعایت دینے سے انکار کیا تھا۔ اور بار بار درخواست کے باوجود بھارتی ہائی کمیشن کو کلبھوشن تک قونصلر رسائی نہیں دی گئی تھی۔ پاکستان کا واضح مؤقف ہے کہ کلبھوشن پاکستان میں دہشت گردی منظم کروانے کے مقصد سے پاکستان آیا تھا کہ گرفتار ہو گیا۔ ایک اعترافی بیان میں کلبھوشن یادیو نے خود بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ بھارتی نیوی کا افسر ہے اور گرفتاری کے وقت ’را ‘ کے ایجنٹ کے طور پر پاکستان آیا ہؤا تھا۔

اس دوران مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کی تحریک کی وجہ سے بھارت نے لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی میں اضافہ کرکے پاکستان پر دباؤ میں اضافہ کرنے کی کوششیں بھی کی ہیں۔ اگرچہ پاکستان نے بھارت کو متعدد بار مذاکرات کی پیش کش کی ہے اور کشمیر کے معاملہ پر خاص طور سے بات چیت کرنے اور کوئی پر امن اور قابل قبول حل تلاش کرنے کی دعوت دی ہے لیکن مودی حکومت پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کرکے مذاکرات سے انکار کرتی رہی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت افغانستان میں پاکستان دشمن عناصر کو مالی امداد اور فوجی تربیت فراہم کرتا ہے اور پاکستان میں ہونے والی متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں اس کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس طرح دو طرفہ الزام تراشی کے ماحول میں ایٹمی صلاحیت کے حامل دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان کشیدگی اور الزام تراشی کی فضا میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔

ان حالات میں پاکستان نے کلبھوشن کی اہلیہ کو ان سے ملاقات کی اجازت دے کر خیر سگالی اور انسانی ہمدردی کا خوش آئیند اقدام کیا ہے۔ بھارت کو اس پیشکش کی بنیاد پر دونوں ملکوں کے درمیان حائل برف کو پگھلانے کے لئے خود بھی ایک قدم آگے بڑھانا چاہئے۔ دنیا بھر کے ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کے ذریعے اپنے تنازعات حل کرنے چاہئیں۔ تاہم بھاریت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے تصادم اور اشتعال کی صورت حال موجود رہی ہے۔ برصغیر کے دو اہم ملکوں کے درمیان اس کشیدگی کا فائدہ دہشت گرد اور انتہا پسند عناصر اٹھاتے ہیں۔ اگر دونوں ممالک بات چیت پر آمادہ ہو سکیں تو ایک دوسرے کے خلاف سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے اپنے اپنے ملک میں انتہا پسند عناصر کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے، پورے خطے میں قیام امن کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہوگا کہ بھارت ہٹ دھرمی کی بجائے مفاہمت اور بات چیت کا راستہ اختیارکرنے پر آمادہ ہو۔
 

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...