کراچی سیاست

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 10 2017

کل کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار اور پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے دونوں پارٹیوں کا سیاسی اور انتخابی اتحاد بنانے کا اعلان کیا۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ کراچی کے ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچانے اور شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم کراچی کی سیاست اور ان دونوں پارٹیوں کی وجہ تسمیہ جاننے والے لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ دو متحارب اور ایک دوسرے کو مہاجروں اور کراچی کے شہریوں کا دشمن قرار دینے والے دو گروہ اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر اتفاق رائے پیدا کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس طرح سال سے بھی کم مدت میں ہونے والے متوقع انتخابات سے پہلے یہ اشارے دیئے جارہے ہیں کہ اس بات کا فیصلہ صرف عوام کے ووٹ نہیں کریں گے کہ کون اسمبلیوں میں ان کی نمائیندگی کرے گا بلکہ اس کا فیصلہ ملک کے بعض با اختیار حلقے کریں گے جو کراچی یا دوسرے لفظوں میں ملک کا برا بھلا باقی سب سے زیادہ سمجھتے ہیں۔

اسی لئے ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کو یہ کہنے کا موقع ملا ہے کہ یہ اتحاد اسٹیبلشمنٹ نے کروایا ہے اور اس کی حیثیت کچرے سے زیادہ نہیں ہے۔ الطاف حسین کے ملک دشمنی پر مبنی نعروں پر سامنے آنے والے رد عمل کی وجہ سے انہیں پاکستانی سیاست میں حاصل حیثیت سے محروم ہونا پڑا تھا۔ اس کے بعد ریاست نے تمام اختیار استعمال کرتے ہوئے الطاف حسین کو کراچی کی سیاست سے غیر متعلق کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ اس مقصد کے لئے پہلے مصطفی کمال اور ان کے چند ساتھیوں کے ذریعے پاک سرزمین پارٹی کی داغ بیل ڈالی گئی اور جب یہ واضح ہو گیا کہ اس طرح ایم کیو ایم کی قوت کو توڑنا ممکن نہیں ہے تو الطاف حسین کی ایک تقریر کو عذر بنا کر پاکستان میں پارٹی کی قیادت کو ایم کیو ایم پاکستان کے نام سے ایک نیا گروہ بنانے پر مجبور کیا گیا۔ اس طرح کراچی کی سیاست سے الطاف حسین کو بے دخل کرکے یہ کوشش کی گئی تھی کہ اب کراچی سے منتخب ہونے والے لوگ وہی زبان بولیں گے جو طاقت کے ایوانوں میں قابل قبول ہو سکتی ہیں۔

کوئی باشعور اور محب وطن پاکستانی الطاف حسین کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی، منفی سیاست اور کراچی میں اسلحہ اور تشدد کے زور پر عوام کو ہراساں کرنے کے ہتھکنڈوں کی حمایت نہیں کرسکتا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی قانون کے تحت کسی بھی لیڈر کو اس کے جرائم کی سزا تو دی جا سکتی ہے لیکن عوام کو اس بات پر مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ملک میں طاقت کے بعض مراکز کے پسندیدہ امیدواروں کو ووٹ دیں۔ کل قام ہونے والا اتحاد الطاف حسین کی تائد کرنے والے لوگوں کو تنہا کرنے کی ایسی ہی کوشش ہے جس کے منفی اثرات بھی سامنے آسکتے ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کا انتخابی اتحاد اسی طرف اٹھایا جانے والا قدم ہے۔ یہ اندازہ کیا جا رہا تھا کہ یہ دونوں گروہ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچ کر انتخابی کامیابی حاصل نہیں کرسکیں گے لیکن اگر ان میں اتحاد کروا دیا جائے تو یہ آئیندہ برس منعقد ہونے والا انتخابی معرکہ میں سرخرو ہو جائیں گے۔ اس طرح یہ کہا جا سکے گا کہ الطاف حسین کراچی کی سیاست سے باہر ہو چکے ہیں اورعوم نے ان کی ملک دشمن سیاست کو مسترد کردیا ہے۔ ملک کے عوام خواہ وہ کسی بھی خطے میں رہتے ہوں ، اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں لیکن ریاست کے جبر اور جمہوری انتظام میں مداخلت اور نگرانی کے باعث جب لوگ اپنے حقیقی نمائیندوں کے ذریعے اپنے مسائل حل کروانے میں ناکام رہتے ہیں تو مایوسی پیدا ہونا فطری بات ہے۔ الطاف حسین جیسے لیڈر اس مایوسی کو اپنی مقبولیت اور غیر قانونی طاقت میں اضافہ کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ تاہم اب کراچی میں جو جعلی اتحاد قائم کروانے کی کوشش کی گئی ہے، اس سے الطاف حسین کو ایک بار پھر کراچی میں پاؤں جمانے اور عوام کو یہ بتانے کا موقع مل جائے گا کہ انہیں کیوں پاکستان کی سیاست سے غیر متعلق کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ان حالات میں ان کی کھوئی ہوئی سیاسی قوت ایک بار پھر بحال ہو سکتی ہے۔

کراچی کے حوالے سے یہ اشارے بھی دیئے جاتے رہے ہیں کہ متحدہ قومی موومنٹ کے تمام دھڑوں کو اکٹھا کرکے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو اس کی سربراہی دے دی جائے۔ کل ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کے اعلان کے بعد پرویز مشرف نے آگے بڑھ کر اس کا خیر مقدم کیا ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی اس بات کو مسترد نہیں کیا کہ پرویز مشرف کو نئے اتحاد یا اس کے نتیجہ میں بننے والی نئی پارٹی میں اہم رول دیا جا سکتا ہے۔ اس قسم کی خبروں اور کوششوں سے یہ تاثر قوی ہوتا ہے کہ پرویز مشرف کو بدستور ملک کی فوج اور اس کے طاقتور اداروں کی تائد و حمایت حاصل ہے۔ اور طاقت کے یہ مراکز بدستور یہ سمجھتے ہیں کہ پرویز مشرف بدستور ملک کے عوام میں مقبول ہیں، وہ نئی سیاسی بندر بانٹ میں ایک بار پھر ملک کی قیادت کی ذمہ داریاں سنبھال سکتے ہیں۔ یہ منصوبہ بندی کرتے ہوئے یہ بھلا دیا جاتا ہے کہ پرویز مشرف کو غداری اور نواب اکبر بگٹی اور بے نظیر بھٹو کے قتل کے مقدمات کا سامنا ہے۔ وہ فوج کے تعاون سے ہی ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔

اب نواز شریف کو اقتدار سے محروم کرنے اور سیاست میں ان کے لئے مشکلات کھڑی کرنے کے بعد یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ پرویز مشرف کی ملک میں واپسی کا راستہ ہموار ہو گیا ہے کیوں کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان کے خلاف کی جانے والی کارروائی صرف نواز شریف کے ذاتی عناد اور ضد کا نتیجہ تھی۔ تاہم ایسی کوششوں سے جمہوریت سے زیادہ ملک کے اداروں پر لوگوں کا اعتبار مجروح ہو گا۔ نواز شریف اس وقت عدالتوں کو اپنے مسائل و مصائب کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں لیکن ان کو مسترد کرکے ایسے شخص کو سیاسی منظر نامہ میں جگہ دلوانے کی کوشش کی گئی جو ملک کے آئن کی خلاف ورزی کامرتکب ہو چکا ہے تو سیاسی بحران میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس قسم کی ’ کنٹرولڈ جمہوریت‘ مسائل حل کرنے کی بجائے مشکلات، بد اعتمادی اور تصادم پیدا کرنے کا سبب بنے گی۔
 

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...