ایران و پاکستان

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 09 2017

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اس وقت ایران کے سہ روزہ دورہ پر ہیں۔ اس دورہ کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنے کے علاوہ علاقے میں دہشت گردی کی روک تھام کے لئے تعاون کو بڑھانا بھی ہے۔ اس دورہ میں جنرل باجوہ نے ایرانی فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل محمد بغیری اور وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل امیر حاتمی سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے صدر روحانی اور وزیر خارجہ جاوید ظریف کے ساتھ ملاقات میں بھی باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ آرمی چیف ایک ایسے وقت میں یہ دورہ کررہے ہیں جب افغانستان میں قیام امن کے لئے امریکہ پرجوش اقدامات کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ محاذ آرائی کا اعلان کرتے ہوئے اسے مشرق وسطیٰ میں انتہا پسندی کے فروغ کا سبب قرار دے چکے ہیں۔ اس دوران لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری کے اچانک استعفیٰ اور سعودی عرب میں کرپشن کے الزام میں متعدد شہزادوں ، وزیروں ، سابقہ وزیروں اور سرمایہ کاروں کی گرفتاری سے پورے خطے میں تشویشناک صورت حال پیدا ہوئی ہے۔

پاکستان روائیتی طور پر امریکہ کا حلیف رہا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب سے پاکستان کے برادرانہ تعلقات کی تاریخ بھی بہت پرانی ہے۔ تاہم امریکی صدر ٹرمپ کی تیزی سے تبدیل ہوتی پالیسی اور پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کی وجہ سے پاکستان کو علاقائی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی حکومت اور فوج اس حوالے سے واضح مؤقف رکھتے ہیں ۔ افغانستان کے بعد آرمی چیف کا ایران کا دورہ پاکستان کی طرف سے نئے حالات میں ہمسایہ ملکوں کے ساتھ براہ راست مواصلت بڑھا کر حالات کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ پاک فوج کے سربراہ نے افغانستان کے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کو بھی یقین دلایا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر اپنے کسی ہمسایہ ملک کے خلاف سرگرم گروہوں کو پناہ نہیں دے گا اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ پاکستان نے امریکہ کو بھی یہی پیغام دیا ہے۔ لیکن امریکہ نے افغانستان میں گزشتہ سولہ سترہ برس میں متعدد غلطیاں کی ہیں اور وہ اس جنگ میں مکمل کامیابی حاصل کرنے کے قابل بھی نہیں ہے۔ اس لئے پاکستان پر الزام تراشی کے ذریعے امریکی حکومت خود اپنے عوام کے سامنے سرخرو ہونا چاہتی ہے۔

اسی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا تھا کہ امریکی صدر ان جرنیلوں کے مشورہ پر افغان پالیسی استوار نہ کریں جو یہ جنگ جیتنے میں ناکام رہے ہیں اور اب اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے پاکستان کے خلاف الزام تراشی کو امریکی پالیسی کا حصہ بنوانے کی کوشش کررہے ہیں۔ خواجہ آصف نے امریکہ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ یہ تسلیم کرے کہ افغانستان کا مسئلہ جنگ سے حل نہیں کیا جاسکتا اور اس کے سیاسی حل کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ اسی طرح پاک فوج نے بھی واضح کیا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ کی ہے۔ اب پاکستان سے ’ڈو مور‘ کا مطالبہ کرنے کی بجائے امریکہ اور دیگر ملکوں کو اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ تاہم امریکہ کے متکبرانہ اور عاقبت نااندیشانہ رویہ کی روشنی میں پاکستان کے لئے ضروری تھا کہ افغانستان کے علاوہ ایران کے ساتھ مراسم کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے۔

افغانستان براہ راست امریکہ اور بھارت کے دباؤ میں ہے۔ وہ خود مختارانہ طریقہ سے کوئی فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا لیکن ایران ایک طاقتور اور امریکی اثر و رسوخ سے آزاد ملک ہے۔ پاکستان کے ساتھ اس کی سرحدیں ملتی ہیں۔ دونوں کو کسی حد تک افغانستان میں پروان چڑھنے والی انتہا پسند تنظیموں سے خطرہ لاحق رہتا ہے۔ اس لئے ایران کے ساتھ پاکستان کو تعلقات بہتر بنانے اور اسے علاقہ میں امن کے عمل میں حصہ دار بنانے کا براہ راست فائدہ ہو سکتا ہے۔

پاکستان کو ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالہ سے امریکہ کی ایران مخالف پالیسی کے علاوہ سعودی عرب کی ایران دشمنی کی وجہ سے بھی مشکلات حائل رہی ہیں۔ اب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ سعودی عرب نے لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری پر دباؤ ڈال کر استعفیٰ دینے پر مجبور کیا تھا تاکہ لبنان میں حالات کشیدہ ہوں اور حزب اللہ کے خلاف کسی نہ کسی قسم کی کارروائی کا امکان پیدا کیاجا سکے۔ سعودی عرب میں اس وقت اعلیٰ عہدوں پر فائز متعدد شخصیات کی گرفتاری سے اندرون ملک اقتدار کی جس رسہ کشی کا اشارہ ملتا ہے ، اس کا تعلق بھی سعودی عرب کے مشرق وسطیٰ میں عزائم اور ایران کے خلاف گھیر ا تنگ کرنے کی پالیسی سے ہے۔ یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، ان میں سے بیشتر قطر اور یمن کے بارے میں ولی عہد کی پالیسیوں سے میں اختلاف رائے رکھتے تھے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے جس گرمجوشی سے سعودی عرب میں ہونے والے اقدامات کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور فوری طور پر جس طرح شاہ سلمان کو فون کرنے اپنی مکمل اعانت کا یقین دلایا ہے، اس سے بھی یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ سعودی عرب، امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف محاذ بنانے میں سرگرم ہے۔

ان حالات میں پاکستان کو خارجہ پالیسی اور علاقائی سلامتی کی صورت حال میں شدید مشکلات کا سامنا ہو گا۔ امریکہ کے علاوہ سعودی عرب بھی پاکستان کو ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون سے روکنے کے لئے ہر ممکن دباؤ ڈالنے کو کوشش کرے گا۔ ا س حوالے سے سعودی عرب میں کام کرنے والے پندرہ سے بیس لاکھ پاکستانی کارکنوں اور ماہرین کو بھی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے پاکستانی حکام کو نہایت احتیاط اور دانشمندی سے قدم بڑھانے اور سعودی عرب کے ساتھ کوئی بڑا اختلاف پیدا کئے بغیر ایران کے ساتھ مراسم بہتر بنانے کی کوششیں جاری رکھنا ہوں گی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغانستان کے مسئلہ کے حل کے لئے ایران کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

اسلام آباد کے حکام اگر صرف پاکستان کے مفاد کو پیش نظر رکھ کر آگے بڑھیں گے اور وقتی مسائل سے گھبرا کر مختلف ملکوں کا دباؤ قبول کرنے سے گریز کریں گے تو مستقبل میں پاکستان میں امن بحال کرنے کی کوششیں بھی کامیاب ہوں گی اور اسے ایک باثر اور اپنے فیصلے خود کرنے والے ملک سے عزت و احترام بھی حاصل ہوگا۔ تاہم اگر ایران کے ساتھ مراسم کے بارے میں دباؤ کو قبول کرلیا گیا تو پاکستان ایک ایسی دلدل میں پھنس سکتا ہے جو طویل عرصہ تک اس پورے علاقے میں عدم استحکام اور کشیدگی کا سبب بنے گی۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...