پاکستان اور امریکہ

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 20 2017

پاکستان میں یہ تاثر سامنے آرہا ہے کہ گزشتہ ہفتہ کے دوران کرم ایجنسی میں پاکستانی فوج کی طرف سے ایک امریکی کینیڈین جوڑے اور اس کے بچوں کی رہائی کی مستعد اور مؤثر کارروائی کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر جمی برف پگھلنے لگی ہے اور اب دونوں ملک پھر سے خوشگوار تعلقات کی طرف گامزن ہیں۔ اس حوالے سے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اور امریکی نائب صدرمائک پینس کی طرف سے پاکستانی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو کی جانے والی ٹیلی فون کالز کو بھی خاصی اہمیت دی جارہی ہے۔ تاہم اسی دوران اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل مندوب نکی ہیلی نے نیویارک میں امریکن انڈین فرینڈ شپ کونسل کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ بھارت پاکستان پر نظر رکھے تاکہ وہ دہشت گردوں کو پناہ دینے کے عمل میں ملوث نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے امریکہ کو بھارت کی شدید ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بھارت افغانستان میں حالات کو بہتر بنانے کے لئے امریکہ کی قابل قدر امداد کررہا ہے۔

نکی ہیلی کی باتوں کو ان کے بھارتی پس منظر کی طرف سے شاید ان کی ذاتی رائے قرار دے کر نظر انداز کیا جاسکتا ہے لیکن اگر ان باتوں کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے بیانات کے ساتھ ملاکر پڑھا جائے تو اس میں شبہ نہیں رہتا کہ امریکہ جنوبی ایشیا میں اپنے پاؤں گاڑے رکھنے کے لئے بھارت پر زیادہ سے زیادہ تکیہ کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ بھارت کے دیرینہ کشیدہ تعلقات اور مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوج کے مظالم کی بنیاد پر اسلام آباد سے تنازعہ وجہ سے نئی دہلی امریکہ سے قربت کے لئے واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان فاصلہ پیدا کروانے میں سرگرم ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے بھی کل واشنگٹن میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ امریکہ کے قریبی تعلقات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس علاقے میں چین کے غیر ضروری اثر و رسوخ کو روکنے کے لئے بھارت امریکہ کا قریب ترین حلیف ہوگا اور اس کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دی جائے گی۔ بھارت کی طرف امریکہ کا بڑھتا ہؤا ہر قدم پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی کے مترادف ہے کیوں کہ امریکہ ایک طرف بھارت کے ساتھ تعلقات کو تعاون اور قربت کی نئی وسعتوں تک لے جانا چاہتا ہے تو دوسری طرف وہ پاکستان کے ساتھ بھارت کے تعلقات بحال کروانے اور مسئلہ کشمیر کے حل میں کوئی کردار ادا کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

پاکستان کو خطے کے حوالے سے امریکہ کے مسلسل بدلتے ہوئے رویہ کے بارے میں غور کرنے اور متبادل حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس بات سے اختلاف ممکن نہیں ہے کہ امریکہ دنیا کی سپر پاور ہے اور اس سے تصادم کی پالیسی کسی بھی ملک کے لئے سود مند نہیں ہو سکتی بلکہ تباہی کا پیغام بن سکتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی پاکستانی حکومت کو یہ امید بھی نہیں کرنی چاہئے کہ بھارت کی طرف امریکہ کے بڑھتے ہوئے قدم رک سکیں گے اور وہ پاکستان کی ضرورتوں اور سیکورٹی کے حوالے سے تشویش کو بھی اتنی ہی اہمیت دے گا اور اسی نظر سے دیکھے گا جو اہمیت وہ بھارتی مؤقف اور ضرورتوں کو دیتا ہے۔ امریکی اہلکاروں کی باتوں سے اس بات کے واضح اشارے موصول ہورہے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کی نوعیت افغانستان کے حالات سے منسلک ہے۔ یا وہ طالبان کی قید میں متعدد امریکی شہریوں کی رہائی کے لئے پاکستان کی مدد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان امریکہ کے لئے اس سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔

سفیر نکی ہیلی نے کل اپنی تقریر میں بھارت کے ایٹمی پروگرام کی بھی حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ امریکہ بھارت کو ایٹمی قوت کے طور پر قبول کرتا ہے لیکن صدر ٹرمپ ایران کو کسی صورت ایٹمی قوت بننے کی اجازت نہیں دیں گے۔ حالانکہ ایران کے ساتھ عالمی جوہری معاہدہ کے بارے میں ٹرمپ کے مؤقف کی وجہ سے ایران کی طرف سے یہ واضح اشارے موصول ہوئے ہیں کہ اگر امریکہ نے یہ معاہدہ ختم کیا تو ایران بھی ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی کوششوں کو تیز کردے گا۔ نکی ہیلی کا زیادہ خطرناک رویہ پاکستان کے حوالے سے تھا۔ ایک طرف وہ بھارت کو پاکستان کا ’واچ ڈاگ‘ بنانے کی بات کررہی ہیں اور بھارت کو مسلمہ ایٹمی قوت کے طور پر تسلیم کرتی ہیں تو دوسری طرف افغانستان میں امریکہ کے اہداف بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہاں امریکہ کے دو مقاصد ہیں: 1) اس خطے سے دہشت گردوں کو ختم کرنا۔ 2) یہ یقینی بنانا کہ ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگیں۔

نکی ہیلی جب افغانستان کے حوالے سے ایٹمی ہتھیاروں تک دہشت گردوں کی دسترس کے اندیشے کا اظہار کرتی ہیں تو دراصل وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنارہی ہوتی ہیں۔ پاکستان یہ واضح کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام دفاعی نوعیت کا ہے۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کی وجہ سے ہی یہ خطہ کسی بڑی جنگ سے محفوظ بھی ہے لیکن امریکی سفیر اس پیچیدہ صورت حال کو تسلیم کرنے یا بیان کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتیں۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ امریکہ بحر ہند اور بحر جنوبی چین میں چین کے خلاف اپنی اسٹریجک پوزیشن مستحکم کرنے اور افغانستان کے علاوہ وسطی ایشیا میں اپنی موجودگی کو یقینی بنانے کے لئے بھارت پرپوری طرح تکیہ کررہا ہے۔ یہ پالیسی پاکستان کے مفادات کے برعکس ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ دنوں پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے امریکہ نے بھارتی مؤقف کی توثیق کرکے بھی نہ صرف پاکستانی پوزیشن کو مسترد کیا تھا بلکہ اس کی اقتصادی، سفارتی اور سلامتی کی ضرورتوں کو نظرانداز کرنے کا اعلان کیا تھا۔

صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کی خارجہ پالیسی تضادات کا شکار ہے۔ اس کے علاوہ امریکی حکومت میں بھی خارجہ معاملات پر اختلافات سامنے آتے رہے ہیں ۔ اس کے باوجود یہ بات واضح ہے کہ صدر ٹرمپ سابقہ امریکی صدر باراک اوباما کی پالیسیوں کے زبردست مخالف ہونے کے باوجود بھارت کے حوالے سے ان کی پالیسیوں کو ہی آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ بلکہ ان میں شدت پیدا کرنے کے قائل ہیں۔ اس حکمت عملی میں پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں نظر انداز کرنا بنیادی اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کو اسی تناظر میں اپنی خارجہ اور سیکورٹی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد کو یہ توقع ترک کردینی چاہئے کہ امریکہ کے ساتھ خوشگوار باتوں کا تبادلہ امریکہ کو بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی ضرورتوں کو سمجھنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ یہ ضروری ہوگا کہ پاکستان اپنے داخلی حالات کو مستحکم کرے اور افغانستان میں مداخلت کے بارے میں امریکی شکایات کو رفع کرے تاکہ امریکہ پاکستان کے خلاف جارحانہ رویہ ترک کردے۔ پاکستان کی طرف سے مستقبل میں امریکہ سے اس سے زیادہ توقع کرنا عبث ہوگا۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...