سینیٹ تماشہ

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 11 2017

سینیٹ نے آج سینیٹر اعتزاز احسن کی پیش کردہ قرار داد منظور کرکے یہ واضح کیا ہے کہ ملک میں سیاسی تقسیم دراصل قوم و ملک کے مفاد کی لڑائی نہیں ہے بلکہ یہ ذاتی دشمنی نبھانے کی ایک صورت ہے اور فریقین ہر قیمت پر مخالف کو نیچا دکھا کر سیاسی برتری حاصل کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ سینیٹ ہفتہ عشرہ پہلے انتخابی اصلاحات کا بل منظورکر چکی تھی۔ یہ بل بعد میں قومی اسمبلی سے منظور ہو کر اب قانون کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ اسی قانون کے تحت گزشتہ ہفتہ کے دوران مسلم لیگ (ن) نے ایک بار پھر نواز شریف کو اپنا صدر منتخب کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کی قرارداد کا مقصد نااہلی کے بعد سیاست میں نواز شریف کی عملی واپسی پر احتجاج سامنے لانا ہے لیکن اس مقصد کے لئے سینیٹ کے پلیٹ فارم کو استعمال کرکے ملک کے اعلیٰ ترین ایوان کی حرمت کو پامال کیا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ ملک کے معتبر حلقے موجودہ صورت حال کو جمہوریت کے لئے خطرناک سمجھ رہے ہیں لیکن سیاستدان اپنا رویہ تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔

انتخابی اصلاحات کے قانون پر سینیٹ میں رائے شماری کے دوران حکومت کی غیر متوقع کامیابی حیران کن تھی۔ شاید سرکاری بنچوں کو بھی اس کی توقع نہیں تھی۔ تب بھی اعتزاز احسن نے یہ ترمیم پیش کی تھی جس کے تحت قومی اسمبلی کا رکن بننے سے نااہل قرار پانے والا کوئی شخص کسی سیاسی پارٹی کا لیڈر نہیں بن سکتا تھا لیکن ایوان میں اپوزیشن پارٹیوں کو اکثریت حاصل ہونے کے باوجود یہ مجوزہ ترمیم ایک ووٹ کی کمی سے کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ جماعت اسلامی اور دوسری پارٹیوں کے ایسے سینیٹرز نے اجلاس میں شرکت کرنا ضروری نہیں سمجھا جو اس ترمیم کو قانون میں شامل کروانے کے لئے ووٹ دے سکتے تھے اور حکمران مسلم لیگ (ن) شاید نواز شریف کو دوبارہ پارٹی صدر بنانے کی خواہش پوری نہ کرسکتی۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ مختلف تجزیہ کار اپوزیشن کی اس حکمت عملی کی مختلف وجوہات پیش کررہے ہیں لیکن عملی طور پر سانپ نکل جانے کے بعد لکیر پیٹنے کے رویہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف نے عدالت میں اس نئے قانون کو چیلنج کردیا ہے کہ اسے آئن سے متصادم قرار دیا جائے اور اب پیپلز پارٹی نے اپنا غصہ نکالنے کے لئے اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سینیٹ کے پلیٹ فارم کو استعمال کرنا ضروری سمجھا۔ حالانکہ اس قرارداد کی کوئی عملی حیثیت نہیں ہے۔ پاکستان میں حکومت تو دور کی بات ہے، اپوزیشن کی کوئی سیاسی جماعت بھی اخلاقی ذمہ داری قبول نہیں کرتی۔

جولائی میں وزارت عظمیٰ اور قومی اسمبلی کی رکنیت سے محروم ہوجانے کے بعد نواز شریف کے لئے سیاست میں اپنی حیثیت کو برقرار رکھنے اور پارٹی پر کنٹرول قائم رکھنے کے لئے پارٹی کی صدارت کا عہدہ واپس حاصل کرنا ضروری تھا۔ اس اعتراض سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ مسلم لیگ (ن) نے انتخابی اصلاحات کے قانون میں ایک نااہل شخص کو پارٹی عہدہ کا اہل قرار دینے کی شق اسی لئے بحال کروائی تھی تاکہ نواز شریف دوبارہ پارٹی کی صدارت سنبھال کر سپریم کورٹ اور مقتدر حلقوں کو یہ پیغام دے سکیں کہ وہ مشکلات کے باوجود سیاست چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ نواز شریف کے پاس سپریم کورٹ کے سخت گیر رویہ اور پے در پے تیزی سے قائم ہونے والے مقدمات کا سامنا کرنے کے لئے قانونی راستہ کافی نہیں ہے۔ کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے ناجائز طریقے سے کسی خفیہ ایجنڈے کی وجہ سے انہیں وزارت عظمیٰ سے نااہل قرار دیا ہے۔

اس حوالے سے بہت سے مبصر یہ بات کہنے میں بھی مضائقہ نہیں سمجھتے کہ اس فیصلہ کے پیچھے دراصل فوج کے طاقتور اداروں کا ہاتھ ہے۔ سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف تحقیقات کرنے کے لئے جو جے آئی ٹی JIT بنائی تھی ، اس میں آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلیجنس کے عہدیداروں کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ خبروں کے مطابق فوج سے تعلق رکھنے والے جے آئی ٹی کے ارکان نے ہی دراصل نواز شریف کے خلاف مقدمہ مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ حسین نواز کی پیشی کے دوران تصویر منظر عام پر لانے میں بھی ان ہی ارکان کا ہاتھ بتایا جاتا ہے۔ اسی لئے ابھی تک یہ حقیقت سامنے نہیں لائی گئی کہ یہ تصویر سوشل میڈیا پر لگانے والا کون شخص تھا حالانکہ سپریم کورٹ اس حوالے سے حسین نواز کے اعتراض کو درست تسلیم کرچکی ہے۔

نواز شریف کے پاس اس صورت حال میں ملک کے طاقتور اداروں کا سامنا کرنے کے لئے سیاسی پوزیشن مستحکم کرنا ضروری تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی پارٹی کی قیادت سے محروم ہونا نہیں چاہتے۔ اگرچہ نواز شریف کی اصل طاقت ان کی حمایت کرنے والے ووٹر ہیں اور ان کی پارٹی کے لیڈر بھی ان کی عوامی مقبولیت کی وجہ سے ہی بدستور ان کی حمایت کررہے ہیں لیکن انہیں یہ لگتا ہے کہ اگر انہوں نے پارٹی کا اختیار دوسرے لوگوں کے حوالے کردیا تو وہ بتدریج اپنی سیاسی قوت سے محروم ہوجائیں گے۔ اسی لئے اس قوت کو برقرار رکھنے کے لئے وہ اپنے حامیوں کے ذریعے ہر ہتھکنڈہ اختیار کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف ملک میں پارلیمنٹ کے اختیار اور عوامی حاکمیت کے حوالے سے جو سوالات اور شبہات سامنے آرہے ہیں ، ان کا تقاضہ ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں باہمی اختلافات بھلا کر جمہوریت کے تحفظ کے لئے ایک آواز ہو جائیں ۔

تاہم آصف زرادری اس موقع کو نواز شریف کے ساتھ رنجشیں دور کرنے کے لئے استعمال کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور عمران خان کو لگتا ہے کہ نواز شریف کو سیاست سے باہر رکھ کر ہی وہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اکثریت سے محروم اور فوج کی طرف سے براہ راست تعاون نہ ملنے کی وجہ سے یہ دونوں پارٹیاں شدید مایوسی کا شکار ہیں ۔ اس کا ایک اظہار آج سینیٹ کی قرارداد کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...