سول ملٹری تعلقات

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 11 2017

پاکستان کے دفتر تعلقات عامہ نے وزیر دفاع خرم دستگیر خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ایک تصویر جاری کی ہے جس میں دونوں خوشگوار موڈ میں ایک دوسرے سے محو گفتگو ہیں۔ تصویر کے ساتھ جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ وزیر دفاع نے جی ایچ کیو میں پاک فوج کے سربراہ سے ملاقات کی اور ملک میں سلامتی کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ پریس ریلیز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملاقات سے پہلے وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے ملٹری آپریزشنز ڈایریکٹوریٹ کا دورہ کیا جہاں انہیں ملک کی سیکورٹی کی صورت حال کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ سول ملٹری قیادت کے درمیا ن دوری اور تصادم کی خبریں لانے والے حلقوں کے لئے یہ تصویر اور اعلامیہ کوئی اچھی خبر نہیں ہے اور نہ ہی اس میں قیاس آرائیوں کے لئے کوئی مصالحہ فراہم کیا گیا ہے لیکن اس کے برعکس ملک میں فوج کے ساتھ حکمران جماعت کے تصادم کی خبروں سے ہراساں عام لوگ اس خبر سے ضرور اطمینان اور خوشی محسوس کریں گے۔

پاکستان میں اس وقت شدید غیر یقینی کی صورت حال موجود ہے جس کی سب سے اہم وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ملک کی سیاسی حکومت اور فوجی قیادت کے درمیان اختلافات موجود ہیں اور یہ فاصلہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ جولائی میں سپریم کورٹ نے پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو وزارت عظمی سے برطرف کردیا تھا ۔ اس وقت وہ اور ان کا خاندان سپریم کورٹ کے حکم کے تحت قائم ہونے والے نیب کے ریفرنسز کا سامنا کررہے ہیں۔ احتساب عدالت نے اعلان کیا ہے کہ جمعہ کو نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر پرفرد جرم عائد کی جائے گی۔ تاہم نواز شریف اس وقت اپنی اہلیہ کی علالت کے سلسلہ میں لندن میں ہیں ۔ وہ اگر جمعہ کو عدالت میں پیش نہیں ہوتے تو یہ فرد جرم عائد نہیں ہو سکے گی۔ اس حوالے سے شریف خاندان کا مؤقف ہے کہ یہ مقدمات ناانصافی پر مبنی ہیں اور انہیں عدالتوں سے انصاف کی امید نہیں ہے۔ مریم نواز نے کل احتساب عدالت میں پیش ہونے کے بعد یہ مؤقف دہرایا اور کہا کہ اگرچہ انہیں کسی انصاف کی امید نہیں ہے لیکن وہ اس نظام کا احترام کرتے ہوئے عدالت میں پیش ہو رہے ہیں۔

وزارت عظمیٰ سے معزولی کے بعد نواز شریف نے عدالتوں کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کیا ہے ۔ اپنی تقریروں میں وہ بین السطور فوج کو بھی سپریم کورٹ کے فیصلہ کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ نواز شریف اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کے ذریعے فوج کے اداروں نے سپریم کورٹ کو ایسی معلومات فراہم کی تھیں جو نواز شریف کے خلاف استعمال کی گئیں اور انہیں نااہل قرار دیاگیا۔ اس حوالہ سے یہ تاثر دینے کی کوشش بھی کی جاتی رہی ہے کہ سپریم کورٹ ملک کی فوج کے اشارے کے بغیر کسی وزیر اعظم کے خلاف ایسا سنگین فیصلہ نہیں دے سکتی۔ اسی لئے اس فیصلہ کو جمہوریت پر حملہ قرار دیتے ہوئے سیاسی طور پر اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ صرف نواز شریف کے حامی ہی عدالتی فیصلہ کا الزام فوج پر عائد نہیں کرتے بلکہ فوج کی حمایت کرنے والے تبصرہ نگار بھی یہ کہنے میں عار محسوس نہیں کرتے کہ فوج نواز شریف کی سیاست سے مطمئن نہیں ہے۔

نواز شریف کی طرف سے تصادم (جو پاکستان میں فوج کے ساتھ اختلاف رائے یا اس کے خلاف احتجاج کا دوسرا نام بن چکا ہے) کی خبروں کے ہجوم میں یہ معلومات بھی فراہم کی جاتی ہیں کہ مسلم لیگ(ن) کے اہم لیڈر نواز شریف کو ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرنے سے باز رکھنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ دوسری طرف ’اسکرپٹ اور اس کے لکھنے والوں‘ کا زکر کرکے بھی اس تاثر کو قوی کیاجاتا ہے کہ اصل سیاسی فیصلے جی ایچ کیو میں ہوتے ہیں اور وہاں سے ہی ملک کے مختلف سیاسی لیڈروں کی ڈوریاں ہلائی جاتی ہیں۔ اس صورت حال میں ایک طرف ملک کا ہر عام و خاص اس بات پر یقین کئے بیٹھا ہے کہ فوج اقتدار پر قبضہ کرنے ہی والی ہے ۔ تاہم بعض کے نزدیک یہ جمہوریت کے لئے بری خبر ہوگی اور بعض اسے بدعنوانی کے خلاف عوام کی فتح کی صورت میں دیکھتے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ کے وزیر خارجہ نے بھی یہ کہہ کر کہ وہ پاکستانی حکومت کے استحکام کے بارے میں تشویش رکھتے ہیں، صورت حال کی بے یقینی میں اضافہ کیا ہے۔

ان حالات میں ملک کے وزیر دفاع اور آرمی چیف کی ملاقات اور باہمی تبادلہ خیال کی خبر اور آئی ایس پی آر کی طرف سے اس کا اجرا ایک خوش آئیند واقعہ ہے۔ اگرچہ یہ وقوعہ زیادہ خوشگوار ہو سکتا تھا اگر خبر یوں ہوتی کہ ’ پاک فوج کے سربراہ نے وزارت دفاع میں وزیر دفاع سے ملاقات کی ہے‘۔ اس کے باوجود فاصلوں اور دوریوں کے ہجوم میں ملاقات اور بات چیت کی خبر سے غبار صاف کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ حکومت اور فوج کو تواتر سے ایسے کئی اشارے دینے کی ضرورت ہے۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...