نوبل انعام 2017

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 08 2017

ناروے کی نوبل امن کمیٹی نے جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے لئے کام کرنے والی عالمی تنظیم ایکان ICAN کو 2017 کا امن انعام دینے کا اعلان کرکے دراصل دنیا میں جوہری تصادم کے بڑھتے ہوئے اندیشوں کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی ہے۔ آج صبح 11 بجے اوسلو میں نوبل امن کمیٹی کی سربراہ بیرت رائیس آندرسن نے سال رواں کا انعام جیتنے والی تنظیم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا کو جوہری تنازعہ کا جس قدر خطرہ لاحق ہے، وہ اس سے پہلے کبھی نہیں تھا۔ اس لئے جوہری ہتھیاروں کے خلاف کام دراصل دنیا میں امن کے فروغ کے لئے کام کا اہم ترین حصہ ہے۔ اس انعام کے اعلان سے دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے خلاف متحرک افراد اور تنظیموں کی حوصلہ افزائی ہوگی لیکن اس کے ساتھ ہی امریکہ سمیت تمام جوہری طاقتوں کو بھی یہ پیغام دیا گیا ہے کہ عالمی رائے عامہ جوہری ہتھیاروں کی تباہ کاریوں اور خطرات سے باخبر ہے۔ ان ہتھیاروں کو ختم کرنا ہی بنی نوع انسان کی حفاظت اور امن کے لئے اہم ہے۔

جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے لئے بین الاقوامی تنظیم ایکان (ICAN) دو ہزار سات میں آسٹریلیا میں قائم کی گئی تھی تاہم اس وقت یہ دنیا کے 101 ممالک میں موجود ہے اور 468 عالمی تنظیموں کے تعاون سے ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کی کوششیں کررہی ہے۔ یہ تنظیم محدود وسائل کے ساتھ یہ پیغام سامنے لانا چاہتی ہے کہ ایٹمی ہتھیار دنیا میں زندگی کی نمو کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں اور انسانوں کے مستقبل میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس وقت اس تنظیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر بیاترس فین Beatrice Fihn ہیں جو 2006 سے دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے خلاف کام کررہی ہیں۔ ایکان کا پیغام بہت سادہ ہے کہ جوہری ہتھیار مہلک ہیں اور ان کی موجودگی ہر وقت انسانی زندگیوں کے لئے سب سے بڑے خطرے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لئے نہ صرف مزید ملکوں کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکا جائے بلکہ دنیا کی جوہری طاقتوں کو بھی مجبور کیاجائے کہ وہ ہتھیاروں کا ذخیرہ تلف کرنے اور دنیا کو ایٹم فری بنانے کے مقصد کے لئے کام کریں۔ ایکان اس مقصد کے لئے عوامی رابطہ مہم کو منظم کرتی ہے اور دنیا بھر میں مختلف قومی تنظیموں کے ذریعے ان ملکوں کے عوام کو اس بات آمادہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے خلاف اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالیں۔

گزشتہ ایک دہائی میں ایکان کی رابطہ مہم کے نتیجے میں اس سال جولائی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 122 ارکان کی حمایت سے جوہری ہتھیاروں پر مکمل پابندی کے بارے میں ایک قرار داد منظور کی تھی۔ کسی جوہری طاقت یا نیٹو کے کسی رکن نے اس قرارداد کی حمایت نہیں کی لیکن ایک ملک کے علاوہ کسی نے قرار داد کی مخالفت بھی نہیں کی تھی۔ اس کی ایک واضح وجہ یہ بھی ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور ہونے والی قراردادوں کی حیثیت محض علامتی ہوتی ہے۔ کوئی ملک ان پر عمل کرنے کا پابند نہیں ہوتا۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ناروے بھی اس قرارداد کی حمایت نہ کرنے والے ممالک میں شامل تھا لیکن آج اسی ملک میں قائم نوبل امن کمیٹی نے جوہری ہتھیاروں کے خلاف کام کرنے والی عالمی تنظیم کو نوبل امن انعام دے کر یہ واضح کیا ہے کہ دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف رائے محض جنرل اسمبلی کی قرار داد تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا کے سوچنے سمجھنے والے اہم حلقے ان ہتھیاروں کی ہولناکی اور خطرات سے آگاہ ہیں اور انہیں ختم کرنے کے کام کو بے حد اہمیت دیتے ہیں۔

ایکان کو نوبل امن انعام ملنے سے جوہری ہتھیاروں کے خلاف کام کی حوصلہ افزائی ہوگی اور یہ تنظیم اور اس کے کام سے متفق ادارے اور تنظیمیں زیادہ قوت سے لوگوں کو یہ بتانے میں کامیاب ہو سکیں گے کہ جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کیوں اہم ہے۔ نوبل کمیٹی کا یہ فیصلہ گزشتہ دنوں امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان سخت بیانات کے تبادلے کی روشنی میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے شمالی کوریا کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی دی تھی جبکہ اس کے جواب میں شمالی کوریا نے امریکہ کو ایٹمی میزائلوں سے نشانہ بنانے کی وارننگ دی تھی۔ شمالی کوریا عالمی پابندیوں اور اپنے قریب ترین حلیف چین کے مشورہ کے باوجود جوہری ہتھیار بنانے اور ان کے تجربات کرنے میں مصروف ہے۔ جس کی وجہ سے دنیا میں یہ خطرہ محسوس کیا جارہاہے کہ شمالی کوریا کی اشتعال انگیزی کی وجہ سے کوئی بھی انہونی ممکن ہے۔ خاص طور سے جب امریکہ میں ٹرمپ جیسا جذباتی اور بیان بازی پر یقین رکھنے والا کوتاہ نظر صدر بھی موجود ہو۔ اس طرح نوبل کمیٹی نے ایکان کو سال رواں کا نوبل انعام دے کر شمالی کوریا کے علاوہ امریکہ کو بھی یہ پیغام دیاہے کہ جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے لئے جوش کی بجائے ہوش سے کام لینے اور سفارت کاری کے ذریعے معاملات طے کرنے کی ضرورت ہے۔

نوبل کمیٹی کا یہ فیصلہ ایران کے ساتھ دنیا کی چھ اہم طاقتوں کے ساتھ 2015 ہونے والے معاہدے کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ امریکہ کے صدر اس معاہدہ کو امریکی مفادات کے خلاف قرار دیتے ہیں ۔ جبکہ دیگر ممالک جن میں روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی شامل ہیں ، اس معاہدہ کو جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے حوالے سے اہم پیش رفت سمجھتے ہیں۔ اب یہ اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں کہ صدر ٹرمپ 12 اکتوبر کو یہ تصدیق کرنے سے انکار کردیں گے کہ ایران اس معاہدہ پر اطمینان بخش طریقے سے عمل کررہا ہے۔ اس کے بعد امریکی کانگرس ایران پر پھر سے پابندیاں عائد کرسکتی ہے۔ ایران متنبہ کرچکا ہے کہ اگر امریکہ نے اس معاہدہ کو ختم کیا تو وہ جوہری ٹیکنالوجی پر کام کرنے میں آزاد ہوگا۔

شمالی کوریا اور ایران کے علاوہ بر صغیر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری تصادم کی صورت حال بھی جوہری جنگ کے لئے اہم ترین خطرہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس تنازعہ پر دنیا کی زیادہ توجہ مبذول نہیں ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ دونوں ملکوں میں ذمہ دار حکومتیں قائم ہیں، اس لئے پاکستان اور بھارت میں ایٹمی ہتھیاروں کا تبادلہ نہیں ہوگا۔ لیکن یہ بات بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ دونوں ملک نہ صرف اپنی جوہری صلاحیت بڑھانے کی تگ و دو کرتے رہتے ہیں بلکہ ان کے لیڈر ایک دوسرے کے خلاف ایٹم بم استعمال کرنے کی دھمکیاں بھی دیتے رہتے ہیں۔

آپ کا تبصرہ

Praise and prayers for the great people of Turkey

One year ago, this day, the people of Turkey set an example by defending their elected government and President Recep Tayyip Erdogan against military rebels.

Read more

loading...