خطرے کی گھنٹی

تحریر: سید مجاہد علی   وقت اشاعت: 27 ستمبر 2017

اتوار کو جرمنی میں منعقد ہونے والے انتخابات میں چانسلر اینجیلا مرکل چوتھی بار اقتدار سنبھالنے میں کامیاب ہو گئی ہیں لیکن ان کی سیاسی حیثیت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اسی کے ساتھ ہی یورپی لیڈروں کا یہ اعتبار بھی کمزور ہؤا ہے کہ جرمنی کی طاقتور چانسلر یورپ کی قیادت کرسکتی ہیں اور جرمن عوام ان کے ساتھ ہیں۔ اتوار کے انتخاب میں مرکل کے قدامت پسند انتخابی اتحاد کو 33 فیصد ووٹ ملے ہیں اور انہیں جرمن پارلیمنٹ بوندیس تاگ میں 35 فیصد نشستیں حاصل ہوئی ہیں تاہم انہیں 709 ارکان کے ایوان میں اکثریت حاصل کرنے کے لئے مزید 109 نشستوں کی ضرورت ہوگی۔ ملک کی دوسری بڑی پارٹی سوشل ڈیموکریٹس کے لیڈر مارٹن شلز نے انتخاب کے بعد اینجیلامرکل کے ساتھ حکومت میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی اپوزیشن میں بیٹھے گی۔ اس صورت میں مرکل کو حکومت سازی کے لئے گرین پارٹی اور دائیں بازو کی دوسری پارٹی ایف ڈی پی کے ساتھ سیاسی معاہدہ کرنا پڑے گا۔

اینجیلا مرکل کی کامیابی یا ناکامی کے علاوہ اس انتخاب کی سب سے اہم بات قوم پرست پارٹی اے ایف ڈی AFD کی غیر متوقع اور ذبردست کامیابی ہے۔ اگرچہ رائے عامہ کے جائزوں میں یہ اندازہ کیا جارہا تھا کہ اس قوم پرست نازی پارٹی کو دس فیصد کے لگ بھگ ووٹ مل جائیں گے لیکن اتوار کے انتخاب میں اے ایف ڈی نے ان اندازوں کے برعکس 13 فیصد ووٹ حاصل کرکے سب کو حیران کردیا ہے۔ اس طرح دوسر ی جنگ عظیم کے بعد پہلی بار کوئی انتہا پسند پارٹی جرمنی کی پارلیمنٹ میں نمائیندگی حاصل کرنے کے قابل ہوئی ہے۔ ان انتخابات میں جرمنی کے انتہا پسند عناصر نہ صرف پارلیمنٹ میں نمائیندگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں بلکہ ان کی پارٹی ملک کی تیسری بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے جسے پارلیمنٹ میں 94 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ ایک کمزور حکمران جماعت کے ہوتے ہوئے یہ پارٹی انجیلا مرکل اور ان کے حلیف گروہ کے لئے شدید سیاسی مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ اس کے علاوہ جو انتہا پسندانہ نعرے فی الوقت مختلف سیاسی پلیٹ فارم یا سیاسی جلسوں اور ریلیوں میں لگائے جاتے تھے، ان کو ایوان میں دہرایا جائے گا اور جمہوریت کے نام پر منتخب ہونے والے قوم پرست نفرت اور اقلیتوں کے خلاف پروپیگنڈا میں اضافہ کریں گے۔

جرمنی میں انتہا پسند عناصر کی کامیابی یوں تو یورپ میں انتہاپسندی کے رجحان کی نمائیندگی کرتی ہے۔ اس سے پہلے فرانس، بلجیم اور نیدرلینڈ میں اس کا مظاہرہ دیکھنے میں آچکا ہے۔ سویڈن، ڈنمارک، ناروے اور دوسرے یورپین ملکوں میں انتہا پسند قوم پرست عناصر سماجی رویوں اور قومی سیاست پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہے ہیں لیکن جرمنی میں انتہا پسندوں کی اچانک کامیابی دو وجہ سے تشویشناک اور حیران کن ہے۔ ایک تو جرمنی کے نازی پس منظر کی وجہ سے انتہا پسندانہ عناصر کے بارے میں ہمیشہ تشویش موجود رہی ہے اور سیاستدانوں کے علاوہ معاشرہ کے بیشتر حلقے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے انتہا پسندی کی روک تھام میں مصروف رہے ہیں۔ اس لئے اب اچانک مسلمانوں اور تارکین وطن کے خلاف سرگرم عناصر کی ایسی کامیابی شدیدتشویش کا سبب بنے گی۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی قابل غور ہوگی کہ اگرچہ انتہا پسند اور نازی قوم پرست عناصر کسی نہ کسی صورت میں جرمنی میں موجود رہے ہیں لیکن انہیں وسیع سیاسی حمایت حاصل نہیں تھی۔ البتہ دو سال قبل چانسلر اینجیلا مرکل کی طرف سے دس لاکھ شامی پناہ گزینوں کو قبول کرنے کے فیصلہ کے بعد ان عناصر کی مقبولیت میں اضافہ ہؤا اور اب ان کی نمائیندہ جماعت اے ایف ڈی پارلیمنٹ میں تیرہ فیصد سے زائد نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ اس کامیابی کا جرمنی کی سیاست اور سیاست دانوں کے رویہ پر اثر مرتب ہونا لازم ہے۔

اس حوالے سے یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس پارٹی کو زیادہ تر مشرقی جرمنی کے علاقوں میں کامیابی حاصل ہوئی ہے جہاں اسے 30 فیصد تک ووٹ ملے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مشرقی جرمنی دوسری جنگ عظیم کے بعد سے علیحدہ ملک کی حیثیت سے موجود رہا تھا اور سویٹ یونین کے خاتمہ کے بعد 1990 میں مشرقی اور مغربی جرمنی ایک بار پھر متحد ہو سکے تھے۔ مشرقی جرمنی میں صنعتی ڈھانچہ فرسودہ اور ترقی کی رفتار اور نوعیت محدود رہی تھی، اس لئے ان علاقوں میں ابھی تک معاشی احیا کے لئے کوششیں کی جارہی ہیں۔ اسی لئے ان علاقوں میں تارکین وطن کی بہت ہی کم تعداد موجود ہے۔ لیکن اس کے باوجود اقلیتوں اور تارکین وطن کے خلاف نعرے لگانے والی پارٹی کو ایسے علاقوں سے کامیابی حاصل ہوئی ہے جہاں کے لوگوں کا براہ راست ان سے لین دین ہی نہیں ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اقلیتوں کے خلاف کمزور طبقات میں خوف اور تعصب پیدا کرنا آسان کام ہو تا ہے۔ جرمنی کے سیاست دانوں کے لئے یہ صورت حال ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔

جرمنی میں 12 فیصد تارکین وطن آباد ہیں جبکہ ملک کی 82 ملین آبادی میں 4,3 فیصد مسلمان ہیں جن میں اکثرہت ترک نژاد باشندوں کی ہے۔ ملک میں تارکین وطن اور مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت اور تعصب کی وجہ سے ان گروہوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا اور انہیں روزگار کے علاوہ سماجی قبولیت کے حوالے سے بھی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انجیلا مرکل ایک کمزور لیڈر کے طور پر ملک میں برسر اقتدار رہیں گی اور ان پر اقلیتوں کے لئے حالات کو دشوار بنانے کا دباؤ بھی بڑھایا جائے گا۔ اسی لئے کل انتخاب میں کامیابی کے بعد مرکل نے واضح کیا کہ انہیں امید سے کم ووٹ ملے ہیں اور وہ آئیند دور حکومت میں خاص طور سے پناہ گزینوں کے معاملہ پر کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

آپ کا تبصرہ

Growing dangers of Islamist radicalism on Pakistani politics

Mr Arshad Butt is an insightful observer of the political events in Pakistan. Even though the hallmark of Pakistani political developments and shabby deals defy any commo

Read more

loading...